وجود

... loading ...

وجود

استقبال کتب

اتوار 01 اپریل 2018 استقبال کتب

کتاب :میرے ہمدم مرے دوست(مضامین)
مصنف:شاعرصدیقی
قیمت:۵۰۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،اُردو بازار،کراچی
کتاب ’’میرے ہمدم مرے دوست‘‘جناب شاعرصدیقی کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو انھوں نے ایسے شاعروں اورادیبوں پر لکھے ہیں جن سے وہ مل چکے ہیں اور ان کے بارے میں بہت کچھ جان چکے ہیں۔ان اشخاص میں اختر لکھنوی(سانحہ مشرقی پاکستان مرحوم کا نوحہ گر)،اخی بیگ(شعور تنگ نظر کے آئینے میں)،امیر حسین چمن(ایک روشن شخصیت) ، حبیب احسن(کم گو سخن ور) رشیدالزماں خلش کلکتوی (ایک انسان دوست شاعر) ، خواجہ ریاض الدین عطش(منفرد آہنگ کا سنجیدہ شاعر)،زاہد حسین (علامتی اور تمثیلی کہانیوں کا خالق)،زخمی کانپوری (چلتا پھرتا فلمی انسائیکلو پیڈیا) ،سہیل غازی پوری(ایک قادرالکلام شاعر)، شاداب صدیقی(فانی بدایونی کے تعاقب میں)، شاعرعلی شاعر (شاعرعلی شاعر کی شاعری اساس محبت ہے)،ظفر محمد خان ظفر(ایک سائنس دان شاعرکا ایجاد تازہ)،عارف ہوشیار پوری (جنگ آزادی کا ایک جانباز قلم کا سپاہی)، فرقان ادریسی (نعت گوئی اور نعمت عظمیٰ)،نون جاویدجدید حسیت کا جمالیاتی شاعر اور واحد نظامی (سانحہ مشرقی پاکستان کا ایک شہید افسانہ نگار) شامل ہیں۔کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

کتاب:باوجود(شعری مجموعہ)
شاعر:رستم نامی
قیمت:۵۰۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،اُردو بازار،کراچی
رستم نامی کادوسرا شعری مجموعہ’’باوجود ‘‘کے نام سے شائع ہو ا ہے ۔ غیر ضروری بات کے عنوان سے شاعرموصوف نے کتاب کا ابتدائیہ لکھاہے جب کہ شاعرعلی شاعر نے عرض ناشر بہ عنوان’’باوجود کا شاعر…رستم نامی‘‘تحریر کیا ہے۔آئیے شاعرعلی شاعر کی رائے ملاحظہ کرتے ہیں جس سے کتاب اور صاحب کتاب کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل ہوتی ہے:
’’کسی زبان کا اچھا شاعر ہونے کے لیے اہلِ زبان ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال علامہ اقبال ہیں جن کی مادری زبان اُردو نہیں تھی مگر انھوں نے اُردو زبان میں ایسی شاعری کی کہ ایک صدی ان کے نام ہو گئی۔ اسی طرح رستم نامی کی زبان اُردو نہیں ہے مگر ان کی اُردو شاعری پڑھ کر خوش گوار حیرت ہوتی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس ادا پر ایمان اور پختہ ہو جاتا ہے کہ وہ جس کو چاہے عزت دے اور جس قدر دے اور جس سے جو چاہے وہ کام لے۔
رستم نامی کا پہلا شعری مجموعہ ’’لہٰذا‘‘ تھا جو نہ صرف زیورِ طباعت سے آراستہ ہوا بلکہ قارئین شعر و سخن سے داد و تحسین بھی وصول کرتا رہا۔ ان کا دوسرا شعری مجموعہ ’’باوجود‘‘ زیر نظر ہے جس میں ان کی شاعری کی مسافت بہت دور تک اور منزل مقصود کے قریب نظر آ رہی ہے۔ اہل قلم، اہلِ زبان اور دنیائے اُردو ادب کے مکینوں سے ان کی دوستی، روابط اور تعلقات ان کی شاعری ہی کی بنا پر استوار ہوئے اور شاعری کی بنا پر ہی لوگ انھیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کہتے ہیں تخلیق سے تخلیق کار کی پہچان ہوتی ہے۔ رستم نامی کی شعری تخلیقات ان کی پہچان ہیں۔
مارکسی نظریے کے مطابق مقدار سے معیار پیدا ہوتا ہے۔ رستم نامی نے بہت زیادہ شاعری کی ہے جس کی بنا پر ثابت کیا جا سکتا ہے کہ ان کی شاعری میں اچھے اشعار کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے۔ ہاتھ کنگن کو آراسی کیا، چند اشعار ملاحظہ ہوں:

کر رہا ہُوں پھر بھی اُس کا احترام
وہ مرے قد سے زیادہ تو نہیں
٭

لکھا تھا جو نصیب میں تم سے ملا ہمیں
یہ رنج و غم تمھاری نوازش تو ہے نہیں

محبت کی پرانی اِس کہانی میں
نئے کردار کی فوری ضرورت ہے

ناکردہ جرم کی بھی ملے گی سزا ہمیں
انصاف آپ کا ہے، عدالت ہے آپ کی

ہم تو سمجھ رہے تھے ظالم ہیں غیر لیکن
اِحسان کرنے والے اپنے ہی یار نکلے

رستم نامی کی شاعری میں رومانی اشعار کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے انھوں نے اپنے معاشرے اور صاحب اقتدار افراد کے نامناسب رویوں، نا انصافی، غیر مساوات اور چور بازاری کی باتیں زیادہ کی ہیں۔ ظاہر ہے ایک انسان غیر اخلاقی، غیر انسانی، غیر قانونی اور غیر اسلامی افعال و کردار کو کب تک برداشت کرے گا۔ حدیث کے مطابق اگر طاقت رکھتے ہو تو برائی کو بہ زورِ بازو روکو، جرأت ہو تو زبان سے منع کرو، ورنہ برائی کو دل میں برا جانو، رستم نامی قلم چلانا جانتے ہیں اور ان کے قلم میں طاقت بھی ہے اور ہمت و جرأت بھی۔ لہٰذا انھوں نے اپنے تلخ و شیریں تجربات، شدید جذبات، نازک احساسات اور عمیق مشاہدات کو شعری قالب میں بڑی عمدگی سے ڈھال دیا ہے۔ اس سے ان کی شاعری میں طنز کے نشتر جا بہ جا نظر آتے ہیں اور ان کا لہجہ لمحہ بہ لمحہ سخت اور تلخ ہوتا چلا گیا ہے۔ ان کو حکمرانوں، سیاست دانوں اور ظالم وڈیروں، جابر چودھریوں اور بے رحم جاگیرداروں پر غصہ ہے اور ان کا غصہ بجا ہے۔ یہ سیاست دان اور حکمران جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ سب ہمارے سامنے ہے اور اس سے بچہ بچہ واقف ہو گیا ہے کہ ہمارے ملک عزیز کو تباہی کے دوراہے پر لانے والے یہی کرپٹ لوگ ہیں جو ہر قسم کے کرپشن میں مبتلا ہیں اور بادشاہوں والی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

رستم نامی نے ان پر طنز بھی کیا ہے اور ان کے کرتوتوں کے خلاف اپنے غصے کا بھرپور اظہار بھی کیا ہے۔ لہٰذا ان کے اشعار میں یہ اظہار مدافعانہ بھی ہے اور مزاحمتی بھی مگر کہیں کہیں جارحانہ ہو گیا ہے۔ مثال میں بے شمار اشعار پیش کیے جا سکتے ہیں مگر اصل مزہ ان کا مجموعہ ’’باوجود‘‘ پڑھ کر ہی لیا جا سکتا ہے اس لیے میں رستم نامی کی شاعری اور قاری کے درمیان سے رخصت چاہتا ہوں آپ رستم نامی کی شاعری پڑھیے جو میرے دعوے دلائل سے ثابت کر دے گی۔

کتاب:ستارہ ہے خاک پر(شاعری)
کلام:محمد آصف مرزا
قیمت:۳۵۰؍روپے
ناشر:رومیل ہائوس آف پبلی کیشنز،راولپنڈی
محمد آصف مرزا کا شعری مجموعہ’’ستارہ ہے خاک پر‘‘کے نام سے شائع ہواہے۔جس میں ان کی ۷۵ غزلیں اور نظمیں شامل ہیں۔محمد آصف مرزا کی شاعری پڑھ کر قاری لطف و سرور میں ڈوب جاتاہے اور کیوں نہ ڈوب جائے یہ شاعری بھی تو لطف و سرور میں ڈوب کر لکھی گئی ہے۔صرف ایک دعائیہ نظم پیش خدمت ہے۔ مزید شعری لطف کے لیے ان کے پورے مجموعے کا مطالعہ ضروری ہوجاتاہے۔ملاحظہ ہو:
تری رحمتوں کے جوار میں/تری نعمتوں کے حصار میں
تری حیرتوں کے مدار میں/تری آیتوں کے شمار میں
تری عظمتوں کے دیار میں/تری خلقتوں کی قطار میں
تری بزم لیل و نہار میں/’’میں ہوں ایک ذرۂ بے نشاں‘‘
مجھے اپنے قرب کی چھائوں دے/مجھے اپنی جائے اماں میں رکھ

کتاب :مسافت(شاعری)
کلام:نوید صادق
قیمت:۴۰۰؍روپے
ناشر:نظمینہ پبلی کیشنز،لاہور
نوید صادق کا شعری مجموعہ’’مسافت‘‘ کے نام سے شائع ہوگیا ہے۔جس کا فرسٹ فلیپ پاکستان کے معروف شاعر جناب انور شعور ،سیکنڈ فلیپ خالد علیم اور بیک فلیپ ڈاکٹر خورشید رضوی نے تحریر کیا ہے۔جب کہ ’’خواب سرا کا آدمی‘‘کے عنوان سے جناب شاہد ماکلی نے کتاب کا دیباچہ لکھاہے۔کتاب میں تازہ کلام کے ساتھ ابتدائی کلام کا انتخاب بھی شامل اشاعت کیاگیاہے۔نوید صادق کا لہجہ نرم،شائستہ اور شیریں ہے۔ان کے شعروں میں شعریت جا بہ جا نظر آتی ہے جس کا آج کل کے نوجوان شعرامیں فقدان ہے ۔نوید صادق اپنی بات بڑے سہل انداز میں کہہ جاتے ہیں اور یہ سادگی ہی ان کے اشعار کا حسن کہلاتی ہے۔ایک شعر پیش خدمت ہے ان کی مکمل شاعری کے لیے مسافت کے لیے ذہنی مسافت کی شرط ہے:

جو داغ دل پہ لگے تھے وہ دھو کے آیا ہوں
میں خوش نصیب مدینے میں رو کے آیا ہوں


متعلقہ خبریں


بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

الیکشن کمیشن نے ایم کیو ایم پاکستان کو شوکاز جاری کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

الیکشن کمیشن نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)پاکستان کو شوکاز جاری کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 26 اکتوبر 2026 کو شوکاز جاری کیا گیا ہے، ایم کیو ایم پاکستان انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کے قانونی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے، سیاسی جماعت نے مقررہ توسیعی مدت 15 اکتوبر 2026...

الیکشن کمیشن نے ایم کیو ایم پاکستان کو شوکاز جاری کر دیا

آئی ایم ایف کا شارٹ فال پر اظہار تشویش، ہنگامی ٹیکس اقدامات کی تجویز وجود - منگل 03 نومبر 2026

عالمی مالیاتی ادارے کا 15 ہزار 264 ارب کا سالانہ ٹیکس وصولی کا ہدف پورا کرنے پر زور آئی ایم ایف نے ٹیکس ریونیو میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شارٹ فال پورا کرنے کے لیے ہنگامی ٹیکس اقدامات کی تجویز دے دی ہے۔نجی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ عالمی مالیا...

آئی ایم ایف کا شارٹ فال پر اظہار تشویش، ہنگامی ٹیکس اقدامات کی تجویز

سانحہ پمز کا ریکارڈ طلب، کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہوگی، ہائیکورٹ وجود - منگل 03 نومبر 2026

عدالت عالیہ نے سانحہ پمز کی ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست خارج کرنے کا جسٹس آف پیس کا حکم معطل کردیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے سانحہ پمز میں بچوں کی اموات کا مقدمہ درج کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے انکوائری رپورٹ سمیت مکمل ریکارڈ...

سانحہ پمز کا ریکارڈ طلب، کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہوگی، ہائیکورٹ

شہباز شریف کی ذہانت کا دنیا کے معروف سائنسدان نیوٹن سے موازنہ، بیان سوشل میڈیا پر وائرل وجود - منگل 03 نومبر 2026

شہباز شریف کا بس چلے تو کابینہ کے 55 وزیروں میں سے 52 یا 53 فارغ ہوں گے اور 2 یا 3 ہی بچیں گے، حذیفہ رحمان وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان نے وزیراعظم کی ذہانت کا موازنہ معروف سائنسدان آئزک نیوٹن سے کیا ہے۔نجی ٹی وی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیرا عظم کا...

شہباز شریف کی ذہانت کا دنیا کے معروف سائنسدان نیوٹن سے موازنہ، بیان سوشل میڈیا پر وائرل

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر