چوہدری نثار علی خان 

میاں محمد نواز شریف اکتوبر 1990 ء میں جب جنرل پرویز مشرف کو چیف آف آرمی ا سٹاف کے منصب سے معزول کرنے اور جنرل ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف بنانے کا ارادہ یا فیصلہ کرکے اُس وقت کے سیکرٹری دفاع لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ افتخار چوہدری سے رُخصت ہو رہے تھے کہ انہوں نے سرگوشی کے انداز میں کہا تھا کہ۔۔

’’ چوہدری صاحب اس سب کچھ کے بارے میں آپ نے اپنے بھائی کو اور میں نے اپنے بھائی کو کُچھ نہیں بتانا ہے ۔ ‘‘

اس کے بعد کیا ہوااوراس بات کا نہ جانے پھر کیسے چوہدری نثار علی خان کو علم ہو گیا تھا۔۔ اس کا جواب یہی ہے کہ چوہدری افتخار اور نثار علی خان کے درمیان میاں صاحبان والی بد اعتمادی نہیں تھی ۔ کیونکہ کالم نگار نے یہ واقعہ خود چوہدری نثار علی خان کی زبان سے اُس وقت سُنا تھا ۔ جب وہ عمران خان کی چچی مرحومہ کی وفات پرتعزیت کے لیے میانوالی آئے تھے ۔

اس واقعہ سے چوہدری نثار علی خان اور میاں محمد شہباز شریف کے درمیان گہرے مراسم کا سُراغ ملتا ہے ۔ 2013 ء کے عام انتخابات کے بعد سے اب تک کے حالات نے دونوں کے درمیان تعلق کی گہرائی کو کئی مرتبہ واضح کیا ۔ میاں محمد نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان جب کبھی فاصلے بڑھے تو یہ چھوٹے میاں صاحب ہی ہوا کرتے تھے ۔ جو چوہدری صاحب کو اُسی پرانی تنخواہ پر کام کرنے کے لیے راضی کر لیا کرتے تھے۔

زیادہ دن نہیں ہوئے کہ ’’ چکری ‘‘ کے چوہدری جب منیر نیازی کا ایک شعر زبان پر لائے توبہت سے چکراگئے تھے ۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا تھا کہ چوہدری نثار کے سیاسی مُستقبل کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی ۔پرویز رشید بھی اس موقع پر چُپ نہ رہ سکے تھے ۔ انہوں نے چوہدری نثار علی کی جانب سے مریم نواز شریف پر پارٹی کو بند گلی میں لے جانے کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’ نثار کے پارٹی میں مستقبل کا فیصلہ نومنتخب صدر میاں شہباز شریف کو کرنا ہے ۔

لیکن اب معاملات میاں شہباز شریف کے دسترس سے بھی آگے کی بات بن چُکے ہیں ۔ چوہدری نثار اور میاں شہباز شریف کے درمیان کیا گفتگو ہوئی اس پر نہ جانے یہ اشعار کیوں کالم نگار کا تعاقب کر رہے ہیں ۔

زخمِ دل کب تلک چھُپاؤں تُجھے
کیوں بنہ اُس آنکھ کو دکھاؤں تُجھے
سانس کے ساتھ تیری یادیں ہیں
سانس اُکھڑے تو بھول پاؤں تُجھے

چوہدری نثار علی خان کے مستقبل کا فیصلہ میاں شہباز شریف کے ہاتھوں میں بتایا جا رہا ہے ۔غالب خیال یہی ہے کہ چوہدر نثار علی خان اپنے دوست میاں شہباز شریف کو کسی امتحان میں ڈالنے کی بجائے خود ہی اپنے لیے کسی سیاسی مستقبل کا تعین کر لیں گے۔ پرویز رشید اور بڑے میاں صاحب کے کیمپ کے دوسرے پارٹی لیڈروں کی جانب سے یہ بال چھوٹے میاں صاحب کے کورٹ میں ڈالنا بھی ایک سیاسی چال قرار دی جا رہی ہے۔

گذشتہ سال جب پانامہ کا ہنگامہ اپنے عروج پر تھا تو چوہدری نثار علی خان کے سیاسی وزن کے بارے میں اندازے لگاتے ہوئے ایم این ایز کی ایک سو سے لے کر ایک سو بیس تک کی تعداد ان کی صوابدید پر قرار دی جا رہی تھی۔ ڈان لیکس اسکینڈل کے بعد اور پانامہ کیس کے فیصلے سے پہلے چوہدری نثار علی خان نے کافی طویل پریس کانفرنسیں بھی کی تھیں ۔ ان کی یہ تمام پریس کانفرنسیں اثر پذیری کے حوالے سے فاروق ستار کی پریس کانفرنسیں ثابت ہوئی تھیں ۔سیاسی مستقبل کی راہیں متعین کرنے کا جب وقت تھا تو وہ کوئی جرات مندانہ فیصلہ کرنے سے قاصر رہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی یہ تاریخ رہی ہے کہ اس جماعت میں شریف برادران کی عطاؤ ں سے زیادہ کا مطالبہ کرنے والوں کو اپنا راستہ علیحدہ کرنا پڑتا ہے۔ میاں منظور احمد وٹو، چوہدری برادران ، میاں محمد اظہر ، جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے صاحبزدوں اعجاز الحق اور انوار الحق سمیت بہت سی مثالیں ہماری ماضی قریب کی تاریخ میں موجود ہیں۔

اتوار کی شام ڈھلے جب راولپنڈی اور گردو نواح میں بارش موسم کو پُر بہار بنا رہی تھی اور عمران خان خطہ پوٹھوہار کے سڑکوں پر ممبر شپ کمپین میں مصروف تھے تو ذرائع پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان رابطے کی خبر دیتے سُنے گئے ۔ راولپنڈی ڈویژن کی سیاست میں چوہدری نثار علی ایک نا قابل تسخیر سیاست دان سمجھے جاتے ہیں وہ 1985 ء کے عام انتخابات میں پہلی مرتبہ آزاد حیثیت میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔1988 ء اور 1990 ء کے عام انتخابات میں وہ اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کے ممبر بنے ۔ 1993 ء اور 1997، 2002 ء ، 2008 ء اور 2013 ء کے انتخابات میں انہوں نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی 2013 ء کے عام انتخابات میں انہوں نے راولپنڈی کی دو نشستوں سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا ۔ ایک پر انہوں نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ دوسری نشست پر وہ پاکستان تحریک انصاف کے غلا م سرور خان سے شکست کھا گئے تھے۔

پاکستان تحریک انصاف اور چوہدری نثار علی خا ن کے درمیان فاصلے وسمٹنے لگے ہیں ۔ مسلم لیگ ن کے اقلیتی رکن اسمبلی کا پی ٹی آئی کو پیارے ہونے کے ساتھ ساتھ شمالی پنجاب کے آخری ضلع بھکر کے ایک بڑے سیاسی دھڑے کی بنی گالہ یاترا اس کی تازہ ترین مثالیں ہیں ۔

ایک ذریعے کا یہ کہنا بھی ہے کہ چوہدری نثار علی خان اپنا تمام پارلیمانی وزن پاکستان تحریک انصاف کے پلڑے میں ڈالتے جا رہے ہیں ۔ عین ممکن ہیں وہ خود کافی عرصہ تک کوئی نئی پارٹی جوائن نہ کریں اور آزاد حیثیت میں آئندہ عام انتخابات میں حصہ لیں ۔ اگرچہ مختلف سیاسی پارٹیوں میں ان کی ڈیمانڈ کافی زیادہ ہے لیکن ان کے لیے اپنی ذات کے حوالے سے کسی نئی سیاسی جماعت کو جوائن کرنے کا فیصلہ کوئی بہت آسان نہیں ہے ۔ لیکن کہا جا رہا ہے کہ عمران خان اپنے ماضی کے دوست کی اس مشکل کو آسان اور محفوظ راستہ فراہم کرسکتے ہیں ۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ قومی اسمبلی میں اپنی ایک تقریر کے دوران عمران خان نے انہیں اپنا ایک دوست قرار دیا تھا جبکہ کچھ روز قبل چوہدری نثار علی خان بھی یہ انکشاف کر چُکے ہیں کہ انہوں نے عمران خان کی ذات کو نشانہ بنانے کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ ایک اطلاعات کے مطابق چوہدری نثار علی خان کی اپنے قریبی ساتھیوں سے مشاورت کے بعد قرعہ پاکستان تحریک انصاف کے نام کا نکلا ہے ۔ دلچسپ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں ان کی شمولیت کے حوالے سے تحفظات رکھنے والے بھی موجود ہیں ۔ جن میں راولپنڈی ڈویژن کی قیادت اور غلام سرور اعوان نمایاں ہیں ۔

بحرحال یقینی امکانات بتارہے ہیں کہ تبصروں ، تجزیوں ، افواہوں اور اندازوں کی گرد جلد بیٹھنے والی ہے خطہ پوٹھوہار راولپنڈی کی سیاست میں نیا موڑ آیا ہی چاہتا ہے۔ ماضی کے دو غیر سیاسی دوست عمران خان اور چوہدری نثار علی خان سیاست میں بھی ہمقدم ہونے والے ہیں ۔
ایک طرف جی کا جانا ٹذٹھر چُکا ہے تو دوسری جانب ’’ وصالِ یار ‘‘ کی گونج سُنائی دینے لگی ہے ۔

Electrolux
انوار حسین حقی ایک منجھے ہوئے صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔اُن کا کالم قومی اخبارات کی زینت بنتا رہتا ہے۔ اُن سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔