زُلف بادہ و جام کی باتیں چھڑ ہی جاتی ہیں

فاروق ستار آج کیا ہیں یہ جاننے سے پہلے یہ علم ہونا ضروری ہے کہ اپنی جماعت میں وہ بانی ایم کیو ایم کے بعد سب سے موئثر اور طاقت ور شخصیت تھے ۔ جب چھاؤں کی تلاش میں سرگرداں اہل کراچی کے سروں پر دھوپ کی چادر تنی ہوئی تھی اُس وقت بھی وہ لمبی لمبی تقریں اور طویل پریس کانفرنسیں کیا کرتے تھے ۔یوں کہہ لیں کہ پتھر کے صنم تھے تو بھی بولتے ضرور تھے یہ الگ بات ہے کہ آج ہی کی طرح آدھے ذہن کے فلسفے کا پرچار کیا کرتے اور ادھ کھلی آنکھ سے مستقبل کا منظر پیش کرتے تھے۔لیکن ان دنوں ان کی گفتگو کو سنجیدہ لیاجاتا تھا ۔ میڈیا اُن کی باتوں کو اپنے کسی ندیم کی ہمکلامی گردانتا تھا۔ ان کی سیاسی دھمکیوں سے خوف پھیلتا تھا اور ان کی پیش گوئیوں پر یقین کیا جاتا تھا ۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے تھا کہ اُن کے پیچھے طاقت تھی ۔ تنظیم اور ساتھیوں کی ۔ ایسے ساتھیوں کی جو بوجوہ ہر حُکم بجا لانے پر ہمہ وقت تیار رہتے تھے ۔

آج مجھے اپنے مرحوم دوست موسیٰ کلیم اعوان یاد آ رہے ہیں ۔ میانوالی میں فاروق ستار اور وسیم اختر کی آمد کے موقع پر انہوں نے نظامت کے فرائض انجام دیئے تھے، ان کے فن خطابت ، قیام پاکستان کے وقت کی مہاجرت اور سندھ میں مہاجروں کی تاریخ پر عبورسے کراچی سے آئے ہوئے مہمان جب متائثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے تو فاروق ستارنے انہیں ایم کیو ایم میں شمولیت کی دعوت دے ڈالی ۔ اثبات کے اشارے کے منتظر کے طور پر مہمانوں کی نظریں ابھی میزبان کے چہرے پر مرکوزتھیں کہ جواب کی بجائے انہیں اس سوال کا سامنا کرنا پڑا کہ’’ شمولیت کے بعد ایم کیو ایم سے علیحدگی یا واپسی کے راستے تو کھُلے رہیں گے ‘‘۔۔؟

سوال کے جواب میں کیا جانے والا سوال بڑا معنی خیز اور مہمانوں کے لیے غیر متوقع تھا ۔
فارق ستار اس موقع پر بڑے دوٹوک اور تحکمانہ انداز میں گویا ہوئے ۔۔ ’’ نہیں ایم کیو ایم میں سے علیحدگی یا واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا ‘‘۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ایم کیو ایم کو آزاد کشمیر اسمبلی میں دو نشستیں حاصل ہوئیں تو وہ اپنے فلسفے کا پرچار کرنے کے لیے پنجاب کے مختلف علاقوں میں راہ ہموار کرنے میں مصروف تھے ۔ اُس وقت فاروق ستار کے اعتماد کا عالم یہ تھا کہ وہ اپنے اور اپنی جماعت کے لیے کراچی کو ہمیشہ کے لیے محفوظ سمجھتے تھے ۔ یہ اُن کے گُمان تک میں بھی نہیں تھا کہ سورج کو بھی غروب ہونا ہوتا ہے۔

کالم لکھتے ہوئے احمد خان نیازی کی طرف سے بیان کیے گئے عمران خان کے پہلے دورہ عزیز آباد کے واقعات بھی شعور کے پردوں پر مچل رہے ہیں ۔ احمد خان نیازی ایک عظیم انسان کا پوتا اور کپتان کے پھوپھی زاد کا بیٹا ہے۔ کپتان پر جان چھڑکتا ہے اور اُس کے محافظ دستے کا سالار ہے ۔ انہوں نے ایک مرتبہ بتایا تھا کہ جب عمران خان نے کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز عزیز آباد کا دورہ کیا تو کراچی کی قیادت اس دورے کا رسک لینے پر مجبور ہو ئی ۔ ہمارا قافلہ عزیز آباد میں داخل ہوا تو ہر سو سناٹا چھایا گیا تھا ۔ تمام آبادی کی روشنیاں گُل کروادی گئی تھیں ۔ کسی کو اپنے گھر کے دروازے یا مکان و دکان کی چھت پر کھڑے ہونے کی اجازت نہیں تھی ۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے راستے کے دونوں طرف ایک قطار بنائی ہوئی تھی ۔ یہ کارکن عمران خان کے قافلے میں شریک افراد کو تنگ کر رہے تھے ۔ اس طویل قطار کا ہر تیسرا شخص ہمارے کسی ساتھی کو تھپڑ یا گھونسا مارنا اور دھکے دینا اپنا فرض سمجھ رہا تھا ۔ احمد خان نیازی کہتے ہیں کہ میں گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہوئے عمران خان کے دروازے پر لٹکا ہوا تھا مجھے کئی گھونسے پڑے ۔ یہاں تک کہ وہاں سیکیورٹی ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس اہلکار نے بندوق کا بٹ بھی مجھے دے مارا ۔‘‘

آج کے کراچی پر نظر دوڑائیں تو گذشتہ تین عشروں کی تاریخ یاد آنے لگتی ہے۔ شہریوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کی بیچارگی کا نوحہ کیا لکھا جائے ۔ ایم کیوایم کے اپنے کارکن اور مہاجر وں کی زندگی قدغنوں کے حصار میں تھی ۔ سیکٹر انچارجوں کے راج میں لوگوں کی راتوں میں کسی چاند کو بھٹکنے کی اجازت تھی اور نہ یہاں کی صُبحیں کسی سورج کا منہ چوم سکتی تھیں ۔ افراد کی سوچوں کے سارے رابطے ان کے ذہنوں تک محدود تھے۔ کراچی والے سب بہت کمزور تھے ۔ جُرمِ ضعیفی کے مارے ان لوگوں کی ’’ غذا ‘‘ تھی کہ طاقتور لوگوں کو مزید قوی کیا جائے ۔

آج کے کراچی اور فارق ستار کے حالات تاریخ کے سبق کو دوہرانے لگے ہیں۔ آج ثابت ہوگیا ہے کہ زبانوں پر تالے ہمیشہ نہیں رہتے ۔ زُلف ، بادہ اور جام کی باتیں چھڑ ہی جاتی ہیں ۔ وہ فارق ستار جو کہا کرتے تھے کہ ایم کیو ایم سے واپسی یا علیحدکی کا کوئی در نہیں کھلتا آج اپنی جماعت میں ہونے والے سو چھیدوں سے گرنے والوں کو سنبھالنے میں بُری طرح ناکام ہو چُکے ہیں ۔ جن کے بارے میںاُنہیں گُمان تھا کہ وہ ان کے دلوں میں رہتے ہیں وہ آج انہیں ایم کیو ایم کی زمین پر رہنے کی اجازت عنایت فرمانے کے لیے بھی تیار نظر نہیں آتے ۔ جو ان کے آنکھوں کے اشاروں سے پیا کرتے تھے ان کی حالت ایسی سنبھلی کہ فاروق بھائی کی بے خودی بڑھنے لگی ہے ۔ سیکٹر انچارجوں کے جبر کی دیوار گر چُکی ہے ۔۔

پی آئی بی ۔عزیز آباد اور بہادر آباد کے گھروں کے آنگنوں میں نئے صبح وشام کی روشنی اس قدر پھیل چُکی ہے کہ فاروق ستار کی جانب سے یہ دُہائی سامنے آ رہی ہے کہ 2018 ء کے عام انتخابات میں ایم کیو ایم کو کچھ نہیں ملے گا ۔ وہ اپنی مخالف رابطہ کمیٹی کے مرکز بہادر آباد جا کر بھی لوٹ آئے ہیں ۔ پھر بھی اُنہیں اپنا مدعا حاصل ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے ۔ انہوں نے رابطہ کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خالد مقبول صدیقی کو میرے ساتھ اکیلے بیٹھنے کی اجازت دیں ۔ وہ آہستہ آہستہ بہادر آباد کی ساری باتین ماننے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ بہادر آباد کی رابطہ کمیٹی آنکھیں بند کیے بغیر ان کا حال جان لیتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کے حُسن کا سورج اب ڈھل گیا ہے۔ تاریخ کا یہی سبق کہ عروج کو کہاں تک سنبھالا جا سکتا ہے ۔ دوسرے حسینوں کی طرح انہیں بھی جان لینا چاہیئے کہ آپ کے حُسن کا نعم البدل بھی ہو جائے گا ۔کالم کو تمام کرنے سے قبل محمد محمود احمد کی ایک نظم فاروق ستار کی نذر کرنا انتہائی موزوں نظر آتی ہے ۔
سچائی
محبت کھیت ہے جس پر
غموں کا مینہ برستا ہے
محبت شہر ہے جس میں
دُکھوں کی نہر بہتی ہے
وہ لڑکی ٹھیک کہتی ہے
فقط اِک دل پریمی کا
سسکتا اور بلکتا ہے
فقط اِکھ آنکھ عاشق کی
ہزاروں کرب سہتی ہے
وہ لڑکی ٹھیک کہتی ہے
محبت کرنے والوں پر
فلک بھی ظلم ڈھاتا ہے
محبت کے مسافر پر
زمین بھی تنگ رہتی ہے
وہ لڑکی ٹھیک کہتی ہے

Electrolux
انوار حسین حقی ایک منجھے ہوئے صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔اُن کا کالم قومی اخبارات کی زینت بنتا رہتا ہے۔ اُن سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔