... loading ...
کتاب:منزلِ مراد(ناول)
ناول نگار:پروفیسر ہارون الرشید
قیمت:300/- روپے
ناشر:میڈیا گرافکس، کراچی
پروفیسر ہارون الرشید کثیر التصانیف اور کثیر الجہات شخصیت ہیں۔ ان کی اب تک اُردو ادب (تاریخ و تنقید) کی 9؍ جب کہ دبستانِ مشرق پر 4 ؍اور ذہنی اور فکری جائزوں کی 9، شاعری کی 6 ؍کتابیں زیورِ طباعت سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ ’’زندگی نامہ‘‘ خود نوشت اور ’’اپنے لہو کی آگ میں‘‘،’’ منزل ہے کہاں تیری‘‘ کے بعد ’’منزلِ مراد‘‘ تیسرا ناول ہے جو کراچی کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کوئی خوش نصیب ہوگا جو کراچی کے خراب حالات سے متاثر نہ ہوا ہو۔ لوگوں کے کاروبار تباہ ہو گئے۔ عورتوں کی عزتیں پامال ہو گئیں، تجارت تباہ و برباد ہو گئی۔ گھر کا واحد سہارا چھن گیا، ٹاچر سیل کی وجہ سے لوگ نہ صرف اپاہج ہو گئے بلکہ صحت و تن درستی اور یہاں تک کہ زندگی سے محروم کر دیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کے معاشی، ادبی، سماجی اور سیاسی پس منظر میں بہت سی کتابیں لکھی گئیں۔ ’’منزلِ مراد‘‘ بھی ایک ایسا ہی ناول ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
٭٭٭
کتاب:کچوکے(نثر پارے)
مصنف:جسٹس ایس اے ربّانی
قیمت:280/- روپے
ناشر:قرطاس۔ کراچی
جسٹس ایس اے ربّانی صاحب کی متعدد کتب زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں اُردو اور انگریزی زبان کی کتابیں شامل ہیں۔ جسٹس ایس اے ربانی ایک قابل اور قد آور شخصیت کا نام ہے جو ایک طویل عرصے تک قانون اور شرعی عدالت کی خدمات سر انجام دیتے رہے اور اپنی تعلیمی صلاحیت، علمی استعداد اور ذہنی قابلیت سے عوام و خواص کو فائدہ پہنچاتے رہے۔ ’’کچوکے ‘‘کے نام سے ان کی کتاب منظر عام پر آئی ہے جس میں مختصر جملے لکھے گئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ جملے کوئی اخلاقی درس نہیں، نہ کوئی مستند اصول ہے، یہ صرف پڑھنے والے کو سوچنے پر آمادہ کرتے ہیں، ہر شخص اس کا مفہوم اپنی دانش کے مطابق نکال سکتا ہے۔ اس کتاب کا ہر جملہ فکر انگیز ہے اور سعادت حسن منٹو کے سیاہ حاشیوں کی یاد دلاتا ہے۔
٭٭٭
کتاب:وقت میرے حصّے کا
مصنف:جسٹس ایس اے ربّانی
صفحات:196
ناشر:فضلی بک سپر مارکیٹ، کراچی
’’وقت میرے حصّے کا‘‘ جناب جسٹس ایس اے ربّانی کی خود نوشت ہے جس میں انھوں نے اپنی زندگی میں ہونے والے تلخ و شیریں تجربات، عمیق مشاہدات، نازک احساسات اور شدید جذبات کا اظہار کیا ہے۔ آپ نے جو 1947ء کے وقت تقسیم برصغیر سے ہجرت میں مصائب برداشت کیے ، صعوبتیں جھیلیں اور پریشانیوں سے دوچار ہوئے اس خودنوشت میں ان کا برملا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے آزادی، پاکستان روانگی، کراچی آمد، نئے لوگ نیا ماحول، صحافت، مارشل لاء، کراچی پورٹ ٹرسٹ، سندھ کے مختلف اضلاع میں تعیناتی، مختلف اسمبلیوں کی روداد، سندھ ہائی کورٹ، فیڈرل شریعت کورٹ کا ذکر کیا ہے۔ کسی جسٹس کی زندگی کا مطالعہ کرنے کے لیے یہ کتاب انتہائی اہم ہے۔اس سے ہمیں جسٹس ایس اے ربانی صاحب کے قلمی ہنر کا پتا بھی چلتاہے اور ان کی زندگی سے آگاہی بھی ہوتی ہے۔
٭٭٭
کتاب:سخن آئینہ(شعری مجموعہ)
شاعرہ:اسما ناز وارثی
قیمت:400/- روپے
ناشر:ادارئہ رموز، کراچی
’’سخن آئینہ‘‘ محترمہ اسما ناز وارثی کا شعری مجموعہ ہے جس میں ان کی اُردو اور انگریزی زبان میں کی گئی شاعری کو شاملِ اشاعت کیا گیا ہے۔ اس کتاب پر تسلیم الٰہی زلفی اور رفیع الدین راز صاحبان نے اپنی مثبت آرا کا اظہار کیا ہے۔ کتاب میں حمد، نعت، ہدیۂ عقیدت، غزل، نظم، طنز و مزاح، قطعات، متاعِ درد کے عنوانات سے تخلیقات شامل کی گئی ہیں۔’’ متاعِ درد‘‘ اسما ناز وارثی کا شعری مجموعہ تھا جو اس سے قبل پاکستان کے معروف اشاعتی ادارے رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی نے شایع کیا تھا۔ زیر نظر کتاب میں متاع درد پر لکھے جانے والی آرا کو شامل کیا گیا ہے۔سید افتخار حیدر، نسرین سید، ڈاکٹر خالد سہیل، سید حسین حیدر اور پروفیسر رحمان خاور کی آرا شامل ہیں۔ یہ کتاب رنگِ ادب پبلی کیشنز کراچی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
٭٭٭
کتاب:بولتی آنکھیں(نظمیں)
شاعر:خواجہ رحمت اللہ جری
قیمت:600/- روپے
ناشر: الحمد پبلی کیشنز، کراچی
خواجہ رحمت اللہ جری ایک طویل عرصے سے دشتِ سخن کی سیاحی میں مصروف ہیں ۔ ان کی چار کتابیں ’’ضرب لطیف‘‘، ’’ صقیلِ دل‘‘،’’ رقص قندیل‘‘ اور’’ بولتی آنکھیں‘‘ شایع ہو چکی ہیں جب کہ پانچ کتابیں زیر طبع ہیں جن میں غزل، معریٰ غزل، قطعات، ہائیکو، نثری مضامین اور احادیثِ نبوی کا منظوم ترجمہ شامل ہوگا۔ خواجہ رحمت اللہ جری کی جائے پیدائش حیدر آباد دکن ہے۔ وہیں انھوں نے بی ای سول کی ڈگری حاصل کی اور بمبئی میں بہ حیثیت لیکچرار خدمات انجام دیں۔ 1968ء میں پاکستان ہجرت کر آئے اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ انھوں نے کافی عرصے کراچی اور سعودی عریبہ میں سول انجینئر کی حیثیت سے کام کیا۔ ’’خواجۂ سخن‘‘ اور’’ مسیحائے بزمِ شاب‘‘ کے خطابات پانے والے شاعر کی کتاب ’’بولتی آنکھیں ‘‘فکر انگیز، عالمی حالات اور شخصیات پر لکھی گئی نظموں کا مجموعہ ہے۔
٭٭٭
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...