مسلمان سائنس دانوںکی ایجادات

ابو اسحق الزرقلی اندلس کا مانا ہوا اسٹرونامیکل آبزرور تھا۔ الزرقلی نے ایک خاص اصطرلاب (ایسٹرولوب) ’’الصفیحہ‘‘ کے نام سے بنا یا جس سے سورج کی حرکت کا مشاہدہ کیا جا سکتا تھا۔ اس نے اصطرلاب پر ایک آپر یٹنگ مینوئیل لکھا جس میں اس نے اس سائنسی حقیقت کا انکشاف کیا کہ آسمانی کْرے بیضوی مدار میں گردش کر تے ہیں۔ یہی انکشاف صدیوں بعد کیپلر نے کیا تھا۔مقناطیسی سوئی اگرچہ چین میں دریافت ہوئی تھی مگر اس کا صحیح مصرف مسلمانوں نے نکالا تھا۔ مسلمانوں نے جہاز رانوں کے لئے آلہ قطب نما ایجاد کیا۔ اسی طرح سروے کر نے کے لئے جو آلہ تھیوڈو لائٹ استعمال کیا جا تا ہے وہ بھی مسلمانوں نے ایجاد کیا تھا۔ اندلس کے سائنسدان امیہ ابو صلت نے 1134ء میں ایک حیرت انگیز مشین ایجاد کی جس کی مدد سے ڈوبے ہوئے بحری جہاز کو سطح آب پر لایا جا سکتا تھا۔ جب مسلم دور حکومت دنیا میں اپنے عروج پر تھا تو ایران کے حاتم اسفرازی نے مختلف دھاتوں کا وزن کر نے کے لئے دو اکائیوں کا استعمال شروع کیا یعنی درہم ا ور اوقیہ۔ جب مسلمانوں کے علمی خزانے یورپ منتقل ہوئے تو یہ وزن بھی وہاں پہنچے۔ رفتہ رفتہ درہم گرام بن گیا ا ور اوقیہ اونس بن گیا۔ابو عبد اللہ محمد بن احمد نے دسویں صدی میں دنیا کا سب سے پہلا انسا ئیکلو پیڈیا ‘مفا تح العلوم’ ترتیب دیا تھا۔ اس نے مضامین کی ترتیب کا ایک نیا طریقہ اختیار کیا اور اپنی ضخیم کتاب کو حروف ابجد کے اصول پر مرتب کیا۔ یہی اصول آج بھی جد ید انسا ئیکلو پیڈیاز میں استعمال کیا جاتا ہے۔

مو تیا بند کا سب سے پہلا آپریشن طبیب حاذق اور امراض چشم کے ماہر ابو القاسم عمار موصلی نے گیارہویں صدی میں کیا تھا۔ امراض چشم پر اس کی کتاب علاج العین کا جرمن ترجمہ 1905ء میں شائع ہوا تھا۔ اس نے آپریشن کے لئے خاص قسم کا نازک آلہ ایجاد کیا،آپر یشن کے اصول اور قواعد مرتب کئے اور علاج کا طریقہ بتا یا۔زمین کا محور دیکھنے میں تو بظاہر قطب تارے کی طرح ساکن نظر آتا ہے مگر حقیقت میں یہ ساکن نہیں بلکہ آہستہ آہستہ مدھم رفتار سے دائرے کی صورت میں گردش کر تا ہے۔ اس حرکت کے بہت خفیف ہونے کے باعث یہ ہمیں محسوس نہیں ہوتی ہے۔ یہ دریافت مصر کے سا ئنسداں عبدالرحمن ابن یونس نے کی تھی۔ یہ پیمائش اتنی چھو ٹی ہے کہ اسے معلوم کر لینا ابن یونس کی ہیئت دانی کا کمال تھا۔ دنیا کا سب سے پہلا فا ونٹین پین مصر کے سلطان کے لئے 953ء میں بنایا گیا تھا۔ ایسا پین جو سلطان کے ہاتھ یا کپڑے دستخط کر تے وقت گندے نہ کرے۔ اس پین کے اندر روشنائی محفوظ رہتی اور کشش ثقل سے نب تک پہنچتی تھی۔مشہور ہیئت داں ابو الوفا بوزجانی نے گیارہویں صدی میں ثابت کیا کہ سورج میں کشش ہے اور چاند گردش کرتا ہے۔ اس نظریے کے تحت اس نے یہ دریافت کیا کہ زمین کے گرد چاند کی گردش میں سورج کی کشش کے اثر سے خلل پڑتا ہے اور اس وجہ سے دونوں اطراف میں زیادہ سے زیادہ ایک ڈگری پندرہ منٹ کا فرق ہو جا تا ہے۔ اس کو علم ہیئت کی اصطلاح میں ایوکشن یعنی چاند کا گھٹنا بڑھنا کہتے ہیں۔ اس نظریے کی تصدیق سولہویں صدی کے یورپ کے ہیئت داں ٹا ئیکو براہی نے کی تھی۔ابو الحسن علی احمد نسوی (1030ء￿ ) کی اہم دریافت وقت کی تقسیم در تقسیم کے لئے ایک نئے طریقے کی ایجاد ہے جسے حساب ستین کہتے ہیں۔ اس نے وقت کی ایک ساعت یا زاویہ (گھنٹہ) کو 60 پر تقسیم کیا، اس ساٹھویں حصے کو اس نے دقیقہ کہا جس کے لفظی معنی ہیں خفیف۔ اس دقیقہ کو اس نے دوبارہ تقسیم کیا جسے اس نے ثانیہ کہا یوں ساعت کی تقسیم دقیقہ اور ثانیہ میں ہو گئی۔

Electrolux