وجود

... loading ...

وجود

صرف آدھے منٹ میں نیند لانے کی تکنیک

پیر 09 اپریل 2018 صرف آدھے منٹ میں نیند لانے کی تکنیک

کیا آپ جانتے ہیں اگر رات میں بستر پر جانے کے بعد آپ کو سونے کے لیے 15 منٹ درکار ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ہر سال 90 گھنٹے صرف سونے کی تگ و دو کرتے ہوئے گزار دیتے ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر شخص کے نیند آنے کا وقت مختلف ہے۔ کوئی بستر پر لیٹتے ہی نیند کی گہری وادیوں میں اتر جاتا ہے۔ کسی کو اپنے دماغ کو بہلانے کی ضرورت ہوتی ہے جیسے موسیقی سننا، کتاب پڑھنا، ٹی وی دیکھنا، لیکن جن افراد کو بستر پر لیٹنے کے بعد آدھے گھنٹے تک نیند نہیں آتی اس کا مطلب ہے کہ وہ بے خوابی کا شکار ہیں۔بے خوابی یا نیند کی کمی آپ کی دماغی و جسمانی صحت کو بری طرح متاثر کرتی ہے اور آپ کی کارکردگی پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ نیند کی کمی سے آپ چڑچڑاہٹ، ڈپریشن اور موٹاپے سمیت کئی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ آپ اپنے دماغ کو جلد سونے کا عادی بنا سکتے ہیں۔ یہاں آپ کو ایسی تکنیک بتائی جارہی ہے جس کے بعد آپ بے خوابی کے مرض سے چھٹکارہ حاصل کرلیں گے۔

نیند کو دور بھگانے کے کئی اسباب ہیں جیسے سونے سے صرف آدھا گھنٹہ پہلے کھانا، چائے یا کیفین کا استعمال، ذہنی دباؤ، کسی چیز کے بارے میں ایکسائٹمنٹ جس سے آپ کا دماغ نیند لانے والا ہارمون پیدا کرنا بند کردیتا ہے، کمرے میں تیز روشنی یا شور کا ہونا، یا دوپہر میں دیر تک سوجانا، وہ وجوہات ہیں جو نیند پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔سب سے پہلے تو ان چیزوں سے بچیں۔ سونے سے 2 گھنٹے پہلے تمام مصروفیات کو ترک کردیں تاکہ آپ کا دماغ سونے کی طرف راغب ہوسکے۔

اب ہم اس تکنیک کی طرف آتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ تکنیک کامیابی سے استعمال کرنے سے آپ کا مسئلہ ایک دو دن میں حل نہیں ہوگا بلکہ اس میں مہینوں بھی لگ سکتے ہیں۔یہ تکنیک دماغ کو اپنے قابو میں کرنے کی ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اگر آپ دماغ کو پابند نہیں کریں گے تو آپ اس کے غلام بن جائیں گے۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ اکثر افراد ٹی وی دیکھتے ہوئے یا کوئی کتاب پڑھتے ہوئے فوراً سو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا دماغ اس بات پر کاربند ہے کہ جیسے ہی کتاب پڑھی جائے گی یا ٹی وی دیکھا جائے گا تو اس کا مطلب ہے کہ یہ سونے کا وقت ہے۔

آپ بھی اسی طرح کا کوئی معمول بنا سکتے ہیں۔ جس وقت نیند آرہی ہو اس وقت کتاب پڑھنا شروع کردیں۔ روز کے معمول سے آہستہ آہستہ آپ کا دماغ اس کا عادی ہوتا جائے گا۔جب آپ سونے کے لیے لیٹیں اور 15 منٹ تک آپ کو نیند نہ آئے تو بستر سے اٹھ جائیں اور کوئی کام کریں۔ اپنے دماغ کو اس کی اجازت مت دیں کہ وہ اپنی مرضی سے کبھی بھی نیند لائے اور آپ کو سونے پر مجبور کرے۔

اسی طرح صبح جب آپ کا الارم بجے تو آپ اسنوز کرنے کے بجائے فوراً اٹھ کھڑے ہوں۔ یہ دراصل آپ کے دماغ کے خلاف ایک مزاحمت ہے کہ وہ مزید سونا چاہتا ہے لیکن آپ اسے نظر انداز کر کے اٹھ بیٹھیں، شاور لیں، کافی پئیں اور کام کریں، آپ کا دماغ مجبوراً آپ کی بات ماننے پر مجبور ہوجائے گا۔دماغ کو اس بات کی ٹریننگ دیں کہ بستر پر لیٹتے ہی ایک منٹ کے اندر وہ آپ کو سلادے۔ علاوہ ازیں دن کے کسی بھی حصہ میں آپ کو نیند محسوس ہو، یا کسی دن رات میں جلدی نیند آنے لگے تب بھی بستر پر مت جائیں۔ اپنے سونے اور اٹھنے کا وقت مقرر کریں اور اس کے علاوہ دماغ کو اپنی مرضی کرنے کی اجازت مت دیں۔اس تکنیک سے آہستہ آہستہ آپ کا دماغ نہ صرف نیند کے معاملے میں آپ کا پابند ہوجائے گا بلکہ دوسرے معاملوں میں بھی آپ کی سننے لگے گا۔

نیند کی کمی کے منفی اثرات
کیا آپ جانتے ہیں نیند کی کمی آپ پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے؟ماہرین کے مطابق ایک نارمل انسان کے لیے 8 گھنٹے کی نیند لینا از حد ضروری ہے۔ اگر یہ دورانیہ اس سے کم یا اس سے زیادہ ہو تو کئی قسم کی جسمانی و ذہنی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی آپ پر ہر طرح کے منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں وہ منفی اثرات کون سے ہیں۔

ڈپریشن
ایک تحقیق کے مطابق نیند کی کمی آپ کو تھکن کا شکار کر سکتی ہے جس کے بعد آپ چڑچڑے پن کا شکار ہوجائیں گے اور صحیح سے اپنے روزمرہ کے کام سرانجام نہیں دے پائیں گے۔یہ چڑچڑاہٹ آگے چل کر ڈپریشن میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

توجہ کی کمی
اگر آپ نے اپنی نیند پوری نہیں کی تو آپ کا دماغ غیر حاضر رہے گا جس کے باعث آپ کسی چیز پر اپنی توجہ مرکوز نہیں کر پائیں گے۔یہ صورتحال آگے چل کر اے ڈی ایچ ڈی یعنی اٹینشن ڈیفسٹ ہائپر ایکوٹیوٹی ڈس آرڈر میں تبدیل ہوجائے گی جس کا شکار شخص کسی بھی چیز پر تسلسل سے اپنا دھیان مرکوز نہیں کر سکتا۔

ذیابیطس
نیند کی کمی آپ کے جسم میں موجود انسولین کے ہارمون کی کارکردگی کو متاثر کرے گی۔ انسولین ہماری غذا میں موجود شکر کو جذب کرتا ہے جس کے باعث یہ ہمارے جسم کا حصہ نہیں بن پاتی۔ اگر یہ ہارمون کام کرنا چھوڑ دے تو جسم میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے ذیابیطس کی بیماری پیدا ہوتی ہے۔اس بیماری کا واحد علاج مصنوعی طریقہ سے جسم میں انسولین داخل کرنا ہی ہے۔

ہائی بلڈ پریشر
نیند کی کمی بلڈ پریشر میں اضافہ کرتی ہے اور ا?پ کو ہائی بلڈ پریشر کا مریض بنا سکتی ہے۔

کولیسٹرول میں اضافہ
نیند کی کمی سے آپ کے جسم میں کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہوسکتا ہے جس سے آپ موٹاپے اور امراض قلب سمیت کئی بیماریوں کا شکار بن سکتے ہیں۔

چاندنی راتیں نیند میں کمی کا سبب بنتی ہیں
ماہرین کے مطابق اگر آپ نیند کی کمی کا شکار ہیں یا بے سکون نیند سوتے ہیں تو اس کی وجہ کمرے میں نامناسب روشنی اور درجہ حرارت، شور، جانوروں کی موجودگی یا غیر موجودگی اور سونے سے پہلے آپ کی مصروفیات ہیں۔لیکن ایک وجہ اور ہے جو بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ وہ ہے پورے چاند کی روشنی۔ماہرین کے مطابق پورے چاند کی راتوں میں اکثر افراد کو نیند کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔اس تحقیق کے لیے ماہرین نے 30 افراد سے ایک اندھیرے کمرے میں رات گزارنے کو کہا۔ تجربہ میں شامل افراد کو علم نہیں تھا کہ انہیں کس مقصد کے لیے تجربہ میں شامل کیا گیا۔ سونے سے قبل ان کے کمروں میں مکمل اندھیرا کردیا گیا۔ ماہرین نے اس بات کا بھی خیال رکھا کہ ان کی روزمرہ کی عادات میں کوئی تبدیلی نہ لائی جائے۔ماہرین نے دیکھا کہ پورے چاند کی رات نے ان افراد کے سونے پر منفی اثرات مرتب کیے۔ یہ لوگ اپنے معمول کے وقت سے 20 منٹ کم سوئے جبکہ انہیں سونے میں بھی وقت لگا۔ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر پورے چاند کی راتیں سونے کی شرح میں 30 فیصد کمی کرتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ وہ کیا وجہ ہے جس کے باعث چاند کی روشنی زمینی چیزوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں چاند کی روشنی کا مختلف چیزوں سے پرانا تعلق ہے۔ پورا چاند کئی جانوروں میں غیر معمولی حرکات کا سبب بنتا ہے۔ یہ سمندر کی لہروں میں شدت پیدا کرتا ہے۔ایک تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ وہ آوارہ کتے اور بلیاں جو راتوں کو آوارہ گردی کرتے ہیں چاند کی راتوں میں مختلف حادثات کا شکار ہوکر زخمی ہوجاتے ہیں۔بعض ماہرین کے مطابق چاند کی گردش کا تعلق خواتین سے بھی ہوتا ہے اور چاند کے ارتقائی مراحل کے ساتھ ان کی کیفیات و نفسیات میں بھی تبدیلی پیدا ہوتی ہے تاہم سائنس ابھی تک اس کی وجہ تلاش کرنے سے قاصر ہے۔

چاند کی روشنی کے نیند پر منفی اثر کی وجہ ابتدا میں میلاٹونین کو سمجھا گیا۔ میلاٹونین ہمارے دماغ میں ایک ہارمون ہے جو اندھیرے میں متحرک ہوجاتا ہے اور نیند لانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے ہمارا اندرونی نظام قدرتی طور پر بیرونی عوامل کے ساتھ مطابقت کر لیتا ہو اور ہمیں اس کا علم نہ ہوتا ہو۔شاید اسی کے تحت دماغ ایک خود کار نظام کے تحت چاندنی راتوں میں جسم کو کم سونے کا پیغام دیتا ہو۔تاہم ابھی تک اس بات کا حتمی تعین نہیں کیا جاسکا ہے اور سائنس تاحال اس کی وجہ تلاش کر رہی ہے۔


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید وجود - اتوار 21 جون 2026

حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

مضامین
موت زندگی کی دشمن نہیں! وجود پیر 22 جون 2026
موت زندگی کی دشمن نہیں!

سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب وجود پیر 22 جون 2026
سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب

کشمیریوں کو مذہبی استحصال وجود پیر 22 جون 2026
کشمیریوں کو مذہبی استحصال

92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر