تین جماعتیں

بلاول بھٹو زرداری سیاست میں نوخیز ہیں۔ لیکن کیا ان کے سیاسی اساتذہ بھی اس قدر کم فہم ہیں کہ ان کی تقریریں بھی کسی ایسے شاعر کا دیوان لگتی ہیں، جس کی شاعری خیال اور وزن سے کبھی رُوشناس ہی نہ ہو سکے ۔ جنوبی پنجاب جو کبھی پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کا گڑھ ہوا کرتا تھا آج اس علاقے میں بلاول بھٹو زرداری کو وہ پذیرائی نہیں مل سکی جس کہ وہ توقع لے کر یہاں آئے تھے۔بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا کے سیاسی کارناموں اور اپنی شہید ماں کی جدوجہد سے بلا شُبہ واقف و آگاہ ہیں لیکن وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ سے آگاہی کا ثبوت ابھی تک فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔

موجود ہ حالات میںمیاں نواز شریف کے جریدہٗ تقدیر کی شہ سُرخی یہی ہے کہ ان کا پارلیمانی سیاسی کردار اختتام پذیر ہو چُکا ہے۔ اس صورتحال سے کیا بلاول بھٹو کوئی فائدہ اُٹھا پائیں گے ۔۔۔یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے جواب کا کھوج لگانے کی کوئی زیادہ ضرورت محسوس نہیں کی جارہی ہے۔ بلاول بھٹو اپنی والدہ مرحومہ اور والدِ بزرگوار کے مقابلے اس لحاظ سے قطعی خوش قسمت نہیں ہیں کہ انہیں اپنے دوبڑے سیاسی مخالفین میں سے کسی ایک کے ساتھ سیاسی اتحاد کر کے خاطر خواہ فائدہ پہنچ سکے ۔ ماضی میں یہ ’’کارڈ‘‘ ان کی والدہ بے نظیر بھٹو ’’ میثاق جمہوریت ‘‘ کی شکل میں اور ان کے والد آصف علی زرداری ’’ مفاہمت کی سیاست ‘‘ کے لیبل کے ساتھ استعمال کر چُکے ہیں ۔ آئندہ کے عام انتخابات میں عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف اور میاں شہباز شریف کی مسلم لیگ سے ان کا مقابلہ ہے۔ پیپلز پارٹی کے اقتدار کے چار دور گذار چُکی ہے۔ بھٹو اگرچہ ’’ زندہ ‘‘ ہے لیکن روٹی کپڑا اور مکان کا دلفریب نعرہ اپنی کشش سے محروم ہو چُکا ہے۔ 2014 ء میں عمران خان کی جانب سے اسلام آباد کے ڈی چوک میں دیئے جانے والے طویل دھرنے کے دنوں میں پارلمنٹ میں جمہوریت بچانے کے نام پر آصف علی زرداری نے نہ صرف میاں نواز شریف کی حکومت کا بھر پور ساتھ دیا تھا بلکہ قوم کو ’’ جاتی عمرا‘‘ میں ان کے استقبال کے مناظر اور ان کی خاطر تواضع کے لیے پکائی جانے والی ڈشیں تک یاد ہیں ۔

بلاول بھٹو کے حالیہ دورہ جنوبی پنجاب کے نتائج ان کے اور پارٹی کے لیے حوصلہ افزا قرار نہیں دیئے جا سکتے ۔ ملتان میں سید یوسف رضا گیلانی کے علاوہ کوئی بڑا نام ان کے ساتھ دکھائی نہیں دیا ۔ آج کی سیاست کے اس نوجوان کو ساٹھ سال سے زائد عمر کے عمران خان کی سیاست کا سامنا ہے ۔ عمران خان نوجوان ہے ، نہ جوان لیکن اُن کی مقبولیت سب سے زیادہ انہی دو طبقوں میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔اُس کی بیس بائیس سالہ سیاسی جدوجہد میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ بڑی تعداد میں بڑے بوڑھے بھی اپنا دل اُس کے سامنے ہار چُکے ہیں ۔ خواتین میں وہ اس وقت سب سے زیادہ مقبول سیاست دان قرار دیئے جا چُکے ہیں۔آصف علی زرداری ، میاں محمد نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کے مقابلے میں عمران خان کو غیر سیاسی سمجھا جا تا ہے ۔ بعض لوگوں کا اصرار ہے کہ اُسے سیاست نہیں آتی۔لیکن موجوہ حالات میں سوشل میڈیا کے اس قول کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ’’ جولوگ یہ کہتے تھے کہ عمران خان کو سیاست نہیں آتی اب انہیں رات بھر نیند نہیں آتی‘‘۔

آئندہ کے انتخابی معرکہ میں میاں نواز شریف،اسفند یار ولی خان اور مولانافضل الرحمن دشتِ سیاست کی سیاحی میںخاصے آگے ہونے کے باوجود اُن سے خائف نظر آتے ہیں ۔

2013 ء کے انتخابات بلا شُبہ پاکستان تحریک انصاف کا الیکشن تھے۔ لیکن نتائج سے عمران خان کو کیسے باہر کیا گیا یہ ایک ایسی کہانی ہے جو اب سب کو معلوم ہو چُکی ہے ۔ ان اتخابی نتائج کو بادلِ نخواستہ تسلیم کرنے کے باوجود سب نے دھاندلی کی شکایت کی ۔ عمران خان نے ایک کھلاڑی کے جذبے کے ساتھ اس ایشو کو پکڑ لیا ۔ استقامت کے ساتھ جب اُس نے آواز اُٹھائی تو سوال کیا جانے لگا کہ ’’وہ دھاندلی کی کمزرپچ پر کب تلک کھیلتے رہیں گے ۔؟‘شاید ایسا ہی ہوتا لیکن ماضی کے اس فاسٹ باولر کو ’’ پانامہ باؤنسر ‘‘ میسر آگیا ۔صدرممنون حُسین کے بقول یہ قدرت کی جانب سے آیا ہے۔

دوسرے سیاستدان اس معاملے کو چھیڑنا ہی نہیں چاہتے تھے ۔ جب عمران خان نے پانامہ معاملے کی پیروی کا اعلان کیا تو خود ان کی جماعت کے ارکان اسمبلی یہ کہتے سُنے گئے کہ عمران خان نے انہیں لال بتی کے پیچھے لگا دیا ہے۔پانامہ معاملے پر پاکستان تحریک انصاف نے جو جدوجہدکی ہے وہ صرف عمران خان کی مرہون منت ہے جس طرح اس پارٹی میںووٹ بنک صرف اور صرف عمران خان کا ہے اسی طرح میاں محمد نواز شریف کو موجودہ صورتحال تک پہنچانے میں کلیدی کردار بھی اُنہی کا ہے ۔

2018 ء کے عام انتخابات کے لیے حالات ساز گار ہو چُکے ہیں ۔ میدان سجنے والا ہے لیکن ایک مخصوص طبقہ اور دانشوروں کی خاص کھیپ ہے جو اپنی بعض خواہشات کی اسارت میں مسلسل یہ کہتا سُنائی دے رہے ہیں ’’عام انتخابات وقت پر ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں ‘‘۔

ایک سال پہلے تک جب پانامہ ایشو اپنے انجام کو نہیںپہنچا تھا ۔ اور ماضی کے تجربات کی روشنی میں بہت سے لوگوں کو عدلیہ کی جانب سے اس قدر دوٹوک فیصلوں کی اُمید نہیں تھی تو اُس وقت ٹیکنوکریٹس کی حکومت کا شوشا چھوڑا گیا تھا ۔ ایسی کسی تجویز کی آئین میں گنجائش تھی نہ ملک کے سیاسی حالات اجازت دیتے تھے ۔ بعض ابھی تک اس لکیر کو پیٹ رہے ہیں ۔مبینہ ذرائع کے مطابق یہ گروپ سر گرم عمل ہوا تھا تو اُس کی زمام کار جس پارلیمنٹیرین کے ہاتھ میں دی گئی تھی اُس کے اپنے حوالے سے بہت سے تحفظات تھے ۔ سب کو یاد ہے کہ اُن دنوں ٹی وی ٹاک شوز میں روزانہ کہا جاتا تھا کہ ’’ ارکان اسمبلی کی ایک بہت بڑی تعداد تیار بیٹھی ہے ۔۔‘‘ مسلم لیگ ن سے جانے والوں کی قطاریں نظر آئیں گی وغیرہ وغیرہ ‘‘ ۔۔ پھر اس مہم کا کیا نتیجہ نکلا۔۔ اُسی مبینہ ذریعہ کا کہنا ہے کہ ’’ معاملہ کار ایک نوخیز رُکن اسمبلی سے رابطہ کر بیٹھے جس کی معصومیت نے سارا پول کھول دیا تھا ۔‘‘

ملک کے مقتدر ترین اداروں کے سربراہ جنرل قمر باجوہ اور جسٹس ثاقب نثار بار بار ایسی افواہوں کی تردید کرکے عام انتخابات کے انعقاد کو یقینی قرار دے رہے ہیں ۔ زمینی حقائق کے مطابق انتخابی میدان سجنے کے بارے میں کسی کو شک وشُبہ نہیں ہونا چاہیئے ۔ 2018 ء کے انتخابی معرکہ کی روایتی سیاسی قوتوں کے ساتھ تحریک انصاف کی سیاسی جنگ کا طبل بج ہی چُکا ہے ۔ دونوں جانب سے صف بندی کی جا رہی ہے۔ ملک کی بڑی ایک آدھ جماعت کو چھوڑ کر تقریباً تمام ہی سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جنہیں چند سیٹیں جیتنے کے لیے بھی کسی اتحاد کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

بات بلاول بھٹو زرداری کے ملتان اور جنوبی پنجاب کے دورے پر تبصرہ سے چلی تھی اور بہت دور نکل گئی ۔ آئندہ عام انتخابات میں اصل مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہی ہوگا ۔ لیکن ان تینوں جماعتوں کے پاس کسی ایک سے اتحاد کا کوئی راستہ موجود نہیں ہے۔ دیکھتے ہیں کہ روایتی سیاست کے چونچلوں ، ہتھکنڈوں کا مقابلہ پاکستان تحریک انصاف کیسے کرتی ہے ۔

Electrolux
انوار حسین حقی ایک منجھے ہوئے صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔اُن کا کالم قومی اخبارات کی زینت بنتا رہتا ہے۔ اُن سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔