استقبال کتب

کتاب :میرے ہمدم مرے دوست(مضامین)
مصنف:شاعرصدیقی
قیمت:۵۰۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،اُردو بازار،کراچی
کتاب ’’میرے ہمدم مرے دوست‘‘جناب شاعرصدیقی کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو انھوں نے ایسے شاعروں اورادیبوں پر لکھے ہیں جن سے وہ مل چکے ہیں اور ان کے بارے میں بہت کچھ جان چکے ہیں۔ان اشخاص میں اختر لکھنوی(سانحہ مشرقی پاکستان مرحوم کا نوحہ گر)،اخی بیگ(شعور تنگ نظر کے آئینے میں)،امیر حسین چمن(ایک روشن شخصیت) ، حبیب احسن(کم گو سخن ور) رشیدالزماں خلش کلکتوی (ایک انسان دوست شاعر) ، خواجہ ریاض الدین عطش(منفرد آہنگ کا سنجیدہ شاعر)،زاہد حسین (علامتی اور تمثیلی کہانیوں کا خالق)،زخمی کانپوری (چلتا پھرتا فلمی انسائیکلو پیڈیا) ،سہیل غازی پوری(ایک قادرالکلام شاعر)، شاداب صدیقی(فانی بدایونی کے تعاقب میں)، شاعرعلی شاعر (شاعرعلی شاعر کی شاعری اساس محبت ہے)،ظفر محمد خان ظفر(ایک سائنس دان شاعرکا ایجاد تازہ)،عارف ہوشیار پوری (جنگ آزادی کا ایک جانباز قلم کا سپاہی)، فرقان ادریسی (نعت گوئی اور نعمت عظمیٰ)،نون جاویدجدید حسیت کا جمالیاتی شاعر اور واحد نظامی (سانحہ مشرقی پاکستان کا ایک شہید افسانہ نگار) شامل ہیں۔کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

کتاب:باوجود(شعری مجموعہ)
شاعر:رستم نامی
قیمت:۵۰۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،اُردو بازار،کراچی
رستم نامی کادوسرا شعری مجموعہ’’باوجود ‘‘کے نام سے شائع ہو ا ہے ۔ غیر ضروری بات کے عنوان سے شاعرموصوف نے کتاب کا ابتدائیہ لکھاہے جب کہ شاعرعلی شاعر نے عرض ناشر بہ عنوان’’باوجود کا شاعر…رستم نامی‘‘تحریر کیا ہے۔آئیے شاعرعلی شاعر کی رائے ملاحظہ کرتے ہیں جس سے کتاب اور صاحب کتاب کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل ہوتی ہے:
’’کسی زبان کا اچھا شاعر ہونے کے لیے اہلِ زبان ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال علامہ اقبال ہیں جن کی مادری زبان اُردو نہیں تھی مگر انھوں نے اُردو زبان میں ایسی شاعری کی کہ ایک صدی ان کے نام ہو گئی۔ اسی طرح رستم نامی کی زبان اُردو نہیں ہے مگر ان کی اُردو شاعری پڑھ کر خوش گوار حیرت ہوتی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس ادا پر ایمان اور پختہ ہو جاتا ہے کہ وہ جس کو چاہے عزت دے اور جس قدر دے اور جس سے جو چاہے وہ کام لے۔
رستم نامی کا پہلا شعری مجموعہ ’’لہٰذا‘‘ تھا جو نہ صرف زیورِ طباعت سے آراستہ ہوا بلکہ قارئین شعر و سخن سے داد و تحسین بھی وصول کرتا رہا۔ ان کا دوسرا شعری مجموعہ ’’باوجود‘‘ زیر نظر ہے جس میں ان کی شاعری کی مسافت بہت دور تک اور منزل مقصود کے قریب نظر آ رہی ہے۔ اہل قلم، اہلِ زبان اور دنیائے اُردو ادب کے مکینوں سے ان کی دوستی، روابط اور تعلقات ان کی شاعری ہی کی بنا پر استوار ہوئے اور شاعری کی بنا پر ہی لوگ انھیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کہتے ہیں تخلیق سے تخلیق کار کی پہچان ہوتی ہے۔ رستم نامی کی شعری تخلیقات ان کی پہچان ہیں۔
مارکسی نظریے کے مطابق مقدار سے معیار پیدا ہوتا ہے۔ رستم نامی نے بہت زیادہ شاعری کی ہے جس کی بنا پر ثابت کیا جا سکتا ہے کہ ان کی شاعری میں اچھے اشعار کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے۔ ہاتھ کنگن کو آراسی کیا، چند اشعار ملاحظہ ہوں:

کر رہا ہُوں پھر بھی اُس کا احترام
وہ مرے قد سے زیادہ تو نہیں
٭

لکھا تھا جو نصیب میں تم سے ملا ہمیں
یہ رنج و غم تمھاری نوازش تو ہے نہیں

محبت کی پرانی اِس کہانی میں
نئے کردار کی فوری ضرورت ہے

ناکردہ جرم کی بھی ملے گی سزا ہمیں
انصاف آپ کا ہے، عدالت ہے آپ کی

ہم تو سمجھ رہے تھے ظالم ہیں غیر لیکن
اِحسان کرنے والے اپنے ہی یار نکلے

رستم نامی کی شاعری میں رومانی اشعار کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے انھوں نے اپنے معاشرے اور صاحب اقتدار افراد کے نامناسب رویوں، نا انصافی، غیر مساوات اور چور بازاری کی باتیں زیادہ کی ہیں۔ ظاہر ہے ایک انسان غیر اخلاقی، غیر انسانی، غیر قانونی اور غیر اسلامی افعال و کردار کو کب تک برداشت کرے گا۔ حدیث کے مطابق اگر طاقت رکھتے ہو تو برائی کو بہ زورِ بازو روکو، جرأت ہو تو زبان سے منع کرو، ورنہ برائی کو دل میں برا جانو، رستم نامی قلم چلانا جانتے ہیں اور ان کے قلم میں طاقت بھی ہے اور ہمت و جرأت بھی۔ لہٰذا انھوں نے اپنے تلخ و شیریں تجربات، شدید جذبات، نازک احساسات اور عمیق مشاہدات کو شعری قالب میں بڑی عمدگی سے ڈھال دیا ہے۔ اس سے ان کی شاعری میں طنز کے نشتر جا بہ جا نظر آتے ہیں اور ان کا لہجہ لمحہ بہ لمحہ سخت اور تلخ ہوتا چلا گیا ہے۔ ان کو حکمرانوں، سیاست دانوں اور ظالم وڈیروں، جابر چودھریوں اور بے رحم جاگیرداروں پر غصہ ہے اور ان کا غصہ بجا ہے۔ یہ سیاست دان اور حکمران جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ سب ہمارے سامنے ہے اور اس سے بچہ بچہ واقف ہو گیا ہے کہ ہمارے ملک عزیز کو تباہی کے دوراہے پر لانے والے یہی کرپٹ لوگ ہیں جو ہر قسم کے کرپشن میں مبتلا ہیں اور بادشاہوں والی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

رستم نامی نے ان پر طنز بھی کیا ہے اور ان کے کرتوتوں کے خلاف اپنے غصے کا بھرپور اظہار بھی کیا ہے۔ لہٰذا ان کے اشعار میں یہ اظہار مدافعانہ بھی ہے اور مزاحمتی بھی مگر کہیں کہیں جارحانہ ہو گیا ہے۔ مثال میں بے شمار اشعار پیش کیے جا سکتے ہیں مگر اصل مزہ ان کا مجموعہ ’’باوجود‘‘ پڑھ کر ہی لیا جا سکتا ہے اس لیے میں رستم نامی کی شاعری اور قاری کے درمیان سے رخصت چاہتا ہوں آپ رستم نامی کی شاعری پڑھیے جو میرے دعوے دلائل سے ثابت کر دے گی۔

کتاب:ستارہ ہے خاک پر(شاعری)
کلام:محمد آصف مرزا
قیمت:۳۵۰؍روپے
ناشر:رومیل ہائوس آف پبلی کیشنز،راولپنڈی
محمد آصف مرزا کا شعری مجموعہ’’ستارہ ہے خاک پر‘‘کے نام سے شائع ہواہے۔جس میں ان کی ۷۵ غزلیں اور نظمیں شامل ہیں۔محمد آصف مرزا کی شاعری پڑھ کر قاری لطف و سرور میں ڈوب جاتاہے اور کیوں نہ ڈوب جائے یہ شاعری بھی تو لطف و سرور میں ڈوب کر لکھی گئی ہے۔صرف ایک دعائیہ نظم پیش خدمت ہے۔ مزید شعری لطف کے لیے ان کے پورے مجموعے کا مطالعہ ضروری ہوجاتاہے۔ملاحظہ ہو:
تری رحمتوں کے جوار میں/تری نعمتوں کے حصار میں
تری حیرتوں کے مدار میں/تری آیتوں کے شمار میں
تری عظمتوں کے دیار میں/تری خلقتوں کی قطار میں
تری بزم لیل و نہار میں/’’میں ہوں ایک ذرۂ بے نشاں‘‘
مجھے اپنے قرب کی چھائوں دے/مجھے اپنی جائے اماں میں رکھ

کتاب :مسافت(شاعری)
کلام:نوید صادق
قیمت:۴۰۰؍روپے
ناشر:نظمینہ پبلی کیشنز،لاہور
نوید صادق کا شعری مجموعہ’’مسافت‘‘ کے نام سے شائع ہوگیا ہے۔جس کا فرسٹ فلیپ پاکستان کے معروف شاعر جناب انور شعور ،سیکنڈ فلیپ خالد علیم اور بیک فلیپ ڈاکٹر خورشید رضوی نے تحریر کیا ہے۔جب کہ ’’خواب سرا کا آدمی‘‘کے عنوان سے جناب شاہد ماکلی نے کتاب کا دیباچہ لکھاہے۔کتاب میں تازہ کلام کے ساتھ ابتدائی کلام کا انتخاب بھی شامل اشاعت کیاگیاہے۔نوید صادق کا لہجہ نرم،شائستہ اور شیریں ہے۔ان کے شعروں میں شعریت جا بہ جا نظر آتی ہے جس کا آج کل کے نوجوان شعرامیں فقدان ہے ۔نوید صادق اپنی بات بڑے سہل انداز میں کہہ جاتے ہیں اور یہ سادگی ہی ان کے اشعار کا حسن کہلاتی ہے۔ایک شعر پیش خدمت ہے ان کی مکمل شاعری کے لیے مسافت کے لیے ذہنی مسافت کی شرط ہے:

جو داغ دل پہ لگے تھے وہ دھو کے آیا ہوں
میں خوش نصیب مدینے میں رو کے آیا ہوں

Electrolux