دورئہ انگلینڈسرفرازالیون کانیاامتحان،یاسرشاہ کابھی ساتھ میسرنہیں

ون ڈے میں نسبتا بہترکھیل اورٹی ٹوئنٹی میں کشتوں کے پشتے لگاتی سرفرازالیون کوآئندہ ماہ طویل فارمیٹ میں اعلی کارکردگی کاچیلنج درپیش ہے ۔ قومی کرکٹ ٹیم آئندہ ماہ آئرلینڈاورانگلینڈسے ٹیسٹ میچزکھیلے گی ۔پاکستان اور آئرلینڈ کے درمیان واحد ٹیسٹ11 مئی سے 15 مئی تک ڈبلن میں کھیلا جائے گا، انگلینڈ کے خلاف طویل فارمیٹ کے میچز کی سیریز کا پہلا مقابلہ 24مئی کو لارڈز،دوسرا یکم جون کو لیڈز میں شروع ہوگا۔

ماضی جب بھی پاکستان نے انگلینڈ کا دورہ کیاوہاں سے اچھی کم اوربری یادیں لے کرزیادہ لوٹاہے ۔ قومی کھلاڑیوں پرپہلی بار انگلینڈکے دورے کے دورا ن بال ٹمپرنگ کاالزام لگایاگیاتھااس کے علاوہ پاکستانی ٹیم کے کپتان سلمان بٹ ‘فاسٹ بائولرمحمد آصف اورفاسٹ بائولر محمدعامر پراسپاٹ فکسنگ کے الزام میں سزابھی سنائی گئی جن میں محمد عامرتوسزاپور ی کرنے بعد قومی ٹیم میں شامل کرلیے گئے لیکن محمد آصف اورسلمان بٹ پر قومی ٹیم کے دروازے بندہیں یااگریوں کہاجائے توغلط نہ ہوگاکہ سلمان بٹ پرقومی ٹیم کے دروازے بندہیں کیوں محمد آصف توتاحیات پابندی کی زدمیں ہیں۔

لیکن مصباح الحق کی قیادت میں جانے والی ٹیم کے لیے انگلینڈکادورہ خوشگواررہا۔ پاکستانی ٹیم نے نہ صرف کہ ٹیسٹ سیریزبرابرکی بلکہ عالمی درجہ بندی میں نمبرون بننے کااعزازبھی حاصل کیا۔ماضی کے مقابلے میں قومی ٹیم کے کھلاڑی ناتجربہ کاراورنوجوان ہیں اورانھیں ٹیسٹ میچزکھیلنے کازیادہ تجربہ بھی نہیں اس کے علاوہ کپتا ن سرفرازاحمد کابھی ٹیسٹ کرکے حوالے سے ریکارڈزیادہ اچھانہیں۔دبئی میں کھیلی گئی سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں سرفرازالیون کوشکست کاسامنا کرنا پڑاتھا۔ اس کے بعد سے کوئی ٹیسٹ سیریزنہیں کھیلی گئی ۔ اس لیے قومی ٹیم کے حوالے سے کوئی پیش گوئی کرنا قبل ازوقت ہی تصورہوگا۔

اہم کرکٹ سیریز سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کا فٹنس ٹیسٹ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس حوالے سے قومی کرکٹرز کے فٹنس ٹیسٹ کا سلسلہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں 9 اپریل سے 2 روز جاری رہے گا۔قومی کرکٹرز کے فٹنس ٹیسٹ کا سلسلہ تادم تحریر نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں شروع ہوچکا ہوگا جہاں مختلف گروپس میں کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ لیے جائیں گے۔فٹنس ٹیسٹ کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو بلایا گیا ہے تاہم فٹنس مسائل سے دوچار یاسر شاہ، سہیل خان اور عماد وسیم فٹنس ٹیسٹ نہیں دیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یاسر شاہ گزشتہ ہفتے کولہے کی انجری کا شکار ہوگئے ہیں، ان کی انجری کا جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد ہی ان کی ٹیم میں شمولیت کا فیصلہ ہوگا۔آصف علی، حسین طلعت، شاہین شاہ آفریدی اور صاحبزادہ فرحان کو بھی فٹنس ٹیسٹ کے لئے بلایا گیا ہے جب کہ فواد عالم کی فٹنس کا بھی جائزہ لیا جائے گا لیکن ان کا ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل ہونے کا امکان نہیں ہے۔

ٹیسٹ ٹیم کے لئے ممکنہ کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان فٹنس ٹیسٹ کے بعد کیا جائے گا اور ممکنہ کھلاڑی کیمپ میں شریک ہوں گے جہاں کیمپ کے دوران ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کیا جائے گا۔چیف سلیکٹر انضمام الحق نے 17 کھلاڑیوں کے ناموں کی تجویز دی ہے جب کہ وہاب ریاض کا ٹیسٹ اسکواڈ میں جگہ بنانا مشکل ہے۔راحت علی کو ٹیم میں شامل کئے جانے کا امکان ہے جب کہ یاسر شاہ کے ان فٹ ہونے کے باعث شاداب خان کے ساتھ کاشف بھٹی کو بھی اسکواڈ کا حصہ بنائے جانے کا امکان ہے ۔

انگلش کنڈیشنز میں اہم ہتھیار سمجھے جانے والے یاسر شاہ کولہے کی ہڈی میں تکلیف کے سبب دستیاب نہ ہوناقومی ٹیم کے لیے ایک جھٹکے سے کم نہیں یہ صورتحال ٹیم مینجمنٹ اور سلیکٹرز دونوں کیلیے تشویش کا باعث ہے، 28 ٹیسٹ میں 165 وکٹیں حاصل کرنے والے 31سالہ لیگ اسپنر کو 4 ہفتے آرام کرنا ہوگا، انھیں فٹنس کی مکمل بحالی کیلیے مزید 6ہفتے درکار ہوں گے۔یاسر کی کمی پوری کرنے کیلیے صرف ایک ٹیسٹ کا تجربہ رکھنے والے لیگ اسپنر شاداب خان،ڈیبیو کے منتظر بلال آصف اور کاشف بھٹی پر انحصار کرنا ہوگا۔شاداب نے واحد ٹیسٹ بارباڈوس میں ویسٹ انڈیز کیخلاف کھیلتے ہوئے ایک وکٹ حاصل کی تھی۔

مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ محدود اوورز کی کرکٹ میں کارکردگی اپنی جگہ لیکن طویل فارمیٹ کیلیے ٹمپرامنٹ لانے کیلیے انھیں مسلسل فرسٹ کلاس میچز کھیلنے کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ 2016 میں پاکستان نے انگلینڈ کیخلاف سیریز برابر کرتے ہوئے عالمی رینکنگ میں ٹاپ پوزیشن پائی تھی۔یاسر شاہ نے لارڈز میں 10 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ دوسری جانب نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں قومی کرکٹرز کی فٹنس جانچنے کا عمل شروع ہوگیا، شارٹ اسپرنٹ، بلیب ٹیسٹ سمیت مختلف آزمائشوں سے گزار کر ڈیٹا مرتب کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔

Electrolux