امریکی معاشرے میں انتہاء پسندی کارحجان،اسکول بھی محفوظ نہیں

مسلمانوں پرانتہاپسندی کے الزام لگانے والے ڈونلڈٹرمپ کے اپنے ملک میں انتہاء پسندی کارجحان تیزی سے فروغ پارہاہے ۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اسکول کے بچے بھی گن ہاتھ میں تھامے ساتھیوں کوقتل کرنے سے بھی بازنہیں آتے ۔ اساتذہ پرتشددتووہاں عام ہے ۔اسکولو ں میں فائرنگ کے واقعات ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں لیکن سال 2013سے ایسے واقعات کاسلسلہ خطرناک صورت اختیارکرتا نظرآرہاہے ۔اورسال 2017میں ایسے کئی واقعات رونماہوچکے ہیں ۔ تازہ ترین واقعہ گزشتہ روز امریکا کی ریاست فلوریڈا کے ایک مقامی اسکول میں پیش آیاجہاں 19 سالہ طالبعلم نے اپنے ساتھی طالبعلموں اور اساتذہ پر فائرنگ کے 17 کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ (اے پی) کے مطابق پارک لینڈ میں واقع ایک ہائی اسکول میں پیش آنے والے واقعے میں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے تاہم پولیس نے ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد اسکول سے 17 افراد کی لاشیں نکال لی ہیں۔

دوسری جانب مقامی پولیس نے بتایا کہ گرفتار مشتبہ ملزم 19 سالہ نکولس کروز ہائی اسکول کا سابق طالب علم تھا جسے انتظامیہ نے بعض مذموم حرکتوں کی وجہ سے بے دخل کردیا تھا۔پولیس کے مطابق ملزم نے اسکول کے اندر گھس کر الارم بجایا جس سے بھگدڑ مچ گئی اور پھر اس نے طالب علموں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔اخبار نیویارک ٹائمز نے مقامی پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسکول میں فائرنگ کے واقعے میں ملزم نے اے ایف 15 خود کار ہتھیار استعمال کیا۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا تاہم بیشتر کی حالات تشویش ناک ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔عینی شاہد نے بتایا کہ بھگدڑ مچ جانے کے بعد ملزم نے اسکول کے اندورنی حصے میں فائرنگ کی اور تقریباً 12 طالب علموں کو ہلاک کردیا اور پھر باہر آکر گلی کے کنارے پر کھڑے تین افراد پر بھی فائرنگ کی۔مقامی پولیس کے مطابق ہسپتال میں زیر علاج دو طالب علم زخموں کی تاب نہ لاسکے اور انتقال کر گئے۔

اس موقعے پر طالب علم کلاس رومز میں چھپے رہے جبکہ پولیس نے عمارت کو خالی کروایا۔مقامی ا سکول پبلک ا سکول ڈسٹرکٹ نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’آج، مرجرری سٹونمین ڈگلس ہائی اسکول کے قریب طالب علموں اور عملے نے کچھ ایسی آوازیں سنی جو گولیاں چلنے جیسی تھی۔کئی عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ فائرنگ شروع ہوتے ہی فائر الارم بھی بجنے شروع ہو گیا تھا۔بحفاظت باہر آنے والے ایک طالب علم نے سی بی ایس چینل کو بتایا کہ طالب علم سمجھے کہ یہ کوئی مشق ہورہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’آج صبح ہی ایک مشق ہوئی تھی اور جب ہم نے گولیوں کی آواز سنی، کچھ طالب علموں نے سوچا کہ یہ کوئی پریشانی والی بات نہیں۔‘جائے وقوعہ کی ایک ویڈیو میں طالب علموں کو چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں باہر نکلتے دیکھا جا سکتا ہیجائے وقوعہ کی ایک ویڈیو میں طالب علموں کو چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں باہر نکلتے اور مسلح پولیس کو ا سکول کی حدود میں گشت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ہیلی کاپٹر سے بنائی جانے والی ایک اور ویڈیو میں ہتھکڑیوں میں بندھے ہوئے ایک شخص کو پولیس کی گاڑی میں بیٹھتے دیکھا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا میں دیگر پرتشدد واقعات کے علاوہ طالب علموں کی جانب سے فائرنگ کرکے اپنے ہی ساتھیوں کو ہلاک کرنے کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ایوری ٹائون فار گن سیفٹی کے مطابق بدھ کو ہونے والا حملہ رواں سال کسی ا سکول یا اس کے قریب ہونے والا 18واں واقعہ ہے۔خیال رہے کہ سنہ 2013 سے اب تک امریکا میں 291 ایسے واقعات پیش آچکے ہیں۔

2017 میں سب سے زیادہ ایسے واقعات پیش آئے جس میںسینکڑوں امریکی شہری لقمہ اجل بنے۔ گزشتہ برس ستمبر میں امریکا کی ریاست لاس اینجلس کے شمال مغربی علاقے میں واقع ایک اسکول میں فائرنگ سے ایک طالب علم ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے تھے۔بعدازاں اگلے ہی مہینے یعنی اکتوبر 2017 میں امریکی شہر لاس ویگاس میں میوزک کنسرٹ کے دوران فائرنگ کے واقعے میں 58 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔پھر نومبر 2017 میں ریاست ٹیکساس کے ایک چرچ میں فائرنگ سے 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔امریکا میں گزشتہ برس دسمبر میں ریاست نیو میکسیکو کے ہائی اسکول میں پیش آیا جہاں ایک شخص نے اسکول کے اندر داخل ہو کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2 طلبہ ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فائرنگ کرنے والے حملہ آور کو بھی جوابی کارروائی میں ہلاک کردیا گیا تھا۔اس سے قبل دسمبر 2015 میں امریکی ریاست سان برنارڈینو میں معذور افراد پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، امریکی پولیس کے مطابق ایک نئے شادی شدہ جوڑے نے سان برنارڈینو میں قائم معذور افراد کے سینٹر میں منعقدہ تقریب کے دوران فائرنگ کر کے 14 افراد ہلاک اور 22 زخمی کو زخمی کردیا تھا۔

مہذب ملک ہونے کے دعویدارملک امریکامیں تواترکے ساتھ اس قسم کے واقعات کا پیش آنا اس بات کااظہارہے کہ دوسروں کودرس دینے والی ٹرمپ انتظامیہ خوداپنے ملک میں عوام کے تحفظ میں ناکام ہے ۔

Electrolux