امریکی حکم پر خواتین بٹن دباکر ایٹم بم چلائیں گی

نارتھ ڈکوتا کے شہر مینورڈ میں 60فٹ زمین کے نیچے 247 خواتین کا دستہ کسی بھی لمحے اشارہ ملنے پر دنیا کومتعدد ایٹم بموں سے نیست و نابود کرنے کے لیے ہر وقت تیاررہتاہے۔ مختلف گروپوں میں تقسیم اس ٹیم کا ایک گروپ ڈیوٹی دیتا رہتا ہے،اپنی باری پر ایک گروپ ہر وقت چوکس رہتا ہے،چائے کی چسکیاں لگاتا ہے، اخبار پڑھتا ہے، ٹی وی دیکھتا ہے،عام آدمی کی طرح لائف کو انجوائے کرتا ہے۔ایک گروپ کے جاگنے پر دوسرا دستہ آرام سے سوتا ہے ،جب دوسرے گروپ کے لوگ اٹھتے ہیں تو وہ بھی سارا دن زیر زمیںبنکر میں گزارتے ہیں۔آپس میں خوب گپ شپ رہتی ہے۔ لیکن اسی گپ شپ ، چائے کی چسکیوں کے دوران وہ ایٹمی حملے سے متعلق خفیہ کوڈ کی کتاب کو ہر وقت تھامے رہتے ہیں ،لمحہ بھر کے لیے وہ ایٹمی کوڈ کی کتاب سے غافل نہیں ہوتے۔ ان کا یہی کام ہے۔ ان خواتین کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ انہوں نے ہر دم چوکس رہنا ہے۔ اپنے حصے کا کام سرانجام دینا ہے اور جو کام انہیں دیا گیا ہے اس کے لیے انہیں اچھی طرح ٹریننگ دی گئی ہے۔ 247خواتین پر مشتمل گروپ کا مقصد جنگ کی صورت میں ہدایت ملنے پرایٹمی بٹن کو دبانا ہے جس کے دبتے ہی ایک دو یا جتنے بھی ا مریکا چاہے گا، اتنے ہی ایٹم بم چلیںگے۔
این بی سی کے مطابق۔کیا روس، کیا چین، 8ہزار میل کی دوری پر امریکی میزائل کسی بھی شے کو تباہ کر سکتے ہیں، ان ایٹمی ہتھیاروں کی رفتار ،آواز سے 20گنا تیزہے۔جوایک گھنٹے کے اندر اندردنیا کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔امریکی ٹیلی ویڑن نیٹ ورک کے مطابق بیجنگ ، ماسکو اورشمالی کوریا کواس اڈے سے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میںنشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ خواتین امریکا میں ’’ایٹمی میزائل خواتین‘‘ کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں۔ 450ایٹم بم ان کی کمان میں ہیں۔امریکی تیاریوں کے مطابق یہ تمام ایٹم بم بیک وقت بھی چلائے جا سکتے ہیں۔خود یہ ایٹم بم کے اثرات سے محفوظ ’’بم پروف‘‘ چیمبرز میں چھپی بیٹھی ہیں۔90ایٹم بموں کو مغربی علاقے کے دیہات کی جانب فضائی اڈے کے قریب ہی چھپایا گیاہے۔ خواتین کی اس فورس کی کمانڈر کیپٹن ایریکاویٹ جینیٹ ہیں۔ انہیں اپنا یہ ’’ایٹمی کام‘‘ کافی پسند ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ وہ جو کچھ بھی کر یں گی، کائنات میں زندگی کو بچانے کے لیے کریں گی، لیکن کبھی کبھی زندگی بچانے کے لیے جان لینا بھی پڑتی ہے۔یہ خواتین خوش بھی ہیں، اورپرسکون اور سنجیدہ بھی ، سب سے بڑھ کر اپنے مشن سے مخلص بھی ہیں ۔ زمین کے 60فٹ نیچے کا’’ ایٹم بم پروف‘‘ علاقہ عام زمین کی طرح ہے ،ان خواتین کو کھیت بھی میسر ہیں اور چراگاہ بھی۔یہاں خوبصورت کھیت کے منظر بھی ہیں اور جاگنگ ٹریک بھی بنے ہوئے ہیں۔بلکہ آپ کو کہیں کہیں آسمان جیسا منظر بھی دیکھنے کو ملے گا۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ خواتین اتنی زیادہ بھی ’’ زمین دوز نہیں‘‘۔ یہ زمین کے اوپر آنے کا بھی اختیار رکھتی ہیں۔ وہ روزمرہ کے تما م واقعات سے آگاہ ہوتی ہیں۔ایٹم بم چلانے کا طریقہ کار انتہائی پیچیدہ ہے اور کچھ تو ابھی بھی خفیہ ہے۔ ایٹم بم چلانے والی ان خواتین کو بھی نہیں پتہ کہ اس کا راز کیا ہے ،اور جب چلے گا تو کیا ہوگا۔وائٹ ہائوس بھی پورے کوڈ سے آگاہ نہیں،اسے ’’2پرسن کو ڈ‘‘ کہاجاتا ہے یعنی ایسا کوڈ جو دو لوگوں کے کوڈ سے مل کر ہی مکمل ہوگا۔

Electrolux