اسلام میں ایفائے عہد کی اہمیت

اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔ اس لیے وہ اپنے پیرو کاروں سے ان کی معمولات زندگی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کر تا۔خاص طور پر جب معاملہ حقوق العباد یا اجتماعیت کا ہوتو اس کی اہمیت اور حساسیت اور بڑھ جاتی ہے۔ اسلام اپنی تعلیمات میں انسانی اعلیٰ اقدار اور قابل قدر صفات کو ترجیح دیتا ہے۔ دراصل اسلام ہی ایک ایسا دین ہے جس میں ہر قسم کی خوبیاں پائی جاتی ہیں ، یہ وہ صراط مستقیم ہے جو تمام بنی نوع انساں کی نجات اور فوز و فلاح کا ضامن ہے۔لطافت و طہارت اور پاکیزگی روح صرف اسی الہامی دین میں ہے۔اسلام چونکہ تمام تر محاسن کا مجموعہ ہے اسی لیے ربّ کائنات نے اسی دین کو اپنے لیے پسند فرمایا ہے: ارشاد ربانی ہے: ’’ دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہے۔‘‘ (آلِ عمران ۱۹)۔ اس کی بے شمار بہترین صفات میںسے ایک صفت ایفائے عہد یا وعدے کی پابندی بھی ہے۔ ایفائے عہد ایک مسلمان کے دیگر فرائض میں سے ایک بڑا فرض ہے۔اگر کوئی انسان ایفائے عہد کی صفت سے خالی ہے تووہ انسانیت کے شرف سے ہی عاری سمجھا جاتا ہے۔

انسان لوگوں سے کوئی وعدہ کر کے اس سے پھر جاتا ہے تو وہ انسانی معاشرے میں نا قابل اعتبار سمجھ لیا جا تا ہے۔لوگ وعدے کی اہمیت کو قابل توجہ نہیں سمجھتے، بل کہ بعض اوقات ازراہِ مذاق یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ ’ ’ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا’’۔جب کہ قرآن حکیم میں وعدے کے بارے میں متنبہ کیا گیا ہے: ’’ اور اپنے عہد کو پورا کروکہ عہد کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا‘‘ (بنی اسرائیل ۳۴)رسول کریم ﷺ نے وعدہ خلافی کی مذمت میں بڑے سخت الفاط ارشاد فرمائے ہیںکہ : ’’ جس میں اپنے عہد کا پاس نہیں اس کا کوئی دین نہیں‘‘ ( مسند احمد)

اسلام ان تمام معاہدوں کے احترام اور ان کی تکمیل کا بھی حکم دیتا ہے جن میں مالی ذمہ داریاں ہوں، تجارت اور دیگر تمام اقتصادی و معاشی امور میں اعتماد کی فضا اسی وقت پیدا ہوسکتی ہے جب ایفائے عہد کو اہم فریضہ سمجھ جائے۔ازدواجی معاملا ت میں اس کی بہت اہم اور سنگین صورت حال ہے ، اللہ کے رسول ﷺ نے اس ضمن میں بڑی سخت بات فرمائی ہے کہ: ’’ جس مرد نے کسی عورت سے کم یا کثیر مہر پر نکاح کیا اور نکاح کر تے وقت اس کے دل میں یہ بات تھی کہ کہ وہ مہر کی ادایگی نہیں کرے گا تو اس نے اپنی شریک حیات کو دھوکہ دیا، اور مہر کی ادائیگی کیے بغیر اگر اس کی موت واقع ہوگئی تو قیامت کے دن وہ شخص زانی کی حیثیت سے اللہ کے حضور پیش ہو گا ‘‘ ۔ (معجم اوسط و معجم صغیر للطبرانی)

بد عہدی اور بے وفائی اعتماد اور یقین و بھروسے کو ختم کر دیتی ہے۔انتشار اور لا قانونیت کا ماحول پیدا کردیتی ہے ، بعض اوقات باہمی رشتوں میں بھی دراڑیں ڈال دیتی ہے اور رحمی رشتے بھی شک اور بے یقینی کا شکار ہوجاتے ہیں۔اور خاندان میں نفرتیں اور عداوتیں جنم لیتی ہیں۔ عہد کی یہ پابندی ہر ایک کے ساتھ ہونی چاہیے خواہ کوئی شخص کافر ہو یا مؤمن! اس لیے کہ اسلام میں اخلاق اور فضیلت کے لیے کوئی فرق و تفاوت نہیں ہے ۔ہر ایک کے ساتھ اچھے اخلاق برتنا اسلامی تعلیمات کا خاصّہ ہے۔اس سے تو اسلام اور دیگر مذاہب میں نمایاں فرق واضح ہوتا ہے۔اسلام کا سینہ ہر ایک کے لیے کشادہ اور اس کا دامن ہر ایک کے لیے امن و سکون اور بھائی چارہ کے لیے پھیلا رہتا ہے۔

سید سلیمان ندوی ؒ ’سیرت النبی‘ کی جلد ششم میں عہد کی پابندی کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں: ’’ عام طور پر لوگ عہد کے معنی صرف قول و قرار کو سمجھتے ہیں ، لیکن اسلام کی نگاہ میں اس کی حقیقت بہت وسیع ہے۔وہ اخلاق ، معاشرت ، مذہب اور معاملات کی ان تمام صورتوں پر مشتمل ہے جن کی پابندی انسان پر عقلاّ، شرعاّ، قانوناّ اور اخلاقاّ فرض ہے۔اور اس لحاط سے یہ مختصر سا لفظ انسان کے بہت سے عقلی، شرعی، قانونی ، اخلاقی اور معاشرتی فضائل کا مجموعہ ہے۔

Electrolux