دلتوں کی بھارت بندتحریک شرو ع،مودی سرکارشدیددبائومیں

بھارت میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہندوں کی نچلی ذات دلت برادری سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کے پر تشدد مظاہروں کے باعث 11 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے جب کہ مختلف شہروں میں اسکول بند اور ٹرین سروس معطل ہو گئی ہے۔بھارت کی سپریم کورٹ نے اپنے ملک میں رہنے والے نچلی ذات کے لوگوں کے لیے قوانین کو کمزور کرنے کا کہا تھا۔بھارتی عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف ملک کی مختلف ریاستوں میں دلت برادری سے تعلق رکھنے والے ہندو سڑکوں پر نکل آئے اور ٹرین سروس معطل اور سڑکیں بلاک کر دیں جب کہ کچھ مقامات پر احتجاج پرتشدد شکل بھی اختیار کر گیا۔پولیس حکام کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہونے والے پر تشدد فسادات میں 6 افراد ہلاک ہوئے جب کہ ایک شخص بھارتی ریاست راجستھان میں ہلاک ہوا۔پر تشدد فسادات کے بعد بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں کرفیو نافذ کر کے کسی بھی قسم کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

بھارتی ریاست پنجاب میں ہونے والے تمام امتحانات ملتوی کر دیئے گئے ہیں اور تعلیمی ادارے، بینکس اور دفاتر کو بھی بند کر دیا گیا ہے جب کہ مقامی حکومت نے انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے۔پنجاب میں سینکڑوں کی تعداد میں دلت مظاہرین تلواریں اور ڈنڈے لے کر سڑکوں پر نکل آئے اور زبردستی دکانیں بند کروا دیں۔اس کے علاوہ اتر پردیش، جھار کھنڈ اور بہار کی ریاستوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

متعدد دلت تنظیموں نے سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کے خلاف ملک گیر بند کا انعقاد کیا جس میں پرتشدد واقعات ہوئے۔ مظاہرین اور پولیس میں تصادم کے دوران کم از کم سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ مدھیہ پردیش اور پنجاب میں فوج بلا لی گئی ہے۔ پنجاب ایک طرح سے ٹھپ ہو گیا ہے کیونکہ پوری ریاست میں گاڑیاں سڑکوں سے غائب ہیں۔

متعدد شمالی ریاستوں میں مظاہرین سے ریل کی پٹریاں اور سڑکیں جام کر دیں جس کے سبب نقل و حمل کی خدمات بری طرح متاثر ہو گئیں۔ دارالحکومت دہلی میں پارلیمنٹ کے نزدیک جنتر منتر پر زبردست مظاہرہ ہوا جس کی وجہ سے پوری دہلی میں ٹریفک کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ مرکزی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ حکومت حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

سپریم کورٹ نے چند روز قبل دلتوں اور قبائلیوں سے متعلق قوانین کے سلسلے میں ایک فیصلہ سنایا تھا جس میں اس نے ایس سی ایس ٹی قانون کے تحت درج ہونے والے معاملات میں پولیس کارروائیاں نرم کر دی ہیں۔ دلتوں کا الزام ہے کہ ان کے حقوق کے تحفظ کے قوانین میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔جنتر منتر پر دھرنے میں شامل آل انڈیا دلت مسلم مہا سنگھ کے صدر سریش کنوجیا نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ فیصلہ نہیں بدلا گیا تو ہم لوگ تین ماہ تک پورے ملک میں احتجاجی تحریک چلائیں گے اور 120 ایس سی ایس ٹی ممبران پارلیمنٹ کا علامتی جلوس جنازہ نکالیں گے اور پھر جنتر منتر پر لا کر ان کی آخری رسوم اد کریں گے۔
سریش کنوجیا کے مطابق جس جج نے یہ فیصلہ سنایا ہے وہ پہلے بی جے پی صدر امت شاہ کے وکیل تھے۔ ان کو بطور انعام جج بنا دیا گیا۔ ان کے بقول یہ فیصلہ حکومت کے دباؤ میں دیا گیا ہے۔کانگریس نے فیصلے کی مخالفت کی تھی اور حکومت سے اپنا موقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔دلت تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں کے دباؤ میں مودی سرکارنے بھارتی سپریم کورٹ کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ماضی میں نچلی ذات اور نچلے قبائل سے متعلق قوانین کا غلط استعمال کیا گیا ۔ آل انڈیا ایسوسی ایشن فار لوور کاسٹس کے جنرل سیکریٹری کے پی چوہدری نے کہا کہ ایس سی/ ایس ٹی ایکٹ بھارت میں دلتوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی تفریق سے بچاؤ کو یقینی بناتا تھا لیکن سپریم کورٹ کے نئے فیصلے نے ان قوانین کو ختم کر دیا ہے، عدالت کا یہ فیصلہ ہمارے لیے حیران کن ہے۔یاد رہے کہ چند روز قبل بھی بھارتی ریاست گجرات میں گھوڑا رکھنے پر ایک دلت نوجوان کو تشدد کر کے قتل کر دیا گیا تھا جب کہ گزشتہ برس اکتوبر میں بھی ایک دلت نوجوان کو روایتی ہندو ڈانس کرنے پر قتل کر دیا گیا تھا۔

بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد راجستھان ، مدھیہ پردیش ، بہار ، اتر پردیش سمیت کئی صوبوں میں دلتوںکے زبردست احتجاج کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔ بھارتی پنجاب میں سی بی ایس سی بورڈ کے امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں۔کئی شہروں میںمظاہرین نے چلتی ریل گاڑیاں روک لیں‘درجنوں گاڑیوں اوراملاک کونذرآتش کردیا۔ دوروزسے جاری احتجاج کے دوران مودی سرکار کو بھارتی نقصا ن کاسامنا کرنا پڑا ہے ۔ بھارت کے مختلف علاقو ں میں جاری فسادات کاجائز ہ ذیل پیش کیاجارہاہے ۔

مدھیہ پردیش
مدھیہ پردیش کے شمالی علاقے میں میں پرتشدد واقعات میں 5افرادہلاک اور درجنو ں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔مرینا اورگوالیارمیں احتجاج کے دوران پرتشددواقعات ہوگئے۔مرینا میں ایک نوجوان گولی لگنے سے لگنے کے باعث ہلاک ہوگیا جس کے بعد ضلع ہیڈکوارٹرپر کرفیو نافذ کر دیا گیاہے۔ ضلع کے تمام حساس علاقوں میں پولس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے ۔بھنڈ ضلع میں بھی مظاہرے کے دورا ن ایک شخص کی گولی لگنے سے ہلاکت کی اطلاع ملی ہے ۔بھنڈ کے کئی علاقوں اورساگرضلع ہیڈکوارٹرپر کرفیو نافذ کر دیا گیاہے۔اس کے علاوہ اندور، سیونی، رتلام، اجین، جھابوا،جبل پورمیں بھی حالات کشیدہ ہیں۔

راجستھان کے کئی اضلاع
میں انٹرنیٹ کی سروس بند
راجستھان میں جگہ جگہ پرتشدد واقعات کے دوران الورکے داؤد پور پھاٹک پرریل پٹری اکھاڑنے،پولس پر حملے اورتھانوں پرپتھراؤجیسے واقعات رونما ہوئے ہیں۔جگہ جگہ پر پرتشددواقعات ‘ آتشزدنی اور پتھراؤ کے باعث انتظامیہ باڑھ میرکیسیوانی اورجالور کے سانچور میں کرفیونافذ کردیا گیا ہے۔ساتھ ہی کئی اضلاع میں انٹرنیٹ کی سروس بھی بند کر دی گئی ہے۔کشید ہ حالات کے پیش نظرٹرین سروس معطل ہے۔

پنجاب میں بھی حالات کشیدہ
پنجاب میں دلت تنظیموں کی جانب سے زبردست احتجاجی مظاہروں کاسلسلہ جاری ہے ۔ کئی علاقوں میں پولیس کی جانب سے مظاہرین پرلاٹھی چارج وآنسوگیس کے استعمال کی اطلاعات ملی ہیں ۔ صوبے میں ریل سروس اور سڑکوں پر آمدورفت متاثررہی۔موصولہ اطلاعات کیمطابق مظاہرہ کی وجہ سے پاک بھارت‘دہلی لاہور بس سروس سرہندمیں پھنسی رہی۔ پٹیالہ فیروز پور سمیت کئی ٹریکوں پرجام کی وجہ سے ٹرین سروس معطل دی گئی ۔ فیروزپور میں ڈی ایم یو ٹرین روک دی گئی۔ گرداس پور میں ہنگامہ آرائی کے باعث پٹرول پمپ سمیت تمام دفاتر اور کاروباری ادارے بند رہے۔فگواڑا ضلع میں پولس نے فلیگ مارچ کیا۔لیکن کاروباری ادارے بند رہے۔صوبے میں اسکول، بینک بھی بندرہے‘کسی علاقے میں کوئی بس نہ چل سکی اور انٹرنیٹ سروس معطل رہی اور میٹرک اورانٹرکے امتحانات ملتوی کر دئے گئے۔ہریانہ میںبھی ہڑتال کے باعث تمام کاروباری مراکز بندرہے اوردلتوں کی بڑی تعداد نے ضلع ہیڈکوارٹرپراحتجاجی مظاہرہ کیا۔ روہتک، بھوانی، کرنال ، رواڑی اور انبالہ میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

مہاراشٹر میں کئی مقامات پر جھڑپیں
دلتو ں کے احتجاج کے باعث مہاراشٹرمیں سب سے زیاد ہ حالات کشیدہ ہیں ۔ کئی مقامات پرد لت تنظیموں نے احتجاجی مظاہرہ کیااورجلوس نکالا۔ پونے ، کولہاپور،ناگ پوراورممبئی سے بھی مظاہرے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ جہاں مظاہرین اورپولیس کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاع بھی موصول ہوئی ۔ دلتوں کے احتجاج کے پیش نظرپورے صوبے میں سخت کشیدگی اورخوف وہراس کی فضاء پائی جاتی ہے ۔

دہلی میں کئی مقامات پراحتجاج
بھارتی دارالحکومت دہلی میں بھی دلتوں نے کئی مقامات پراحتجاجی مظاہرہ کیا۔اصل مظاہرہ پارلیمنٹ کے سامنے کیاگیا۔اس کے علاوہ شہرمیں مختلف مقامات پر دلتوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

جنوبی ہندوستان میں عام زندگی متاثر
جنوبی ہندوستان سے بھی بھارت بند کے اثرات کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔چنئی، وشاکھاپٹنم، وجیواڑا، حیدرآباد، بنگلورو،تروننت پورم اورگواوغیرہ میں بھی بھارت بند کی وجہ سے عام زندگی متاثرہوئی ۔ تلنگانہ کے کئی ضلعوں میں آمدورفت متاثرہ رہی ۔ کئی مقامات پرمظاہرین نے بسوں کوسڑکوں پرآنے ہی نہیں دیا۔

مودی کے صوبے گجرات
میں بھی زبردست ہنگامہ
بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اوربی جے پی کے اکثریتی صوبے گجرات میںبڑے پیمانے پردلتوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے ‘مشتعل افرادنے پتھرائوکرکے زبردستی دکانیں بند کرادیں۔کئی مقامات پرگاڑیوں کو نذر آتش کرنے کی اطلاعات بھی ملی ہیں ۔ ٹرانسپورٹرزنے اپنی گاڑیاں سڑکوں پرلانے سے گریزکیا۔

دلتوں نے کچ ضلع کے گاندھی دھام شہر میں سرکاری گاڑیوں پرپتھراؤکیا۔ مشتعل ہجوم نے جونا گڑھ ، راجکوٹ ، راجولا سمیت مقامات پر توڑپھوڑبھی کی ، مظاہرین اور پولس کے درمیان کئی مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔مظاہرین نے احمدآباداور دیگر شہروں میں 20سیزائدسٹی بسوں کے علاوہ مختلف گاڑیوںکوآگ لگادی ۔ دلتوں نے پاٹن، ہمت نگر، تھراد، بھروچ، گھنیرا، بھاؤنگر، جام نگر گونڈل ، امریلی ، تاپی اور سارند کے علاوہ مختلف مقامات پر احتجاجی ریلیاں نکالیں۔

Electrolux