... loading ...
22فروری 2018ء کوسائنسی جریدے میں عینی آبینک نے ایک تہلکہ خیز مضمون لکھا۔ عنوان تھا ’’قاتل چاول‘‘۔بادشاہ میجی کے زمانے میں قاتل چاولوں نے ٹوکیو میں فوج کے ایک حصے کا صفایا کر دیا۔خود بادشاہ کے خاندان کے کئی افراد ان قاتل چاولوں کی بھینٹ چڑھ کر لقمہ اجل بنے۔31سالہ شہزادی کازو (Kakke)نامی بیماری سے ہلاک ہو گئی۔ 10سال بعد اس کا شوہر بھی اسی مرض سے ہلاک ہوا تھا۔ بادشاہ میجی بہت رویا۔وہ خود بھی کئی مرتبہ اس مرض میں مبتلا ہو کر مرتے مرتے بچا۔ موت کا سایہ پورے جاپان پر منڈلا رہا تھا مگر عام آدمی محفوظ تھے۔امراء آئے روز موت کے منہ میں جارہے تھے۔ بادشاہ کو اپنی زندگی کی فکر تھی۔ خوفزدہ بادشاہ نے امراء اور با اثر طبقے کی جانیں بچانے کے لیے اپنے خزانے کے منہ کھول دئیے تھے مگرمرض نہایت پراسرار تھا۔
سائنس دان حیران تھے کہ دال روٹی پر گزارہ کرنے والے کیسے محفوظ ہیں؟ اس کی علامتیں عام بھی تھیں اور خاص بھی۔ پائوں میں سوجن ہوجاتی تھی۔ اس میںسر بھی چکراتا تھا اوریہ مرض دل کے دورے کا باعث بھی بن سکتا تھا۔ اسے ایڈو (Edo)وائرس بھی کہا جاتا تھا۔Edoٹوکیو کا پرانا نام تھا۔ بیری بیری اس مرض کا ایک اور نام تھا۔کئی پرانی کتابوں میں اس کا ذکر پایا جاتا ہے۔ ہمارے آج کی طرح صاف ستھرے پالش شدہ چاول موت کی علامت تھے۔ یہی وہ’’ قاتل چاول‘‘ تھے جنہوں نے جاپان میں امراء کو تمام تر حفاظتی حصار کے باوجود موت کے منہ میں ڈالا۔ خاص مراکز میں چالوں کی صفائی کے بعد پالش کی جاتی اور کبھی کبھی دھو بھی لیا جاتا۔ شرفاء کی خوراک یہی چاول تھے۔جبکہ غریب جاپانی میٹھے آلو یا عام دالیں کھاتے تھے۔ کبھی کبھی مکئی کی روٹی بھی نصیب ہو جاتی۔سائنس دان اس چیز پر حیران تھے کہ موت صرف امراء کے سروں پر کیوں منڈلا رہی تھی۔ دراصل بادشاہ کو بہترین چاول مہیا کرنے کے لیے اوپر ی چھلکا اتار دیا جاتا تھا، وٹا من بی ون (تھائی مین)بھی اس چھلکے کے ساتھ اتر جاتا۔ تھائی مین کے بغیر Kakke نامی مرض جنم لے سکتا تھا۔ تھامین انسانی جسم کو اس خوفناک مرض سے بچاتا ہے۔ کئی صدیوں تک امریکی اس مرض تھائی مین کی کمی سے محفوظ رہے۔
بیری بیری جاپان کا ’’قومی مرض‘‘کیسے بنا اس نام سے بھی ایک کتاب لکھی گئی۔ ایک جاپانی ڈاکٹر کو یہ تو پتہ چل گیا کہ بیر ی بیری کا تعلق چاولوں یا زمین سے ہے۔اس نے علاج کے لیے ہربل ادویات کا استعمال شروع کیا۔ کھانے پینے سے پرہیز کے علاوہ مختلف تیلوں کے استعمال کی بھی تجویز دی۔ دوران خون میں اضافے کے لیے Mugwrdنامی پتے بھی جلائے۔ کچھ ٹوٹکے کامیاب رہے۔ ڈاکٹر علامات کی تہہ تک پہنچنے میں ناکام رہا۔ 18ویں صدی میںڈاکٹر سمو رائے معروف جاپانی ڈاکٹر تھا۔ اس نے پانی اور زمین کے نمونے حاصل کیے۔ اور Hkone میں لوگوں کا علاج شروع کیا۔ انہی دنوں فوجیوں کا ایک جہاز بیرون ملک روانہ کیا جارہا تھا۔ اس نے ان کی خوراک تبدیل کرنے کی ہدایت دی اور ان کا ایک کوٹہ مقرر کیا۔خوراک میں سفید چاول کی مقدار کم کی گئی۔مکئی اور پھلیوں کو بھی مریضوں کی خوراک میں شامل کیا۔ اس کے ٹوٹکے کامیاب رہے۔ ان عناصر میں تھامین کی کافی مقدار پائی جاتی ہے۔اس طرح 1877ء میں اس کا تجربہ کامیاب رہا۔ ڈاکٹر نے ان کی خوراک میں مکئی اور دوسرے اجناس شامل کر دئیے۔
جہاز واپس آیا زیادہ اموات نہ ہوئیں۔ ڈاکٹر کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا اس کا تجربہ کامیاب رہا۔ ایک دو موتوں نے اس کو جاپان میں مقبول بنا دیا۔ تب وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ موت کے ذمہ دار چاول ہیں۔ یوں اس نے چاولوں کا کوٹہ تبدیل کر کے شرفاء کو موت کے منہ سے بچا لیا۔ ڈیوڈ آرگن نے بھی متحدہ ہندوستان میں اس مرض پر تحقیق کی تھی۔ برٹش انڈیا اینڈ دی بیر ی بیری پرابلم بھی اس کے ارد گرد گھومتی ہے۔آزاداور قیدی سبھی لوگ اس مرض کا شکار ہوئے۔ اسی زمانہ میں تا کا کی قیر میرو کا شمار ذہین ڈاکٹروں میں ہوتاتھا۔ وہ بھی 1872ء میں بحریہ میں شامل ہوا تھا۔
اس نے بحری اور بری فوج کے لیے تحقیق پر اپنی جان لگا دی۔ اور افسروں میں پھیلنے والے اس مرض کا گہرا مطالعہ کیا۔ ان دنوں وہ لندن میں میڈیکل ا سکول میں زیر تعلیم تھا۔
واپسی پر اس نے ٹوکیو نیول ہسپتال میں ڈائریکٹر کا منصب سنبھال لیایہ اس کا پہلا عہدہ تھا۔ جب خوراک کا تجزیہ کیا گیا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ ان کی خوراک میں سفید چاول شامل نہ تھے۔ اس زمانہ میں بیر ی بیری کو چھوت کی بیماری سمجھا جاتا تھا۔ مگر ڈاکٹر نے اس کی نفی کی۔ اس نے شہنشاہ کو ایک تجویز پیش کی کہ اس مرض کا علاج اگر جاپان سے باہر کسی نے دریافت کیا تو یہ بڑی توہین کی بات ہوگی۔
یہ ہمارا مرض ہے اور ہمیں ہی اس کو انجام تک پہنچانا ہوگا۔ بادشاہ پہلے ہی راضی تھا۔1883ء میں بحریہ میں1ہزار میںسے 120جاپانی اس مرض میں مبتلا تھے۔اس نے یہ بھی پتہ چلایا کہ یہ مرض دوسرے علاقے کی بحریہ میں پھیلا کہ نہیں۔ وہ نہایت چاق و چوبند تھے۔ مغربی خوراک مہنگی تھی۔
چاولوں کی مقدار بہت قلیل تھی۔ باہر کی بحریہ محفوظ تھی۔ یہیں سے ٹاکا کاکی نے اپنی تحقیق کا ا?غاز کیا۔ اور بالا?خر تھائی مین پروٹین کی کمی تک پہنچنے کے بعد اس کا علا ج دریافت کرنے میں کامیاب ہوا۔
فیصلے بند کمروں میں نہیں پارلیمانی فورم پر کھل کر مشاورت کرنی چاہیے،قومی یکجہتی کیلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہیں، غلط فیصلوں کی مخالفت کی جائے گی، سربراہ جے یو آئی خیبر پختونخوا حکومت بے اختیار ،اہم فیصلے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں،موجودہ حکومت دھاند...
خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کرینگے جس میں ہمارا نقصان ہو، میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا،وزیراعلیٰ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاق کی ذمہ داری ،جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے...
سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا پاکستان کے اندر تمام اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، میڈیا نمائندگان سے ملاقات سیکیورٹی ذرائع نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پاک فوج کے حوالے سے حالیہ بیان کو ان...
ہم حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن ان کی پالیسی کا حصہ نہیں، شازیہ مری سولرپینل صارفین کیساتھ دھوکا ، وہ کیسے اپنا نقصان پورا کریں گے؟میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی نے نیپرا کے نئے سولر نیٹ میٹرنگ قواعد پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئ...
دہشتگردوں نے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے بنوں میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی آئی جی سجاد خان کے مطابق دہشت گردوں نے رات گئے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے۔ سجاد خان نے بتایا...
شہری خود پریشان ، شہر بھر میں گوشت فروشوں کی من مانے نرخ وصولی انتظامیہ کی کارروائیاں بے سود، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا شہری خود ساختہ مہنگائی سے پریشان ہیں، دکانوں پر مٹن، بیف اور چکن کی قیمتیں بے قابو ہو گئیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں مؤثر دکھائی نہیں ...
جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے شہر کو جرائم سے پاک کرنے کی کوششیں جاری ہیں، دہشتگرد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میںزیادہ کارروائیاں کر رہے ہیں،ایڈیشنل آئی جی فرانزک لیب کی سہولت میں وقت لگے گا ، پراجیکٹ کی تکمیل میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے، فتنہ الخوارج اور فتن...
امن ہوگا تو خوشحالی آئیگی، صوبے کے عوام کے حقوق کیلئے ہر شخص کے ساتھ بیٹھوں گا خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے،ہم ڈرنے والے نہیں ،کانووکیشن سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے، صوبے کے عوام کے حقوق کے...
پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت منعقد ہوگا شہباز شریف دورہ جرمنی مکمل کرنے کے بعد وہیں سے واشنگٹن روانہ ہو جائیں گے وزیراعظم شہباز شریف غزہ پیس بورڈ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ذرائع کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ...
8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...
اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...
دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...