وجود

... loading ...

وجود

جنوبی ایشیاکاسرسبزوشاداب ترین جزیرہ۔۔ سری لنکا

اتوار 08 اپریل 2018 جنوبی ایشیاکاسرسبزوشاداب ترین جزیرہ۔۔ سری لنکا

سری لنکا کا نام سنتے ہی عموماً کرکٹ، ریڈیو سیلون، چائے یا پھر تامل ٹائیگرز کا خیال ذہن میں آتا ہے۔ کولمبو ائرپورٹ سے ٹیکسی میں بیٹھ کر شہر کی طرف جاتے ہوئے اندازہ ہوا کہ کسی بھی ملک کی عالمی شناخت کے کئی پہلو ہوسکتے ہیں، مگر حقیقت میں ہر ملک متنوع مزاج رکھتا ہے۔ پچیس ہزار مربع میل کے اس سرسبز و شاداب جزیرے کی زمینی سرحدیں نہیں، فقط سمندری حدود ہیں، جو بھارت اور مالدیپ کے ساتھ ملتی ہیں۔ دو کروڑ نفوس پر مشتمل یہ ملک، پہلی نظر میں بے حد مذہبی رجحان کا حامل دکھائی دیا۔ فی مربع میٹر عبادت گاہوں کی اتنی زیادہ تعداد اور تنوّع ہم نے دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں دیکھا۔ ستّر فی صد اآادی بدھ مت کی پیروکار، جب کہ تیرہ فی صد ہندو دھرم کی ماننے والی ہے ۔ عیسائیت سے تعلق رکھنے والے، ملکی آبادی کا فقط سات فی صد ہیں، اس کے باوجود کولمبو میں جتنے گرجا گھر ہیں، اتنے کسی عیسائی اکثریت والی ریاست میں بھی نظر نہیں آتے۔ مسلمان آبادی کا دس فی صد ہیں، لیکن مساجد اور درگاہوں کی اتنی بڑی تعداد ہے کہ شمار مشکل ہے۔ یقیناً بدھ معبد خانوں، مندروں، کلیسائوں اور مساجد کی کثیر تعداد ہی ایک وجہ ہوگی کہ معتبر عالمی تحقیقاتی ادارے ’’پیو‘‘ نے سری لنکا کو تیسرا سب سے زیادہ مذہبی رجحان رکھنے والا ملک قرار دیا۔ریاست کا سرکاری نام سوشلسٹ جمہوریہ سری لنکا ہے، مگر سوشلزم یہاں چین اور یورپ کے طرز پر کھلی منڈی پر مشتمل ہے۔ شمالی کوریا اور کیوبا کی طرح معیشت پر حکومتی قبضہ نہیں ہے۔ چند برس قبل سے تیس سالہ طویل خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سری لنکا تیزی سے معاشی ترقی کرتا نظر آرہا ہے۔

تامل ٹائیگرز کو جس طرح یہاں فوج نے شکست دی، اس سے ہمیں بھی یہ سبق ملتا ہے کہ مسلح گروہوں اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے مسلح سیکیوریٹی اداروں کی کارروائی ہی واحد حل ہے۔ تامل نسل یہاں کی کل آبادی کا دس، پندرہ فی صد اور مذہبی اعتبار سے ہندو ہے۔ پچھّتر فی صد آبادی سنہالی نسل سے تعلق رکھتی ہے، جن میں غالب اکثریت بدھ مت سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔

سری لنکا میں بدھ مت کی ابتدا کا قصّہ بھی خاصا دل چسپ ہے۔ مشہور ہے کہ اشوکِ اعظم نے اپنے دورِ حکومت میں بدھ مت کے پرچار کی غرض سے اپنے حقیقی بیٹے کو بدھا کا پیغام دے کر سری لنکا بھیجا، تو لنکا کے راج دربار نے مہاتما بدھ کی تعلیمات کو پسند کیا اور بدھ مت اختیار کرلیا۔ تاریخ کی عجب ستم ظریفی ہے کہ ہندوستان میں روزِ اوّل سے ہندو مذہب اکثریت میں ہے، مگر آج تک کوئی ایک نام ور ہندو حکمران نہیں گزرا۔

تاہم، مورخین چھے بادشاہوں پر متفق ہیں کہ وہ سب سے طاقت وَر اور دبنگ گزرے ہیں۔ ان میں چندرگپت موریا، جین مت کا پیروکار تھا۔ اس کے بعد اشوکا، عظیم سلطنت کا بانی اور حکمران، جوکہ بدھ مت کا ماننے والا تھا، جب کہ باقی چار بادشاہوں اکبرِ اعظم، شاہ جہاں، جہانگیر اور اورنگزیب کا شمار مسلمان مغل فرماں روائوں میں ہوتا ہے۔

ریڈیو سیلون کو ادب کا بہت اہم حوالہ قرار دیا جاسکتا ہے کہ اس کو ملنے والی اہمیت اور توجّہ قابلِ فہم بھی ہے۔ کیوں کہ 1923ء میں جب یہ قائم ہوا، تو ایشیاء بھر میں اولین ریڈیو اسٹیشن تھا۔ جب تاجِ برطانیا نے اپنی اس نوآبادی میں مختلف زبانوں میں ریڈیو سروس شروع کی، تو چین، جاپان، بھارت سمیت کہیں بھی کوئی ریڈیو اسٹیشن نہیں تھا۔ گو یورپ میں 1920ء سے ریڈیو نشریات شروع ہوچکی تھیں، یاد رہے کہ سری لنکا کا پرانا نام سیلون تھا۔ 1505ء میں جب پرتگال نے اس جزیرہ نما پر قبضہ کیا، تو اسے سائی لون کا نام دیا۔ کچھ عرصے یہاں ولندیزی حکمرانوں کا تسلّط رہا۔ بعدازاں، جب 1815ء میں برطانوی قبضہ ہوا، تو یہ سیلون کہلانے لگا۔ 1948ء میں برطانیا تو یہاں سے چلا گیا، مگر ملک کا نام 1972ء تک سیلون ہی رہا،لیکن پھر ملک کے نام کی تبدیلی کے ساتھ ہی ریڈیو سیلون، سری لنکا براڈ کاسٹنگ بن گیا۔ سیلون چائے کے باغات کو پانچ صدیوں پر محیط یورپی نوآبادیاتی عہد کی یادگار قرار دیا جاسکتا ہے۔ سری لنکا کی چائے اب بھی دنیا بھر میں اس کی پہچان ہے۔ نو آبادیاتی عہد کے اثرات یہاں ہر شعبہ زندگی میں نظر آتے ہیں۔ قدیم طرزِ تعمیر کی بِنا پر یہاں کی عمارات عہدِ رفتہ کی کہانی سناتی ہیں۔ زمانہ قدیم، ایرانی، عرب، پرتگالی، ولندیزی، برطانوی اور زمانہ جدید، ہندو مذہب کے ماننے والے سری لنکا کو ’’بھگوان کی آنکھ سے ٹپکا ہوا آنسو‘‘ بھی کہتے ہیں۔ نقشے میں سری لنکا کا جغرافیہ دیکھنے سے یہ بات بہ خوبی سمجھ میں آجاتی ہے۔ مہا بھارت میں لکھا ہے کہ راون نے سیتا کو اغوا کرکے یہیں قید کیا تھا۔

جب رام نے سیتا کی رہائی کے لیے لنکا پر ہلّہ بول کر اسے تہس نہس کر ڈالا، تو وہیں سے ’’لنکا ڈھانے‘‘ کا استعارہ تشکیل پایا۔ مہاتما بدھ کی تعلیمات جنہیں ’’پالی اصول‘‘ کہتے ہیں، پہلی مرتبہ یہیں سے کتابی شکل میں مرتب ہوکر سامنے آئیں۔ کولمبو سے دو گھنٹے کی مسافت پر حضرت آدمؑ کی جائے نزول ہے، جسے ADAM’S PEAK کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ عیسائی مذہب کے پیروکاروں کابھی یہ عقیدہ ہے کہ اسی چوٹی پر حضرت آدم علیہ السلام اترے تھے اور یہیں ان کے پائوں کے نشان ثبت ہیں۔ تاہم، بدھ بھکشو، اسے بدھا کے پائوں کا نشان قرار دیتے ہیں۔ خراب موسم کی وجہ سے ہم چوٹی کی زیارت تو نہیں کرسکے، مگر سوچتے رہے کہ مہاتما بدھ تو اپنی زندگی میں کبھی سری لنکا آئے ہی نہیں تھے؟ جہاں تک حضرت آدم علیہ السلام کا تعلق ہے، تو ان کے بیٹے ہابیل کی قبر تو ہم نے شام کے سرحدی شہر، زبرانی میں دیکھی تھی، جہاں سے ایک طرف اسرائیل کی پہاڑیاں نظر آتی ہیں، تودوسری طرف لبنان کی چوٹیاں صاف دکھائی دیتی ہیں۔ ممکن ہے، انہوں نے ہجرت کرلی ہو۔ سری لنکا کی دستاویزی تاریخ تو تین ہزار سال پرانی کہی جاتی ہے، مگر ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے نزدیک اس دھرتی کی تاریخ ایک لاکھ پچیس ہزار سال پرانی ہے اوریہی انسان کا پہلا مسکن اور زمین پر اس کا اولین پڑائو بھی ہے۔

اٹھارہ سال قبل لبریشن ٹائیگرز ا?ف تامل ایلام نامی تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک بمبار نے صدارتی محل پر خودکش حملہ کردیا تھا۔ اس کے فوری ردعمل میں صدارتی محل کے سامنے واقع مرکزی شاہراہ کو عوام النّاس کی ا?مد ورفت کے لیے حفاظتی نقطہ نظر سے بند کردیا گیا تھا۔ شہر کے نوا?بادیاتی عہد میں تعمیر کیے گئے مرکز میں تین سو میٹر سڑک کے اس ٹکڑے کے کھلنے سے شہریوں کو ا?مدو رفت کی سہولت کے علاوہ تحفظ کا احساس بھی ہوتا ہے۔

سری لنکا کی مقامی تامل ا?بادی اور بھارت سے ہجرت کرکے ا?ئے ہوئے تامل مجموعی طور پر ملکی ا?بادی کا تیرہ فی صد ہیں۔ سنہالی کے بعد تامل یہاں کی دوسری بڑی زبان ہے۔ مسلمانوں کی کل ا?بادی دس فی صد ہے، جو ’’مور‘‘ اور ’’ملایا‘‘ نسل سے تعلق رکھتی ہے۔ بہت سے مسلمان اور عیسائی، سنہالی و تامل نسل سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں یہ تذکرہ بھی خارج از دل چسپی نہ ہوگا کہ اردو کا مشہور محاورہ ’’چوروں کو پڑ گئے مور‘‘ اسی مور نسل سے متعلق ہے۔

خودکش حملہ ا?وروں کی تاریخ یوں تو زمانہ قبل از مسیح جتنی پرانی ہے، مگر عہدِ جدید میں دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپانی ہوا بازوں نے، جنہیں ’’کھامی کھازی‘‘ جس کا ترجمہ ’’بادِ خدا‘‘ یا پھر ’’ملکوتی ہوا‘‘ کیا جانا چاہیے، اس کی بنیاد رکھی۔ پھر تامل ٹائیگرز نے اسے شدت اور جدّت سے ہم کنار کیا۔ یہ خودکش بمبار اگر اپنے مشن میں ناکام ہوجاتے، تو اپنے گلے میں پہنا ہوا زہر کا کیپسول نگل جاتے، تاکہ قانون نافذ کرنے والے کسی سرکاری ادارے کے ہاتھ نہ ا?جائیں۔ ایسے بے شمار واقعات ہیں، جب گرفتار ہونے والے جنگجوئوں نے زہر کا کیپسول نگل کر جان دے دی۔ ان خودکش جنگجوئوں میں خواتین بھی شامل تھیں۔ یاد رہے کہ سابق بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کو خودکش بم حملے میں ہلاک کرنے والی بھی ایک تامل ٹائیگرز کی رکن خاتون ہی تھی۔ بھارت کے ساتھ تامل ٹائیگرز کو یہ گلہ ہے کہ اس نے دوغلی پالیسی اپنائی، پہلے اس تنظیم کو مدد فراہم کرکے مضبوط کرتا رہا، پھر اسی تنظیم کے خاتمے کے لیے سری لنکا حکومت سے معاہدہ کرکے اپنی فوج بھیج دی۔ بنیادی طور پر بھارت نے سری لنکا میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کے لیے اس تنظیم کو استعمال کیا تھا، لیکن جب بھارتی فوج سری لنکا میں امن قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی، تو بالا?خر سری لنکا کی اپنی ہی فوج نے یہ مشکل جنگ لڑی اور فتح یاب ہوئی۔

سری لنکا میں خانہ جنگی کے ا?خری برس چالیس ہزار افراد سیکیوریٹی اداروں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے، مگر اقوامِ متحدہ سمیت کہیں بھی کسی نے ان میں سے ماورائے عدالت قتل ہونے والوں کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا۔ تامل ٹائیگرز کو شکست دینے والے فاتح، سابق صدر، راجا پکسے کے صدارتی انتخاب میں ناکامی کے بعد لوگ اب اس حقیقت کو تسلیم کرنے لگے ہیں کہ وہی سری لنکا میں امن لے کر ا?ئے تھے۔ اب ہر سیاسی لیڈر میں نیلسن منڈیلا جیسا ظرف اور حوصلہ کہاں ہوتا ہے کہ اپنے اقتدار کے عروج اور سیاسی نقطہ کمال پر ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے اقتدار عوام کے دیگر نمائندوں کے سپرد کردے اور پھر سیاست میں مداخلت بھی نہ کرے۔ تیسری دنیا کے سیاسی قائدین کا المیہ ہے کہ جب تک جوتے یا گندے انڈے ان کے سر پر نہ پڑیں، انہیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ لوگوں میں اپنی مقبولیت کھو چکے ہیں۔ فی الحال سری لنکا میں صدارتی نظامِ حکومت ہے۔ صدر پانچ سال کے لیے منتخب ہوتا ہے اور زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ اس عہدے پر براجمان رہ سکتا ہے۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر