آئی سی سی کا بال ٹیمپرنگ پر سخت سزائیں مقرر کرنے کا فیصلہ

آئی سی سی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈیوڈ رچرڈسن نے کہا ہے کہ بال ٹیمپرنگ کے قوانین کو مزید سخت کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، اس سلسلے میں سابق اور موجودہ کرکٹرز کی بھی خدمات حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بال ٹمپرنگ اور کھیل کے دوران جھگڑا کرنے والے کھلاڑیوں کو سبق سکھانے کے لیے سخت سزائیں مقرر کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔

کرکٹ میچز کے دوران کھلاڑیوں کا آپس میں جملے بازی، آئوٹ کرنے کے بعد پویلین جانے کا اشارہ کرنا، کندھا مارنا اور ایمپائرز کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کرنا جیسے واقعات کے بڑھتے ہوئے رحجان کو بھی مدِ نظر رکھتے ہوئے نئے قوانین بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔آئی سی سی حکام کا کہنا ہے یہ فیصلہ حالیہ آسٹریلوی کھلاڑیوں کی بال ٹمپرنگ اسکینڈل کے باعث کیا گیا ہے۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈیوڈ رچرڈسن نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے کھلاڑیوں کے خراب رویوں کو سامنے رکھتے ہوئے اور بال ٹیمپرنگ کے قوانین کو مزید سخت کرنے پر غور شروع کر دیا ہے تا کہ سپرٹ آف گیم کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس سلسلے میں ہم سابق اور موجودہ کرکٹرز کی بھی خدمات حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ایلن بارڈر، شان پولاک، کورٹنی والش، رچی رچرڈسن اور انیل کمبلے کے نام میرے ذہن میں ہیں۔ کھلاڑی آپس میں مشاورت کرنے کے بعد آئی سی سی کرکٹ کمیٹی، میلبورن کرکٹ کمیٹی اور میچ آفیشلز سے اس بارے تبادلہ خیال کر کے اپنی تجاویز دیں گے۔ اپریل میں شیڈول آئی سی سی میٹنگز میں بھی کھلاڑیوں کے کوڈ آف کنڈکٹ اور بال ٹیمپرنگ کو ایجنڈے میں شامل کر لیا گیا ہے۔

Electrolux