استقبال کتب

کتاب:نانگاپربت کے سو چہرے(سفرنامہ)
سفرنامہ نگار:ڈاکٹر مزملہ شفیق
قیمت:500/- روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
ڈاکٹر مزملہ شفیق کا اس سے قبل بھی ایک’’ سفرنامۂ اسکردو‘‘ فیروز سنز، کراچی سے شایع ہو چکا ہے۔ ’’نانگا پربت کے سو چہرے ‘‘ان کا دوسرا سفر نامہ ہے جو مواد، طباعت اور پیش کش کے لحاظ سے بہت عمدہ اور خوب صورت ہے۔ اس سفر نامے کے متعلق جاننے کے لیے ناشر رنگِ ادب جناب شاعر علی شاعر کی رائے ملاحظہ فرماتے ہیں:

’’کہتے ہیں ایک لڑکی کو پڑھانا ،ایک خاندان کو پڑھانے کے مترادف ہے۔ڈاکٹر مزملہ شفیق پیشۂ پیغمبری سے وابستہ ہیں اور وہ ایک طویل مدت سے پی ،ای، سی، ایچ، ایس، گرلز کالج، کراچی میں درس وتدریس کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں ، اُنھوں نے فرائضِ منصبی اداکرتے ہوئے اب تک ہزاروں طالبات کے اذہان و قلوب کو علم کی روشنی سے منوراور زیورِتعلیم سے آراستہ کر دیاہے ۔خدانے اُنھیں بے پناہ علمی قابلیت،ذہنی صلاحیت اور تعلیمی لیاقت سے نوازاہے۔ میں جب اُن سے ملا تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ انگلش میڈیم میں فلسفہ پڑھانے والی ڈاکٹر مزملہ شفیق اتنی شائستہ بیان ،شگفتہ لہجہ اوراہلِ زبان کی طرح اُردو بولنے شخصیت ہوں گی۔اُن کے بات کرنے اور تخاطب کا اندازدل پذیر ہے ،انتہائی نرم لہجے میں گفتگو کرنا، اُن کا شیوہ ہے اور دوسرے کی بات کو توجہ سے سننا ،اُن کی عادت میں شامل ہے جو ایک اچھے انسان کی خوبی گنی جاتی ہے۔

مجھے خوش گوارحیرت اُس وقت ہوئی جب اُن کا سفر نامہ ’’نانگا پربت کے سو چہرے ‘‘کا مسودہ پڑھا ، تحریر میںکیا تسلسل،کیا زبان و بیان کی چاشنی اور کیاموجوں کی سی روانی تھی،میں تعریف کیے بغیر رہ نہ سکا اور خواہش ظاہرکی کہ وہ مجھے اپنا پہلا سفرنامہ’’سفرنامۂ اسکردو‘‘بھی پڑھنے کو دیں جو فیروزسنز،کراچی سے شائع ہواتھا۔ڈاکٹر مزملہ شفیق نے بتایا کہ مجھے اِسی سفرنامے سے شہرت ملی ہے اور اِسی سے میری عبارت کا اعتبار قائم ہواہے،اُنھوں نے ’’سفرنامۂ اسکردو‘‘ مستعار عنایت کیا جسے پڑھ کر میرے دل کو اطمینان حاصل ہوا کہ میں اپنے اشاعتی ادارے ’’رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی سے ایک اچھی سفرنامہ نگار کا سفرنامہ شائع کر رہا ہوں جو قارئینِ ادب کے لیے بھی اچھی کتاب ثابت ہوگا، ناقدینِ فن و ہنر اسے پسند فرمائیں گے اور مشاہیرِاُردو ادب بھی برس ہا برس یاد رکھیں گے۔

ڈاکٹر مزملہ شفیق نے اپنے سفرنامے کو حقیقی واقعات تک محدود رکھاہے، اِس میں زیبِ داستاں کے لیے فرضی قصے، کہانیاں اور کتھا شامل نہیں کی ،یہی وجہ ہے کہ اُن کا سفر نامہ’’نانگا پربت کے سو چہرے‘‘ ضخیم نہیں ، اِس کی انفرادیت اختصار اور جامعیت ہے جس میں قارئین کے لیے دل چسپی، سیاحوں کے لیے معلومات اور سفرناموں پر تحقیق کرنے وا لے ریسرچ اسکالرز کے لیے علمی مواد بھی موجود ہے۔

میں ڈاکٹرمزملہ شفیق کو ایک ایسادل چسپ سفرنامہ لکھنے پر مبارک باد پیش کرتاہوں جس کو پاکستان کے نمائندہ سفرنامہ نگار جناب مستنصر حسین تارڈ نے بھی پسند کیا ہے اور اپنی مثبت رائے سے نوازاہے۔‘‘

رسالہ:سہ ماہی اُردو ادب
مدیر:اطہر فاروقی
بہ اہتمام:انجمن ترقی اُردو(ہند) نئی دہلی
قیمت:150/- روپے
سہ ماہی اُردو ادب باقاعدگی اور تواتر سے شایع ہو رہا ہے۔ یہ رسالہ نئی دہلی( انڈیا) سے شایع ہوتا ہے جو پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل صاحب کو پاکستان میں ارسال کیا جاتا ہے۔ مجھے ان کی عنایت ہی سے وصول ہوا۔ اس شمارے میں پروفیسر شمیم حنفی صاحب کی 80ویں سال گرہ پر خصوصی گوشہ شایع کیا گیا ہے۔ گوشے کے علاوہ خصوصی مضامین، مستقل مضامین کا سلسلہ، یادرفتگاں، تھیٹر، بہ یادِ اسلم پرویز کے ضمن میں اچھے مضامین شایع ہوئے ہیں جن کے معروف لکھنے والوں میں انور صدیقی، محمود ہاشمی، سید خالد قادری، علی احمد فاطمی، سید محمد اشرف، انجم عثمانی اور عتیق اللہ شامل ہیں۔سہ ماہی اُردو ادب میں تخلیقات روانہ کرنے کے لیے مندرجہ ذیل روابط استعمال کے جاسکتے ہیں۔ جناب اطہر فاروقی، انجمن ترقی اُردو (ہند) اور گھر 212، رائوز ایونیو، نئی دہلی 110002، انڈیا۔ ای میل: [email protected]، فون: 0091-11-23237722
٭٭٭
کتاب:ماورائے آب و گل(تیسراایڈیشن)
مصنف:سعید الظفر صدیقی
قیمت:800/- روپے
پبلشرز:ماورا بکس، لاہور
ماورائے آب و گل دراصل سائنسی نظریات اور دینی عقائد کا آمیزہ ہے ۔ عوام کا خیال تھا کہ دین اسلام اور سائنس علاحدہ علاحدہ چیزیں ہیں مگر سعید الظفر صدیقی صاحب نے ثابت کیا ہے کہ دین اسلام کی بنیاد پر سائنسی نظریات کی بنیاد رکھی گئی ہے۔احمد جاوید نے تحریر کیا ہے :’’دینی عقائد اور سائنسی نظریات کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی بے شمار کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ان میں سے اکثر عامیانہ درجے کی ہیں۔علمی اور تحقیقی سطح پر اہمیت اور وقعت رکھنے والا کام بہت کم ملتاہے۔جناب سعیدالظفرصدیقی کی یہ کتاب ماورائے آب و گل میں مذہب اور سائنس کے تقابلی مطالعے کی روایت میں کم از کم ایک فکری زاویے کا اضافہ کیاگیاہے۔‘‘
اس کتاب پر جناب خالد شریف،احمد جاویداور خورشید کی آرا موجود ہیں جب کہ سعیدالظفرصدیقی نے پیش لفظ اور محسن پاکستان جناب ڈاکٹر عبدالقدیرنے دیباچہ تحریر کیا ہے۔یہ کتاب اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک منفرد کتاب ہے جس کا مطالعہ نئی نسل کے لیے انتہائی ضروری اور اہم ہے۔
٭٭٭
سہ ماہی رسالہ:لوحِ ادب کراچی
مدیر اعلیٰ:ڈاکٹر شکیل احمد خان
قیمت:300/- روپے
پبلشرز:مظفر احمد خان
لوحِ ادب کراچی حیدر آباد، ڈاکٹر الیاس عشقی مرحوم کی یاد میں شایع کیا جاتا ہے جس کے سرپرست پروفیسر ڈاکٹر فرحت عظیم اور مدیر اعلیٰ شکیل احمد خان ہیں۔ زیر نظر شمارے میں شاداب صدیقی، عشرت علی خان، ڈاکٹر عرفان شاہ، پروفیسر مسکن احمد منصور، نذیر فتح پوری، سید تنویر سبطین نقوی، ماہر عدانی، ذکیہ جمالی، ڈاکٹر عبدالکریم خالد، خالد مصطفیٰ، سہیل احمد صدیقی، ڈاکٹر ذوالفقار دانش، پروفیسر شبنم امان، ڈاکٹر عبدالرشید آزاد، ملیحہ خان، نوید پاشا، ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی، محمد طارق علی، اسلم سحاب ہاشمی، عامر انصاری، منوہر شام، کی تحریروں کے علاوہ غزلیں، نظمیں اور کتابوں پر تبصرے شایع ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر شکیل احمد خان اس ادبی جریدے کو بڑی محنت سے مرتب کر کے شایع کر رہے ہیں۔ یہ ایک اچھا اور قابل مطالعہ رسالہ ہے۔
٭٭٭
کتابی سلسلہ: مکالمہ کراچی
شمارہ نمبر: 35-34
ترتیب:مبین مرزا
قیمت:250 روپے
ناشر:اکادمی بازیافت، کراچی
معروف شاعر و ادیب اور نقاد و صحافی جناب مبین مرزا کی ادارت میں شایع ہونے والے کتابی سلسلے کے دو شمارے نمبر 35-34 بہ یک وقت منظر عام پر آ گئے ہیں۔ جن میں معروف قلم کار رضیہ فصیح احمد، حسن منظر، عمارہ رشید، نجم الحسن رضوی، سید مظہر جمیل، ڈاکٹر سید جعفر احمد، سلمیٰ اعوان، مشتاق اعظمی، صبا اکرام، شہاب صفدر، ڈاکٹر ناصر عباس نیر، ڈاکٹر نجیبہ عارف، عطا الرحمٰن قاضی، ندیم حق، عمر فرحق، ڈاکٹر سلیم اختر ، ظفر اقبال ، اس محمد خان، پروفیسر فتح محمد ملک، طاہر مسعود، زین سالک، معراج عرعنا، فرحین شیخ، عبدالرحمٰن صاحبان کی تحریریں شامل کی گئی ہیں۔ پاکستان کے ادبی رسائل میں کتابی سلسلہ مکالمہ کو اعتبار حاصل ہے کہ اس میں معیاری تحریریں شامل ہوتی ہیں۔ جناب مبین مرزا اس معاملے میں کبھی کسی سے سمجھوتا نہیں کرتے۔ پرچے کا ایک معیار قائم ہو گای ہے اگر مشاہیر کی تحریر اس معیار پر پوری اترتی ہے تو شایع ہوتی ہے ورنہ معذرت کر لی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادب کا سنجیدہ قاری مکالمہ خرید کر پڑھتا ہے۔
کتاب:اسما ء الحسنیٰ
تالیف:منورہ نوری خلیق
تکمیل و ترتیب و تزئین:ذکیہ انیس ذکی
ہدیہ:۵۰۰ روپے
ناشر:پاکستان ایجوکیشنل فورم
کتاب’’اسماء الحسنیٰ‘‘اللہ رب العزت کے ۹۹ ناموں پر مشتمل ہے۔جس میں محترمہ منورہ نوری خلیق صاحبہ کے قلم سے ’’صفات الٰہی‘‘ کے عنوان سے اللہ تعالیٰ کے ذاتی نام اللہ کے اوصاف حمیدہ بیان کیے
گئے ہیںاور ہر صفاتی نام کا مفہوم،وظیفہ اور قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔اس کتاب کا پیش لفظ کتاب کی مرتب محترمہ ذکیہ انیس ذکی نے لکھا ہے اور ’’اچھے اچھے نام‘‘ کے عنوان سے حضرت مولانا محمد ولی رازی نے کتاب پر تقریظ لکھی ہے۔کتاب کی مولفہ محترمہ منورہ نوری خلیق صاحبہ کے حالات زندگی کی بارے میں تفصیل پیش کی گئی ہے جس سے اندازہ ہوتاہے کہ مولفہ کس قدر پاکیزہ ذہن کی حامل شخصیت تھیں اور ان کی تصانیف میں ’’حبیبہ ‘‘،’’بنت شام‘‘،’’معلم اعظم‘‘، ’’نامور مسلم خواتین‘‘،’’نافرمان اقوام پر عذاب الٰہی‘‘اور میری ساتھی میری یادیں‘‘ شامل ہیں۔ آخر میں ذکیہ انیس ذکی صاحبہ نے کتاب کے منظر عام پر لانے میں ساتھ دینے والوں کو جزاک اللہ اور شکریہ کہاہے اور جن کتابوں سے اس کو تالیف کیا گیا ہے ان کی کتابیات درج کی گئی ہے۔کتاب انتہائی سلیقے اور عمدہ کاغذ پر شائع کی گئی ہے جس کا ہدیہ نہ ہونے کے برابرہے ،یقیناً ایسی کتابیں دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے پیش کی جاتی ہیں ۔اللہ رب العزت سے دعاگو ہوں کہ اس کتاب کو اپنی بارگاہ اقدس میں قبول فرمائے اور مولفہ و مرتبہ کی بخشش کا سامان بنائے۔آمین

Electrolux