علیمہ خانم

ہر بیٹی کی طرح علیمہ خانم نے بھی انسپائریشن کے سب سے زیادہ پہلو اپنے والد کی شخصیت میں تلاش کیے ہیں ۔اس خانوادے سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص بخوبی جانتا ہے کہ اکرام اللہ خان نیازی نے اپنے اکلوتے بیٹے عمران خان اور تمام بیٹیوں پر اپنے نقوش دوامی انداز میں ثبت کیے ہیں ۔ یہاں ہر فرد شعور زیست کے ساتھ ساتھ زندگی کے مختلف چلن اور قرینے سامنے لاتا دکھائی دیتا ہے۔ ان سب کی سائیکی میں خوف نامی کسی عنصر کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ زیادہ سال نہیں ہوئے کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے سنگھم پر واقع دور دراز علاقے عیسیٰ خیل میں سیلاب زدگان کے درمیان ڈاکٹر عظمیٰ حق امدادی سامان کے ساتھ موجود تھیں ۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کئی بار دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’ ہمارے والد نے ہمیںہمیشہ نصیحت کی ہے کہ جس بات کو غلط سمجھو اُسے کبھی تسلیم نہ کرو۔ غلط کو ڈنکے کی چوٹ پر اور سب کے سامنے غلط کہو۔‘‘ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے ’’ ڈیڈی ‘‘ فیلڈ مارشل ایوب خان نے صدارتی انتخابات میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دینے کی خاطر جبر کے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کیے تو اُس کے خلاف تحریک بغاوت میں اکرام اللہ خان نیازی ، ان کے تمام بھائی اور مولانا عبد الستار خان نیازیؒ مادرِ ملت کے ہم دوش اور ہم قدم رہے۔

علیمہ خانم سے کچھ دن پہلے میانوالی میں ملاقات ہوئی تو وہ اپنے والد کے حوالے سے بہت زیادہ جذباتی دکھائی دے رہی تھیں اُنہیں چند ٹی وی ٹاک شوز میں اکرام اللہ خان نیازی کے بارے میں کی جانے والی گفتگو پر شدید احتجاج کے ساتھ یہ بھی دُکھ تھا کہ کوئی تو ہوتا جو ان کے والد کا دفاع کرتا ۔ آج وہ سب جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتے وہ ہمارے والد کے بارے میں تبصرے کر رہے ہیں ۔ اس موقع پر انہوں نے بڑی جرات کے ساتھ کہا تھا ۔۔ ’’ خیر ہم ہیں ۔۔ اپنے والد کا دفاع اپنے عمل سے کریں گے ۔ ‘‘

علیمہ خانم کو میں گذشتہ دس سالوں سے ’’ نمل نالج سٹی کے ساتھ ساتھ دیکھ رہا ہوں ۔ 2005 ء میں عمران خان برطانیا کی ’’ یونیورسٹی آف بریڈ فورڈ ‘‘ کے چانسلر منتخب ہوئے تو انہوں نے اپنے آبائی ضلع کے خوبصوررت علاقے میں نمل کالج کی بنیاد رکھی ۔ بعد میں اُسے یونیورسٹی اور پھر ایک نالج سٹی کا درجہ دینے کا اعلان کر دیاگیا ۔ اُن کی سیاسی میدان میں مصروفیات بڑھنے لگیں تو بہت سے سوچنے لگے کہ’’ جانے عمران خان اس ’’ طلسماتی جہاں‘‘ کو تعمیر کر بھی پائے گا یا نہیں ‘‘۔ لیکن پھر سب نے دیکھا کہ وہ اپنے وقت کو ہمیشہ کی طرح ایک بڑی تخلیقی قوت کے طور پر بروئے کار لایا۔۔ اور بستے بستے شہر علم آباد ہو گیا اور اب یہ ترقی کے مدارج تیزی کے ساتھ طے کر رہا ہے۔ عمران خان کو اقبالیات کے بحرِ عمیق میں غوطہ اگرچہ اُن کے والد نے دیا تھا۔ مگر اُس کی ضیاء پاشیوں سے مستفید وہ خود ہو رہا ہے ۔ وہ محرومِ تماشا تو تھا ہی اسی لیے دیدہٗ ِ بینا پانے میں دیر نہیں لگی ۔ شوکت خانم ہسپتال اور نمل شہر علم کے منصوبوں کو ان کی سیاست سے متائثر نہیں کیا ۔

نمل نالج سٹی کے معاملات ایک خودمختار بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سُپرد ہیں جن میں رزاق داؤد نمایاں ہیں ۔ 2007 ء میں جب اس ادارے کی بنیادیں رکھی گئیں تو اس خواب کو اپنی رسیلی آنکھوں میں سجانے والے بہت سے روشن چہرے وہاں موجود تھے ان میںعمران خان کے دیرینہ دوست راشد خان ،محترمہ علیمہ خانم ، ابتدائی دنوں کے کنٹریکٹر ظہیر خان ، نمل فاؤنڈیشن کے رُوحِ رواں عابد حُسین ، سلیم گُل خان ، آصف پرویز خان شہباز خیل ، عمران خان کو میانوالی کے اس خوبصورت مقام تک لانے والے ملک طارق آف رکھی اور محمود الحسن خان نیازی شہباز خیل نمایاںنظر آ رہے تھے ۔ محمود الحسن خان نیازی شہباز خیل ہی کے ہمراہ میری اکرام اللہ خان نیازی مرحوم سے اکلوتی ملاقات اُس وقت ہوئی تھی جب وہ اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے میانوالی آئے تھے ۔وہ میانوالی شہر کے قلب میں واقع اپنے آبائی مکان ’’عظیم منزل ‘‘ سے باہر آ رہے تھے ۔ شفقت کے ساتھ پیش آئے اور ہمارے استفسار پر بتا یا کہ مسجد تک جا رہا ہوں ۔ ان کے یہ الفاظ ابھی تک یاد ہیں کہ ’’ میں زندگی کے اختتام سے قبل کچھ دن اپنے اُس آبائی مکان میں گذارنا چاہتا ہوں جہاں میں نے اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ اپنا بچپن گذارا تھا ۔ ‘‘

علیمہ خانم نمل یونیورسٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کی رُکن ہیں طویل عرصہ سے ملک اور بیرون ملک فنڈز ریزنگ میں مصروف ہیں۔ انہیں یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس منصوبے کے حوالے سے آگاہی مہم کے ثمرات ان کی بے لوث محنتوں کا ثمر ہیں ۔ ایک ملاقات میں کالم نگا ر نے جب یہ جاننا چاہا کہ کیا وہ یہ سب کچھ اپنے بھائی کی خوشنودی یا معادنت کے لیے کر رہی ہے ۔تو معلوم ہوا کہ یہ کُچھ حد تک درست ہے لیکن اصل میں وہ اپنے والد کے اُس مشن کو آگے بڑھا رہی ہیں جس کا آغازانہوں نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد وطن واپسی پر اپنی والدہ شاکرہ عظیم کے نام سے مستحق اور نادار طلبہ کے لیے سکالر شپ کی صورت میں کیا تھا ۔عمران خان بھی اپنی کتاب میں لکھ چُکے ہیں کے ان کے والد نے ’’ پاکستان ایجو کیشن سوسائٹی ‘‘کے نام سے ایک فلاحی ادارہ قائم کیا تھاجو غریب مگر با صلاحیت بچوں کو یونیورسٹی کی تعلیم کے اخراجات مہیا کر تا تھا۔ میری عمر جب بائیس سال تھی تو میرے والد نے مجھے اس بھی اس ادارے کے بورڈ میں شامل کیا تھا ۔ ‘‘

اپنے بھائی کی طرح علیمہ خانم بھی اپنے والد کے حوالے سے دو باتوں پر بہت زیادہ فخر کرتی ہیں ۔ ایک یہ کہ 1948 ء میں اُن کے والد امپیریل کالج لندن سے اعلیٰ تعلیم کے بعد واپس آئے تو اپنے علاقے میں وہ دوسرے شخص تھے جنہیں’’ لندن ریٹرن ‘‘ کا مقام حاصل تھا ۔ ریلوے اسٹیشن پر پورے کا پورا قصبہ ان کا استقبال کرنے کے لیے اُمڈ آیا تھا ۔ دوسرے یہ کہ اُن کے والد 23 مارچ1940 ء کو لاہور کے منٹو پارک ( موجودہ اقبال ؒ پارک ) میں منعقد ہونے والے اُس عظیم الشان جلسہ عام میں ایک نوجوان کی حیثت سے شامل تھے جس میں برصغیر کے مسلمانوں نے قراردادِ پاکستان منظور کی تھی ۔

محترمہ علیمہ خانم میانوالی کی نمل یونیورسٹی کے دس سال مکمل ہونے پر ’’ شہر دل ‘‘ کے محلوں میں محو خرام ہونے کی بجائے ماضی کی اس سنہری یاد کے دریچے کھول کر اس جدوجہد کا مثالیہ آگے بڑھانا چاہ رہی ہیں ۔ 1913 ء میں انگریز نے اس مقام پر ’’ نمل ڈیم ‘‘ تعمیر کیا تھا تو علاقے کی بیابانی سے خوف آتا تھا ۔ نمل نالج سٹی نے اس سناٹے کو علم کی روشنی سے منور و محبوب بنادیا ہے ۔ اس دسویں سالگرہ کے موقع پر نمل سے وابستہ میجر (ر) خُرم حمید خان روکھڑی او ر ڈین ملک جہاں خان کے ہمراہ ایک یاد گاری تقریب منعقد کر رہی ہیں ۔ یقینا یہ تقریب اس جدوجہد کے لیے مہمیز کا کام دے گی ۔

Electrolux
انوار حسین حقی ایک منجھے ہوئے صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔اُن کا کالم قومی اخبارات کی زینت بنتا رہتا ہے۔ اُن سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔