دُ ختر ِ چترال

پاکستان کے شمالی مغربی علاقے اپنے قدرتی حُسن کی دل آویزی کی وجہ سے بہشت کا منظر پیش کرتے ہیں خوبصورت اور دل موہ لینے والے نظاروں میں ’’ چترال ‘‘ کی نظیر ڈھونڈنا مشکل ہو جاتی ہے۔ہندو کُش اور ہند و راج کے پہاڑی سلسلوں میں پاکستان کے انتہائی شمالی کونے پر واقع چترال کو اپنی تہذیب و ثقافت ، قدرتی مناظر ، فطرت کی طرف سے عطاء کر دہ وسائل اور خطے میں جُغرافیائی اور دفاعی پوزیشن کے حوالے سے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے یہ ایک ریاست تھی۔ والی چترال کو بادشاہ کا درجہ حاصل تھا ۔ اس علاقے میں بولی جانے والی زبان ’’ کھوار‘‘ میں یہاں کے بادشاہ کو ’’ میتار ‘‘ کہا جاتاہے ۔ جسے اردو میں ’’ مہتر ‘‘ کہتے ہیں ۔ اس بڑی ریاست کو مقامی زبان میں ’’ میتاری چترال ‘‘ یعنی ریاستِ چترال کے نام سے پُکارا جاتا تھا ۔ تقسیم ہند سے پہلے یہ علاقہ برطانوی راج کا حصہ تھا ۔ چترال کی تمام تر وادیوں اور ضلع غدر کے اس علاقے میں برطانوی نگران مقرر تھا اور ریاست کے انتظام و انصرام پر یہاں کے مقامی ’’ میتار ‘‘ کی مکمل خود مختار ی اور عمل داری قائم تھی ۔ اس ریاست کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ قیام پاکستان کے بعد اس کے ’’ میتار ‘‘ یعنی والی نے دوسری ریاستوں کے مقابلے میں سب سے پہلے الحاق پاکستان کا اعلان کیا تھا ۔ خیبر پختونخواہ کے مالا کنڈ ڈویژن میں شامل اس ضلع کا کل رقبہ14850 کلو میٹر ( 5730 مربع میل ) ہے ۔ اس دلکش علاقے کی تاریخ کا درست کھوج ابھی تک نہیں لگایا جا سکا ۔ یہاں کی سحر آفریں ثقافت اور علاقے کا ماضی اسرار کے پردوں میں چھُپا ہوا ہے ۔

یہاں کی سیاست میں شاہی خاندان کے اثرو رسوخ کو ابتداء ہی سے کلیدی حیثیت حاصل رہی ہے ۔ رائل فیملی کا زیادہ تر جھُکاو حکومت کی جانب ہوتا ہے ۔ گذشتہ عام انتخابات میں افتخارالدین جنرل پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے ۔ اب ان کا جھُکاؤ مسلم لیگ ن کی طرف نظر آتا ہے ۔ اس خاندان کے ساتھ ساتھ یہاں پر پاکستان پیپلز پارٹی ، دینی جماعتوں جمعیت العلمائے اسلام اور جماعت اسلامی بھی خاصا اثر و رسوخ رکھتی ہیں ۔ پاکستان تحریک انصاف کی جدوجہد کا آغاز کرنے والوں میں فلک ناز چترالی نمایاں ہیں ۔ انہوں نے انتہائی نا مساعد حالات میں یہاں اپنی سر گر میوں کا آغاز کیا تھا ۔ سردیوں کے موسم میں اس علاقے کا ملک کے دوسرے علاقوں سے رابطہ تین سے پانچ مہینے کے لیے تک منقطع رہتا ہے۔ اس مرتبہ موسم کی شدت کم ہونے کے بعد فلک ناز چترالی نے پشاور سے اپنے گھر چترال کا رُخ کیا ۔ اپنے قیام کے دوران انہوں نے پی ٹی آئی کے خواتین ونگ کو منظم کرنے کے لیے کئی پروگرام منعقد کیے ۔ ان پروگراموں میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ ان سر گرمیوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ ہوئیں تو فلک ناز چترالی کے خلاف ایک منظم مہم کا آغاز کر دیا گیا ۔ اس مہم جوئی میں شامل ’’ معلوم افراد ‘‘ نے چترال کی اس دلاور اور غیور بیٹی کی کردار کُشی کا سلسلہ شروع کر دیا ۔ کہا جانے لگا کہ وہ چترال کے کلچر کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جن تصاویر کو علاقے کی روایات کے لیے زہر قاتل قرار دیا گیا اُن تصاویر میں تقریباً تمام خواتین پردے میں نظر آ رہی ہیں ۔ معلوم ہوا ہے کہ مذہبی فیکٹر کو بھی فلک ناز چترالی کے خلاف متحرک کرنے کی کوشش کی گئی۔بعض مبینہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی ان سرگرمیوں میں شریک خواتین کو مقامی ایس ایچ او کا نام لے کر ڈرایا دھمکایا بھی گیا۔

چترال میں خواتین کو پریشان کرنے اور پی ٹی آئی کی لیڈر کو توہین آمیز کالوں پر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک سمیت کسی بھی ارباب اختیار نے کوئی نوٹس نہیں لیا ۔ متاثرہ خواتین کی جانب سے یہ شکوہ بھی کیا گیا ہے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی جانب سے بھی ابھی تک کسی داد رسی کی کوشش نہیں کی گئی ۔ فلک ناز چترالی کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے قائد عمران خان کی جانب سے رسپانس ملنے سے حوصلہ ہوا ہے اور وہ انہی کے حکم کے پر اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختون خواہ کے علاقے کی مختلف خواتین نے عمران خان کے نظریے اور جدوجہد کے لیے ہی اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت لی ہے۔ ہم سب خواتین اپنے علاقے اور پاکستان میں مثبت تبدیلی کی جدوجہد کا حصہ ہیں ۔عمران خان کی جانب سے جو میری ڈھارس بندھائی گئی ہے وہی میرے حوصلے کی چٹان ہے ۔ اپنے علاقے کی بہنوں اور بیٹیوں کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کو جو تعاون ملا ہے وہ بہت حوصلہ افزا ہے ۔ میری اس کامیابی سے حسد کرنے والے میدان میں آ گئے ہیں ۔ جس طر ح سے ہمیں ہراساں کیا جاتا ہے وہ ہر لحاظ سے قابل گرفت ہے۔

پاکستان کے بُلند و بالا کہساروں کے رہنے والوں کے عزائم بھی بُلند ہوتے ہیں۔ چترال اپنی روایات اور مکینوں کی وجہ سے جرات مند لوگوں کی سرزمین ہے۔ یہ خوددار اور پاک دامن بہنوں ، بیٹیوں اور ماؤں کا علاقہ ہے یہاں جمال بھی ہے اور جلال بھی ۔ فلک ناز چترلی کو میں ایک طویل عرصہ سے جانتا ہوں عمران خان کے نظریے اور مشن سے اُس کی کمٹمنٹ میں کبھی کوئی شک نہیں رہا ہے۔ وہ خواتین کی مرکزی کور کمیٹی کی ممبر ہیں۔ ان کے خلاف جو مہم آج کل چلائی جا رہی ہے اُس کے حوالے سے اس انکشاف نے اب حقیقت کی سند حاصل کر لی ہے کہ اس سارے کھیل کے پیچھے کوئی دوسرا نہیں پاکستان تحریک انصاف کے کچھ لوگ خود ہیں ۔ اس مہم کے شرکاء اور ان کی سرپرست کے طور پر ایک ایسی خاتون کے ملوث ہونے کے اشارے مل رہے ہیں ۔ جس کی وفا کی ڈگری جعلی ہونے کا ثبوت وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی اُس رپورٹ میں بھی شامل ہے جس کے ذریعے سینٹ کے انتخابات میں پارٹی کو رُسوا کرنے والوں کے نام کپتان کو پیش کیے گئے تھے اور جن کے خلاف پارٹی کے قائد عمران خان نے سخت ترین کارروائی کی ہدایات جاری کی ہوئی ہیں ۔

خیبر پختونخواہ میں خواتین رہنماؤ ں کو بعض سنجیدہ نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہے جس کا نوٹس لینا عمران خان کا نہیں صوبے کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا فرض بنتا ہے۔ کیونکہ وہی یہاں پارٹی معاملات کے نگران ہیں ۔ لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہا جا رہا ہے کہ پرویز خٹک کو پارٹی کے کارکنوں خاص طور پر خواتین ورکروں کا خیال رکھنے کی بجائے صوبے میں electable کی تلاش ہے۔ جن کے ذریعے وہ صوبے کی قومی اسمبلی کی کم و بیش 40 نشستوں میں سے 35 پر کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں ، لیکن شاید وہ یہ بھول رہے ہیں کہ کوئی بھی پارٹی اپنے بنیادی پارٹی ورکروں کو نظر انداز کرکے کامیابی حاصل نہیں کر سکتی ۔ پرویز خٹک کی اپنی ہی سیاسی حکمت عملی ہے ۔ کاش وہ عمران خان کی جانب سے جاری رکھی جانے والی ممبر شپ مہم سے ہی کوئی سبق حاصل کرلیں ۔

فلک نا ز چترالی اپنے علاقے کی جرات مندانہ روایت کی امین ایسی قابل فخر بیٹی ہے جو اپنے جذبے کو کسی خوف کے تابع لانے کی بجائے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سرزمین چترال کی یہ آبرومند بیٹی انڈیا کی معروف اُردو شاعرہ علینا عطرت رضوی کے الفاظ میں یہ پیغام عام کرتی نظر آتی ہیں ۔
آگ ہے ، پانی ہے ، مٹی ہے ، ہوا ہے مجھ میں
قدرتِ حق کا ہر اِک راز چھُپا ہے مجھ میں
اِک عورت ہوں ، محبت ہی ہے پیغام میرا
اِک چمن پھولوں کا ، خوشبو کی فضا مجھ میں

Electrolux
انوار حسین حقی ایک منجھے ہوئے صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔اُن کا کالم قومی اخبارات کی زینت بنتا رہتا ہے۔ اُن سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔