وجود

... loading ...

وجود

اسلامی معاشرہ میں خواتین کاکردار

جمعه 06 اپریل 2018 اسلامی معاشرہ میں خواتین کاکردار

اسلام ایک دینِ فطرت ہے اور اسکا پیغام کسی ایک خطے یا قبیلے کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا میں بسنے والے لوگوں کے لیے ہے ،یہی وجہ ہے کہ دامن اسلام سے وابستہ لوگ دنیا کے ہر شہر اور ہر خطے میں موجو د ہیں اور رنگ ونسل کی تمیز اور زبان وثقافت کے امتیاز سے بے نیا ز ہوکر کلمہ توحید کے دائرہ میں اسیر ہیں ۔اسلامی معاشرہ میں مرد و زن کے حقوق وفرائض میں بڑا توازن ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے عورتوں کو معاشرہ میں نہایت با عزت اور ممتاز مقام فراہم کیا ہے ۔طلوع اسلام سے قبل عورت ہر معاشرہ اور مذہب میں ایک کنیز کی حیثیت رکھتی تھی ،عرب میں بچیوں کو پید اہوتے ہی منوں مٹی تلے دفن کردیا جاتا تھا ،عورت کی حیثیت ایک بے قیمت جنس کی طرح تھی حتیٰ کہ شوہر کے انتقال کے بعد سگی ماں کے سوا باپ کی تمام بیویاں وراثت میں بیٹے کو مل جاتی تھیں ،ماضی کی بات چھوڑیئے ہندومت میں آج بھی عورت کو شوہر کے ساتھ ستی ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے جس کی تازہ ترین مثال روپ کنول ہے ۔یہی نہیں بلکہ بعض ملکوں میں عورت کی حیثیت پیر کی جوتی کے برابر سمجھی جاتی ہے بیوگی کی صورت میں عورت کو منحوس اور حقیر سمجھا جاتاہے ۔

اس کے بر خلاف اسلام دنیا کا واحدمذہب ہے جس نے عورت کو اعتماد اور اعتبار عطا کیا اور بچوں کی پیدائش کی نعمت خداوندی قراردیا دیاہے اور ان کی تعلیم وتربیت کو جنت کی ضمانت کہا گیا ہے۔سرکار دوعالم ﷺنے ان گنت موقعوں پرباپ کے مقابلے میں ماں کی فضیلت بیان کی ہے یہی وجہ ہے کہ اقبال نے تسلیم کیا کہ ’’وجود زن سے تصویر کائنات میں رنگ ‘‘ اسلامی معاشرہ کی تشکیل میں عورت نہایت اہم کردار اداکرتی ہے،معاشرہ میں عورت کے چاربنیادی رُوپ ہیں ۔ماں ،بہن ،بیٹی ،بیوی

ماں کی حیثیت :ماں کی کی حیثیت سے عورت معاشرہ میں نہایت اہم اور ذمہ دار کردار ادا کر سکتی ہے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آج کے بچے کل معاشرہ کی باگ دوڑ سنبھال لیں گے آنیوالے کل کے لیے آج ماں ہی تو بچوں کی صحیح تربیت کرسکتی ہے کیونکہ بچے کا ذہن شفاف آئینے کی طرح ہوتا ہے گھر کا ماحول اس آئینہ میںنقش ونگار ابھارتا ہے اب اگر ماں بچے کی پرورش اور اس کی تربیت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مکمل کرتی ہے تو یہ بچہ بڑاہوکر اسلامی معاشرہ کی تشکیل میں اپنا بھر پور کردار ادا کریگا ،اس مو قع پر حضرت اسماء ؓبنت ابوبکر صدیقؓ کاایک واقعہ ذہن میں آتا ہے کہ حضرت عبد اﷲبن زبیر ؓکے کچھ ساتھی باطل کے خلاف جنگ کرتے ہوئے شہید ہوچکے تھے اور کچھ ان کا ساتھ چھوڑ گئے اس صورتحال سے حضرت عبد اﷲبن زبیر ؓ بڑے دل برداشتہ تھے انہوں نے اپنی والدہ حضرت اسماءؓ بنت ابو بکر سے مشورہ مانگا تو ماں نے کہا کہ بیٹے اپنی جنگ جاری رکھو کیونکہ تم حق پر ہواور اگر حق کے لیے لڑتے ہوتو اب بھی اپنی جنگ جاری رکھو کیونکہ تمہارے بہت سے ساتھیوں نے حق کے لیے جان دے دی اور اگر جاہ طلبی کے لیے لڑتے رہے ہو تو تم سے برا کون ہوگا جو خود کوبھی ہلاکت میں ڈالے اور اپنے ساتھیوں کو بھی ،اگر یہ عذر ہے کہ حق پر ہو مگر ساتھیوں کی علیحدگی سے دل برداشتہ ہوگئے ہوتو یاد رکھو کہ مومن کا یہ شیوہ نہیں ،یوں بھی موت کاوقت معین ہے اور حق پر جان دینا دنیا کی زندگی سے ہزاردرجے بہتر ہے ۔عبد اﷲؓبن زبیرؓنے کہا اماں ،بنو اُمیہ میری لاش کی بے حرمتی کریں گے اور سولی پر لٹکا دیں گے،ماں نے جواب دیا بیٹا ذبح ہونے کے بعد بکری کو کھال کھنچنے سے تکلیف نہیں ہو تی جاؤاور خدا سے مدد مانگواور اپنا فرض پورا کرو ۔

تاریخ کے اوراق اس امر کے شاہد ہیں کہ جب حضرت عبد اﷲؓ بن زبیر ؓ ؓبڑی جرأت اور بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے تو مخالفوں نے ان کی لاش سولی پر لٹکادی کئی روز بعد ماں کا گذر ہوا تو بیٹے کی لاش کو لٹکا ہوا دیکھ کر کہنے لگیں ،ارے یہ شہسوار ابھی تک سواری سے نہیں اُترا ۔اس واقعہ سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ ماں کی تربیت کے نتیجہ میں اولاد حق کی راہ میں جان دیکر تاریخ میں زریں باب کا اضا فہ کرسکتی ہے۔

آج کل نئی نسل جو بے راہ روی کا شکار ہورہی ہے عہد حاضر کی ماں بھی اسی صورتحال میں برابر کی شریک ہے ۔سرکاردوعالم ﷺنے اولادکی تربیت کے لیے ماں کو بڑے انعام وکرام سے نوازنے کا وعدہ فرمایا ہے ،اس کے قدموں کے نیچے جنت بنادی ہے ،اس کے بدلے میں اسے بچے کی تربیت کا ذمہ دار قرار دیا ۔آپ خود غور کیجئے کہ اگر ہم بچوں کی تربیت اسلامی خطوط پر کریں تو کیا معاشرہ میں بہتری کا امکان پید انہیں ہوسکتا اگر نئی نسل کو ہم سنو اریں تو عورت معاشرہ کی تشکیل میں اہم ترین کردار اداکرسکتی ہے ۔

بہن کی حیثیت :عورت بہن کی حیثیت سے بھی معاشرہ کو سنو ارنے میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے کیونکہ گھر میں بڑی بہن کی حیثیت ماں کے بعد ہو تی ہے اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی تربیت میں اپنا حصہ ادا کرسکتی ہے تاریخ ایسے ان گنت واقعات سے بھری پڑی ہے جس میں بہن نے بھائی کی شانہ بشانہ اہم ترین کردار ادا کیا ہو ۔دور کیوں جائیں ہم محترمہ فاطمہ جنا ح ہی کی مثال لیں کہ انہوں نے کتنی بڑی نازک گھڑی میں قائد اعظم کا ساتھ دے کر انہیں بڑا حوصلہ اور ہمت عطا کی ،اس طرح بہن کی حیثیت سے بھی عورت اپنی ذمہ داریاں ادا کرے تو ایک پاکیزہ معاشرہ کی تشکیل میں ممدومعاون ہوسکتی ہے ۔

بیوی کی حیثیت :بیوی کی حیثیت سے عورت اسلامی معاشرہ کی تعمیرمیں اہم کردار اداکرتی ہے اس کا اندازہ حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے پاکیزہ اور تاریخ ساز کرداروں سے لگایا جاسکتا ہے ۔
حضور اکرم ﷺ کی ابتدائی ازدواجی زندگی میں حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓ نے جو معاونت فرمائی اور بعثت نبوی کے بعد آزمائش کے دور میں حضر ت خدیجہ الکبریٰ نے جو کردار ادا کیا ہے وہ تاریخ کا سنہری باب ہے ہجرت کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے اسلامی معاشرہ کی تشکیل میں خدمات انجام دی ہیں اور خواتین کے لیے جو شرعی اور فقہی مسائل بیان کیے ہیں وہ اسلامی معاشرہ کی تشکیل میں معاونت کا مثالی نمونہ ہیں ۔یوں بھی تاریخ شاہد ہے کہ ماضی میں سیکڑوں نامور مرد ایسے گذرے ہیں جنکی کامیابیوں میں ان کی رفیقہ حیات کا ہاتھ رہاہے۔

عہد رسالت مآب میں عورت نے جنگو ں میں زخمیوں کی خدمت کرکے یہ ثابت کیاہے کہ یہ صنف نازک میدان جنگ میں بھی خدمات انجام دے سکتی ہے عہد حاضر میں تعلیم اور نرسنگ کے پیشے میں خواتین بے پناہ خدمات انجام دے رہی ہیں ۔

بیٹی کی حیثیت :آج بھی ہما رے معاشرے میں لاکھو ں خواتین اپنے بوڑھے والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت کا اہم کام سر انجام دے رہی ہیں یہی نہیں بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں میں عورت پردے میں رہ کر بھی اپنی ذمہ داریوں کو بحسن وخوبی پورا کر رہی ہے ۔

دینی معاشرہ میں عورت شروع سے ہی مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی رہی ہے گھر کی چاردیواری میں رہ کر بھی عورت معاشی اور اقتصادی مسائل کو حل کرنے میں پوری طرح سرگرم عمل ہے ۔مذکورہ حقائق سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اسلامی معاشرہ میں عورت عضو معطل نہیں بلکہ وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک پاکیزہ معاشرہ کی تشکیل میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکتی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ فی زمانہ خواتین اسلامی معاشرہ میں اپنا بھر پو ر کردار ادا کررہی ہیں ۔


متعلقہ خبریں


بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن وجود - اتوار 01 فروری 2026

حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم وجود - اتوار 01 فروری 2026

سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

مضامین
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

انقلاب کی پہلی شرط وجود اتوار 01 فروری 2026
انقلاب کی پہلی شرط

پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے! وجود اتوار 01 فروری 2026
پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے!

نک دا کوکا ۔۔۔ وجود هفته 31 جنوری 2026
نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود هفته 31 جنوری 2026
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر