چینی تہذیب کی اہم خصوصیات

چینی تہذیب کی اہم انفرادیت یہ تھی کہ اس میں فلسفیوں کا کردار سب سے اہم تھا۔ مذہب ان کی سیاست اور عملی زندگی میں دخل انداز نہیں ہوتا تھا۔ اِن کے ہاں آبائو اجداد کی پرستش ہوتی تھی۔ جس کی وجہ سے ان کی تہذیب میں ماضی اور حال ہم آہنگ ہو جاتے تھے۔ اگرچہ چین میں دوسرے مذاہب بھی آئے جن میں ایران سے زرتشت کا مذہب آیا مختلف عیسائی فرقے بھی آئے اسلام بھی آیا اور ہندوستان سے بدھ مت بھی لیکن بدھ مت کے علاوہ دوسرے مذاہب چین میں جگہ نہ پا سکے بدھ مذہب نے چین کا رابطہ ہندوستان سے قائم کیا اور چین کے عالموں نے بدھ مت کی مذہبی کتابوں اور مخطوطات کی تلاش میں ہندوستان کا سفر کیا اور اِن کا ترجمہ سنسکرت سے چینی زبان میں کیا۔ چین سے ہی بدھ مذہب جاپان گیا۔ فلسفیانہ خیالات اور افکار کی وجہ سے چینی تہذیب میں روحانیت سے زیادہ عملی زندگی پر زور رہا۔ چین چونکہ خود ایک بڑا ملک تھا اس لیے اس کے اتحاد کو قائم رکھنا کسی بھی سیاسی طاقت کے لیے مشکل کام تھا۔ لہٰذا چینی شاہی خاندان اس اتحاد کے لیے آپس میں تو جنگیں کرتے رہے مگر چین سے باہر انہوں نے نہ تو کوئی فتوحات کیں اور نہ ہی کوئی کالونیز قائم کیں۔ چینی حکمران خود کو سب سے بالاتر سمجھتے تھے اس لیے جب دوسرے ملکوں سے اِن کے لیے تحفے تحائف لائے جاتے تو یہ اس کو خراج کہتے تھے۔ ابتدائی دور میں یورپ سے آنے والوں سفیروں اور تاجروں کو بھی انہوں نے نا صرف باربیرین کہا بلکہ ان کے تحفوں کو خراج کہہ کر ان کو اپنے سے کم تر سمجھا۔

جب اٹھاوریں صدی میں چین میں یورپ کے تاجروں کی آمد شروع ہوئی تو اول انہوں نے ان تاجروں کو کنٹون کی بندرگاہ تک محدود رکھا اور چینیوں کو یہ احکامات دیے کہ نہ تو اِ ن سے کوئی تعلق رکھیں نہ اِن کو چینی زبان سکھائیں اور نہ چین میں لکھی کوئی کتاب دیں۔ سردیوں میں انہیں بندرگاہ سے واپس جانے کو کہا جاتا تھا۔آگے چل کر جب یورپ کے سفیروں نے آنا شروع کیا اور یہ درخواست کی کہ وہ بیجنگ میں سفارت خانہ کھولنے کی اجازت دی جائے تو اس سے صاف انکارکر دیا گیا۔ نہ تو چین اپنے سفارتی تعلقات دوسرے ملکوں سے رکھنا چاہتا تھا اور نہ ہی انہیں اپنے ملک آنے کی اجازت دیتا تھا۔

چین کی اس علیحدگی اور تنہائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ یورپ میں ہونے والی سیاسی، سماجی اور سائنسی تبدیلیوں سے واقف نہ ہو سکے۔ ایک وقت تھا کہ جب انہوں نے اس علیحدگی میں رہتے ہوئے اہم ایجادات کیں لیکن وقت کے ساتھ وہ اپنی ہی دنیا میں اور اپنی اَنا اور خود پسندی کے نشے میں مبتلا ہو کر ایک جگہ ٹھہر گئے۔ تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ جب کوئی قوم ترقی کی بلندیوں کو چھو لیتی ہے تو وہ نیچے کی جانب نہیں دیکھتی ہے اور خود کو عالم بالا سے نکل کر حقیقتوں سے نہ واقف رہتی ہے۔ لہٰذا جب یورپی طاقتیں چین میں آئیں اور اپنے ساتھ اپنی فوجی طاقت، قوت اور ٹیکنالوجی بھی لے کرآئیں تو چینی معاشرہ شاہی دربار کے ادب و آداب کنفیوشس عالموں کے کردار اور اپنی پسماندہ فوجی حیثیت کی وجہ سے اس قابل نہ رہا تھا کہ وہ ان کا مقابلہ کر سکے۔ یورپی طاقتوں کے ہاتھوں مسلسل شکستوں، ذلت آمیز معاہدوں اور اپنی بندرگاہوں کو ان کے حوالے کرنے کے بعد ہزاروں برس کی یہ تہذیب خستہ ہو کر دم توڑ گئی۔

چین کی تہذیب سے جاپان، کوریا، ویت نام اور جنوبی ایشیا کے ملکوں نے بہت کچھ سیکھا مگر جب خود چین نے دوسری تہذیبوں سے سیکھنے سے انکار کیا تو یہی سبب اْس کے زوال کا باعث ہوا۔ اس سیاسی بحران میں چین کا آخری شاہی خاندان جو’’چنگ‘‘ کہلاتا تھا اْس کا خاتمہ ہوا۔ Dr. Sun Yat-senنے قومی حکومت قائم کی۔

Electrolux