استقبال کتب

نام کتاب:اُردو شاعری کے فروغ میں مظفر گڑھ کے شعراء کا کردار
مصنف:ظریف احسن
ضخامت:112 صفحات
قیمت:400 روپے
ناشر:حرفِ زار انٹر نیشنل، کراچی
مبصر: مجید فکری
ظریف احسن صاحب کا مسکن تو کراچی میں ہے مگر ان کا دل مظفر گڑھ میں دھڑکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اب تک جتنی کتابیں تخلیق کی ہیں وہ سب مظفر گڑھ سے متعلق ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مظفر گڑھ ان کا جنم بھومی ہے۔ ان کے آباء و اجداد نے جب ہندوستان چھوڑا اور پاکستان کے لیے ہجرت کی تو مظفر گڑھ ہی میں پڑائو ڈالا۔ فکرِ معاش اور تلاشِ روزگار میں یہ کراچی چلے آئے اور کراچی میں واقع اکائونٹنٹ جنرل سندھ کے دفتر میں ملازم ہوگئے اور اسی دفتر سے بطور سینئر آڈیٹر (گریڈ 16)میں ریٹائر ہوئے۔ زہے قسمت کہ ریٹائرمنٹ کے وقت دفتر ہٰذا میں عمرہ ادائیگی کے لئے قرعہ اندازی میں ان کا نام نکل آیا اور یہ اپنی بیگم کے ہمراہ اس فرض کی ادائیگی کے خوشگوار مقدس لمحات کی سعادت سے بہرہ مند ہونے کے لئے سعودی عرب روانہ ہوگئے۔ پہلے کعبۃ اللہ او رپھر روضۂ رسولؐ کی زیارت کی اور اس سفر کی تمام روداد ایک کتاب کی شکل میں رقم کردی۔

پیش نظر کتاب ’’اردو شاعری میں مظفر گڑھ کے شعراء کا کردار‘‘ ایک ایسی کتاب ہے جس سے ان کے ذوقِ شاعری کا بخوبی اندازہ بھی ہوتا ہے اور ان کے اپنے جنم بھومی سے محبت کا اظہار بھی! یہ کتاب اس لئے بھی تحسین کی نظر سے دیکھی جائے گی کہ اس میں مظفر گڑھ کی ادبی فضا، وہاں کے ادبی شب و روز اور وہاں سے تعلق رکھنے والے بزرگ اکابرین ادب کی خدمات اور خصوصاً اردو شاعری کے فروغ میں ان حضرات نے کیا کارہائے نمایاں انجام دیے اس سے بھی آگاہی حاصل ہوتی ہے اور یہ فریضہ ظریف احسن صاحب نے بڑے احسن طریقے پر انجام دینے کے لیے مذکورہ بالا کتاب لکھ ڈالی اور یقیناً مظفر گڑھ کے باسیوں کے دل میں اپنا گھر بنالیا ہے اور وہ یقیناً ان کے شکر گزار بھی ہوں گے کہ اس سے نہ صرف ان کی شہرت میں اضافہ ہوگا بلکہ مظفر گڑھ کا نام بھی روشن ہوگا۔

کتابِ ہٰذا کا انتساب بھی شہنشاہِ غزل میر تقی میرؔ کے نام نامی سے معنون کیا گیا ہے ۔ جس سے اس بات کا واضح ثبوت بھی فراہم ہوتا ہے کہ غزل جیسی پیاری اور مقبول صنفِ سخن سے یہ حضرت کتنے مانوس ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس ضمن میں چار اور شعراء کا نام بھی میرؔ کے بعد شامل کرلیا ہے اور وہ چار افراد یہ ہیں:
۱۔ میر تقی میرؔ ۲۔ عزیز حامد مدنی ۳۔ مخدوم غفور ستاری ۴۔ حامد فکری اور احسن ظریف
گویا فروغِ غزل کا یہ کارواں اب احسن ظریف اورکزئی (فرزند طریف احسن)تک آپہنچا ہے۔
انتساب کے بعد تین ادبی حضرات اور ایک خاتون دردانہ نوشین کے مضامین بھی پیش نظر کتاب کا حصہ بنے ہیں اور ان چاروں حضرات وخاتون نے صرف اور صرف مظفر گڑھ اور خصوصاً ظریف احسن کی اس شہر سے وابستگی پر سیر حاصل تبصرہ کیا ہے۔ جس سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ مصنف کا جنم بھومی تو مظفر گڑھ ہے مگر تین سال بعد ہی یہ اس جنم بھومی کو خیر باد کہہ کر 1957ء میں اپنے خاندان کے ساتھ کراچی میں قیام پذیر ہوگئے اور کوئی پانچ دہائی کے بعد انہو ں نے اپنا پہلا مجموعۂ شعری 2017ء میں ’’موسم موسم ملتے تھے‘‘ لاہور سے شائع کرایا اور اب مسلسل شب و روز ادب کی آبیاری میں مصروف ہیں۔ ان کے شعری مجموعے کے سرائیکی اور پنجابی میں بھی تراجم شائع ہوچکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی موصوف اپنے ساتھ مظفر گڑھ کی تمام ادبی شخصیات کو اپنے ساتھ ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔

پیش نظر کتاب میں بھی مظفر گڑھ کے شعراء کی اردو شاعری میں حصہ داری کا ذکر کیا گیا ہے مگر بغیر کسی تعارف کے صرف ہر شاعر کے ایک دو شعروں سے اردو کے فروغِ شاعری میں ان کے کردار کا جائزہ لینے سے آگے بات نہیں بڑھی ۔ کیا ایسے اردو شاعری کے فروغ میں مظفر گڑھ کے شعراء کی جہد کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ! عجیب سے بات ہے؟ جبکہ کتابِ ہٰذا کے ٹائٹل پر 20 شعراء بشمول خواتین شعراء کی تصاویر بھی پیش کردی گئی ہیں وہ بیس شعراء کے نام یہ ہیں:

۱۔ کشفی الاسدی ۲۔ مخدوم غفور ستاری ۳۔ رضا ٹوانہ ۴۔ ظریف احسن ۵۔ ڈاکٹر سجاد حیدر ۶۔ رمضان زاہد ۷۔ مظہر قلندرانی ۸۔ سعید احمد سعید ۹۔ اکبر نقاش ۱۰۔ انور سعید انور ۱۱۔ شازیہ خان شازی ۱۲۔ محمود اختر ۱۳۔افضل چوہان ۱۴۔ راشد ترین ۱۵۔ ثروت فاطمہ عنقا ۱۶۔ فیض رسول قیصر ۱۷۔ ارمان یوسف ۱۸۔ شاہد خاکوانی ۱۹۔ زمان کاوش ۲۰۔ فیض امام رضوی

مذکورہ بالا شعراء کے اشعار کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری سے مماثلت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے ہر شاعر کے شعر کے ساتھ ایک دو شعر ظریف احسن صاحب کے بھی موجود ہیں۔ کتاب 112 صفحات کی ضخامت رکھتی ہے اور ابتدا تا آخر مظفر گڑھ کے لاتعداد شعراء کے اشعار اس کتاب کے حسن و آرائش کا حصہ بنے ہیں۔ان میں کافی اچھے شعر بھی ہیں اور کچھ ایسے بھی کہ جن پر گمان ہوتا ہے کہ یہ مضمون کسی اور شاعر کے ہاں بھی موجود ہے مثلاً اقبال احمد خاں سہیل کا درج ذیل مصرعہ ثانی کچھ سنا سنا سا لگتا ہے۔ مگر یہ بات بھی ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو اُسے ضرور (Inverted Comma) میں لکھتے۔ ہو سکتا ہے یہ میرا واہمہ ہو۔ شعر کچھ اس طرح ہے:

وہ روئیں جو منکر ہوں حیاتِ شہداء کے
ہم زندۂ جاوید کا ماتم نہیں کرتے
اس شعر کا پہلا مصرعہ بھی کچھ غور طلب ہے۔ یہاں اچھے اشعار بھی موجود ہیں ان میں کچھ اشعار اقبال سہیل کے بھی شامل ہیں۔
حنیف سیماب کا یہ شعر مجھے پسند آیا:
مصلحت کو اوڑھ کے جب سوگئے تو دیکھنا
مسئلہ در مسئلہ سب مسئلے رہ جائیں گے
خود ظریف احسن کا یہ شعر فکر و آگہی کا منہ بولتا ثبوت ہے:
اپنے حصے کے خواب لکھتا ہوں
آگہی کے عذاب لکھتا ہوں
اہلِ نظر حضرات کی کم نگہی کا شکوہ بڑے اچھے انداز میں لکھا گیا ہے اور اچھے مشورہ سے بھی نوازا ہے حقیقت یہ ہے کہ اہلِ نظر حضرات اب خال خال ہیں
اپنی قامت چھپائو لوگوں سے
لوگ اہلِ نظر نہیں ہوتے
(نذر ساجد)
ہم کو مخدوم کیا سمجھنا تھا
آپ سمجھانے آئے تو سمجھے
(مخدوم غفور ستاری)
جب سے چھوٹی ہے وہ رسمِ محبت کشفیؔ
سخت بے کیف نظر آتے ہیں اشعار مجھے
(کشفی الاسدی)
میں کہاں تک منتخب اشعار لکھوں۔ اس کتاب میں تو بے شمار اشعار موجود ہیں مگر تجزیے کی طوالت کا خوف بھی تو دامن گیر ہے۔
دو خواتین کے شعر بھی ملاحظہ کیجیے:
وہ جو خوشیوں میں رہا مجھ سے گریزاں عنقاؔ
میں اسے درد کے موسم میں بلائوں کیسے
(ثروت فاطمہ عنقاؔ)
محبت یہ بتاتی ہے حیات جاوداں کیا ہے
محبت یہ سکھاتی ہے ازل کا وہ جہاں کیا ہے
(شازیہ خان شازی)
آخر میں ظریف احسن کا یہ شعر
میں اول آخر ہوں تمہارا
میں روشنی تم استعارہ
٭٭٭
نام کتاب:میں مکہ بھی ہوں،
میں مدینہ بھی ہوں ( حمدیہ و نعتیہ کلام)
مصنف:ظریف احسن
موضوع:شاعری اور رودادِ عمرہ (مصنفہ سلمیٰ ظریف)
ضخامت:104 صفحات
قیمت:250 روپے
ناشر:حرفِ زار انٹر نیشنل، کراچی
مبصر: مجید فکری
ایک وہ زمانہ تھا جب نعت کو صنفِ سخن کا درجہ بھی دینے میں اہلِ ادب جھجک سی محسوس کرتے تھے جبکہ نعت ہی ہر محفل میں ابتداً پڑھی جاتی تھی اور پھر نعت کو باقاعدہ ادب کا حصہ قرار دیا جانے لگا۔ اس کی وجہ صرف اور صرف یہی تھی کہ نعت لکھنے والے تو بے شمار تھے لیکن اسے خاص ادب و آداب کے ساتھ نثری ادب میں زیر بحث لانے والے ادیب و شعراء کی تعداد خال خال تھی۔
بعد ازاں برصغیر ہند و پاکستان کی کچھ اہم شخصیات جن میں ادیب و شاعر دونوں شامل تھے نعتیہ ادب پر دیگر اصنافِ سخن کی طرح لکھنے اور شائع کرنے کا بیڑہ اٹھایا گیاا ور اب یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ نعت اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ بے شمار شعراء کرام نعتیں لکھ رہے ہیں اور جہاں وہ نعتیہ ادب میں اپنا مقام بنا رہے ہیں وہیں مدحتِ رسولؐ کے طفیل محبوب خدا، بدرالدجیٰ، شفیع الوریٰ کے عقیدت مندوں میں اپنی حاضری کا حصہ بھی بنتے جارہے ہیں جوان کی آخرت میں بھی بخشش کا سہارا بنے گی وہیں یہ لوگ بہ روزِ حشر حضور اکرم ؐ کے دیدار سے مستفیض ہونے کا شرف بھی حاصل کریں گے۔
پیش نظر کتاب ’’میں مکہ بھی ہوں … میں مدینہ بھی ہوں‘‘ مذکورہ بالا عقیدت مندانہ کوششوں میں سے ایک مستحسن کوشش ہے۔
یہ کتاب جہاں دو افراد ظریف احسن اور سلمیٰ ظریف کی کوششوں کا حصہ ہے وہیں یہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ ظریف احسن کے نام سے اور دوسرا حصہ سلمیٰ ظریف کے نام سے مختص ہے۔ اول الذکر میں خداوند تعالیٰ کی حمد اور رسول اکرمؐ کی شان میں نعتوں کا نذرانہ پیش کیا گیا ہے جبکہ دوسرے حصہ میں سلمیٰ ظریف صاحبہ نے رودادِ عمرہ بڑے دلنشیں دلکش انداز میں تحریر کی ہے جو کسی سعادت سے کم نہیں ہے اور یہ عمرہ کرنا بھی عبادت کے زمرے میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ یہ سعادت بھی اُسے ہی نصیب ہوتی ہے جس کا بلاوا آتا ہے۔ گویا اس میں مرضیٔ مولا اور حضور کی آشیر باد شامل ہوتی ہے۔
پیش نظر کتاب ’’میں مکہ بھی ہوں … میں مدینہ بھی ہوں‘‘ ظریف احسن کی دس حمدیں اور بیس نعتیں شامل ہیں جبکہ کتاب کے دوسرے حصے میں سفرِ عمرہ سے متعلق 20 صفحات مختص کئے گئے ہیں۔ اس پر تبصرہ کیاکرنا ؟ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا سے کسے انکار ہوسکتا ہے ، وہی ہمار امعبود اور وہی ہمارا مالک و مختار ہے۔ اس کے اشارہ کے بغیر کوئی پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔ کائنات کی ہر شئے اسی کی تابع ہے۔ظریف احسن صاحب نے اللہ پاک کے ذکر کے بعد نعت کے اشعار پیش کیے ہیں انہیں پڑھ کر ہر مسلمان کادل سرشار ہوجاتا ہے اور یہ خوشی کے مواقع ہمیں ظریف احسن صاحب نے بہم پہنچائے ہیں۔خوبی اس حمدیہ کلام کی یہ ہے کہ اسے لکھنے میں انہوں نے نظم نگاری کا ہر انداز اختیار کیا ہے کہیں چار مصرعوں میں شاعری کی ہے تو کہیں دس مصرعوں میں نظمیں لکھی ہیں اور کہیں غزل کے پیرائے میں حمدیہ اشعار موجود ہیں۔پہلی حمد ہی اللہ کی وحدانیت اس کے ابتداتا انتہا رہنے کا یقین پھر ’’شُکر اللہ‘‘ کے عنوان سے کچھ آزاد نظمیں، کعبۃ اللہ کی زیارت کا حال، حجرِ اسود کو بوسہ دینا، مکہ کا طواف کرنا، حطیم میں سربسجود ہونا، پھر مقامِ ابراہیم پر قیام، بعد ازاں اسی نظم میں وہ مدینے روانگی کا آغاز کرتے ہوئے اللہ کا شکر بجا لانے کے ساتھ یہ دعا بھی کہ جب وہ حمد لکھیں تو کعبۃ اللہ کے سامنے موجود ہوں اوراسی طرح نعت لکھتے وقت روضہ رسول سامنے ہوں۔
پھر اس کے بعد وہی اشعار شروع ہوتے ہیں جن میں سے ایک مصرعہ اس کتاب کا عنوان بھی منتخب ہوا ہے۔ سبحان اللہ کیا شائستگی کیا اسلوب بیان ہے دیگر اشعار ِحمد کا! ذکرِ الٰہی سے دل مخمور ہوجاتا ہے اور روح کو تازگی بھی محسوس ہوتی ہے۔
کتاب کا دوسرا حصہ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا عمرہ کی روداد پر مبنی ہے جسے ان کی بیگم محترمہ سلمیٰ ظریف نے تحریر کیا ہے۔ اس روداد سے بھی اُن کے شکر او رسعادت کے شرف کو حاصل کرنے میں وہ رب تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدۂ شکر بجا لاتی ہیں کہ جس نے انہیں یہ سعادت بخشی:
’’یہ اس کی دَین ہے جسے پروردگار دے‘‘
بیگم ظریف احسن بیان کرتی ہیں کہ ان کے شوہر اے۔جی سندھ میں بطور سینئر آڈیٹر تھے جہاں عمرہ کی ادائیگی کے لئے قرعہ اندازی کی گئی اور ظریف احسن کا نام قرعہ اندازی میں نکل آیا اور ا س طرح یہ مکہ، مدینہ جانے کا سبب بن گیا۔
٭٭٭
نام کتاب:مظفرگڑھ ہے شہ پارہ
موضوع:شاعری
مصنف:ظریف احسن
کمپوزنگ:شیرازی شاعر
ناشر:حرفِ زار انٹر نیشنل، کراچی
تقسیم کار:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
مبصر:مجید فکری
پیش نظر کتاب ظریف احسن صاحب کی 2017ء میں لکھی جانے والی کتابوںمیں غالباً تیسری کتاب ہے۔ اس سے پہلے وہ اپنے فریضۂ عمرہ کی روداد کے ساتھ اپنا شعری مجموعۂ حمد و نعت ’’میں مکہ بھی ہوں اور مدینہ بھی ہوں‘‘ تخلیق کرچکے ہیں جبکہ اردو شاعری کے فروغ میں مظفر گڑھ کے شعراء کا کردار کے عنوان سے ایک شعری انتخاب بھی مرتب کرچکے ہیں۔
اور اب اسی سال یہ شعری مجموعہ بھی منظر عام پر آچکا ہے۔ جسے رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی نے شاعر علی شاعر کی نگرانی میں پایۂ تکمیل تک پہنچایا ہے۔ یہ ظریف احسن کا خالصتاً شعری مجموعہ ہے جس میں مختلف شخصیات جن کا تعلق کسی نہ کسی طور پر مظفر گڑھ سے وابستہ رہا ہے ان کا تعارف، خدمات خواہ وہ سیاسی ہوں، عوامی ہوں یا ادبی خدمات ہوں ان کا تعارف مخصوص شعری انداز میں پیش کیا گیا ہے۔بعض جگہ تو ایسا بھی محسوس ہوتاہے جیسے یہ ان کی سوانح عمری بیان کررہے ہیں۔
پیش نظر کتاب سے متعلق تاثرات بیان کرنے والوںمیں ڈاکٹر مختار ظفر، محمود اختر خاں، پروفیسر ڈاکٹر سجاد حیدر پرویز،پروفیسر قیصر عباس اور محمد عتیق صاحب شامل ہیں۔ جبکہ ان صاحبان کے ایک ایک منتخب شعر کے ساتھ انتساب بھی تحریر کیا گیا ہے۔
انتساب کے بعد ظریف احسن کا یہ شعر ان کے منتخب اشعار کا منتخب شعر کا نمونہ ہوسکتا ہے جبھی تو اس شعر کے لئے ایک پورا صفحہ مختص کیا گیا ۔ مگر نہ جانے کیوں مجھے اس موقع پر ایک بزرگ ممتاز شاعر جناب سہیل غازی پوری کا بھی وہ شعر یاد آگیا جو انہوں نے بھی آئینے کے موضوع پر کہا تھا لیکن اب ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جیسے یہ شعر اُنہوں نے ظریف احسن کے شعر کے جواب میںلکھا ہو! اب آپ دونوں شعراء کے شعر ملاحظہ فرمائیے:
میں وہ آئینہ رُوبرو جس کے
یہ جہاں دیر تک سنورتا ہے
(ظریف احسن)
یہ آئینہ ہے کبھی ٹوٹ بھی تو سکتا ہے
بغیر اس کے سنورنے کی عادتیں ڈالو
(سہیل غازی پوری)
بہر حال، پیش نظرکتاب میں حمد بھی شامل ہے، ’’بہار مدینہ‘‘ کے عنوان سے ایک نعتیہ نظم بھی جبکہ دیگر شخصیات پر اُن کے ناموں کے ساتھ بلکہ ان کے کارہائے نمایاں کو پیش کیا گیا ہے۔انہی شخصیات کے تعارف میں شاعری کا ایک عجیب و منفرد انداز اپنایا گیا ہے۔ بہت سی نظموں پر آزاد شاعری کا گمان ہوتا ہے۔ کچھ نظمیں نثری نظموں کے زمرے میں بھی شمار کی جاسکتی ہیں جبکہ کچھ نثری مضامین بھی شامل ہیں جنہیں شخصی خاکوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔

ے بھی موجود ہیں۔ کتاب 112 صفحات کی ضخامت رکھتیʟ鴀ᴹ

Electrolux