... loading ...
مٹیاری کاشمار سندھ کے اہم شہروں میں ہوتاہے،سندھ کے دوسرے بڑے تاریخی شہر اور سندھ کے سابق دارالحکومت حیدرآباد کے قریب قومی شاہراہ سے صرف 100گز کے فاصلے پر واقع ضلع مٹیاری کے شہری اس ایٹمی دور میں بھی بنیادی شہری سہولتوں سے محروم ہیں ، اس شہر ہی نہیں بلکہ پورے ضلع کے عوام انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں زندگی گزار رہے ہیں، اس علاقے کے لوگوں کو پینے کاصاف پانی فراہم کرنے کاکوئی معقول انتظام نہیں ہے، کم وبیش یہی صورت حال ہسپتالوں کی ہے سرکاری ہسپتالوں کی بلند وبالا عمارتیں تو موجود ہیں لیکن دیکھ بھال اور صفائی ستھرائی کا معقول انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ان کی حالت دن بدن ناگفتہ ہوتی جارہی ہے ، ان ہسپتالوں میں ڈاکٹر تعینات تو ہیں لیکن ان کی اکثریت ڈیوٹی پر آنے کوکسرشان سمجھتی ہے ، اورعام طورپر ہسپتال آنے والے مریضوں کو ڈسپنسر اور نرس ہی اپنی صوابدید کے مطابق یا اگر مریض کی حالت زیادہ خراب ہوتو فون پر ڈاکٹر کی ہدایت لے کر دوائیں لکھ کر دینے کی کوشش کرتے ہیں، کہنے کو ان ہسپتالوں کو بھی دوائوں کی خریداری کے لیے ہر سال وافر فنڈز دئے جاتے ہیں اور سرکاری طورپر کوٹے کے مطابق دوائیں بھی فراہم کی جاتی ہیں لیکن یہ دوائیں کہاں جاتی ہیں اس کا پتہ صرف ان ہسپتالوں کے ڈاکٹروں ،ڈسپنسرز اور نرسوں کے سوا کسی کو نہیں ہے،اگر کسی ڈاکٹر سے سوال کیا جائے کہ سرکاری طورپر ہسپتال کو ملنے والے دوائیں کہاں جاتی ہیں اور دوائوں کی خریداری کے لیے ملنے والے فنڈز کاکیاہوتاہے تو وہ فنڈز کی کمی کارونا روتے ہوئے کہتے ہیں کہ سرکاری طورپر ملنے والے فنڈز اور دوائیں تو ایک مہینے کے لیے بھی کافی نہیں ہوتیں۔جہاں تک تعلیم کا تعلق ہے تو حکومت نے اس ضلع میں پرائمری اورسیکنڈری اسکولوں کاجال بچھا رکھا ہے اور گنتی کے لیے تو مٹیاری میں 100سے زیادہ سیکنڈری اور پرائمری اسکول موجود ہیں لیکن ان اسکولوں کاجائزہ لیاجائے تو یہ کہناپڑتاہے کہ ’’ہر چند کہیں کہ ہیں لیکن نہیں ہیں وہ‘‘جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ مٹیاری میں اس وقت موجود کم از کم 96 پرائمری اور 6 سیکنڈری اسکولوں کی حالت اتنی مخدوش ہوچکی ہے کہ ان میں تعلیم حاصل کرنا اور بچوں کوتعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ایک جہاد سے کم نہیں ہے۔
مٹیاری کے سرکاری اسکولوں کی حالت زار کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ سندھ کی مصروف ترین قومی شاہراہ سے صرف 100گز کے فاصلے پر موجود سعیدآباد ٹائون میں موجود ایک سرکاری اسکول میں جائیں تو آپ کو ایک بڑے سے برآمدے میں مختلف عمر کے بچوں کا ایک مجمع سا نظر آئے گا، نظر بظاہر ایسا محسو س ہوگا کہ یہ بچوں کی کوئی تقریب ہے جس میں تمام بچے جمع ہیں لیکن جب آپ ذرا قریب جائیں گے تو پتہ چلے گا کہ یہ ایک سرکاری اسکول کے طلبہ ہیں او ر یہاں تعلیم حاصل کررہے ہیں، ہم نے جب اس حوالے سے اسکول کے ایک استاد سے بات کی تو انھوںنے بتایا کہ اس اسکول میں مجموعی طورپر 3 اساتذہ درس وتدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں ،اور گرمی یا سردی وہ اسی کھلے ماحول میں بچوں کوتعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔استاد نے بتایاکہ سردی میں تیز سرد ہوائوں اور گرمی میں آگ برساتے سورج کے سامنے اساتذہ اور بچوں کوسینہ سپر رہنا پڑتاہے۔ انھوں نے بتایا کہ اسکول کی چاردیواری اور قریبی ایک عمارت کی بلند وبالا عمارت کی دیوار چند گھنٹوں کے لیے ہمیں دھوپ سے محفوظ رکھتی ہے لیکن بقیہ اوقات ہمیں چلچلاتی دھوپ میں اس طرح پڑھانے پر مجبور ہونا پڑتاہے کہ پسینہ بہہ کر سر سے پیروں پر آرہاہوتاہے اور بعض اوقات ہمارے کپڑے پسینے سے اس طرح تربتر ہوجاتے جیسے ہم نہاکر بغیر پانی خشک کیے کپڑے پہن کر باہر نکل آئے ہیں۔ننھے ننھے بچوں کی حالت اس سے بھی زیادہ غیر ہوتی ہے اور ہروقت اس بات کاخدشہ رہتاہے کہ کہیں کوئی بچہ ’’ہیٹ ویو‘‘یعنی لو کاشکار نہ ہوجائے ،انھوں نے بتایا کہ اسکول میں بچوں کے لیے پینے کے پانی کا بھی کوئی مناسب انتظام نہیں ہے، ہم مٹی کی صراحی خرید کر اس میں پانی بھر کر رکھتے ہیں اور پانی ختم ہوجانے کی صورت میں اسکول کے اطراف میں واقع مکانوں سے پانی مانگ کر بچوں کے خشک گلے تر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسکول میں ہم نے دیکھا کہ بچوں کے پینے کے پانی سے بھری صراحی رکھنے کابھی کوئی معقول انتظام نہیں تھا اور اساتذہ نے ایک ٹوٹی ہوئی کرسی پر صراحی رکھ اسے زمین پر چلنے والے کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی ہوئی تھی۔
اسکول کے اساتذہ نے ہمیں بتایا کہ اس اسکول کی کلاس رومز کی حالت انتہائی مخدوش ہوچکی ہے ، اور چھتوں سے پلاسٹر گرتارہتاہے ، چھت سے پلاسٹر گرنے کی وجہ سے کئی بچوں کے زخمی ہونے کے پے درپے واقعات کے بعد بچوں کو کلاس رومز کے بجائے برآمدے میں جمع کرکے تعلیم دینے کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ کار نہیں تھا، کیونکہ کلاس رومز کی چھتوں سے پلاسٹر کا کوئی بڑا ٹکڑا گر کر کسی بھی وقت کسی معصوم کی جان لے سکتاہے۔ کم وبیش یہی صورت حال اساتذہ کے ساتھ بھی پیش آسکتی ہے۔
اسکول کے ہیڈ ٹیچر امین گاہوٹی نے بتایا کہ اسکول میں تعلیم وتدریس کاانتظام برآمدے میں کیے جانے کی وجہ سے اب اس اسکول میں کوئی بلیک بورڈموجود نہیں ہے جس کی وجہ سے اسکول کے اساتذہ اب کتاب سے زور دار آواز میں پڑھ کر بچوں کو مختلف موضوعات سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کو املا لکھواکر اس کی تصحیح کرتے ہیں تاکہ بچے موضوعات سمجھ سکیں ،اور کسی بھی دوسرے اسکول میں امتحان دینے کی صورت میں ہماری بے عزتی کاسبب نہ بنیں۔
اسکول کے ہیڈ ٹیچر امین گاہوٹی نے بتایا کہ انھوں نے محکمہ تعلیم کو اس حوالے سے درجنوں خطوط لکھے ہیں اور بار بار یاددہانی کراتے ہوئے صورت حال کی نزاکت کی جانب ان کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے ،لیکن لاحاصل کوئی ہماری درخواستوں پر کان دھرنے کو تیار نہیں ،امین گاہوٹی نے بتایا کہ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام اور عدالتی حکام بھی کئی مرتبہ اس اسکول کادورہ کرکے اپنی آنکھوں سے اس اسکول کی حالت زار کامشاہدہ کرنے کے ساتھ ہی یہ وعدہ کرکے جاتے رہے ہیں کہ اسکول کی تعمیر ومرمت اور تزئین وآرائش کاکام جلد شروع کرادیاجائے گا لیکن یہ جلد کب ہوگاکسی کو نہیں معلوم ۔
مٹیاری ضلع میں واقع دیگر سرکاری اسکولوں کی حالت بھی کم وبیش اسی جیسی ہے کسی کی چاردیواری ٹوٹ گئی ہے جس کی وجہ سے آوارہ کتوں نے ان کو اپنا مسکن بنالیاہے، اور علاقے کے لوگوں نے اے کچرا گھر کی شکل دینے کی کوشش شروع کردی ہے، کسی کی چھت گر رہی ہے اور کہیں بیٹھنے کے لیے کرسیاں اوربینچوں کافقدان ہے۔
اس علاقے کے ایک مکین محمد بچل جمالی نے بتایا کہ اسکولوں کی عمارتوں کی تعمیر میں ناقص میٹریل استعمال کیاجاتاہے جس کی وجہ سے ایک بارش کے بعد ہی یہ ٹپکنا شروع ہوجاتی ہیں اور ان کاپلاسٹر گرنے لگتاہے،اگر اسکول کی عمارتوں کی تعمیر کے وقت متعلقہ حکام قانون کی پوری طرح پاسداری کرانے اورٹھیکیدار کو صحیح میٹریل لگانے پر مجبور کریں تو برسہابرس ان عمارتوں کوکوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا ، انھوں نے بتایا کہ ہم اپنے گھروں کی دیواریں کیچڑ اورملبے سے تیار کرتی ہیں لیکن برسہابرس تک ان دیواروں کوکوئی نقصان نہیں پہنچتا اس دوران بارشیں بھی ہوتی ہیں اور طوفان بھی آتے ہیں یہاں تک کہ سیلابوں میں ان دیواروں کو کم ہی نقصان پہنچتا ہے پھر یہ پختہ دیواریں اور چھتیں اتنی جلدی کیوں گرنے لگتی ہیں یہ سوچنے کی بات ہے اور اس سے متعلقہ حکام کی کرپشن واضح ہوتی ہے۔
گورنمنٹ اسکول ٹیچرز ایسوسی ایشن مٹیاری کے صدر خادم جمالی کاکہناہے کہ اس ضلع میں اس طرح کی مخدوش اور ناگفتہ حالت کے درجنوں اسکول موجود ہیں جبکہ پورے صوبے میں اس طرح کے اسکولوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔انھوں نے کہا کہ ہر سال مٹیاری کے اسکولوں کی مرمت اورتزئین وآرائش کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کیے جاتے ہیں،انھوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران بھی مٹیاری کے اسکولوں کی مرمت اور بحالی کے لیے 22کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، لیکن ہم نے آج تک یہاں کسی اسکول میں مرمت کاکوئی کام ہوتے نہیں دیکھااور کسی کو نہیں معلوم کہ یہ فنڈز کس کی جیب میں جارہے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے حکام کی مبینہ کرپشن کی وجہ سے اس ضلع ہی نہیں بلکہ پورے صوبے کے غریب عوام کے بچے ناگفتہ بہ حالات میں تعلیم حاصل کرنے اور اساتذہ درس وتدریس کے فرائض انجام دینے پر مجبور ہیں۔
عراق کی مزاحمتی فورسز نے امریکا کا ری فیولنگ طیارہ مار گرایا ، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعوی ایران کے خلاف جاری فضائی بمباری کے دوران امریکی طیارہ مغربی عراق میں گرکر تباہ ہوگیا۔ایران کی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعوی کیا ہے کہ عراق کی م...
بصورت دیگر 26 مارچ سے پٹرول پمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا 21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی، باقی 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟ آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے)نے حالیہ قیمتوں میں اضافے اور ڈیلرز کے مارجن میں عدم اضافے کے خلاف عیدالفطر کے بعد مل...
عمران خان کا علاج ذاتی معالجین کی نگرانی اور فیملی کی موجودگی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں فوری طور پر کرایا جائے تحریک انصاف کی منزل حقیقی آزادی ہے اور اس کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی،پریس کانفرنس سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق ...
شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں گے،سندھ کی ترقی کے نقش قدم پر چلیں گے،نہال ہاشمی ایم کیو ایم والے ہمارے پاکستانی ہیں، ناراضگی چھوٹی چیز ہے ان کو منا لیں گے ، مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں...
صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...
عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...
مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...
کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...
جنگ صیہونی حکومت اور امریکانے شروع کی ، جنگ میں ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہوگی عالمی طاقتیں اس کی ضمانت دیں، ایرانی صدر کا بیان ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ...
پورے ہال میں لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ، ایک دوسرے پر بدزبانی کی، کوئی بھی لڑائی بند کرنے کو تیار نہ تھا حکومتی ارکان نے صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران مجموعی طور پر14 قراردادیں منظور کرا لیں سٹی کونسل کا اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جہاں ارکان ایک...
اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...
پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...