وجود

... loading ...

وجود

استقبال کتب

اتوار 25 فروری 2018 استقبال کتب

رسالہ: نظم کائنات(جنوری تا مارچ ۲۰۱۸ء)
چیف ایڈیٹر:پروفیسر شاہین حبیب
قیمت:۱۵۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،کراچی
نظم کائنات کا تازہ شمارہ جنوری تامارچ ۲۰۱۸ء شائع ہوگیا ہے ، یہ ایک علمی ، سائنسی اور تحقیقی مجلہ ہے جسے ماہر تعلیم محترمہ پروفیسر شاہین حبیب صاحبہ(سابق ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبۂ کیمیا،گورنمنٹ سرسید گرلز کالج،کراچی) نے ترتیب دیاہے،زیر نظر شمارہ سرسید احمد خان کے ۲۰۰ سالہ جشن پیدائش کے موقع پر ’’سائنسی ابلاغ نمبر‘‘ ہے ۔’’نظم کائنات‘‘ اسکولوں،کالجوں اور جامعات کے طلبہ اور شائقین کے لیے ایک تحفہ ہے جس کا مطالعہ طلبہ کے لیے نہایت ضروری اور اہم ہے۔رسالے میں القرآن،حمدونعت،گوشۂ تحریک پاکستان،گوشۂ سائنسی ادب،گوشۂ اطفال اور کتب بینی و کتب شناسی کے عنوانات سے ابواب شامل اشاعت ہیں۔نظم کائنات سائنسی ادب کا ترجمان اور نمائندہ رسالہ ہے جس کی ترتیب وتزئین و اہتمام اور کامیاب اشاعت محترمہ پروفیسر شاہین حبیب صاحبہ کی عرق ریزی،باریک بینی اور محنت شاقہ کا منہ بولتاثبوت ہے۔نظم کائنات کے سرپرست اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری،مدیرہ اعلیٰ پروفیسر شاہین حبیب،قانونی مشیر خلیل احمد خلیل ایڈووکیٹ ہیں۔یہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک منفرد رسالہ ہے جو باقاعدگی سے شائع ہو رہاہے اور سائنسی ادب کی ترجمانی کررہاہے۔
٭٭٭٭
کتاب:جد ید لب و لہجہ کا منفرد غزل گو ’’رفیع الدین رازؔ‘‘
(مقالہ برائے پی ایچ ڈی)
مقالہ نگار:ڈاکٹر فرحت جہاں
قیمت:500/- روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
میتھلا یونی ورسٹی( انڈیا) سے جناب رفیع الدین رازؔ کے فن و شخصیت پر مقالہ برائے پی ایچ ڈی لکھاگیا ہے۔ یہ تحقیق 2016ء میں تکمیل کو پہنچی۔مقالہ نگارکو 2017ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری ایوارڈ ہوئی اور 2018ء میں یہ مقالہ کتابی شکل میں کراچی( پاکستان) سے شایع ہوا۔ اس مقالے، مقالہ نگار، نگرانِ مقالہ اور جس شخصیت (رفیع الدین رازؔ) پر مقالہ ہوا ان تمام کے بارے میں جاننے کے لیے جناب شاعر علی شاعر کی رائے ملاحظہ فرمائیں:
’’ جناب رفیع الدین رازؔ کے فن و شخصیت پر متھلا یونی ورسٹی (انڈیا)نے ریسرچ ورک کرایا تھا جس کی تکمیل پر محترمہ فرحت جہاں کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی گئی ہے، یہ پی ایچ ڈی کا مقالہ ڈاکٹر فرحت جہاں نے معروف ماہرِ تعلیم جناب پروفیسرظفر حبیب کی نگرانی میں مکمل کیاہے۔
جناب رفیع الدین رازؔقابلِ مبارک باد ہیں کہ اُن کی اوّلین شعری تصانیف پر کراچی یونی ورسٹی،پاکستان سے ڈاکٹر سہیلہ فاروقی کی نگرانی میں محترمہ ناعمہ پروین نے بہ عنوان ’’رفیع الدین رازؔ…فن و شخصیت ‘‘ایم کاتحقیقی مقالہ لکھااور ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ،بعدکے شعری مجموعہ ہائے کلام کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہزارہ یونی ورسٹی، پاکستان سے بہ عنوان ’’رفیع الدین راز ؔکی شاعری کا فکری و فنی مطالعہ‘‘ تحقیقی کام ہو رہاہے جس کی تکمیل پر ریسرچ اسکالر جناب محمد زمان کو ایم فل کی ڈگری سے نوازا جائے گا۔
اس سے قبل جناب رفیع الدین رازؔ کے فن پر پاکستان کے جید نقاد جناب گوہر ملسیانی (مرحوم)نے ’’سخن کا چراغ …رفیع الدین رازؔ‘‘ کے عنوان سے 600صفحات پر مشتمل تنقیدی کتاب تصنیف کی تھی جسے خاص پذیرائی حاصل ہوئی۔
جیسے جیسے رفیع الدین رازؔ صاحب کی تخلیقاتِ شعری میں اضافہ ہورہاہے ،ویسے ویسے اُن کے فن و شخصیت پر تحقیقی کام بھی تسلسل سے ہو تاجارہاہے ، ایسی عزت و پذیرائی بہت کم شعراکو نصیب ہوتی ہے۔
میرا خیال ہے کہ اچھے یا بڑے شاعرکا فیصلہ تو آنے والی نسلیں اور زمانہ کرتا ہے مگرمیری نظر میں فی زمانہ اچھا شاعروہ ہوتاہے جو سب سے زیادہ Discussہو رہا ہوتا ہے ، پاکستان میں اِس وقت جناب ظفر اقبال سمیت گنتی کے چند شعرا ہیں جوDiscussہورہے ہیں، اُن میں ایک رفیع الدین راز ؔ بھی ہیں۔
جناب رفیع الدین رازؔکے اب تک سترہ مجموعہ ہائے کلام نہ صرف زیورِ طباعت سے آراستہ ہوکر منظرِ عام پر آچکے ہیں بلکہ قارئین،ناقدین اور مشاہیرِ اُردو ادب سے دادو تحسین بھی وصول کر چکے ہیں۔اُن کی کلیاتِ غزل’’سخن سرمایہ‘‘ ا ور کلیاتِ نظم’’آبشارِ سخن‘‘ میں سات سات مجموعہ ہائے کلام یک جا شائع کیے گئے ہیں جب کہ ’’در آئینہ‘‘ ،’’دل آئینہ ہوا‘‘ اور ’’روشنی کے خدوخال‘‘کلیات کے علاوہ ہیں۔عن قریب ۸۵ بحروں میں کہی جانے والی رفیع الدین رازؔ کی غزلیات کا مجموعہ شایع ہورہاہے جو اپنی نوعیت کا منفرد کام ہے ،یہ مجموعہ قارئین اور ماہرینِ علمِ عروض کے لیے تحفہ ثابت ہو گا اور اُردو ادب میں وقیع اضافہ بھی ۔ ‘‘
٭٭٭
کتاب :20کہانیاں
مصنف :شاعرعلی شاعر
قیمت:10؍روپے فی کتاب
ناشر :شمع بک ایجنسی،کراچی
اس میں کوئی شک نہیں کہ جناب شاعرعلی شاعر ہمارے وطن عزیز کی مشہورومعروف قد آور ادبی شخصیت ہیں ،ان کی جہات میں شاعروادیب،افسانہ و ناول نگار اورنقادوصحافی شامل ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی اب تک 110کتابیں جن میں تصنیف و تالیف اور ترتیب و تدوین شامل ہے زیورطباعت سے آراستہ ہو کر فروخت ہو چکی ہیں۔حال ہی میں شمع بک ایجنسی،اُردو بازار،کراچی کے پلیٹ فارم سے بچوں کے لیے بیس دل چسپ کہانیاں علاحدہ علاحدہ کتاب کی صورت میں شائع ہوئی ہیں جن میں ،بیتی خدا کی رحمت بہادر شہزادی خون خوار پرندہ شیخ چلی کا بھائی عقل مند فقیر بکری کا بچہ بونوں کی دنیا شکاری جوکر شیر کا شکار انوکھی تلاش خوش نصیب لکڑ ہارا جادوگرنی ہنر مند بہنیں احسان فراموش جاسوس بچے بہادر جنگجو جادونگری آدم خور ایمان دار سوداگر اور سچادوست شامل ہیں۔ ان کتابوں کی قیمت بچوں کی جیب خرچ سے بھی انتہائی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام بچے ان کہانیوں کو بڑے شوق سے خرید کر پڑھ رہے ہیں اور اپنے دوستوں کو تحفے میں بھی پیش کر رہے ہیں۔
٭٭٭
رسالہ:ماہنامہ شاہکار کراچی
مدیر:ریحان احمد فاروقی
قیمت:60/- روپے
پبلشرز:فرحین فاروقی کراچی
ماہنامہ شاہکار کراچی 23 سال سے مسلسل اشاعت پذیر ہو رہا ہے جس کے سرپرست وائس ایڈمرل شاہ سہیل مشعود ہلال امتیاز (ملٹری)، نگران اعلیٰ مسلم شمیم، چیف ایڈیٹر طاہر علی اور ایڈیٹر ریحان احمد فاروقی اور سب ایڈیٹر مدثر فاروقی ہیں۔
زیر نظر شمارہ جنوری 2018ء کا ہے جس میں مولانا محمد علی جوہر (محفوظ النبی خان)، حسن حمید کمٹمنٹ کا شاعر (مسلم شمیم)، ڈاکٹر معین الدین عقیل فن و شخصیت (شاعر علی شاعر)، افسانہ ’’عزت دار ‘‘ (حمیدہ کشش)، ادبی سرگرمیاں (الطاف احمد)، گلاب رخ (عبدالصمد تاجی)، شاہکار باورچی خانہ (آفرین فاروقی)، بیوٹی ٹپس (تہذیب فاطمہ)، بچوں کا شاہکار (شیمان صدیقی)، کراچی جزیرہ (مختار احمد)، انٹرنیٹ جنسی بے راہ روی (ڈاکٹر محمد عرفان)، شاہکار ٹیکنالوجی (فہد فاروقی)، آنگن میں ستارے (وائس ایڈمرل شاہ سہیل مسعود)، کلام شاہ افضل محمود (شاعری)، ریحان فاروق صاحب کی اس رسالے کے لیے محنت قابلِ ذکر ہے جس کی وجہ سے اس کی سرکولیشن میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
٭٭٭
کتاب:ڈوبتے اُبھرتے آئینے(نثری نظمیں)
شاعرہ:ثروت سلطانہ
قیمت:۴۰۰؍روپے
پبلشرز:سیپ پبلی کیشنز، کراچی
یہ حقیقت ہے کہ نثری نظم میں مرد حضرات کے شانہ بہ شانہ خواتین شاعرات نے بھی نثری نظمیں کہیں ہیں اور وہ اس میدان میں شعراکی برابری کر تی نظر آرہی ہیں۔نثری نظم کے شعرا میں ہم اگرقمرجمیل،ذیشان ساحل،افضال احمد سید،ثروت حسین ،شہر یار اور حسن حمیدی کا ذکر کرتے ہیں تو نثری نظم کہنے والی شاعرات میں کشور ناہید، فہمیدہ ریاض،سارا شگفتہ،تنویر انجم، نجمہ منصور اور ثروت سلطانہ کا نام لے سکتے ہیں۔’’ڈوبتے اُبھرتے آئینے‘‘ کے نام سے ثروت سلطانہ صاحبہ کی نثری نظموں کا پہلا مجموعہ شائع ہو ا ہے جس میںجان کاشمیری اور ڈاکٹر اقبال پیر زادہ کی مثبت آرا شامل کتاب کی گئی ہیں۔ثروت سلطانہ نے نثری نظموں کے ساتھ ساتھ مختصر نظمیںبھی لکھی ہیں۔ان کے اس شعری مجموعے میں ہائیکو اور انگریزی زبان سے اُردو میں ہائیکو زترجمہ بھی کیے گئے ہیں۔یہ مجموعہ ثروت سلطانہ کا پہلا مجموعہ ہے جو اُردو ادب میں اُن کی آمد کا اعلان اور شعری میں ان کی پہچان ثابت ہواہے۔اس کی بنا پران سے مزید امیدیں وابستہ ہو گئی ہیں۔
٭٭٭
کتاب :کلیات عزیزاحسن(شاعری)
کلام :عزیز احسن
مرتب:صبیح رحمانی
قیمت:۹۰۰؍روپے
ناشر:نعت ریسرچ سینٹر،کراچی
نعت ریسرچ سینٹر علمی وادبی ادارہ ہے جس کے مدیر صبیح رحمانی ہیں۔یہ ادارہ عرصہ دراز سے علمی و ادبی ، تحقیقی و تنقیدی ، تصانیف و تالیفات کی اشاعت کا فریضہ انجام دے رہا ہے خصوصاً نعت کے حوالے سے اس کی خدمات قابل صد تحسین ہیں۔اسی ادارے سے کتابی سلسلہ’’ نعت رنگ‘‘ کا آغاز ہوا،جو ہنوز جاری ہے۔زیرنظر کتاب ’’کلیات عزیز احسن‘‘ ۸۰۰ صفحات کی ضخامت لیے ہوئے ہے۔ شاعر کی حمد یہ ،نعتیہ،اور مناقب و منظومات پر مشتمل ایک قابل مطالعہ کتاب ہے اور وہ ۲۳ تالیفات کے بھی مصنف ہیں۔ عزیز احسن کا تمام تر شعری سرمایہ جو اُن کے تخلیق کردہ مجموعہ ہائے شعری کی صورت میں ہے اس سے پہلے بھی کتابی شکل میں شائع ہوچکا ہے پیش نظر کتاب میں اسے یکجا کر دیاگیاہے۔موصوف کا علمی و شعری شغف گزشتہ پانچ دہائیوں سے جاری ہے۔ اب وہ نعتیہ تنقید کے حوالے سے بھی اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔کتاب کی آراستگی،سرورق کی دیدہ زیبی،کمپوزنگ اور حسن ترتیب کے لحاظ سے یہ کلیات لائق تحسین ہے۔


متعلقہ خبریں


بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے وجود - هفته 18 اپریل 2026

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار وجود - هفته 18 اپریل 2026

لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران وجود - جمعه 17 اپریل 2026

مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س وجود - جمعه 17 اپریل 2026

صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے وجود - جمعه 17 اپریل 2026

متعدد افراد زخمی،مودی کی پالیسیوں کیخلاف علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں شدید جھڑپیں، بھارتی فورسز کی 2گاڑیوں کو آگ لگادی ، فوجیوں کو یرغمال بنالیا مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کیخلاف عوام میں شدید غم و غصہ،علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں۔ بھارت کے اپنے ...

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی وجود - جمعه 17 اپریل 2026

موٹرسائیکل سوار ملزمان فرار ،واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس ٹیم تشکیل آئی جی کا نوٹس، ایڈشنل آئی جی کراچی سے واقعے کی فی الفور تفصیلی رپورٹ طلب کرلی (رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے منگھو پیر میں مدرسے والی نہر کے قریب ڈاکووں کی پولیس اہلکاروں پر ہونے والی ف...

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 17 اپریل 2026

عدالت کی ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر کارروائی سول جج عباس شاہ نے وزیراعلیٰ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی عدالت نے ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وا...

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید وجود - جمعه 17 اپریل 2026

امدادی کارروائیوں کے دوران اسرائیل نے حملہ کر کے 4طبی ورکرز کو قتل کر دیا بنت جبیل میں حزب اللہ، اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ، میڈیارپورٹ جنگ بندی مذاکرات کے باوجود لبنان پراسرائیلی حملے جاری ہیں، لبنان میں 24 گھنٹوں میں مزید 43 شہری شہید کر دیئے گئے ۔غیرملکی میڈیارپ...

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید

مضامین
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا ! وجود هفته 18 اپریل 2026
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا !

معاشرتی تبدیلی کا تدریجی سفر اور ہماری ذمہ داریاں وجود هفته 18 اپریل 2026
معاشرتی تبدیلی کا تدریجی سفر اور ہماری ذمہ داریاں

بھارت میں مزدوروں کا احتجاج وجود هفته 18 اپریل 2026
بھارت میں مزدوروں کا احتجاج

پتھرکا انسان وجود هفته 18 اپریل 2026
پتھرکا انسان

ہم صرف مردہ روحیں بن چکے ! وجود جمعه 17 اپریل 2026
ہم صرف مردہ روحیں بن چکے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر