جب بھی مسلمان اللہ اوررسول ﷺ کے نام پرمتحدہوئے کامیابی حاصل کی ‘پروفیسر احمدرفیق

معروف سیاست دان اور سابق صوبائی وزیر ایم ، اے رؤف صدیقی اور عبدالحسیب کی جانب سے بین الاقوامی شہرت یافتہ فلاسفر اور مفکر اسلام پروفیسر احمد رفیق اختر کے اعزازمیں تقریب کااہتمام ‘پروفیسراحمد رفیق نے خصوصی لیکچر دیا جس کا عنوان تھا ’’ قومی کردار اور روحانیت ‘‘ یہ لیکچر تاز زو لوجیکل گارڈن فیڈرل بی ایریا میں دیا گیا جہاں کثیر تعداد میں خواتین وحضرات موجود تھے انتظامیہ میں ظہیر خان ، ڈاکٹر محمد علی خالد ، شائق احمد کے نام بھی شامل تھے ۔ جبکہ مہمانوں میں سینیٹر فروغ نسیم خالد مقبول صدیقی بھی موجود تھے تقریب کی میزبانی کرتے ہوئے رؤف صدیقی نے پروفیسر احمد رفیق اختر کاتعارف کرایا اور لیکچر کی دعوت دی ۔ پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب نے پوری دنیا میں موجودہ حالات اور مسلمانوں کی فتوحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی مسلمان اللہ اور رسولؐ کے نام پر متحد ہوئے انہوں نے دنیا میں کامیابیاں حاصل کی اور جب جب آپس میں اختلافات کا شکار ہوئے تو اسی طرح رسوا اور خوار ہوئے تاریخ گواہ ہے کہ سلطان حیدر علی ، سلطان صلاح الدین ایوبی ، طارق بن زیاد ، محمد بن قاسم نے صرف اور صرف اللہ اور اُس کے رسول کی خوشنودی اور مظلوم مسلمانوں کی داد رسی کیلئے جہاد کیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں سرخرو اور کامیاب کیا عیسائیوں اور یہودیوں کو صرف مسلمانوں سے خوف اور ڈر ہوتا ہے کہ اگر مسلمان اللہ اور رسول کے نام پر متحد ہوگئے تو یہ پوری دنیا پر قبضہ کرلیں گے اسی لیئے ہمارے مسلمان بھائیوں کو فرقوں اور تعصّب میں بانٹتے ہیں تاکہ یہ آپس میں لڑتے اور تقسیم رھیں مگر جب بھی اللہ اور رسول کے نام پر مظلوموں نے پکارا تو یہی مسلمان ایک بار پھر اللہ کے نام پر جہاد کے لیئے نکل پڑینگے اور پوری دنیا پر امن و آشتی کا پرچم بلند کرینگے انہوں نے روحانیت کے حوالے سے بتایا کے ’’ شرح ‘‘ کا مطلب ہی انسانوں کو ایسا اصول اور راستہ بتانا ہے کہ جس پر چل کر لوگ باحفاظت اپنی اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ سکیں ’’ ( سیف پیکج ) ‘‘ ’’ طریقت ‘‘ کا مطلب ہے ایک ایسا ستون جس پر شامیانہ ٹھیرا ہوا اور تمام لوگ اس میں محفوظ ہوں پروفیسر احمد رفیق اختر نے کہا کہ انسانوں کے زوال کا وقت وہ ہوگا کہ جب انسان ( 1 ) اجزام فلکی میں در اندازی کرے گا ( 2 ) جب انسانوں اور ماحول کو اجاڑنے والے آلات استعمال ھونگے یعنی ایٹم بم ودیگر آلات اور آخر میں ( 3 ) دائمی قربانی ختم ہوجائیگی یعنی حج اور عمرہ پر پابندی وغیرہ ۔ تقریب کے آخر میں خالد مقبول صدیقی ، بیرِسٹر فروغ نسیم ، عبدالحسیب نے بھی خطاب کیا جبکہ ظہیر خان ، ڈاکٹر محمد علی خالد اور شائق احمد نے مہمان مقرر کو گلدستے پیش کیئے اور آخر میں لزت و کام و دھن کا اعلان ہوا ۔

Electrolux