وجود

... loading ...

وجود

استقبال کتب

اتوار 25 فروری 2018 استقبال کتب

رسالہ: نظم کائنات(جنوری تا مارچ ۲۰۱۸ء)
چیف ایڈیٹر:پروفیسر شاہین حبیب
قیمت:۱۵۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،کراچی
نظم کائنات کا تازہ شمارہ جنوری تامارچ ۲۰۱۸ء شائع ہوگیا ہے ، یہ ایک علمی ، سائنسی اور تحقیقی مجلہ ہے جسے ماہر تعلیم محترمہ پروفیسر شاہین حبیب صاحبہ(سابق ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبۂ کیمیا،گورنمنٹ سرسید گرلز کالج،کراچی) نے ترتیب دیاہے،زیر نظر شمارہ سرسید احمد خان کے ۲۰۰ سالہ جشن پیدائش کے موقع پر ’’سائنسی ابلاغ نمبر‘‘ ہے ۔’’نظم کائنات‘‘ اسکولوں،کالجوں اور جامعات کے طلبہ اور شائقین کے لیے ایک تحفہ ہے جس کا مطالعہ طلبہ کے لیے نہایت ضروری اور اہم ہے۔رسالے میں القرآن،حمدونعت،گوشۂ تحریک پاکستان،گوشۂ سائنسی ادب،گوشۂ اطفال اور کتب بینی و کتب شناسی کے عنوانات سے ابواب شامل اشاعت ہیں۔نظم کائنات سائنسی ادب کا ترجمان اور نمائندہ رسالہ ہے جس کی ترتیب وتزئین و اہتمام اور کامیاب اشاعت محترمہ پروفیسر شاہین حبیب صاحبہ کی عرق ریزی،باریک بینی اور محنت شاقہ کا منہ بولتاثبوت ہے۔نظم کائنات کے سرپرست اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری،مدیرہ اعلیٰ پروفیسر شاہین حبیب،قانونی مشیر خلیل احمد خلیل ایڈووکیٹ ہیں۔یہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک منفرد رسالہ ہے جو باقاعدگی سے شائع ہو رہاہے اور سائنسی ادب کی ترجمانی کررہاہے۔
٭٭٭٭
کتاب:جد ید لب و لہجہ کا منفرد غزل گو ’’رفیع الدین رازؔ‘‘
(مقالہ برائے پی ایچ ڈی)
مقالہ نگار:ڈاکٹر فرحت جہاں
قیمت:500/- روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
میتھلا یونی ورسٹی( انڈیا) سے جناب رفیع الدین رازؔ کے فن و شخصیت پر مقالہ برائے پی ایچ ڈی لکھاگیا ہے۔ یہ تحقیق 2016ء میں تکمیل کو پہنچی۔مقالہ نگارکو 2017ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری ایوارڈ ہوئی اور 2018ء میں یہ مقالہ کتابی شکل میں کراچی( پاکستان) سے شایع ہوا۔ اس مقالے، مقالہ نگار، نگرانِ مقالہ اور جس شخصیت (رفیع الدین رازؔ) پر مقالہ ہوا ان تمام کے بارے میں جاننے کے لیے جناب شاعر علی شاعر کی رائے ملاحظہ فرمائیں:
’’ جناب رفیع الدین رازؔ کے فن و شخصیت پر متھلا یونی ورسٹی (انڈیا)نے ریسرچ ورک کرایا تھا جس کی تکمیل پر محترمہ فرحت جہاں کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی گئی ہے، یہ پی ایچ ڈی کا مقالہ ڈاکٹر فرحت جہاں نے معروف ماہرِ تعلیم جناب پروفیسرظفر حبیب کی نگرانی میں مکمل کیاہے۔
جناب رفیع الدین رازؔقابلِ مبارک باد ہیں کہ اُن کی اوّلین شعری تصانیف پر کراچی یونی ورسٹی،پاکستان سے ڈاکٹر سہیلہ فاروقی کی نگرانی میں محترمہ ناعمہ پروین نے بہ عنوان ’’رفیع الدین رازؔ…فن و شخصیت ‘‘ایم کاتحقیقی مقالہ لکھااور ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ،بعدکے شعری مجموعہ ہائے کلام کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہزارہ یونی ورسٹی، پاکستان سے بہ عنوان ’’رفیع الدین راز ؔکی شاعری کا فکری و فنی مطالعہ‘‘ تحقیقی کام ہو رہاہے جس کی تکمیل پر ریسرچ اسکالر جناب محمد زمان کو ایم فل کی ڈگری سے نوازا جائے گا۔
اس سے قبل جناب رفیع الدین رازؔ کے فن پر پاکستان کے جید نقاد جناب گوہر ملسیانی (مرحوم)نے ’’سخن کا چراغ …رفیع الدین رازؔ‘‘ کے عنوان سے 600صفحات پر مشتمل تنقیدی کتاب تصنیف کی تھی جسے خاص پذیرائی حاصل ہوئی۔
جیسے جیسے رفیع الدین رازؔ صاحب کی تخلیقاتِ شعری میں اضافہ ہورہاہے ،ویسے ویسے اُن کے فن و شخصیت پر تحقیقی کام بھی تسلسل سے ہو تاجارہاہے ، ایسی عزت و پذیرائی بہت کم شعراکو نصیب ہوتی ہے۔
میرا خیال ہے کہ اچھے یا بڑے شاعرکا فیصلہ تو آنے والی نسلیں اور زمانہ کرتا ہے مگرمیری نظر میں فی زمانہ اچھا شاعروہ ہوتاہے جو سب سے زیادہ Discussہو رہا ہوتا ہے ، پاکستان میں اِس وقت جناب ظفر اقبال سمیت گنتی کے چند شعرا ہیں جوDiscussہورہے ہیں، اُن میں ایک رفیع الدین راز ؔ بھی ہیں۔
جناب رفیع الدین رازؔکے اب تک سترہ مجموعہ ہائے کلام نہ صرف زیورِ طباعت سے آراستہ ہوکر منظرِ عام پر آچکے ہیں بلکہ قارئین،ناقدین اور مشاہیرِ اُردو ادب سے دادو تحسین بھی وصول کر چکے ہیں۔اُن کی کلیاتِ غزل’’سخن سرمایہ‘‘ ا ور کلیاتِ نظم’’آبشارِ سخن‘‘ میں سات سات مجموعہ ہائے کلام یک جا شائع کیے گئے ہیں جب کہ ’’در آئینہ‘‘ ،’’دل آئینہ ہوا‘‘ اور ’’روشنی کے خدوخال‘‘کلیات کے علاوہ ہیں۔عن قریب ۸۵ بحروں میں کہی جانے والی رفیع الدین رازؔ کی غزلیات کا مجموعہ شایع ہورہاہے جو اپنی نوعیت کا منفرد کام ہے ،یہ مجموعہ قارئین اور ماہرینِ علمِ عروض کے لیے تحفہ ثابت ہو گا اور اُردو ادب میں وقیع اضافہ بھی ۔ ‘‘
٭٭٭
کتاب :20کہانیاں
مصنف :شاعرعلی شاعر
قیمت:10؍روپے فی کتاب
ناشر :شمع بک ایجنسی،کراچی
اس میں کوئی شک نہیں کہ جناب شاعرعلی شاعر ہمارے وطن عزیز کی مشہورومعروف قد آور ادبی شخصیت ہیں ،ان کی جہات میں شاعروادیب،افسانہ و ناول نگار اورنقادوصحافی شامل ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی اب تک 110کتابیں جن میں تصنیف و تالیف اور ترتیب و تدوین شامل ہے زیورطباعت سے آراستہ ہو کر فروخت ہو چکی ہیں۔حال ہی میں شمع بک ایجنسی،اُردو بازار،کراچی کے پلیٹ فارم سے بچوں کے لیے بیس دل چسپ کہانیاں علاحدہ علاحدہ کتاب کی صورت میں شائع ہوئی ہیں جن میں ،بیتی خدا کی رحمت بہادر شہزادی خون خوار پرندہ شیخ چلی کا بھائی عقل مند فقیر بکری کا بچہ بونوں کی دنیا شکاری جوکر شیر کا شکار انوکھی تلاش خوش نصیب لکڑ ہارا جادوگرنی ہنر مند بہنیں احسان فراموش جاسوس بچے بہادر جنگجو جادونگری آدم خور ایمان دار سوداگر اور سچادوست شامل ہیں۔ ان کتابوں کی قیمت بچوں کی جیب خرچ سے بھی انتہائی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام بچے ان کہانیوں کو بڑے شوق سے خرید کر پڑھ رہے ہیں اور اپنے دوستوں کو تحفے میں بھی پیش کر رہے ہیں۔
٭٭٭
رسالہ:ماہنامہ شاہکار کراچی
مدیر:ریحان احمد فاروقی
قیمت:60/- روپے
پبلشرز:فرحین فاروقی کراچی
ماہنامہ شاہکار کراچی 23 سال سے مسلسل اشاعت پذیر ہو رہا ہے جس کے سرپرست وائس ایڈمرل شاہ سہیل مشعود ہلال امتیاز (ملٹری)، نگران اعلیٰ مسلم شمیم، چیف ایڈیٹر طاہر علی اور ایڈیٹر ریحان احمد فاروقی اور سب ایڈیٹر مدثر فاروقی ہیں۔
زیر نظر شمارہ جنوری 2018ء کا ہے جس میں مولانا محمد علی جوہر (محفوظ النبی خان)، حسن حمید کمٹمنٹ کا شاعر (مسلم شمیم)، ڈاکٹر معین الدین عقیل فن و شخصیت (شاعر علی شاعر)، افسانہ ’’عزت دار ‘‘ (حمیدہ کشش)، ادبی سرگرمیاں (الطاف احمد)، گلاب رخ (عبدالصمد تاجی)، شاہکار باورچی خانہ (آفرین فاروقی)، بیوٹی ٹپس (تہذیب فاطمہ)، بچوں کا شاہکار (شیمان صدیقی)، کراچی جزیرہ (مختار احمد)، انٹرنیٹ جنسی بے راہ روی (ڈاکٹر محمد عرفان)، شاہکار ٹیکنالوجی (فہد فاروقی)، آنگن میں ستارے (وائس ایڈمرل شاہ سہیل مسعود)، کلام شاہ افضل محمود (شاعری)، ریحان فاروق صاحب کی اس رسالے کے لیے محنت قابلِ ذکر ہے جس کی وجہ سے اس کی سرکولیشن میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
٭٭٭
کتاب:ڈوبتے اُبھرتے آئینے(نثری نظمیں)
شاعرہ:ثروت سلطانہ
قیمت:۴۰۰؍روپے
پبلشرز:سیپ پبلی کیشنز، کراچی
یہ حقیقت ہے کہ نثری نظم میں مرد حضرات کے شانہ بہ شانہ خواتین شاعرات نے بھی نثری نظمیں کہیں ہیں اور وہ اس میدان میں شعراکی برابری کر تی نظر آرہی ہیں۔نثری نظم کے شعرا میں ہم اگرقمرجمیل،ذیشان ساحل،افضال احمد سید،ثروت حسین ،شہر یار اور حسن حمیدی کا ذکر کرتے ہیں تو نثری نظم کہنے والی شاعرات میں کشور ناہید، فہمیدہ ریاض،سارا شگفتہ،تنویر انجم، نجمہ منصور اور ثروت سلطانہ کا نام لے سکتے ہیں۔’’ڈوبتے اُبھرتے آئینے‘‘ کے نام سے ثروت سلطانہ صاحبہ کی نثری نظموں کا پہلا مجموعہ شائع ہو ا ہے جس میںجان کاشمیری اور ڈاکٹر اقبال پیر زادہ کی مثبت آرا شامل کتاب کی گئی ہیں۔ثروت سلطانہ نے نثری نظموں کے ساتھ ساتھ مختصر نظمیںبھی لکھی ہیں۔ان کے اس شعری مجموعے میں ہائیکو اور انگریزی زبان سے اُردو میں ہائیکو زترجمہ بھی کیے گئے ہیں۔یہ مجموعہ ثروت سلطانہ کا پہلا مجموعہ ہے جو اُردو ادب میں اُن کی آمد کا اعلان اور شعری میں ان کی پہچان ثابت ہواہے۔اس کی بنا پران سے مزید امیدیں وابستہ ہو گئی ہیں۔
٭٭٭
کتاب :کلیات عزیزاحسن(شاعری)
کلام :عزیز احسن
مرتب:صبیح رحمانی
قیمت:۹۰۰؍روپے
ناشر:نعت ریسرچ سینٹر،کراچی
نعت ریسرچ سینٹر علمی وادبی ادارہ ہے جس کے مدیر صبیح رحمانی ہیں۔یہ ادارہ عرصہ دراز سے علمی و ادبی ، تحقیقی و تنقیدی ، تصانیف و تالیفات کی اشاعت کا فریضہ انجام دے رہا ہے خصوصاً نعت کے حوالے سے اس کی خدمات قابل صد تحسین ہیں۔اسی ادارے سے کتابی سلسلہ’’ نعت رنگ‘‘ کا آغاز ہوا،جو ہنوز جاری ہے۔زیرنظر کتاب ’’کلیات عزیز احسن‘‘ ۸۰۰ صفحات کی ضخامت لیے ہوئے ہے۔ شاعر کی حمد یہ ،نعتیہ،اور مناقب و منظومات پر مشتمل ایک قابل مطالعہ کتاب ہے اور وہ ۲۳ تالیفات کے بھی مصنف ہیں۔ عزیز احسن کا تمام تر شعری سرمایہ جو اُن کے تخلیق کردہ مجموعہ ہائے شعری کی صورت میں ہے اس سے پہلے بھی کتابی شکل میں شائع ہوچکا ہے پیش نظر کتاب میں اسے یکجا کر دیاگیاہے۔موصوف کا علمی و شعری شغف گزشتہ پانچ دہائیوں سے جاری ہے۔ اب وہ نعتیہ تنقید کے حوالے سے بھی اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔کتاب کی آراستگی،سرورق کی دیدہ زیبی،کمپوزنگ اور حسن ترتیب کے لحاظ سے یہ کلیات لائق تحسین ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

قیمتی یا ضروری؟ وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
قیمتی یا ضروری؟

عالمی طاقتوں پر بھارت کو کمزورکرنے کا الزام وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
عالمی طاقتوں پر بھارت کو کمزورکرنے کا الزام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر