وجود

... loading ...

وجود

نزہت عباسی

اتوار 01 اپریل 2018 نزہت عباسی


’’شاعری ادب کے ماتھے کا جھومر ہے۔ یہ اَدب کا مقصد بھی ہے اور حتمی انجام بھی۔ یہ انسانی ذہن کی اعلی و ارفع سوچ کی مظہر ہے۔ یہ حسن اور لطافت کے حصول کا نام ہے۔ نثر نگار اس مقام سے دامن بچاتا ہے جہاں سے شاعر بآسانی گزر جاتا ہے۔‘‘ شاعری کی اہمیت اور نثر پر اس کی فوقیت کا سکّہ بٹھانے والے یہ زوردار الفاظ نامور انگریز ادیب سمر سٹ ماہم (Sommerset Maugham)کے ہیں۔ مَیں خود بھی اسی ’’مسلک ‘‘کا پیرو کار ہوں۔ مَیں اُن لوگوں سے اتّفاق نہیں کرتا جو کہتے ہیں کہ شاعری تو چلتے پھرتے بھی ہو جاتی ہے، نثر کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے بیٹھنا پڑتا ہے۔ میرے نزدیک چلتے پھرتے ہو جانے والی شاعری بس ’’چلتی ہوئی‘‘ ہوتی ہے۔ قاری/سامع پر اس کا کوئی دیر پا تاثر قائم نہیں ہوتا۔ اس میں شک نہیں کہ شاعر سے کبھی کبھار کوئی شعر /مصرع بیساختہ بھی سر زد ہو جاتا ہے جیسا کہ علامہ اقبال ؔسے منسوب ایک واقعے سے پتا چلتا ہے۔ علامہ کے ایک استاد اور کرم فرماپروفیسر آرنلڈ نے ایک بار ان سے طنز آمیز تحیّر کے انداز میں سوال کیاکہ کیا وہ(اقبالؔ) بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اُن کے نبی ؐ پر قرآن حکیم، اللّٰہ کی طرف سے نازل کیا گیا تھا؟ علامہ نے اس سوال کا جواب کچھ اس طرح دیا’’جناب، وہ(اللّٰہ ) تو قادرِ مطلق ہے مجھ جیسے عاصی بندے پر بھی بسا اوقات کوئی شعر یا مصرع بنا بنایا نازل ہو جاتا ہے۔‘‘ تاہم ایک یہ استثنائی کیفیت ہے۔ عام حالات میں (معیاری) شاعری بچّوں کا کھیل نہیں۔حضرت امیرؔ مینائی نے درست کہا تھا ؎

خشک سیروں تنِ شاعر کا لہو ہوتا ہے
تب نظر آتی ہے اک مصرعۂ تر کی صورت

توگویا شعر(خصوصاً غزل کے شعر) کی تخلیق ،آمد اور آورد کے سمبندھ سے ہوتی ہے۔ اب یہ شاعر کے تخیّل کی پرواز اور زبان و بیان پر اس کی گرفت پر منحصر ہے کہ وہ کس مہارت سے اپنے شعر کو الفاظ کا جامہ اور معانی کی روح عطا کر کے اہلِ بصیرت کے سامنے پیش کرتا ہے۔ پاکستان کے ایک نامورشاعر اور بیوروکریٹ سیّد ہاشم رضا نے اپنی خود نوشت”Our Destination”میں ایک جگہ لکھا ہے ’’شاعری اور غربت میں ہمسائیگی کا رشتہ ہے۔‘‘ واقعی، شاعری میں دولت نہیں لیکن دولت میں شاعری بھی تو نہیں۔ اس لحاظ سے دونوں میں ایک ’’محرومی‘‘ کا رشتہ بھی ہے۔ فرق یہ ہے کہ دولت والا مزید دولت کی خاطر کڑھتارہتا ہے جبکہ شاعراپنی دولت استغنٰی پر قناعت کرتے ہوئے بے نیازی سے کہتا ہے عہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے(جگرؔ)۔

ڈاکٹر نزہت عبّاسی قافلۂ سخن وراں کے ایک رکن کی حیثیت سے اپنی منزل کی جانب سبک روی سے گامزن ہیں۔ ’’وقت کی دستک‘‘ اُن کا دوسرامجموعۂ کلام ہے جس میں غزل کا غلبہ ہے۔ ابھی اُن کا فَن اور سِن اس مرحلے پر تو نہیں پہنچے کہ وہ زمانے کو اپنی ٹھوکر پر ماریں البتہ اُن کی خود اعتمادی اُن سے کہلواتی ہے ؎

سچ بھی کہنے سے اب نہیں ڈرتی
اتنی بیباک ہو گئی ہُوں مَیں

شاعری ڈاکٹر نزہت عبّاسی کی علمی کاوشوں کا محض ایک پہلُو ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے تحقیق، تدریس ، تنقید اور نثر نگاری پر بھی بھرپور توجہ مرکوز کر رکھی ہے ۔’’ اردو کے افسانوی ادب میں نسائی لب و لہجہ‘‘ پر مبنی اُن کا مبسوط مقالہ شائع ہو چکا ہے۔ وہ فطرتاً خاموش طبع اور کسی حد تک ’’مجلس گریز‘‘ ہیں۔ چنانچہ مشاعروں، مباحثوں اور ادبی چوپالوں میں شرکت سے حتی المقدور پرہیز کرتی ہیں اگرچہ انتہائی خلیق ، متواضع اور منکسر المزاج ہیں۔ ایسے لوگ فضولیات میں اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے ٹھوس اور مثبت کاموں میں منہمک رہتے ہیںاور جلوت میں بھی خلوت کے مزے لوٹتے ہیں۔ ڈاکٹر نزہت کے حسبِ ذیل اشعار سے اُن کے مزاج اور ذہنی رجحان (mindset) کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے ؎

تھے جلوتوں کے ہجوم مجھ میں
مَیں خلوتوں کے خمار میں تھی
ہے خموشی ہی مسئلے کا حل
بات اُلجھے گی اب وضاحت سے
مری اک چپ ہی میری گفتگو ہے
مَیں اپنی خامشی میں بولتی ہُوں

مؤخر الذکر شعر پڑھ کر میرے ذہن میں کارلائل (Carlyle) کا یہ مشہور قول گونجنے لگا : Silence is more eloquent than words (خاموشی الفاظ سے زیادہ خوش گفتار ہے۔ )’’وقت کی دستک‘‘ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ شاعرہ وقت کی پکار پر گوش بر آواز ہے۔ اُس کی شاعری میں نہ صرف جدید نظریات ملتے ہیں بلکہ اُس کا اسلوب بھی انفرادیت اور برجستگی سے مملُو ہے۔ غزل ایک نازک اور قدرے چلبلی صنفِ سخن ہے۔ اس کا حق وہی ادا کر سکتا ہے جسے اپنی بات مؤثر اندا زمیں کہنے کا ڈھنگ آتا ہے۔ اس میں ذرا سی بے احتیاطی یا کج روی غزل کو عامیانہ سطح پر گرا دیتی ہے۔ ڈاکٹر نزہت نے اس امر کا پورا اہتمام کیا ہے کہ اُن کا کلام کہیں بھی یکسانیت ، فرسودگی اور سطحیت کا شکار نہ ہو۔انہوںنے سیاست، سانحاتِ روز و شب، معرکۂ حق و باطل، معاشی ناہمواری، شہرت کی ہوس، مسیحائوں کی سفّاکی جیسے خشک (لیکن رائج الوقت) موضوعات کو بھی غزل کی رومان پرور فضا کے تناظر میں برتا ہے(مَیں متعلقہ موضوعات کے شعری حوالوں سے اس مضمون کو بوجھل نہیں کرنا چاہتا ۔)ڈاکٹر نزہت عبّاسی اپنے کلام کی اس خوبی کا پورا ادراک رکھتی ہیں۔کہتی ہیں ؎

نئے خیال، نئے فلسفوں کی بات کرو
نئی حیات نئی منزلوں کی بات کرو

یہ بھی اپنی جگہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ جدید موضوعات کے ساتھ ساتھ کوئی ذی فہم شاعر غزل کے قدیم اور روایتی مضامین سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا کہ بقول غالبؔ ع بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر۔لیکن ڈاکٹر نزہت عبّاسی نے اُن پامال موضوعات کو بھی اپنی فکر کی تازگی سے حیاتِ نو بخشی ہے۔

شاعری کی کامیابی کا راز اس میں نہیں کہ لکھتے وقت شاعر کے جذبات کیا تھے بلکہ اس میں ہے کہ پڑھتے وقت قاری کے احساسات کیا ہیں۔ جب یہ دونوں ایک wavelengthپر آ جاتے ہیں تو شاعری ایک وجدانی کیفیت پیدا کر دیتی ہے اور معاشرے میں صحت مند اقدار کے فروغ کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ شاید اسی لیے امریکہ کے ایک آنجہانی صدر جان ایف کینیڈی نے شاعری اور اقتدار کا موازنہ کرتے ہوئے کہا تھا ’’جب اقتدار انسان کو نخوت کی طرف دھکیلتا ہے تو شاعری اسے اس کی کمزوریوں سے آگاہ کرتی ہے، جب اقتدار انسان کی سوچ کے دائرے کو محدود کر دیتا ہے تو شاعری اسے اپنے وجود کی لامتناہی وسعتیں یاد دلاتی ہے۔ جب اقتدار انسان کو بدعنوانی پر مائل کرتا ہے تو شاعری اس کے باطن کو پاک صاف کرتی ہے۔‘‘ڈاکٹر نزہت نے بھی اپنے ایک شعر میں یہی مضمون باندھا ہے۔ کہتی ہیں ؎

انسان کے شعور کی وسعت کا کیا بیاں
اس کی ذہانتوں کا بھلا کیا شمار ہو

مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ نزہت عبّاسی نے اپنے کلام کو محض ذہنی لذّت و فرحت کے حصول کا آلۂ کار نہیں بنایا بلکہ اصلاحِ احوال کی پُر خلوص کوشش بھی کی ہے اورناصحِ مشفق کا روپ دھارے بغیر سیدھے سادے لیکن فکر انگیز انداز میں اپنے پیغام کا ابلاغ کیا ہے ؎

یہاں ہیں خوں کے رشتے اجنبی سے
یہاں سب کے رویّے اجنبی سے

یہ شعر دیکھیے جس میں کھلم کھلا مجھ خاکسار پر چوٹ کی گئی ہے ؎

فرق کچھ نہیں پڑتا ایک جیسے ناموں سے
آدمی کو جانا ہے ہم نے اُس کے کاموں سے

گویا مجھے یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ مَیں (’’بقلم خود بخود‘‘) جو پاکستان کے ایک سابق (امریکی برانڈ) وزیر اعظم(ڈاکٹر معین قریشی) کا ہم نام ہوں تو اِس سے کیا ہوتا ہے؟ آدمی کی شناخت اُس کی حیثیت اور کارناموں سے ہوتی ہے۔ پس کہاں وہ ہستیٔ ذی وقار اور کہاں مَیںبے ہنرو بے اختیار۔ فرق صاف ظاہر ہے!

ڈاکٹر نزہت عبّاسی یقینِ کامل (conviction)اور اعتمادِ کلی(credence)کی شاعرہ ہیں۔شاعری اگر واقعی وفورِ جذبات کے فطری بہائو کا نام ہے (جیسا کہ عموماً کہا جاتا ہے) تو اُس کی بہترین مثال ڈاکٹر نزہت عبّاسی کے یہاں نظر آتی ہے۔یہ کلام الفاظ اور افکار کا ایک مترنّم امتزاج ہے۔ اُن کے ہر شعر سے اُن کے علم، مشاہدات اور تجربات کی عکّاسی ہوتی ہے۔ اندازِ بیان اتنا سلیس ، واضح اور رواں ہے کہ اس میں تعقید و تکلّف کا شائبہ بھی نظر نہیں آتا۔ یہ کلام کسی ماورائے ادراک دنیا (Surreal world)کے لیے نہیں۔ یہ اسی جہانِ خراب کا آئینہ ہے۔ چنانچہ اسے پڑھتے وقت ایک غیرمرئی اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ آج کل شاعری کے جو دھڑا دھڑ مجموعے بازار میں آ رہے ہیںمَیں اُن کا بھی خیر مقدم کرتا ہوں کہ وہ بہر حال قرطاس و قلم کے رشتے کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم جب کوئی کلام اپنی تخلیق اور پیشکش میں منفرد ہوتا ہے تو وہ خود اپنی ستائش سے مبّرا ہو جاتا ہے۔ اردو ادب میں شعرا ء نے اپنے منہ میاں مٹھّو بننے کی روایت کو ’’تعلّی‘‘ سے تعبیر کر کے جائز قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر نزہتؔ اس کے برعکس اپنی کسرِ نفسی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں ؎

قولِ فیصل نہیں‘ تردید کی گنجائش ہے
میری تحریر میں تنقید کی گنجائش ہے

جب کوئی فنکاریہ روش اختیار کر لیتا ہے تو اُس کا فن روز بروز نکھرتا جاتا ہے۔ مَیں میدانِ شعر و ادب میں ڈاکٹر نزہت عبّاسی کی مزید کامیابیوں اور کامرانیوں کے لیے دعا گو ہوں۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر