حکومت کے معیشت کے استحکام کے دعوے فریب آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ نوشتہ دیوار

پاکستان کے متعلق انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف)کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ملکی قومی پیداوار، تجارتی، مالی خسارے میں اضافہ ہوا جبکہ غیرملکی ادائیگیوں کوخطرات لاحق ہوگئے اور سیاسی حالات مزید خرابی کا باعث بنے۔ اسی طرح زرمبادلہ کے ذخائر 18.5 ارب ڈالرز سے کم ہو کر 12.8ارب ڈالر زرہ گئے۔ یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو یہ ذخائر اتنے کم رہ جائیں گے کہ ایک ماہ کی درآمدات کے لیے بھی ناکافی ہوں گے۔آئی ایم ایف کی یہ رپورٹ اْن حکومتی دعوئوں کی چغلی کھارہی ہے جو ملکی معیشت کے استحکام اور بہتری کے حوالے سے کیے جارہے ہیں۔ دوسرے معنوں میں معیشت کی جو تصویر حکومت دکھا رہی ہے‘ حقائق اس سے یکسر مختلف ہیں۔ درحقیقت آئی ایم ایف پروگرام کے دوران معیشت میں جو عارضی استحکام آیا وہ بڑی حد تک فریب نظر تھا جسے اعداد و شمار کی جادوگری اور تیل کی بین الاقوامی قیمت میں کمی سے ہی ممکن کیا گیا تھا۔ جن اہم پہلوئوں کو خاطر میں نہیں لایا گیا ان میں برآمدات میں ہونے والی شدید کمی کو نظر انداز کرنا تھا۔ اسی طرح زرمبادلہ کے ذخائر مصنوعی طور پر بڑھانے کے لیے دھڑا دھڑ قرض لیے گئے۔ ٹیکس بیس کو بڑھانے کی جانب بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔ بجلی کے شعبے میں گردشی قرض ایک کھرب سے تجاوز کر رہا ہے۔ موجودہ دور میں اس میں 550ارب کا اضافہ ہوا۔ یہ امر حیران کن نہیں ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے نتیجے میں معاشی صورتحال خراب تر ہوئی ہے۔ ملک کی بڑھتی ہوئی درآمدات کی وجہ سے جاری خسارے میں ہونیوالے اضافے کے باعث ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 12.8ارب رہ گئے ہیں۔زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی اسی طرح برقرار رہی تو جون 2023ء کے آخر تک ذخائر 7.1 ارب ڈالر تک گھٹ سکتے ہیں۔ یہ ذخائر تو ایک ماہ کی درآمدات کے لیے بھی ناکافی ہوں گے۔یہ خطرہ بھی منڈلا رہا ہے کہ 2018-19ء میں شدید مالیاتی زوال شروع ہو سکتا ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے کیمطابق جاری خسارہ کل قومی پیداوار کا 4.4فیصد ہو جائے گا جس کی وجہ سے ملک کو اندرونی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں اور درآمدات کے لیے درکار زرمبادلہ کی دستیابی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کی رپورٹ میں معیشت کی اتنی مایوس کن تصویر کشی کیوں کی گئی ہے؟ اس کی بڑی وجہ حکومت کی معاشی پالیسیوں اور مالیاتی انتظام کاری کا وہ کمزور معیار تھا جس نے صورتحال کو خراب تر کیا۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اس سال ہونیوالے انتخابات کی وجہ سے پاکستان کی آئی ایم ایف کو قرضے کی ادائیگی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ الیکشن سے قبل اخراجات میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں آئی ایم ایف خبردار کر رہا ہے کہ الیکشن میں پیسے اور وسائل کا ضیاع اور اندھا دھند استعمال ملکی معیشت کے لیے ’’مرے کو مارے شاہ مدار‘‘ ثابت ہو گا۔ مستقبل میں جو نظر آرہا ہے وہ یہی ہے کہ ہم قرضوں کے نئے جال میں پھنس جائیں گے جس سے نکلنا بہت مشکل ہو گا۔حکومتی بدانتظامیوں کی وجہ سے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ان کو تیل فراہم کرنے والی کمپنیوں کا گردشی قرضہ ایک نئے بحران کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ قرض اور اس پر سود ادا کرنے کے لیے نئے قرض لیے جا رہے ہیں لیکن ان قرضوں کی ادائیگی کی استعداد بڑھانے کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے زیادہ سخت معاشی اور غیر معاشی شرائط عائد کی جا سکتی ہیں جو معیشت کے لیے زہرقاتل ثابت ہوں گی۔ بہتر ہو گا کہ حکومت اس رپورٹ کی روشنی میں ٹھوس اور دیر پا اقدامات کرے تاکہ ٹیکسوں کے حصول‘ زرمبادلہ میںکمی اور مالیاتی بحران کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے ان کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔

Electrolux