بھارت بندتحریک پراعلیٰ ذات کے ہندو مشتعل ، دلتو ں کی املاک پرحملے شروع کردیے

دلتوں کی بھارت بندتحریک کے جواب میں اعلی ذات کے ہندوطیش میں آ گئے اورانھوں نے دلتوں کی املاک پرحملے شروع کردیے،بھارت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق راجستھان میں حکمران جماعت کے رکن اسمبلی اور کانگریس کے سابق ایم ایل اے وریاستی وزیرکے گھروںپرسینکڑوں افرادنے ہلہ بول دیا اور مکینوں کو باہر نکال کر اسے نذرآتش کردیا۔ جبکہ الورمیں مارے گئے شخص کی لاش کے ہمراہ اس کے ورثاء نے ریلی نکالی اوردھرنادیا۔ دلتوں کے حملے جلائی گئی دکانوں کے مالکان بھی اپنے نقصان کے ازالے کے لیے سڑکوں پرنکل آئے ہیں ۔

پیرکے روزبھارت بندتحریک کے دوران دس سے زیادہ ریاستیں متاثرہوئیں جہا ں درجنوں گاڑیوں اوردکانوں کوآگ لگایاگیا۔انہی ریاستوں میں فائرنگ وپرتشددواقعات میں تقریباگیارہ افراد ہلاک ہوئے اورزخمیوں کی تعداد درجنوں میں بتائی جاتی ہے اس ریاستوں میں دوسرے دن بھی صورت حال انتہائی کشیدہ ہے ۔ جبکہ مدھیہ پردیش میں صورت حال سنگین بتائی جارہی ہے ۔کئی علاقوں میں تاحال کرفیونافذہے ۔ لوگ گھرقیدہوکررہ گئے ہیں ۔

اعلیٰ ذات کے جوابی حملوں کے باعث تصادم کاخدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ راجستھان سے موصولہ اطلاع کے مطابق دلت مخالف سینکڑوں افراد نے ربردست مظاہرہ کیااسی دوران انھیں منتشرکرنے کے لیے پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کیاگیااوران پرآنسوگیس کے شیل پھینکے گئے جس پرمشتعل ہوکروہ بی جے پی کے مقامی رہنما اور رکن اسمبلی راج کمار ی جاٹوکے گھرجمع ہوگئے اورانھوں ان کے گھرکوآگ لگادی ۔ مشتعل ہجوم نے اسی پربس نہیں کیا کانگریس کے سابق رکن اسمبلی بھروسی لال جاٹوکے گھر بھی نذر آتش کر دیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق وہاں صورت حال انتہائی کشیدہ ہے ۔پولیس مظاہرین کوکنٹرول کرنے میں ناکام نظرآرہی ہے۔میڈیااطلاعات کے مطابق دلت رہنمائوں کے گھروں پرحملہ کرنے والوں کی تعدادپانچ ہزارکے قریب تھی۔

ہنڈون میں اعلی ذات کے ہندوئوں اور تاجروں نے احتجاجی مارچ کیا اور دلتوں کے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی جس کے باعث ان کاپولیس سے تصادم بھی ہواتاہم پولیس انھیں پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہو گئی۔ علاقہ مکینوں نے الزام لگایاہے کہ پولیس نے ہجوم پرربڑکی گولیوں کے ساتھ اصل گولیاں بھی چلائیں ۔راجستھان میں تاجرو ں اوراعلیٰ ذات کے ہندوئوں کے جوابی پرتشدداحتجاج کے باعث حالات کنٹرول سے باہرہوتے نظرآرہے ہیں۔ کئی علاقوں میں کرفیوکے باوجودلوگ گھروں سے باہرآکراحتجاج کررہے ہیں۔ پولیس نے سینکڑوں افراد کو گرفتار کر کے تھانے میں بند بھی کردیاہے ۔

یادرہے بھارت میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہندوں کی نچلی ذات دلت برادری سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کے پر تشدد مظاہروں کے باعث گیارہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے جب کہ مختلف شہروں میں اسکول بند اور ٹرین سروس معطل ہو گئی تھی۔ بھارت کی سپریم کورٹ نے اپنے ملک میں رہنے والے نچلی ذات کے لوگوں کے لیے قوانین کو کمزور کرنے کا کہا تھا۔

بھارتی عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف ملک کی مختلف ریاستوں میں دلت برادری سے تعلق رکھنے والے ہندو سڑکوں پر نکل آئے اور ٹرین سروس معطل اور سڑکیں بلاک کر دیں جب کہ کچھ مقامات پر احتجاج پرتشدد شکل بھی اختیار کر گیا۔پولیس حکام کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہونے والے پر تشدد فسادات میں 6 افراد ہلاک ہوئے جب کہ ایک شخص بھارتی ریاست راجستھان میں ہلاک ہوا۔

پر تشدد فسادات کے بعد بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں کرفیو نافذ کر کے کسی بھی قسم کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔خراب حالات کے باعث بھارتی ریاست پنجاب میں ہونے والے تمام امتحانات ملتوی کر دیئے گئے ہیں اور تعلیمی ادارے، بینکس اور دفاتر کو بھی بند کر دیا گیا ۔ مقامی حکومت نے انٹرنیٹ سروس بند کر دی ‘سینکڑوں کی تعداد میں دلت مظاہرین تلواریں اور ڈنڈے لے کر سڑکوں پر نکل آئے اور زبردستی دکانیں بند کروا دیں۔

اتر پردیش، جھار کھنڈ اور بہار کی ریاستوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔وفاقی حکومت کی جانب سے بھارتی سپریم کورٹ کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی درخواست بھی کی ہے اس سب کے باوجودحالات کشیدہ ہیں اوردلت اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نظرنہیں آرہے۔

Electrolux