صلاۃتسبیح کی فضیلت،اہمیت اور طریقہ

ایک بہت اہم اور عظیم نماز جس کی احادیث میں بڑے فضائل وارد ہوئے ہیں وہ ’’صلوۃ التسبیح‘‘ہے ۔ اس نماز کی ادائیگی میں تقریباً آدھا گھنٹہ لگتا ہے لیکن فضائل اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر پورا دن بھی لگ جائے تو زیادہ نہیں، اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اِس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : صلاۃ التسبیح اگر ممکن ہوتو روزانہ ایک دفعہ پڑھو،اگر یہ نہیں کرسکتے تو ہر جمعہ میں ایک مرتبہ پڑھو ،اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو ہر مہینے میں ایک دفعہ پڑھو،اگر یہ بھی نہیں کرسکتے ہر سال میں ایک مرتبہ پڑھواور اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو اپنی پوری زندگی میں ہی ایک دفعہ پڑھو۔ صلاۃ التسبیح کی برکت سے اللہ تعالیٰ بکثرت گناہ معاف کرتے ہیں ، احادیث میں اِس کثرت کی کئی مثالیں ذکر کی گئی ہیں۔

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مرتبہ اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے عباس میرے چچا میں تمہیں ایک عطیہ کروں ،ایک بخشش کروں ،ایک خاص چیز بتاوں ،تمہیں دس چیزوں کا مالک بناؤں، جب تم اس کام کو کرو گے تو اللہ جل شانہ تمہارے سب گنا ہ پہلے اور پچھلے پرانے اور نئے ،غلطی سے کیے ہوئے اور جان بوجھ کر کیے ہوئے، چھوٹے اور بڑے ،چھپ کر کیے ہو یا کھلم کھلا کیے ہو،سب ہی معاف فرما دیں گے وہ کام یہ ہے کہ چار رکعت نفل صلاۃ التسبیح کی نیت باندھ کر پڑھ اور پھر با قی نماز کا طریقہ سکھایا۔

طبرانی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اگر تیرے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں یا ریت کے ذرات کے برابر ہو تو اللہ تعالی سب کو معاف کر دے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ وہ نماز ہے، جس کے پڑھنے کی برکت سے دس قسم کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔٭ اگلے گناہ ٭پچھلے گناہ ٭ قدیم گناہ ٭جدید گناہ ٭غلطی سے کیے ہوئے گناہ ٭جان بوجھ کر کیے ہوئے گناہ ٭صغیرہ گناہ ٭کبیرہ گناہ ٭چھپ چھپ کر کیے ہوئے گناہ٭کھلم کھلا کیے ہوئے گناہ۔

حاکم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ذاد بھائی حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو حبشہ بھیج دیا تھا جب وہاں سے واپس مدینہ پہنچے تو رسول اللہ نے ان کو گلے سے لگا یا اور پیشانی پر بوسہ دیا پھر فرمایا میں تمیں ایک چیز دوں ،ایک خوشخبری سناؤں، ایک تحفہ دوں، پھر پوری تفصیل نماز کی بتلائی جواوپرذکر کیا گیا ۔ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صلاۃ التسبیح کتنی اہمیت اور فضلیت رکھتی ہے ،حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کتنی محبت اور شفقت سے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو اس کی ترغیب دے رہے ہیں ،اس آسان عمل کے ذریعے اللہ تعالی تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ ا گر تم ساری دنیا کے لوگوں سے بھی زیادہ گناہ گار ہو تو معاف ہو جائیں گے ۔اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تمہارے گناہ ریت سے بھی زیادہ ہوں تو اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کردیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تمہارے گناہ آسمان کے ستارے ، قطروں کی تعداد ،ریت کے تعداد یا زمانے بھر کے ایّام کے برابر بھی ہوں تو اللہ تعالیٰ اُن سب کو معاف کردیں گے ۔

صلاۃ التسبیح کے بارے میں اَسلاف کے چند اقوال:
حضرت عبد العزیز بن ابی روّاد رحمۃاللہ علیہ جو حضرت عبد اللہ بن مُبارک رحمۃاللہ علیہ کے استاذ ہیں،فرماتے ہیں :جس کا جنت میں جانے کا ارادہ ہو اُس کے لیے ضروری ہے کہ صلاۃ التسبیح کو مضبوطی سے پکڑے ۔

حضرت ابو عثمان حیری رحمۃاللہ علیہ جوکہ ایک بڑے زاہد ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے مصیبتوں اور غموں کے ازالے کے لیے صلاۃ التسبیح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی ۔(فضائل ذکر)
علّامہ تقی الدین سبکی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اِس نمازکی فضیلت و اہمیت کو سُن کر بھی غفلت اختیار کرے ،وہ دین کے بارے میں سستی کرنے والا ہے ، صلحاء کے کاموں سے دور ہے ، اس کو پکا(یعنی دین میں چست)آدمی نہ سمجھنا چاہیے ۔(فضائل ذکر)

صلاۃ تسبیح پڑھنے کا طریقہ:
اس نماز کے پڑھنے کا طریقہ جو حضرت عبداللّٰہ بن مبارک سے ترمذی شریف میں مذکور ہے یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد ثنا یعنی سبحانک اللھم… الخ پڑھے پھر کلمات تسبیح یعنیسُبحَانَ اللّٰہِ وَاَلحَمدُ للّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اللّٰہُ اَکبَر پندرہ مرتبہ پڑھے پھر حسب دستور اعوذ باللّٰہ و بسم اللّٰہ و الحمد شریف اور سورۃ پڑھے پھر قیام میں ہی یعنی سورۃ کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے وہی کلمات تسبیح دس مرتبہ پڑھے ،پھر رکوع کرے اور رکوع کی تسبیح کے بعد وہی کلمات دس بار کہے، پھر رکوع سے اٹھ کر قومہ میں سمع اللّٰہ لمن حمدہ اور ربنالک الحمد کے بعد دس بار اور دونوں سجدوں میں سجدے کی تسبیح کے بعد دس دس بار اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی حالت میں یعنی جلسہ میں دس بار وہی کلماتِ تسبیح کہے ، اس طرح ہر رکعت میں الحمد سے پہلے پندرہ مرتبہ اور سورۃملانے کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے قیام ہی میں دس مرتبہ اور رکوع و قومہ اور دونوں سجدوں میں اور دونوں سجدوں کے درمیانی جلسے میں دس دس بار وہی کلمات کہے اس طرح ہر رکعت میں پچھتر مرتبہ اور چار رکعتوں میں تین سو مرتبہ یہ کلماتِ تسبیح ہو جائیں اور اگر ان کلمات کے بعدوَلَا حُولَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ العَلِیَّ العَظِیمِ بھی ملا لے تو بہتر ہے، کیونکہ اس سے بہت ثواب ملتا ہے اور ایک روایت میں یہ الفاظ زیادہ آئے بھی ہیں۔

دوسرا طریقہ:
جو حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے ترمذی شریف میں آیا ہے اس طرح ہے کہ سورۃ فاتحہ اور سورۃ پڑھنے کے بعد پندرہ مرتبہ تسبیحات پڑھے، پھر رکوع میں دس مرتبہ پڑھے ،پھر سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لک الحمد کے بعد دس مرتبہ پڑھے، پھر سجدہ میں دس مرتبہ پڑھے اور جب دوسرے سجدے سے اٹھے تو اللہ اکبر پڑھے اور بجائے کھڑے ہونے کے بیٹھ جائے اور بغیر اللہ اکبر پڑھے کھڑا ہو جائے اور دوسری، تیسری اور چوتھی رکعت میں قعدہ کرتے وقت پہلے دس بارے پڑھے پھر التحیات پڑھے ۔

صلاۃ التسبیح کا مستحب وقت:
کسی بھی غیر مکروہ وقت میں صلاۃ التسبیح پڑھنا جائز ہے ،البتہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ زوال کے بعد یعنی جب ظہر کا وقت داخل ہوجائے ،تو اس وقت پڑھنا چاہیے کیونکہ ابوداؤدشریف کی روایت میں ہے کہ جب زوال ہوجائے تواس چاررکعتوں کو پڑھا کرو لیکن یہ وقت ضروری نہیں ،کیونکہ اسی حدیث کے آخر میں ہے کہ عبداللہ ابن عمرؓ نے پوچھا کہ اگر میں اس وقت میں نہ پڑھ سکو تو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دن رات میں جس وقت بھی پڑھ سکو ۔

صلاۃ التسبیح دو دو رکعت کرکے پڑھنا:
جس طرح صلاۃ التسبیح کی چار رکعت ایک سلام کے ساتھ ادا کرنا جائز ہے ،اسی طرح دو سلاموں کے ساتھ ادا کرنا بھی درست اور جائز ہے، بعض علماء فرماتے ہے کہ دن کو چار کعت اور رات کو دو رکعت بہتر ہے اور بعض علماء کرام فرماتے ہے کہ ایک دفعہ چارکعت اورایک دفعہ دورکعت پڑھنی چاہیے، تاھم بہتر یہی ہے کہ ایک سلام سے چار رکعتیں پڑھیں ،تاکہ تسبیح کی مقررہ تعداد تین سو پوری ہوجائے اور اگردورکعت کرکے پڑھے پھربھی مذکورہ مقدارکا لحاظ کرنا چاہیے۔( فتاوی دارالعلوم دیوبند )
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی صلاۃ یسبیح پڑھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔(آمین بجاہ سید المرسلین)

Electrolux