آپ کے مسائل اور ان کا حل اسلام کی روشنی میں

میت کو ایک مقام سے دوسرے مقام منتقل کرنا
سوال:ہمارے خاندان کے کچھ لوگ کراچی میں رہتے ہیں اور کچھ گاؤں میں ،ہمارے ایک رشتہ دارکاکراچی میں انتقال ہوا،اس کی میت گاؤں لے کرجانی ہے،جب کہ اس کی فیملی کراچی میں رہائش پذیرہے،اب سوال یہ ہے کہ اس کاجنازہ کہاں پڑھاجائے گا؟کراچی میں یاگاؤں میں؟یادونوں جگہ؟اگر دوجگہ پرجنازہ نہیں ہوسکتاتوغائبانہ نمازجنازہ کی کیاحیثیت ہے؟

جواب:سب سے پہلے یہ جان لیں کہ شرعی حکم یہ ہے کہ جس جگہ کسی شخص کی وفات ہو اسی جگہ تدفین کی جائے، کسی اور جگہ جو دو تین میل دور ہو،بلا ضرورت شرعی میت کومنتقل کرنا مکروہ ہے۔لہذا جب آپ کے عزیز کا انتقال کراچی میں ہواہے تونماز جنازہ وتدفین وتدفین یہیں کرنی چاہیے۔تاہم اگرمیت
کومنتقل کرتے ہیں تو اس صورت میں اگرکراچی میں جنازے کی نماز اداکردی گئی یعنی میت کے ولی(مثلاوالد ،بیٹاوغیرہ) نے نمازجنازہ پڑھ لی یاان کی اجازت سے نمازِجنازہ اداکردی گئی تواب دوبارہ گاؤں میں نمازجنازہ پڑھنا جائزنہیں ہے،یہی احناف کاقول ہے۔البتہ اگرولی کی اجازت کے بغیراجنبی لوگوں نے میت کی نمازِجنازہ اداکی تواس صورت میں ولی کواعادے کاحق حاصل ہوگا۔لیکن اس صورت میں بھی جولوگ پہلے نمازجنازہ پڑھ چکے ہوں ان کوولی کے ساتھ دوبارہ پڑھناجائزنہیں ہوگا۔ نیزاحناف کے ہاں غائبانہ نمازجنازہ بھی جائزنہیں ہے،نمازجنازہ صحیح ہونے کے لیے جنازہ کاسامنے ہوناشرط ہے۔فتاویٰ شامی میں ہے:''فلاتصح علی
غائب وصلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی النجاشی لغویۃ اوخصوصیۃ۔ (باب صلوۃالجنازۃ،2/209،ط:سعید)

غصہ سے بچنے کی دعا
سوال:غصہ بہت آتاہے،جس کی وجہ سے پریشان ہوتاہوں اور سکون بھی غارت ہوتاہے ،غصہ ختم کرنے کے لئے کوئی دعابتلادیں۔
جواب:غصہ کے وقت ’’اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم‘‘ پڑھنا چاہیے،حدیث شریف میں ہے اس سے غصہ ٹھنڈاپڑجاتاہے۔(معارف الحدیث 5/157)نیزقرآن کریم کی آیت ’’والکظمین الغیظ والعافین عن الناس واللہ یحب المحسنین ‘‘پڑھتے رہناچاہیے۔اورپانی پر دَم کرکے بھی پی سکتے ہیں۔(قرآنی مستجاب دعائیں)

مسجد میں خوشبو استعمال کرنا
سوال:مسجدمیں خوشبوکے لیے روم اسپرے استعمال کرناجائزہے یانہیں؟اور اگرقباحت ہے توبتادیجیے۔
جواب:مساجد کوپاک صاف رکھنا،اور معطرکرناشرعاً پسندیدہ اور مطلوب ہے۔ابن ماجہ شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدمیں قبلہ کی جانب ناک کی ریزش دیکھی ،غصہ کی وجہ سے آپ کے چہرہ انورکارنگ سرخ ہوگیا،ایک انصاری عورت کھڑی ہوئی اور اْسے کھرچ دیااور اس کی جگہ عطر مل دیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل دیکھ کرفرمایا: بہت اچھاکیا۔(سنن ابن ماجہ،کتاب المساجد،ص:55) نیزحضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ہرجمعہ کونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجدمیں خوشبوکی دھونی دی جاتی تھی۔نیزایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ،آپ نے فرمایا:محلوں میں مسجدیں بناؤ،اور ان کوپاک معطررکھو۔(مشکوۃ،ص:69،معارف الحدیث ،جلدسوم،ص:118)
لہذامساجدکوخوشبوسے معطررکھنادرست اور جائزہے، اس کے لیے اسپرے بھی استعمال کرسکتے ہیں ، دھونی بھی دے سکتے اور اگربتی بھی جلاسکتے ہیں۔البتہ دھونی دینے یااگربتی کی خوشبوکے لئے ان اشیاء کومسجد سے باہرجلاکرلایاجائے تاکہ مسجددھوئیں اور ماچس کی بْووغیرہ سے محفوظ رہے۔

ختنے کے موقع پر دعوت کرنا
سوال:ختنے کی دعوت میں شرکت کرنا کیسا ہے؟ ہمارے علاقہ میں ختنہ کی دعوت تقریبا لازمی کرتے ہیں۔ دعوت میں شرکت نہ کرنے والوں سے سختی سے ناراض ہوتے ہیں۔
جواب:ختنہ تومسنون عمل ہے،لیکن ختنہ کی دعوت کرناشریعت میں ثابت نہیں ہے،مسنداحمدبن حنبل کی ایک روایت کے مطابق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس دعوت کاناپسندیدہ ہونابھی منقول ہے۔اور سوال میں ذکرکردہ تصریح کے مطابق جب اس دعوت کولازمی سمجھاجاتاہو،باقاعدہ لوگوں کوجمع کیاجا تاہو اورشرکت نہ کرنے کی صورت میں ناراضگی رکھی جاتی ہوتواس کے ناجائزہونے میں کوئی شبہ نہیں۔تفصیل کے لئے احسن الفتاویٰ جلد:8،ص:155ملاحظہ فرمائیں۔

Electrolux