وجود

... loading ...

وجود

پاکستان کے نمائندہ شاعر سعیدؔالظفرصدیقی

اتوار 08 اپریل 2018 پاکستان کے نمائندہ شاعر سعیدؔالظفرصدیقی

سعیدؔالظفرصدیقی کے فن پر اُردو دنیا کے جید ناقدین، مشاہیرِ ادب، اہلِ علم و ہنر اور صاحبِ اُسلوب شعرا نے اپنی اپنی مثبت آرا کا اظہار فرمایا ہے اور اُن کے فنِ شاعری کی گواہی دی ہے کہ وہ عہدِ موجود کے معتبر ،صاحبِ اُسلوب اور کہنہ مشق شاعر ہیں۔ اُن کے فنِ شاعری کا لوہا ماننے والوں میں ڈاکٹر سلیم اختر، ڈاکٹر اجملؔ نیازی، ڈاکٹر کامران، محسن اعظم محسنؔ ملیح آبادی، پروفیسرجاذبؔ قریشی،پروفیسر سحرؔ انصاری، خالدؔ شریف، رفیع الدین رازؔ، ڈاکٹر اخترؔ ہاشمی، پروفیسر یونس حسن، یوسفؔ فضل، ڈاکٹر مظہرؔ حامد، جاوید رسول جوہرؔ، سلمیٰؔ صدیقی اور حمیدہ سحرؔ شامل ہیں۔

سعیدؔالظفر صدیقی کے کلام کو پڑھنے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ ایک وسیع المطالعہ شاعرہیں۔ اُن کی شاعری میں الفاظ کا چنائو، دروبست، نئی زمینوں کی پیدا وار، خیالات کی ندرت، لب و لہجہ کی جدت، تخیل کی بلند پروازی، جملوں کی بندش،نئی تراکیب کا استعمال، ردیف و قوافی کا انتخاب، محاورات کا برمحل جڑائو اور مانوس الفاظ کے ساتھ ساتھ غیر مانوس الفاظ کو شاعری کی تسبیح میں موتیوں کی طرح پرو دینا، اُن کے وسیع المطالعہ ہونے کا ثبوت ہے۔

سعیدؔالظفر صدیقی میں ناقدانہ شعور بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ وہ جانتے ہیں، کن خیالات کی ندرت سے کلام میں جان ڈالی جا سکتی ہے اور کن بیانات سے اشعارمیں شعریت پیدا کی جا سکتی ہے۔ کن الفاظ سے اشعار کو زور فراہم کیا جاسکتا ہے۔ کون سے جملے اور محاورے قارئین کو دل سے واہ نکالنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ کن ضرب الامثال کا استعمال برمحل ہو سکتا ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیںکہ کن اشعار میں آسان و سہل الفاظ سے اثر پیدا کیا جاسکتا ہے اور کن اشعار کو فصاحت و بلاغت کے ذریعے موثر بنایا جا سکتا ہے۔ اُن کو یہ بھی معلوم ہے کہ کون سی تراکیب دل میں نشتر بن کر اُتر سکتی ہیں اور کن تشبیہات و استعارات سے حسنِ سخن کا کام لیا جاسکتا ہے۔ اُن کے کلام میں طنز کی کاٹ بھی موجود ہے اور بے حس و بے ضمیر لوگوں کے لیے تازیانے کی ضرب بھی شامل ہے۔ اِن تمام باتوں نے اُن کی شاعری کو دوآتشہ بنا دیا ہے جس سے پڑھنے اور سننے والے پر ایک سحر کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ وہ اُن کے خیالات کی وسعت میں کھو جاتا ہے، یا اُن کے اشعار کے معانی و مفاہیم میں گم ہو جاتا ہے۔ وہ اُن کی غزلیات میں سموئے ہوئے تصورات کے بحرِ بے کنار سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہے اور پھر خود کو ساحل پر لاتا ہے تو وہ متعدد معانی و مفہوم کے گوہرِ نایاب کو اپنی ملکیت بنا چکا ہوتا ہے اور خود کو ایک مشّاق شناور سمجھنے لگتا ہے۔

سعیدؔالظفر صدیقی کے وسیع المطالعہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اُن کی نظر میں تاریخِ اُردو ادب، ابتدا سے لے کر تاحال کا ارتقا ہے۔ وہ اُردو شاعری کے آغاز سے بھی واقف ہیں اور اِس کے بدلتے ہوئے منظر نامے سے بھی آگاہ ہیں۔ اُن کو معلوم ہے کہ کس صدی میں کون کون سے شعرا منظرِ عام پر آئے اور اُنھوں نے سخن میں کیا کیا گل کھلائے اور کن کن تجربات سے اُردو شاعری کو ترقی دی اور بعد ازاں اِن میں سے فقط چند نام کیوں یادگار رہ گئے، باقی معدوم کیوں ہو گئے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ متقدمین، متوسطین اور متاخرین میں کن کن شعرا نے انفرادیت پیدا کی اور جدید لب و لہجہ کو اپنا کر اپنے لیے ایک الگ راہ متعین کی اور اپنے فن کی معراج پر پہنچے اور اپنی منزلِ مقصود کے حصول میں کام یاب و کامران ہوئے۔

سعیدؔالظفرصدیقی ایک کلاسیک شاعر ہیں اور کلاسیک کی روح سے واقف ہیں۔ وہ شعروں میں خیالات کو سجا اور سنوار کر ضرور پیش کرتے ہیں مگر غزل کو ہزل بنانے کا کوئی عنصر اُن کے کلام میں نہیں پایا جاتا۔ وہ روایت سے جڑے ہوئے ہیں اور جدید لب و لہجہ بھی اپنائے ہوئے ہیں۔ اُن کا کلام روایت اور جدت کا حسین سنگم ہے اور یہی امتزاج اُن کا اُسلوب ہے۔ وہ ایسی نئی بات پیش کرتے ہیں جو ہر ذی شعور ذہن رکھنے والے شخص کے لیے قابلِ قبول ہوتی ہے۔ اُس نئی بات کا تمسخر اُڑایا نہیں جاتا۔ اُس کے خیالات کی ندرت کو محسوس کیا جاسکتا ہے، اِسے رد نہیں کیاجاسکتا۔ اُن کے اکثر کلام میں امکانات کی بات ہوتی ہے جس سے ہم اُنھیں ’’امکانات کا شاعر‘‘ اور اُن کی شاعری کو ’’امکانی شاعری‘‘ تسلیم کر چکے ہیں۔ وہ عہدِ موجود سے لے کر مستقبل قریب اور بعید کی بات تو کرتے ہیں مگر وہ اِس سے آگے کے امکانات بھی پیش کرتے ہیں۔

آج غالبؔ کو ایک صدی کا شاعر تسلیم کرلیا گیاہے اور اُردو ادب کے پانچ سب سے بڑے شاعروں میں غالبؔ کا شمار ہوتا ہے تو اِس کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ غالبؔ کی شاعری میں امکانات موجود تھے۔ اُنھوں نے سو سال بعد کے زمانے کی خبریں سو سال پہلے اپنی شاعری کے ذریعے دی ہیں۔ اِسی طرح سعیدؔالظفر صدیقی کی شاعری میں بھی بعد اور مابعد زمانے کے امکانات ملتے ہیں جو، اُن کی شاعری کو دیگر ہم عصر شعرا کی شاعری سے منفرد بناتے ہیں اور اُن کو ہم عصر شعرا میں ممتاز کرتے ہیں۔

سعیدؔالظفرصدیقی کے مزاجِ شاعرانہ میں اُردو ادبِ عالیہ رچا بسا ہوا ہے۔ اُن کا لہجہ شائستہ، زبان شستہ اور تخاطب کا انداز دل کو موہ لینے والا ہے۔ اُن کے یہاں فکری، فنی اور اُسلوبیاتی انفرادیت پائی جاتی ہے کیوں کہ اُنھوں نے اپنے شعری اثاثے میں حیات و کائنات کا مطالعہ، مشاہدہ اور تجربہ سمو دیا گیا ہے۔ اُن کا شعری اثاثہ اُردو ادب کی تاریخ میں ایک گراں قدر اضافہ بھی ہے اور ایک وقیع سرمایہ بھی۔ اُن کے کلام میں معروضی و موضوعی دونوں طریقے موجود ہیں۔ اُن کا کلام موثرات و ادراکات کا شفاف آئینہ ہے۔ اُن کے کلام میں ایک اور خوبی دامن گیر ہوتی ہے اور وہ ہے شعری جمالیات، اُن کا تمام کلام شعری جمالیات سے مزین ہے۔ ہر شعر میں شعریت کا پایا جانا، اُن کے کلام کا حسن اور زینت ہے اور یہی کسی بڑے ادب کی عمارت کا بنیادی پتھر ہوتا ہے جس سے بڑی سے بڑی اور خوب صورت و دل کش عمارت کی تعمیر کی جاسکتی ہے۔

سعیدؔالظفر صدیقی کے یہاں ترقی پسندانہ شاعرانہ شعور بھی پوری توانائی کے ساتھ نظر آتا ہے مگر یہ وہ ترقی پسندانہ شعور نہیں ہے جو کسی تنظیم یا تحریک کے منشور کے طور پر لکھا گیا ہو۔ یہ وہ ترقی پسندانہ شعور ہے جس سے انسان کی سوچ ،اُس کے خیالات و تصورات، اُس کے نازک احساسات، مختلف جذبات اور تلخ و شیریں تجربات کو ارتقا پذیر ہونے میں مدد ملتی ہے۔ اُن کی نظر میں ہر انسان میں اعلیٰ ،اخلاقی، روحانی اور انسانی اقدار و صفات موجود ہیں۔ وہ اپنی ذات کو اِن سے صیقل کر سکتا ہے اور خود کو ذلت و رسوائی اور پستی میں گرنے سے بچا کر اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کر سکتا ہے۔ وہ ترقی کر کے خود کو درندہ صفت لوگوں میں شمار کرنے کی بجائے خدا ترس اور انسانیت کی فلاح و بہبود کا رسیا بنا سکتا ہے۔ اِس نظریے نے اُن کی شاعری کو آفاقی بنا دیا ہے کیوں کہ دنیا کی تخلیق کا مرکز و محور انسان ہے، لہٰذا انسانیت کی بات کرنے والا شاعر آفاقی ہوتا ہے اور سعیدؔالظفر صدیقی کی شاعری میں انسان اور اِس کی زندگی پر ہی بات کی گئی ہے۔ یہ شعر ملاحظہ ہو جس سے میرے دعوے کی دلیل مل جائے گی:

تمھارا شہر تو اب شہر ہے فرشتوں کا
ہمارے پاس ہیں کچھ آدمی کہاں لے جائیں

آج پاکستان کے نمائندہ شعرا میں جو سعیدؔالظفر صدیقی کا شمار ہوتا ہے تو اِس کی بنیاد عمدہ، سلیس، فصیح و بلیغ اور دل میں اُترنے والی شاعری ہے۔ سعیدؔالظفر صدیقی کسی طور پر اپنے ہم عصر شعرا سے کم نہیں ہیں بلکہ اُن کے ہم پلہ ہیں۔ اِس بات کی گواہی اُن کے عہد کے جید ناقدین، اہلِ علم و ہنر، مشاہیرِ ادب، اہلِ فن، ماہرینِ لسانیات اور صاحبِ اُسلوب شعرا نے دی ہے۔

سعید ؔالظفر صدیقی عہدِ حاضر کے تمام شعری تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں اور بدلتے ہوئے میلانات و رجحانات سے بھی واقف ہیں اور اِنھیں اپنی شاعری کا موضوع بنا رہے ہیں۔ یہ اقدام اُن کا جدید ہے اور اگر ہم اِس بنیاد پر پاکستان کے جدید شعراکی فہرست تیار کریں تو وہ سعیدؔالظفر صدیقی کے نام کے بغیر ادھوری اور نامکمل رہے گی کیوں کہ وہ آج کے جدید شعرا کے مقابل، شاعرانہ حیثیت میں ہم پلہ ہیں۔ وہ شاعری میں زبان و بیان اور اُسلوبِ تازہ کے ساتھ ساتھ فکر و مشاہدات، جذبات و احساسات پر خاصی دست رس رکھتے ہیں اور اپنے شعری آہنگ میں انفرادیت کے حامل ہیں۔ اُن کے مزاجِ شاعرانہ میں تلاش و جستجو کا عنصر شامل ہے۔ وہ سنی سنائی بات کو شعری قالب میں ڈھالنے کے قائل نہیں ۔ اُنھوں نے اکثر اپنے عمیق مشاہدات، نازک احساسات، تلخ و شیریں تجربات اور شدید جذبات کو شعری پیکر میں ڈھالا ہے۔ اُن کے سوچنے کا انداز مدبرانہ ہے مگر اُن کا اندازِ تخاطب خطیبانہ نہیں ہے ،اُن کی شاعری میں کہیں بھی وعظ و نصیحت نہیں ملتی۔ اِس خوبی نے بھی اُن کے کلام کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔

سعیدؔالظفر صدیقی کا مزاجِ سخن اپنے ہم عصر شعرا سے بڑی حد تک منفرد و ممتاز نظر آتا ہے کیوں کہ اچھے شاعر اور بڑی شاعری کے لیے جن شاعرانہ خوبیوں کا ہونا لازمی امر ہے، وہ اُن میں اور اُن کے کلام میں بدرجہ اتم موجود ہیں،جن کی وجہ سے وہ پاکستان کے نمائندہ شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں اور اُن کی شاعری بڑی شاعری کے زمرے میں آتی ہے۔ ایسی شاعری کو دنیا کے منتخب ادب میں شامل کیا جانا ضروری ہے اور اِس کے دیگر زبانوں میں تراجم ہونے چاہیے، تاکہ اُردو ادب کو عالمی سطح پر اعتبارحاصل ہو سکے اور اُردو شاعری کا معیار قائم رہ سکے۔

’’موضوعاتِ قرآن انسا ئیکلوپیڈیا‘‘ اسلامی اسکالر جناب سعید الظفرؔ صدیقی کا ایک ایسا کارنانہ اورکارِ خیر ہے جس کا صلہ اُنھیں دنیا میں بھی ملے گا اور آخرت میں بھی اِس کی جزا دی جائے گی۔’’موضوعاتِ قرآن انسا ئیکلوپیڈیا‘‘ میں 1800 سو سے زائد موضوعات کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔اِس میں قرآن کے عربی متن کے ساتھ ،مولانا فتح محمد جالندھری کا اُردو ترجمہ اور پھرپیکتھال کا انگریزی ترجمہ دیا گیاہے، جس سے اِس کی عالمی سطح پر افادیت پیدا ہو گئی ہے۔ ’’موضوعاتِ قرآن انسائیکلو پیڈیا‘‘ افادیت اوراہمیت کے لحاظ سے ہر گھر اور ہر مسلمان کی فی زمانہ ضرورت ہے۔ اِس کی ضخامت 7000 صفحات پر محیط ہے اور یہ جہازی سائز کی 07 جلدوں پر مشتمل ہے۔ اِس پر پاکستان کی نام ور،معروف اور علمی و ادبی شخصیات نے اپنی مثبت آرا کا اظہار کیا ہے۔یہ دنیائے اُردوادب میں وقیع اضافہ بھی ہے اور اسلامی لٹریچر میں اپنی نوعیت کا منفرد کام بھی۔اس سے اسلامی ادب کا دامن مالا مال ہوگا اور یہ تاریخِ اُردو ادب کا روشن باب بھی ثابت ہو گا۔اہلِ علم و ادب اسلامی اسکالر،کیمیا دان ، شاعر و ادیب اور مؤلفِ ’’موضوعاتِ قرآن انسائیکلو پیڈیا‘‘کواِس قدر اہم اور وقیع کارِ خیر انجام دینے پر دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ آج سرکاری و نیم سرکاری اور نجی سطح پر جو ستائش اور ادبی انعامات و اسناد سے نوازنے کا سلسلہ جاری ہے، وہ بڑی حد تک اثر و رسوخ پر قائم ہے۔ اِس کام میں شخصیت پرستی، عہدے سے مرعوبیت اور دوستیاں نبھائی جا رہی ہیں۔ عبقری، عظیم اور بڑے شاعروں کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور کیا جا رہا ہے، جس کا ایک بڑا ثبوت یہ بھی ہے کہ سعیدؔالظفر صدیقیپاکستان کی متعدد ادبی شخصیات کو آج تک حکومت کی طرف سے کوئی ایوارڈ، سند یا نقد انعامات سے نوازا نہیں گیا، جب کہ متعدد اہلِ علم و فن انعام و اکرام اور تحسین و ستائش کے عین حق دار ہیں۔ حکومت کو اِس طرف توجہ دینی چاہیے، ورنہ انصاف و اخلاق کے منافی ہوگا۔

سعیدؔالظفر صدیقی کی ادبی خدمات اِس قدر زیادہ ہیں کہ اُنھیں اِس تخلیقی کام پر ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی جانی چاہیے۔ یہ ہمارے وطنِ عزیز کا سرمایہ ہیں۔ایسے عبقری شاعر کی قدر ہر سطح پر کی جانا ضروری ہے کیوں کہ انھوں نے اپنی عمرِ عزیز کا زیادہ تر حصہ اُردو ادب کے لیے صرف کر دیا ہے اور خود کو اُردوزبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لیے وقف کردیا ہے اور یہ بڑی دیانت داری، خلوص، لگن، محنت، یک سوئی، ذوق و شوق، باریک بینی، عرق ریزی اور ایمان داری سے اپنا تخلیقی فرض پورا کیے جا رہے ہیں۔شعری سرمائے سے اُردو ادب کے دامن کو مالا مال کر رہے ہیں۔ اُن کا شعری اثاثہ ایک وقیع سرمایہ ہے اور تاریخِ اُردو ادب میں اضافے کا باعث بھی ہے۔

’’ماورائے آب و گل‘‘ جناب سعیدالظفر صدیقی کی وہ کتاب ہے جس کا انگریزی ترجمہ Beyound Here And Now کے نام سے نیاگرافال نیویارک(امریکا)سے 2011ء میں خوب صور ت اور دیدہ زیب انداز میں شایع ہوااوراس کی پچاس ہزارکاپیاں فروخت ہوئیں اور بھاری رائلٹی بھی مصنف کو خراجِ تحسین کے طورپر پیش کی گئی۔حال ہی میں ’’ماورائے آب و گل ‘‘کا تیسرا ایڈیشن اضافوں کے ساتھ’’ ماورابکس‘‘،لاہور سے شایع ہواہے جو مارکیٹ میں دست یاب ہے۔
میری رائے کے ساتھ اُن اہلِ نقد و نظر کی آرا کو بھی مدِ نظر رکھنا چاہیے جن سے اُردو ادب کی آبرو قائم ہے۔ سعیدؔالظفر صدیقی کی شاعری اور اہلِ نقد و نظر کی آرا پڑھنے کے بعد یہ بات بڑے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ سعیدؔالظفر صدیقی ایک عہد آفرین اور پاکستان کے نمائندہ شاعر ہیں، جن کو اُن کی اعلیٰ اور دل میں اُتر جانے والی شاعری کی بنیاد پر پاکستان بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، مشاعروں میں نہ صرف مدعو کیا جاتا ہے بلکہ اُن کو مسندِ صدارت پر براجمان ہونے کی درخواست کی جاتی ہے۔ مہمانِ خصوصی اور مہمانِ اعزازی سے کم کی بات تو کسی بزم و محفل میں نہیں کی جاتی، کیوں کہ اُن کی شاعری واقعی عہدِ حاضر کی بلند آہنگ شاعری ہے ،جسے لوگ پڑھنا اور سننا چاہتے ہیں اور جس کی گونج پورے برصغیر پاک و ہند میں سنی جا رہی ہے۔ اُن کے نمائندہ اشعار پوری دنیا میں سفر کررہے ہیں اور وہ تحریریں، تقریریں اور مضامین اِس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں جن میں اُن کے اشعار کو زورِ بیان کے لیے کوٹ کیا جاتا ہے۔
٭ ٭ ٭


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر