وجود

... loading ...

وجود

شبِ زندگی سے آگے

اتوار 18 مارچ 2018 شبِ زندگی سے آگے

غلام حسین ساجد
صابر ظفر سے میرے تعلق کو بیالیس برس ہونے کو آئے ہیں۔ شروع کے دوچار برسوں کے بعد ہم کبھی ایک شہر میں نہیں رہے مگر ان سے فکری نسبت کا رشتہ روزبروز مضبوط تر ہورہا ہے اور اس کا سبب ہے ان کی صلاحیت اور اس صلاحیت کی نمود کا ایک مسلسل اور لامختتم ظہور۔ اردو غزل کو موضوعاتی، فکری اور تجربی تنوع کے لیے اسے زرخیز کرنے میں صابر ظفر کا حصہ سب سے زیادہ ہے اور اس قدر تسلسل اور جمالیاتی صباحت کے ساتھ کہ اس پر صرف داد ہی دی جاسکتی ہے۔

’’ ابتدا‘‘ سے ’’ لہو سے دستخط‘‘ تک کے اڑتیس شعری مجموعوں میں صابر ظفر نے اپنا سروکار زیادہ تر صنفِ غزل سے رکھا ہے۔ میں نہیں جانتا، وہ اب تک کتنی غزلیں کہہ چکے ہیں مگر غزل ان کے اظہار کا ایسا وسیلہ بن گئی ہے کہ انہیں کسی اور صنف سخن کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں۔ ان کا اب تک کا شعری سفر اس بات کا گواہ ہے کہ وہ غزل کی روایتی شباہت کو مسخ کیے بغیر اس میں ایک نئی کیفیت ایک نیا رنگ بھر دینے پر قادر ہیں اور ان کی پیش رفت نے اس صنفِ سخن کو ثروت مند بنایا ہے۔

یسا تبھی ممکن ہوتا ہے، جب شاعر کے زبان و بیان پر لگے ہر نوع کے قفل کھل چکے ہوں۔ طلبِ اظہار اور طرزِ اظہار میں یکتائی در آئی ہو اور شعر کہنا سانس لینے کی طرح ایک غیر محسوس عمل بن چکا ہو اور اس کے غیاب میں کی گئی مشقت ایک غیر مرئی انعام بن کر کلام کی تاثیر اور ندرت کا حصہ بن گئی ہو۔

پچھلے کئی برس سے وہ غزل میں مسلسل کئی طرح کے تجربے کرتے چلے آرہے ہیں۔ میں یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ ان میں سے اکثر تجربات کا تعلق غزل کی عمومی روایت سے زیادہ عصرِ حاضر کی موجودہ صورتِ حالات کی نقش گری سے ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ایسا کچھ کر دکھانا اور وہ بھی غزل کے پیرائے میں، نہ صرف یہ کہ مشکل کام ہے بلکہ ایک وہبی شاعر اور تغزل کی روایت میں اپنا مقام رکھنے والے شاعر کے لیے گھاٹے کا سودا بھی ہے کہ عام طور پر ہمارے یہاں مزاحمتی شاعری کو اخباری بیانیے کی طرح ایک بے تاثیر چیز گردانا جاتا ہے اور یہ تاثر کسی حد تک درست بھی ہے کہ اس نوع کے کلام میں ہڈیوں میں رچ بس جانے والی تاثیر اور روح کو اپنے قابو میں کرتے حزن کا ذخیرہ کم کم ہی ہوتا ہے۔

ایسا ہے مگر ایک سچے شاعر کے لیے صرف اپنے غنائی امیج کو برقرار رکھنے کے لیے موجود کی ثقالت اور جبر سے منہ پھیر کر گزر جانا بھی تو ممکن نہیں۔ اس کی حساسیت اگر اسے موجود کی جبریت کے خلاف احتجاج بلکہ جنگ پر آمادہ نہیں کرتی تو اس میں اور ایک اندھے اُلّو میں فرق ہی کیا ہے؟ ایک سچا شاعر چاہے بھی تو اپنے عصر کی ناموافقت اور ناہمواری سے پہلو تہی نہیں کرسکتا۔اسے ایسا کرنا بھی نہیں چاہیے کہ کسی قوم کو باطنی قوت کا ظہور اسی کی زبان سے ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ تاریخِ عالم میں سچے شاعروں نے ہمیشہ باطل کی سرکوبی اور حق کی سربلندی کے لیے آواز بلند کی ہے۔

صابر ظفر ہماری فکری روایت کے سرخیل ہیں۔ اس وقت ہم اور ہمارا خطہ جس قسم کے آزار سے برسرِپیکار ہے ، وہ ہم جانتے ہیں، یہ آزار ہمارے وجود کو بھی نگل رہا ہے اور ہماری آزادی کو بھی۔ صابر ظفر نے اس آزار اور اس کے صد پہلو اثرات کو صر ف محسوس ہی نہیں کیا۔ اس کی بیخ کنی کرنے کی بھی ٹھانی ہے اور ’’زندان میں زندگی امر ہے‘‘ سے ’’ گردش مرثیہ‘‘ تک ایک تسلسل کے ساتھ اپنے زندہ شاعر ہونے کا ثبوت دیاہے۔

’’ شہادت نامہ‘‘ ان کی مزاحمتی بلکہ رجزیہ شاعری کا نیا مجموعہ ہے۔ کیونکہ اس میں ظلم اور جبر کی قوتوں کے روبرو احتجاج کی لے کم کم بلکہ کم و بیش مفقود ہے اور ان کو للکارنے اور ان سے نبرد آزما ہونے کی للک کہیں بڑھ کر۔

’’ زندان میں زندگی امر ہے‘‘ کا تعلق شاعر کی قوتِ متخلیہ سے تھا جو شاعر کی حساسیت کے ظہور کے ساتھ اس بات کی دلیل بھی تھا کہ کسی شخص کے زندانی ہونے کے لیے اسے کسی زنداں میں محبوس کردینا ضروری نہیں بلکہ جبر کا دائرہ پھیلتے پھیلتے بعض اوقات زنداں سے باہر زندگی کرتے اذہان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اس کتاب کی علامتی سطح ہمارے موجود کی عمومی کیفیت پر ایک ایسا سوال تھی، جس کا جواب شاید ہم سے کسی کے پاس موجود نہیں کہ یہ کتاب ہماری محدود ہوتی آزادی اور عالمی استعماراتی قوتوں کی ہر لمحہ نمود کرتی پیش قدمی کا ایک بلیغ استعارہ تھی۔ مگر صابر ظفر نے اسی پر بس نہیں کی۔ اس نے صرف مریض کی نبض ٹٹولنے ہی کو کافی نہیں سمجھا’’ گردشِ مرثیہ‘‘ میں اس نے علامت اور استعارے کو تج کر براہِ راست اظہار کی روش کو اپنایا، جس کا دوسرا قدم ’’ لہو سے دستخط‘‘ ہے۔ ایسا کرنا کچھ آسان نہ تھا کہ ایک شاعر کے لیے استعارے سے حقیقت کی منزل پر اترنا ایک طرح سے اپنے رومانوی تاثر کو مسخ کرنے بلکہ مٹانے کی طرح ہے، جس سے اس کے تمام تر شعری سفر کے معدوم ہونے کا راستہ نکلتا ہے مگر صابر ظفر نے کسی خطرے کی پروا کی ہے نہ اپنے غزل گو اور نرم خو ہونے کے پرلطف تاثر سے محروم ہونے سے خوف کھایا ہے اور نہ ہی اپنے شعری سفر کی معدومیت کے ڈر کو اپنے دل میں جگہ دی ہے۔ کیونکہ وہ اور اس کی شاعری کسی نوع کی دائمیت کی طلبگار ہے نہ کسی طرح کی معدومیت کے خوف سے ہراساں۔ وہ بلھے شاہ کی طرح ’’ آئی صورتوں سچا‘‘ ہے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔

’’ گردشِ مرثیہ‘‘، ’’ لہو سے دستخط‘‘ اور اب ’’ شہادت نامہ‘‘ کا فکری حوالہ ہمارا بلوچستان ہے۔ میں نے جب تک بلوچستان کو گھوم پھر کر نہیں دیکھا تھا، میں اس درد اور رنج کو محسوس کرنے سے عاری تھا جو اپنوں کے ہاتھوں زخم کھا کر کسی قوم کی نفسیات کا حصہ بنتا ہے۔ بلوچستان اور اب شاید جنوبی پنجاب بھی ایک ایسا سلگتا ہوا خطہ ہے، جس کی آگ کو بیرونی طالع آزمائوں اور اندرونی ہوس پرستوں نے ہر لمحہ ہوادی ہے۔ اس قدر کہ اس کی تپش اب ایوانِ اقتدار کے درودیوار تک آپہنچی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ایک خوش گو شاعر کے کلام تک۔

نادر شاہ عادل نے ’’ گردشِ مرثیہ‘‘ کے پیش لفظ میں کیا خوب لکھا ہے کہ مزاحمتی شاعری کے باب میںبلوچستان اور اس کے شہیدوں کے لیے صابرظفر کی شعری تخلیق ’’ گردشِ مرثیہ‘‘ بلوچستان کا شعری آشوب ہے۔ تنِ داغ داغ کی روح فرسا کہانی ہے۔ ایک داستانِ خونچکاں اور معروضی محاکمہ ہے، جو ستم شعار آمروں اور بزدل و مصلحت کش جمہوری حکمرانوں کے نظمِ حکمرانی کے جبرو استبداد کا کچا چٹھا ہے۔ ان بے نوا صحرانشینوں کا نوحہ ہے، جو رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے۔ میں اس پر صرف یہ اضافہ کروں گا کہ ’’ لہو سے دستخط‘‘اور اب ’’شہادت نامہ‘‘اس امر کی فکری دلیل ہے کہ جبر و استبداد کا یہ سلسلہ ابھی تھما نہیں اور اس آگ کی لپٹیں اب ہماری روحوں کو جھلسانے لگی ہیں۔

صابر ظفر آتش مزاج ہیں یا نہیں۔ میں نہیں جانتا مگر ان کی غزل کا مزاج ہر لمحہ آتشیں ہورہا ہے۔ یہ شاعر کی کایا کلپ کا مسئلہ نہیں ایک خطے کی کایا کلپ ہوتے چلے جانے کی علامت ہے۔ دکھ اس بات کا ہے کہ یہ امر ہر گز ہرگز خوش کن نہیں کہ اس سے ہمارے حکمرانوں کی نااہلی اور ناداری کے ساتھ ساتھ ہماری یکجہتی اور آزادی کے پارہ پارہ ہونے کی خبر بھی ملتی ہے جو اپنی جگہ پر روح فرسا اور حزینہ کیفیت کے فروغ کا استعارہ ہے۔ کاش صابر ظفر کے ’’ شہادت نامہ‘‘ کے بعد اربابِ اختیار کی آنکھیں کھل جائیں اور من و تو کی یہ خلیج مٹ سکے۔

’’گردشِ مرثیہ‘‘سے ’’ شہادت نامہ‘‘ تک کی شاعری کا جغرافیائی خطہ بلوچستان ہے۔ اگرچہ صابر ظفر نے ’’ سانول موڑ مہاراں‘‘ میں سرائیکی، ’’ اباسین کے کنارے‘‘ میں خیبرپختون خواہ اور ’’ رانجھا تخت ہزارے کا‘‘ میں مرکزی پنجاب کی فکری روایت اور ثقافت کو موضوع بنایا ہے مگر اس کی نوعیت جمالیاتی ہے اور اس سے ان خطوں کے بارے میںایک اسرار بھری یگانگت کا تاثر ابھرتا ہے مگر بلوچستان کی تہذیب، ثقافت، تاریخ اور جدوجہدِ آزادی کے پس منظر میں لکھی گئی یہ تین کتابیں جنہیں شاید Trilogy کہنا مناسب نہ ہو ، ایک ہی آزار کا پتا دیتی ہیں، جسے شاید ’’ بلوچ المیہ‘‘ کا نام دینا درست ہو۔ یہ شاعری کا نہیں، شاعری سے آگے کا معاملہ ہے اور خود شاعر بھی اس امر سے نا آگاہ نہیں:

جو ہے بات کہنے والی، وہ ہے شاعری سے آگے
سنو ان کہی سے آگے، چلو سرکشی سے آگے
سبھی جہد کار میرے، سبھی جاں نثار میرے
تمہیں صبحدم ملیں گے، شبِ زندگی سے آگے

یہ دو شعر تو میں نے اپنی بات کی تائید میں درج کیے وگرنہ میں اس کتاب سے یہاں اشعار درج کرتے چلے جانے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں رکھتا کہ میرے خیال میں ’’ شہادت نامہ‘‘ غزل کا مجموعہ ہوتے بھی کچھ اس کے سوا بھی ہے۔ دراصل ’’ گردشِ مرثیہ‘‘، ’’ لہوسے دستخط‘‘ اور ’’شہادت نامہ‘‘ ایک خیال کی کڑیاں اور ایک وجود میں سمٹی کتابیں ہیں۔ اس نوع کی پہلی کتاب غالباً ’’ عناصر‘‘ تھی، جسے مظفر علی سید نے نظم سے قریب تر قرار دیا تھا اور اس لہجے کی برقراری کو ضروری قرار نہیں دیا تھا۔ کچھ ایسا ہی میرا خیال اس کتاب کے حوالے سے ہے کہ میں اسے ناانصافی اورجبر کی شدت کو للکارتی صدا سمجھتا ہوں، جس کی تندی بلوچستان کی آہستہ خرام اور ذات مست کاریزوں کے برعکس ایک تند مزاج دریا کی سی ہے، جس کا تھم جانا لازم ہے۔ مگر یہ دریا شاید تھمنے کا نہیں اور بلوچستان میں امن، انصاف اور خوشحالی کے قدم پڑنے تک اسے تھمنا بھی نہیں چاہیے۔

صابر ظفر نے جس لسانی تجربے کا آغاز ’’ سانول موڑ مہاراں‘‘ سے کیا تھا۔ اس کی ایک مثال ’’ شہادت نامہ‘‘ بھی ہے۔ ’’ گردشِ مرثیہ‘‘ ،’’ لہو سے دستخط‘‘ اور اب ’’ شہادت نامہ‘‘ اس لحاظ سے بھی اہم کتابیں ہیں کہ یہ غزل کی زبان اور لہجے کے حوالے سے ہمارے روایتی تصور کو ردّ کرتی ہیں۔ جہاں شاعر برتی ہوئی مانوس لفظیات کو برتنے میں تحفظات کا شکار ہو، وہاں لسانی حوالے سے غیر مروج اور ایک خاص خطے سے مخصوص لفظیات کا استعمال میں لانا اور اسے اپنے جمالیاتی عمل کا حصہ بنانا کوئی معمولی کام نہیں۔ یہ کام کوئی جرات مند شاعرہی انجام دے سکتا تھا اور صابر ظفر نے اس عمل کو تسلسل سے جاری رکھ کر اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ شعری مکاشفے کی حقانیت کو بڑھاوا دینے میں وہ کس قدر جرات مند اور بے خوف ہے۔

توں کا انتخاب کیا ہے جس ãḻ


متعلقہ خبریں


مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی وجود - پیر 02 فروری 2026

گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار وجود - پیر 02 فروری 2026

کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید وجود - پیر 02 فروری 2026

بچے اور خواتین شامل،رہائشی عمارتوں، خیموں، پناہ گاہوں ، پولیس اسٹیشن نشانہ بن گیا خواتین پولیس اہلکار بھی شامل،اسرائیل اور حماس میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ،ذرائع اسرائیلی فضائی حملوں میں ہفتے کے روز غزہ میں کم از کم 32 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین ک...

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن وجود - اتوار 01 فروری 2026

حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم وجود - اتوار 01 فروری 2026

سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

مضامین
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی وجود پیر 02 فروری 2026
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل

بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں وجود پیر 02 فروری 2026
بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں

ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز

لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر