نواب سراج الدولہ

نواب سراج الدولہ بنگال کے آخری آزاد’’ نواب آف بنگال‘‘ تھے۔ ان کا دور ختم ہوا تو ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت شروع ہو گئی۔ بنگال کے بعد قریباً پورا جنوبی ایشیا ایسٹ انڈیا کمپنی کے تسلط میں آ گیا۔ سراج الدولہ اپریل 1756 میں اپنے نانا کی وفات کے بعد نواب آف بنگال بنے۔ اس وقت ان کی عمر 23 برس تھی۔ سراج الدولہ 1733ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام زین الدین احمد خان اور والدہ کا نام امینہ تھا۔ جس دن سراج الدولہ پیدا ہوئے اسی دن ہی ان کے نانا کو بہار کا ڈپٹی گورنر بنا دیا گیا۔ سراج الدولہ کی پرورش نواب کے محل میں کی گئی اور یہیں اْن کی تعلیم کا بندوبست کیا گیا۔ ان کی تربیت ایسے کی گئی جس طرح نوابوں کی جاتی ہے۔ 1746 میں سراج الدولہ نے مرہٹوں کی سرکوبی کے لیے اپنے نانا علی وردی کے ساتھ فوجی مہموں میں حصہ لیا۔ سراج کو قسمت کا دھنی قرار دیا گیا۔ نانا کے دل میں سراج کے لیے بہت محبت تھی۔ مئی 1752ء میں علی وردی خان نے سراج کو اپنا جانشین مقرر کر دیا۔ علی وردی خان 10 اپریل 1756 کو 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ سراج الدین کا نواب بننا ان کی خالہ مہر النسا بیگم کو ایک آنکھ نہ بھایا۔ اسی طرح میر جعفر اور ان کے کزن شوکت جنگ نے بھی سراج الدولہ کی نامزدگی کو پسند نہیں کیا۔ مہر النسا بیگم کے پاس بہت زیادہ دولت تھی۔

سراج الدولہ کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ مہر النسا بیگم ان کی شدید مخالفت کریں گی۔ اس لیے سراج نے ان کی دولت چھین لی اور انہیں نظربند کر دیا۔ اس کے علاوہ نواب سراج الدولہ نے حکومت کے اعلیٰ عہدیداران کو بھی تبدیل کر دیا۔ انہوں نے اپنے پسندیدہ لوگوں کو یہ عہدے دے دیئے۔ انہوں نے میر مدن کو بخشی مقرر کر دیا۔ اس سے پہلے یہ عہدہ میر جعفر کے پاس تھا۔ اسی طرح انہوں نے موہن لال کو اپنے دیوان خانے کا پیش کار بنا دیا۔ موہن لال نے اپنے اثرونفوذ کے ذریعے انتظامیہ کو قابو کر لیا۔ آخرکار سراج الدولہ نے شوکت جنگ سے بھی نجات حاصل کر لی۔ شوکت جنگ ایک تصادم میں مارا گیا۔ سراج الدولہ اس حقیقت سے بخوبی آشنا تھے کہ برطانیا اس خطے کو اپنی نوآبادی بنانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے بنگال میں برطانوی فوج کی موجودگی کو پسند نہیں کیا۔ اس فوج کی ترجمانی ایسٹ انڈیا کمپنی کر رہی تھی۔ وہ بنگال کے معاملات پر مبینہ طور پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی مداخلت پر ناراض تھے۔ اس بات پر بھی ناراض تھے کہ ان کے کچھ اپنے آدمی انہیں تخت سے اتارنے کے لیے سازش میں ملوث تھے۔ کمپنی سے ان کی تین شکایات تھیں ایک تو یہ تھی کہ فورٹ ولیم کے اردگرد قلعہ تعمیر کر دیا گیا اور اس کے لیے انہیں کوئی اطلاع نہیں دی گئی دوسری شکایت یہ تھی کہ کمپنی نے فصلوں کی طرف سے دی گئی تجارت کی سہولتوں کا غلط فائدہ اٹھایا اور اس کی وجہ سے حکومت کو حاصل ہونے والے ریونیو (کسٹم ڈیوٹی) کو سخت نقصان پہنچا۔ تیسری شکایت یہ تھی کہ کمپنی نے ان کے کچھ ایسے افسروں کو پناہ دی جو حکومتی فنڈز خرد برد کرنے کے بعد ڈھاکہ سے فرار ہو گئے تھے۔

جب برطانوی فوج نے فورٹ ولیم کلکتہ کے اردگرد فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا شروع کیا اور سراج الدولہ کی ناراضی کے باوجود وہ اپنا کام کرتے رہے تو سراج الدولہ نے سخت ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کلکتہ کا نظم و نسق سنبھال لیا۔ نواب سراج الدولہ کی فوجوں نے فورٹ ولیم برطانوی فوجیوں سے چھین لیا۔ بہت سے برطانوی فوجی قیدی بن گئے اور انہیں عارضی طور پر ایک سیل میں رکھا گیا۔ اس دوران کچھ غلط فہمیوں کی وجہ سے ان قیدیوں کو وہیں چھوڑ دیا گیا۔ ان میں سے کئی موت کی وادی میں اْتر گئے۔ برطانیا سرکار نے اس واقعے کی انکوائری کی اور سرولیم میرڈتھ نے سراج الدولہ کو تمام الزامات سے بری الذمہ قرار دیا۔ آخرکار سراج الدولہ سے ایک امن معاہدہ طے پایا۔ سراج الدولہ نے برطانوی آفیسرز کی زیادتیوں کو معاف کر دیا لیکن سراج الدولہ یہ نہ سمجھ سکے کہ امن معاہدہ انہیں تخت و تاج سے محروم کرنے کی سازش ہے۔ نواب سراج الدولہ کو علم ہوا کہ برطانوی فوجوں نے چندرنگر پر حملہ کر دیا ہے برطانیا کے خلاف اس کی چھپی ہوئی نفرت پھر باہر آ گئی۔

سراج الدولہ کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ کہیں شمال سے افغانی احمد شاہ درانی کے ساتھ مل کر حملہ نہ کر دیں۔ اس کے علاوہ انہیں مغرب کی طرف سے مرہٹوں کے حملے کا بھی خطرہ تھا۔ اس لیے برطانیا کے خلاف انہوں نے اپنی ساری فوج نہیں اتاری۔ برطانویوں اور نواب سراج الدولہ کے درمیان بداعتمادی کی دیوار کھڑی ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سراج الدولہ نے جین لا (کوسم بازار اور بسی میں واقع فرانسیسی فیکٹری کا چیف) سے مذاکرات شروع کر دیئے۔ نواب نے کثیرتعداد میں اپنے فوجیوں کو رائے دْرلابھ کی قیادت میں پلاسی بھیج دیا۔ کچھ عرصہ بعد جنگ پلاسی کا آغاز ہوا۔ یہ جنگ برصغیر کی تاریخ میں ٹرننگ پوائنٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس جنگ کے نتیجے نے برطانوی تسلط کے دروازے کھول دیے۔ جب سراج الدولہ نے کلکتہ فتح کر لیا تو برطانیا نے مدراس سے تازہ دم فوجی دستے بھیجے تاکہ فورٹ ولیم قلعے کو دوبارہ حاصل کیا جا سکے۔ نواب سراج الدولہ پلاسی کے میدان میں برطانویوں سے ٹکرایا۔ 23 جون 1757ء کو سراج الدولہ نے میر جعفر سے ملاقات کی کیونکہ اسے میر عردن کی اچانک شکست نے بہت دکھی کر دیا تھا۔ میرعردن نواب سراج الدولہ کے انتہائی قریب تھا۔ نواب نے میر جعفر سے مدد مانگی۔ میر جعفر نے نواب سے کہاکہ وہ اس دن کے لیے پسپائی اختیار کرے۔ نواب نے سنگین غلطی یہ کی کہ اس نے اپنی فوج کو لڑائی بند کرنے کا حکم دے دیا۔ نواب کے فوجی واپس اپنے کیمپوں میں جارہے تھے۔ اس وقت رابرٹ کلائیو نے اپنے فوجیوں کے ساتھ حملہ کر دیا۔ یہ حملہ بالکل اچانک تھا۔ سراج الدولہ کی فوج بوکھلا گئی اور سارے فوجی بھاگ اٹھے۔ یہ وہ سازش تھی جس میں جگت سیٹھ، میر جعفر اور کرشن چندرا شامل تھے۔ سراج الدولہ یہ لڑائی ہار گئے اور انہیں بھاگنا پڑا۔ وہ پہلے مرشد آباد گیا اور پھر کشتی کے ذریعے پٹنہ چلا گیا۔ لیکن آخر میرجعفر کے سپاہیوں نے اسے گرفتار کرلیا۔ نواب سراج الدولہ کو دوجولائی 1757 ء کو پھانسی دے دی گئی۔ انہیں محمد علی بیگ نے میرمیرن کے حکم پر تختہ دار پر لٹکایا۔ میرمیرن میر جعفر کا بیٹا تھا۔ سراج الدولہ کی پھانسی اس معاہدے کا حصہ تھی جو میر جعفر اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان طے پایا تھا۔ بہرحال نواب سراج الدولہ ایک حریت پسند تھے کیونکہ انہوں نے ہندوستان پر برطانوی راج کے آغاز کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ عملی طور پر مزاحمت بھی کی۔ ان کا نام زندہ رہے گا۔

Electrolux