کراچی کی ادبی ڈائری

مسلم کھتری ادبی کمیٹی کے زیر اہتمام مشاعرہ
گزشتہ دنوں نارتھ کراچی میں مسلم کھتری ادبی کمیٹی کے زیر اہتمام ایک مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت پاکستان کے معروف شاعر جناب اعجاز رحمانی نے کی جب کہ مہمان خصوصی معروف شاعر و ادیب اور اسکالر جناب سعید الظفر صدیقی اور مہمانِ اعزازی بزرگ شاعر محمد فاروق شاد تھے۔ نظامت کے فرائض جناب نظر فاطمی نے انجام دیے اور تلاوتِ قرآنِ پاک سے مشاعرے کا آغاز کیا اور سینئر شاعر جناب اکرام راضی نے نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پیش کی۔

اس مشاعرے میں سامعین کی تعداد قابل ذکر تھی اور شعرائے کرام میں مزاح گو شعرا بھی توقع سے زیادہ موجود تھے جن میں عبدالمجید محور، فخر اللہ شاد، صفدر علی انشا اور حکیم ناصف شامل تھے۔ ان مزاح گو شعرا نے محفل کو زعفران زار بنا دیا۔ سنجیدہ غزل گو شعرا خالد حسین خاموش، چاند علی چاند، یاسر سعید صدیقی، اسامہ مرزا، نظر فاطمی، نسیم شیخ، قیصر وجدی، سلمان صدیقی، شاعر علی شاعر، رفیع الدین راز، محمد فاروق شاد،سعید الظفر صدیقی اور صاحب صدر جناب اعجاز رحمانی نے اپنی غزلیات سے مشاعرے میں شعریت کے رنگ بھر دیے۔ اس محفلِ مشاعرے کا اختتام پرضیافت دعوت پر ہوا۔

یوم پاکستان کے حوالے سے مذاکرہ و مشاعرہ کا انعقاد
اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیراہتمام یوم پاکستان کے حوالے سے مذاکرہ و مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت امریکا سے آئے ہوئے نامور شاعر مجید اخترنے کی جبکہ مہمان خاص لندن سے آئی ہوئی معروف شاعرہ فرزانہ نینا خان، مہمان اعزازی کینیڈا سے آئے ہوئے معروف شاعر منیف اشعر ،محمد یامین عراقی تھے۔ مجید اخترنے صدارتی خطاب کہا کہ ۲۳؍ مارچ کا دن پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا ہے۔ اس دن مسلمانوں نے ایک ایسے وطن کا مطالبہ کیا جہاں مسلمان آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی اصولوں کے مطابق زندگی گزارسکیں ۔ اس مقصدکے حصول کے لیے ۱۹۴۰ء میںبرصغیر کے کونے کونے سے ایک لاکھ سے زائد مسلمانوںنے اپنے قائد محمد علی جناح کی قیادت میںمسلمانوںکی آزادی اور ایک الگ وطن کے قیام کے لئے قرارداد پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہا کہ قرار داد کے منظورہوتے ہی برصغیر کے مسلمانوںکی منزل کا تعین ہوگیا۔ ۲۳؍ مارچ ۱۹۴۰ء کا دور تحریک پاکستان کا حتمی اور فیصلہ کن دور تھااور مسلمانوں کو اپنی منزل مل گئی ۔ آج کا مشاعرہ ہم اپنے جذبات کے ذریعے یوم پاکستان کے نام کرتے ہوئے مشاعرے کا آغاز کرتے ہیں۔اس موقع پرجن شعرائے کرام نے اپنا کلام پیش کیا ان میں مجید اختر ، سید منیف اشعر، مسز فرزانہ خا ن نیناں، محمد یامین عراقی، سیف الرحمٰن سیفی، عرفان علی عابدی، امتہ اطئی وفا، زینت کوثر لاکھانی، صبیحہ صبا، سید صغیر احمد جعفری، سیما ناز، محمد رفیق مغل، افضل ہزاروی، شکیل وحید ، دلشاد احمد دہلوی، الطاف احمد، تاج علی رعنا، محمد علی زیدی، غلام حسین خاور، محسن سلیم، اقبال رضوی، صدیق راز ایڈوکیٹ، الحاج یوسف اسماعیل، سید مشرف علی ، انجم عثمان ، فرح دیبا، طاہرہ سلیم سوز، فرخ جعفری ، فرح کلثوم، ظہرالدین ،عارف شیخ عارف، تنویر حسین سخن، افروز رضوی، سید علی اوسط علی جعفری شامل تھے ۔قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے آخر میں اکادمی ادبیات پاکستان کے جانب سے شکریہ ادا کیا۔

ڈاکٹر رئوف پاریکھ، شکیل عادل زادہ، امینہ سید اور
حارث خلیق کو صدارتی اعزاز ملنے پر مبارک باد
صدرِ مملکت ممنون حسین نے ۲۳؍ مارچ کو یومِ پاکستان کے موقع پر نمایاں خدمات انجام دینے والی اہم قومی و بین الاقوامی شخصیات کے لیے اعلیٰ سول ایوارڈ کا اعلان کیا ہے۔ انجمن ترقیِ اُردو پاکستان کے صدر ذوالقرنین جمیل، معتمد اعزازی فاطمہ حسن اور مشیر علمی و ادبی امور پروفیسر سحر انصاری نے شکیل عادل زادہ، حارث خلیق اور انجمن ترقی اُردو پاکستان کے ماہنامہ قومی زبان کے رکن مجلس مشاورت اور سہ ماہی اُردو کے مدیر ڈاکٹر رئوف پاریکھ کو صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی اور اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس کی منیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید کو ستارئہ امتیاز ملنے پر چاروں اعزاز یافتگان کو دلی مبارک باد دیتے ہوئے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کی خدمات کو خراجِ تحسین ان کی زندگی میں پیش کیا ہے۔

محمد مسلم عظیم آبادی کی یاد میں مشاعرہ کا انعقاد
اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیراہتمام ممتاز اسکالر مصنف مترجم شاعر اور استاد فارسی و اردو محمد مسلم عظیم آبادی کی یاد میں مشاعرہ کا انعقادکیا گیا جس کی صدارت نامور شاعر کنیڈا میں مقیم رفیع الدین راز نے کی مہمان خاص ڈاکٹر لبنیٰ عکس، سید صغیر احمد جعفری، ڈاکٹر شکیل احمد خاں اس موقع پر رفیع الدین راز نے صدارتی خطاب میںکہاکہ محمد مسلم عظیم آبادی کی شاعری میںشعور و فکر کا متوازن امتزاج ہے ان کی شاعری میںہمارا سماجی منظر نامہ بھی موجود ہے اور ان کے مناظر سے وہ زندگی کی بنیادی صداقت کی طرف بھی سفر کرتے ہیں ۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہا کہ محمد مسلم ایک ممتاز اسکالر بھی تھے ان کی تحریریں اعلیٰ خوبیوں سے بے مثال تھیں۔ اس موقع پرجن شعرا ء کرام نے کلام سنایا۔ ان میں رفیع الدین راز، ڈاکٹر لبنی عکس ، سید صغیر احمد جعفری، ڈاکٹر شکیل احمد خاں، عشرت حبیب ، نشاط غوری، فرح دیبا ، عرفان علی عابدی،محمد رفیق مغل ، دلشاد احمد دہلوی، عارف شیخ عارف، عبدالصمد تاجی، محمد حنیف سرکی، شفقت اللہ گلال،تنویر حسین سخن، اقبال رضوی، ڈاکٹر رحیم ہرنو، صدیق راز ایڈوکیٹ علی زیدی نے اپنا پیش کیا۔

Electrolux