کراچی کی ادبی ڈائری

اکادمی ادبیات پاکستان، کراچی کے زیراہتمام پاکستانی ادب کے عالمی ادب پر اثرات مذاکرہ اور مشاعرہ منعقد کیا گیا جس کی صدارت ملک کے نامور شاعر،ادیب ،ماہر تعلیم، ڈاکٹر شاداب احسانی نے کی۔ مہمان خاص راولپنڈی سے آئے ہوئے ادیب شاعر کرنل سعید آغاتھے۔اعزازی مہمان سید اوسط علی جعفری، ریحانہ احسان تھیں۔ ڈاکٹر شاداب احسانی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ عالمی ادب پر نظر ڈالی جائے تو چاہے بھوٹا ن کی رمز یہ شاعری ہویا بنگلہ دیش کا ادب ہو، نیپال کی لوک شاعری کی روایت سے جڑی ہوئی کوئی کتھا، سری لنکا کے گیت یا مالدیپ کا قصہ یا دیگر ممالک کا ادبی جائزہ لیا جائے تو ہر جگہ انسانی دکھوں سے عبارت، قدیم سے جدید انسان کا المیہ، ایک مختلف پس منظر اور یکسر نئے ماحول کا قصہ دہراتا ہو ا نظر آتا ہے ۔ کہیں موت کی شکل میںجینے کی تمنا تو کہیں نارسائی کی صورت میں محبت کی دبی ہوئی خواہشات باوجود اس کے دنیا کے تمام ممالک پر پاکستانی ادب کے مثبت اثرات پڑے ہیں ۔ تراجم کے ذریعے تمام ممالک کے ادیبوں کو ایک دوسرے کو ادب سے سمجھنے میں آسانیاں پیدا ہوئی ہیں۔ ادب کی مانند تجربے کی حد تو آسان ہے لیکن اس کی تعریف کرنا دشوارہے۔ ادب ہی زندگی کے ہمہ وقت درپیش مسائل سے فرار کا راستہ بناتا ہے۔ ایک فن اور ہے جو فنکار کے نقطہ نظر کی وضاحت کرتا ہے ۔ بے شک وہ فلسفیانہ انداز میںہو، چاہے مذہبی پیراہن میںملبوس ہو ۔ ادب تمام انسانوںکے درمیاں چاہے وہ کسی بھی ملک میں رہتاہو ،کوئی بھی اس کی زبان ہو، تمام انسانوںکے درمیاں ایک ایسی زبان کی شکل میںجس میں محسوسات اور جذبات کی اہمیت ہوتی ہے، نمودار ہوتا ہے۔ ایسی زبان کی تشکیل دینے کی خواہش چاہے وہ شاعری کی صورت میں ہو، یا فکشن کے کسی بھی روپ میں، مصوری ہو یا مجسمہ سازی، فنِ تعمیر کی شکل میں جلوہ آراہو یا رقص، موسیقی کے رنگ میں منعکس در حقیقت ایک کائناتی تصور کی انمول آرزو کا نام ہے۔ پوری دنیا میں تصوف میں سچل سرمست ، شاہ عبداللطیف بھٹائی، بلھے شاھ، خواجہ غلام فرید، اور نئی بستیوں میں پاکستانی ادب بستا ہے اور عالمی ادب پر اثر انداز ہوتاہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرونے کہا کہ جنوبی ایشیا صدیوں پرانی عظیم انسانی تہذیبوں اور فکرو نظر کی مہتم بالشان روایتوں کا گہوارا رہاہے۔ اس خطے میں علم و دانش اور ادب وفنون کی جس درخشندہ روایت کا آغاز ہوا تھا آج بھی اس کا تسلسل ہمارے ملکوں کی تہذیب و ثقافت میں بہت واضح طورپر دیکھا جاسکتا ہے ۔ یہی سبب ہے کہ اس کا اعتراف پوری دنیا میں کیا جاتاہے۔ مختلف مذاہب، مختلف زبانوں اور مختلف نسلوں کی آبادی سے اس خطے کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو قدم قدم پر تنوع میں اتحاد کی صورتیں بہت واضح نظر آئیں گی جو کہ پاکستانی ادب سے جڑی ہوئی ہیں۔

آخر میں مشاعر ے کا انعقاد کیا گیا، جن شعرائے اکرام نے اپنا کلام پیش کیا، ان میں ڈاکٹر شاداب احسانی، سعید راجہ، ریحانہ احسان ، سید اوسط علی جعفری، عرفان علی عابدی، امت الحی وفاؔ ، سیف الرحمن سیفی، عظمی جون، ہدایت سائر، شاہدہ عروج خاں، خالدہ عظمیٰ ، عشرت حبیب، شہناز رضوی، فہمیدہ مقبول، فرح دیبا، محسن سلیم، خاور حسین، محمد رفیق مغل، الحاج یوسف اسماعیل، سید مشرف علی، افضل ہزاروی، محمد علی سوز، تنویر حسین سخن، کاشف علی کاشف، صدیق راز ایڈوکیٹ، اقبال رضوی، الطاف احمد،حنا علی، گل افشاں، شفیق احمد شفیق، رازق عزیز، سید صغیر احمد جعفری، احمد سعیدفیض آبادی، اظہر بانھن ،شامل تھے آخر میں قادربخش سومرو نے آئے مہمانوںکاشکریہ ادا کیا۔

Electrolux