اسرائیلی فوج کا36سال بعد شام میںبڑے پیمانے پر فضائی حملہ، جنگ کا خطرہ

شام اوراسرائیل کے درمیان ممکنہ جنگ کے بعد اگلے دودن انتہائی اہم قراردے دیے گئے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شام میں جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد اسرائیلی حکومت کی سیکیورٹی کمیٹی کا خصوصی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران شام کے اندر مزید گہرائی میں تباہ کن حملے کرنے اور دمشق میں ایرانی اور شامی تنصیبات کو نشانا بنانے پر غور کیاگیا ہے۔ذرائع کے مطابق اگلے دو دن بہت اہم ہیں اور اسرائیلی فوج شام میں کہیں بھی کوئی بڑا آپریشن کرسکتی ہے۔اسرائیلی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ شام سے حملہ آور ہونے والے ایران کے خلاف اسرائیلی فوج حرکت میں آنے کے لیے تیار ہے۔شام کی سرزمین کو استعمال کرکے اسرائیل کی خود مختاری کو خطرے میں ڈالنے کی ایرانی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی۔اسرائیلی فوج اور حکومت نے شام میں ایرانی اہداف کو نشانا بنانے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرنا شروع کردی ہے اور اس حوالے سے مختلف امور پر غور کیا جا رہا ہے۔درین اثناء اسرائیلی فوج نے شام میں موجود ایرانی پوزیشنز پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان حملوں میں کم ازکم ایک درجن ایرانی اور شامی اہداف کو تباہ کر دیا گیا ۔اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس سے قبل شام سے ایک ایرانی ڈرون متنازع علاقے گولان ہائٹس کی اسرائیلی حدود میں داخل ہو گیا تھا جسے اسرائیل نے مار گرایا اور اس کے رد عمل میں ہی شام میں ایرانی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے۔واضح رہے کہ 1982کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیل نے شام میں بڑے پیمانے پر فضائی حملہ کیا،اسرائیل کی فوج نے ایرانی ڈرون کی اپنی حدود میں موجودگی کو علاقائی حدود کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ شام اور ایران آگ سے کھیل رہے ہیں۔اسرائیلی حکام کے مطابق حملہ کرنے والے 8 میں سے ایک ایف 16 طیارے کو واپسی پر شامی افواج کی جانب سے نشانا بنایا گیا ۔یہ لڑا کاطیارہ اسرائیل کی حدود کے اندر گر کر تباہ ہو گیا۔ تاہم طیارے کے دونوں پاٹلٹ پیراشوٹ کے ذریعے باہر نکلنے میں کامیاب رہے اور ان دونوں زخمی پائلٹوں کو علاج کے لیے اسپتال پہنچادیا گیا۔

Electrolux