وجود

... loading ...

وجود

جنوبی ایشیاکاسرسبزوشاداب ترین جزیرہ۔۔ سری لنکا

اتوار 08 اپریل 2018 جنوبی ایشیاکاسرسبزوشاداب ترین جزیرہ۔۔ سری لنکا

سری لنکا کا نام سنتے ہی عموماً کرکٹ، ریڈیو سیلون، چائے یا پھر تامل ٹائیگرز کا خیال ذہن میں آتا ہے۔ کولمبو ائرپورٹ سے ٹیکسی میں بیٹھ کر شہر کی طرف جاتے ہوئے اندازہ ہوا کہ کسی بھی ملک کی عالمی شناخت کے کئی پہلو ہوسکتے ہیں، مگر حقیقت میں ہر ملک متنوع مزاج رکھتا ہے۔ پچیس ہزار مربع میل کے اس سرسبز و شاداب جزیرے کی زمینی سرحدیں نہیں، فقط سمندری حدود ہیں، جو بھارت اور مالدیپ کے ساتھ ملتی ہیں۔ دو کروڑ نفوس پر مشتمل یہ ملک، پہلی نظر میں بے حد مذہبی رجحان کا حامل دکھائی دیا۔ فی مربع میٹر عبادت گاہوں کی اتنی زیادہ تعداد اور تنوّع ہم نے دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں دیکھا۔ ستّر فی صد اآادی بدھ مت کی پیروکار، جب کہ تیرہ فی صد ہندو دھرم کی ماننے والی ہے ۔ عیسائیت سے تعلق رکھنے والے، ملکی آبادی کا فقط سات فی صد ہیں، اس کے باوجود کولمبو میں جتنے گرجا گھر ہیں، اتنے کسی عیسائی اکثریت والی ریاست میں بھی نظر نہیں آتے۔ مسلمان آبادی کا دس فی صد ہیں، لیکن مساجد اور درگاہوں کی اتنی بڑی تعداد ہے کہ شمار مشکل ہے۔ یقیناً بدھ معبد خانوں، مندروں، کلیسائوں اور مساجد کی کثیر تعداد ہی ایک وجہ ہوگی کہ معتبر عالمی تحقیقاتی ادارے ’’پیو‘‘ نے سری لنکا کو تیسرا سب سے زیادہ مذہبی رجحان رکھنے والا ملک قرار دیا۔ریاست کا سرکاری نام سوشلسٹ جمہوریہ سری لنکا ہے، مگر سوشلزم یہاں چین اور یورپ کے طرز پر کھلی منڈی پر مشتمل ہے۔ شمالی کوریا اور کیوبا کی طرح معیشت پر حکومتی قبضہ نہیں ہے۔ چند برس قبل سے تیس سالہ طویل خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سری لنکا تیزی سے معاشی ترقی کرتا نظر آرہا ہے۔

تامل ٹائیگرز کو جس طرح یہاں فوج نے شکست دی، اس سے ہمیں بھی یہ سبق ملتا ہے کہ مسلح گروہوں اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے مسلح سیکیوریٹی اداروں کی کارروائی ہی واحد حل ہے۔ تامل نسل یہاں کی کل آبادی کا دس، پندرہ فی صد اور مذہبی اعتبار سے ہندو ہے۔ پچھّتر فی صد آبادی سنہالی نسل سے تعلق رکھتی ہے، جن میں غالب اکثریت بدھ مت سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔

سری لنکا میں بدھ مت کی ابتدا کا قصّہ بھی خاصا دل چسپ ہے۔ مشہور ہے کہ اشوکِ اعظم نے اپنے دورِ حکومت میں بدھ مت کے پرچار کی غرض سے اپنے حقیقی بیٹے کو بدھا کا پیغام دے کر سری لنکا بھیجا، تو لنکا کے راج دربار نے مہاتما بدھ کی تعلیمات کو پسند کیا اور بدھ مت اختیار کرلیا۔ تاریخ کی عجب ستم ظریفی ہے کہ ہندوستان میں روزِ اوّل سے ہندو مذہب اکثریت میں ہے، مگر آج تک کوئی ایک نام ور ہندو حکمران نہیں گزرا۔

تاہم، مورخین چھے بادشاہوں پر متفق ہیں کہ وہ سب سے طاقت وَر اور دبنگ گزرے ہیں۔ ان میں چندرگپت موریا، جین مت کا پیروکار تھا۔ اس کے بعد اشوکا، عظیم سلطنت کا بانی اور حکمران، جوکہ بدھ مت کا ماننے والا تھا، جب کہ باقی چار بادشاہوں اکبرِ اعظم، شاہ جہاں، جہانگیر اور اورنگزیب کا شمار مسلمان مغل فرماں روائوں میں ہوتا ہے۔

ریڈیو سیلون کو ادب کا بہت اہم حوالہ قرار دیا جاسکتا ہے کہ اس کو ملنے والی اہمیت اور توجّہ قابلِ فہم بھی ہے۔ کیوں کہ 1923ء میں جب یہ قائم ہوا، تو ایشیاء بھر میں اولین ریڈیو اسٹیشن تھا۔ جب تاجِ برطانیا نے اپنی اس نوآبادی میں مختلف زبانوں میں ریڈیو سروس شروع کی، تو چین، جاپان، بھارت سمیت کہیں بھی کوئی ریڈیو اسٹیشن نہیں تھا۔ گو یورپ میں 1920ء سے ریڈیو نشریات شروع ہوچکی تھیں، یاد رہے کہ سری لنکا کا پرانا نام سیلون تھا۔ 1505ء میں جب پرتگال نے اس جزیرہ نما پر قبضہ کیا، تو اسے سائی لون کا نام دیا۔ کچھ عرصے یہاں ولندیزی حکمرانوں کا تسلّط رہا۔ بعدازاں، جب 1815ء میں برطانوی قبضہ ہوا، تو یہ سیلون کہلانے لگا۔ 1948ء میں برطانیا تو یہاں سے چلا گیا، مگر ملک کا نام 1972ء تک سیلون ہی رہا،لیکن پھر ملک کے نام کی تبدیلی کے ساتھ ہی ریڈیو سیلون، سری لنکا براڈ کاسٹنگ بن گیا۔ سیلون چائے کے باغات کو پانچ صدیوں پر محیط یورپی نوآبادیاتی عہد کی یادگار قرار دیا جاسکتا ہے۔ سری لنکا کی چائے اب بھی دنیا بھر میں اس کی پہچان ہے۔ نو آبادیاتی عہد کے اثرات یہاں ہر شعبہ زندگی میں نظر آتے ہیں۔ قدیم طرزِ تعمیر کی بِنا پر یہاں کی عمارات عہدِ رفتہ کی کہانی سناتی ہیں۔ زمانہ قدیم، ایرانی، عرب، پرتگالی، ولندیزی، برطانوی اور زمانہ جدید، ہندو مذہب کے ماننے والے سری لنکا کو ’’بھگوان کی آنکھ سے ٹپکا ہوا آنسو‘‘ بھی کہتے ہیں۔ نقشے میں سری لنکا کا جغرافیہ دیکھنے سے یہ بات بہ خوبی سمجھ میں آجاتی ہے۔ مہا بھارت میں لکھا ہے کہ راون نے سیتا کو اغوا کرکے یہیں قید کیا تھا۔

جب رام نے سیتا کی رہائی کے لیے لنکا پر ہلّہ بول کر اسے تہس نہس کر ڈالا، تو وہیں سے ’’لنکا ڈھانے‘‘ کا استعارہ تشکیل پایا۔ مہاتما بدھ کی تعلیمات جنہیں ’’پالی اصول‘‘ کہتے ہیں، پہلی مرتبہ یہیں سے کتابی شکل میں مرتب ہوکر سامنے آئیں۔ کولمبو سے دو گھنٹے کی مسافت پر حضرت آدمؑ کی جائے نزول ہے، جسے ADAM’S PEAK کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ عیسائی مذہب کے پیروکاروں کابھی یہ عقیدہ ہے کہ اسی چوٹی پر حضرت آدم علیہ السلام اترے تھے اور یہیں ان کے پائوں کے نشان ثبت ہیں۔ تاہم، بدھ بھکشو، اسے بدھا کے پائوں کا نشان قرار دیتے ہیں۔ خراب موسم کی وجہ سے ہم چوٹی کی زیارت تو نہیں کرسکے، مگر سوچتے رہے کہ مہاتما بدھ تو اپنی زندگی میں کبھی سری لنکا آئے ہی نہیں تھے؟ جہاں تک حضرت آدم علیہ السلام کا تعلق ہے، تو ان کے بیٹے ہابیل کی قبر تو ہم نے شام کے سرحدی شہر، زبرانی میں دیکھی تھی، جہاں سے ایک طرف اسرائیل کی پہاڑیاں نظر آتی ہیں، تودوسری طرف لبنان کی چوٹیاں صاف دکھائی دیتی ہیں۔ ممکن ہے، انہوں نے ہجرت کرلی ہو۔ سری لنکا کی دستاویزی تاریخ تو تین ہزار سال پرانی کہی جاتی ہے، مگر ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے نزدیک اس دھرتی کی تاریخ ایک لاکھ پچیس ہزار سال پرانی ہے اوریہی انسان کا پہلا مسکن اور زمین پر اس کا اولین پڑائو بھی ہے۔

اٹھارہ سال قبل لبریشن ٹائیگرز ا?ف تامل ایلام نامی تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک بمبار نے صدارتی محل پر خودکش حملہ کردیا تھا۔ اس کے فوری ردعمل میں صدارتی محل کے سامنے واقع مرکزی شاہراہ کو عوام النّاس کی ا?مد ورفت کے لیے حفاظتی نقطہ نظر سے بند کردیا گیا تھا۔ شہر کے نوا?بادیاتی عہد میں تعمیر کیے گئے مرکز میں تین سو میٹر سڑک کے اس ٹکڑے کے کھلنے سے شہریوں کو ا?مدو رفت کی سہولت کے علاوہ تحفظ کا احساس بھی ہوتا ہے۔

سری لنکا کی مقامی تامل ا?بادی اور بھارت سے ہجرت کرکے ا?ئے ہوئے تامل مجموعی طور پر ملکی ا?بادی کا تیرہ فی صد ہیں۔ سنہالی کے بعد تامل یہاں کی دوسری بڑی زبان ہے۔ مسلمانوں کی کل ا?بادی دس فی صد ہے، جو ’’مور‘‘ اور ’’ملایا‘‘ نسل سے تعلق رکھتی ہے۔ بہت سے مسلمان اور عیسائی، سنہالی و تامل نسل سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں یہ تذکرہ بھی خارج از دل چسپی نہ ہوگا کہ اردو کا مشہور محاورہ ’’چوروں کو پڑ گئے مور‘‘ اسی مور نسل سے متعلق ہے۔

خودکش حملہ ا?وروں کی تاریخ یوں تو زمانہ قبل از مسیح جتنی پرانی ہے، مگر عہدِ جدید میں دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپانی ہوا بازوں نے، جنہیں ’’کھامی کھازی‘‘ جس کا ترجمہ ’’بادِ خدا‘‘ یا پھر ’’ملکوتی ہوا‘‘ کیا جانا چاہیے، اس کی بنیاد رکھی۔ پھر تامل ٹائیگرز نے اسے شدت اور جدّت سے ہم کنار کیا۔ یہ خودکش بمبار اگر اپنے مشن میں ناکام ہوجاتے، تو اپنے گلے میں پہنا ہوا زہر کا کیپسول نگل جاتے، تاکہ قانون نافذ کرنے والے کسی سرکاری ادارے کے ہاتھ نہ ا?جائیں۔ ایسے بے شمار واقعات ہیں، جب گرفتار ہونے والے جنگجوئوں نے زہر کا کیپسول نگل کر جان دے دی۔ ان خودکش جنگجوئوں میں خواتین بھی شامل تھیں۔ یاد رہے کہ سابق بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کو خودکش بم حملے میں ہلاک کرنے والی بھی ایک تامل ٹائیگرز کی رکن خاتون ہی تھی۔ بھارت کے ساتھ تامل ٹائیگرز کو یہ گلہ ہے کہ اس نے دوغلی پالیسی اپنائی، پہلے اس تنظیم کو مدد فراہم کرکے مضبوط کرتا رہا، پھر اسی تنظیم کے خاتمے کے لیے سری لنکا حکومت سے معاہدہ کرکے اپنی فوج بھیج دی۔ بنیادی طور پر بھارت نے سری لنکا میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کے لیے اس تنظیم کو استعمال کیا تھا، لیکن جب بھارتی فوج سری لنکا میں امن قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی، تو بالا?خر سری لنکا کی اپنی ہی فوج نے یہ مشکل جنگ لڑی اور فتح یاب ہوئی۔

سری لنکا میں خانہ جنگی کے ا?خری برس چالیس ہزار افراد سیکیوریٹی اداروں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے، مگر اقوامِ متحدہ سمیت کہیں بھی کسی نے ان میں سے ماورائے عدالت قتل ہونے والوں کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا۔ تامل ٹائیگرز کو شکست دینے والے فاتح، سابق صدر، راجا پکسے کے صدارتی انتخاب میں ناکامی کے بعد لوگ اب اس حقیقت کو تسلیم کرنے لگے ہیں کہ وہی سری لنکا میں امن لے کر ا?ئے تھے۔ اب ہر سیاسی لیڈر میں نیلسن منڈیلا جیسا ظرف اور حوصلہ کہاں ہوتا ہے کہ اپنے اقتدار کے عروج اور سیاسی نقطہ کمال پر ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے اقتدار عوام کے دیگر نمائندوں کے سپرد کردے اور پھر سیاست میں مداخلت بھی نہ کرے۔ تیسری دنیا کے سیاسی قائدین کا المیہ ہے کہ جب تک جوتے یا گندے انڈے ان کے سر پر نہ پڑیں، انہیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ لوگوں میں اپنی مقبولیت کھو چکے ہیں۔ فی الحال سری لنکا میں صدارتی نظامِ حکومت ہے۔ صدر پانچ سال کے لیے منتخب ہوتا ہے اور زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ اس عہدے پر براجمان رہ سکتا ہے۔


متعلقہ خبریں


وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار وجود - پیر 27 اپریل 2026

تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری وجود - پیر 27 اپریل 2026

ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ وجود - پیر 27 اپریل 2026

بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے وجود - پیر 27 اپریل 2026

عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت وجود - اتوار 26 اپریل 2026

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید وجود - اتوار 26 اپریل 2026

متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

مضامین
معنی کی تلاش میں سرگرداں! وجود پیر 27 اپریل 2026
معنی کی تلاش میں سرگرداں!

26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس وجود پیر 27 اپریل 2026
26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس

اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ وجود پیر 27 اپریل 2026
اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ

چلو !! آج ہنستے ہیں! وجود پیر 27 اپریل 2026
چلو !! آج ہنستے ہیں!

دوڑتا ہوا سایہ وجود اتوار 26 اپریل 2026
دوڑتا ہوا سایہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر