لالی و وڈرائونڈاپ

کہاجاتاہے مردسے اس کی آمدنی اورعورت سے اس کی عمرنہیں پوچھنی چاہیے پرجب بات ہواداکارائوں کی تو ہراداکارہ خودکوسولہ سے اٹھارہ سال تک ہی محدود رکھنا چاہتی ہے۔ایسے میں جب پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کوایک مداح کی جانب سے 40 سال کا کہاگیاتووہ حیران پریشان رہ گئیں۔ماہرہ خان کاشماران اداکارائوں میں ہوتاہے جو دیگر فن کاروں کے برعکس سوشل میڈیا پر زیادہ فعال رہتی ہیں اور اپنے چاہنے والوں کے سوالات کا جواب بھی دیتی ہیں۔ٹویٹر پر ماہرہ سے ان کے چاہنے والوں نے مختلف سوالات کیے جن میں کچھ دلچسپ اور کچھ چبھنے والے تھے، ماہرہ نے اپنے تمام پرستاروں کے سوالات کے نہ صرف جوابات دئیے بلکہ کچھ لوگوں کی جانب سے کی جانے والی تنقید کا برا بھی نہیں مانا۔ ماہرہ خان کی عمر کو نشانہ بناتے ہوئے ایک شخص نے کہا انسانیت سے اس وقت اعتبار اٹھ گیا جب 40 سال کی ماہرہ خان کو ڈرامے میں بارہویں کلاس کی طالبہ بنادیا اس سوال کو پڑھ کرپہلے تو ماہرہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں بعدازاں انہوں نے کہا میں 40 سال کی نہیں ہوں تاہم انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ انہیں 12 ویں کلاس کی طالبہ کا کرداردینا بہت عجیب تھا۔

اداکارائوں پرمرمنٹے والے نوجوانوں کی دنیاکے کسی بھی حصے میں کمی نہیں ہے اوراس بارے خبریں آئے روزمیڈیا کی زینت بھی بنتی رہتی ہیں ۔اورجب بات ہومنفرداسٹائل کی اداکارہ نیلم منیرکی توپھرظاہران کوپسند کرنے والوں کی تعدادبھی ہزاروں میں ہوگی ۔ لیکن نیلم سے اظہارعشق کرنے میں کوئی پہل نہیں کرسکا۔ ابھی حال ہی میں خبرآئی ہے کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے بااثرخاندان کاایک نوجوان نہ صرف نیلم منیرکے آگے دل ہاربیٹھا۔ قصہ کچھ اس طرح رونماہواکہ سکھرسے تعلق رکھنے والے بااثرخاندان کا چشم وچراغ کراچی میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں شریک تھااوراسی تقریب میں نیلم کوبھی مدعوکیاگیاتھابس یہیں سے بات آگے بڑھی ۔ اطلاع ملی ہے کہ یہ نوجوان جلدنیلم منیرکے گھرباضابطہ رشتہ بھجوائے گا۔ اس حوالے نیلم منیرکاکوئی موقف سامنے نہیں آسکا۔ لیکن چند دن قبل اخبارمیں ایک خبرچھپی تھی جس میں نیلم منیرنے کسی پاکستانی نوجوان یااداکارکے بجائے بھارتی اداکار سلمان خان کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا تھا ۔

ڈراما سیریل ’’دل لگی ‘‘، ’’میرے قاتل میرے دلدار‘‘ جیسے مقبول ترین ڈراموں میں اداکاری کے ذریعے اپنی اداکاری کا لوہا منوانے والی نامور پاکستانی اداکارہ مہوش حیات نے جب بڑی ا سکرین کا رخ کیا تو بڑی بڑی اداکاراؤں کی چھٹی کرادی۔ گزشتہ برس مہوش حیات اور ہمایوں سعید کی فلم ’’پنجاب نہیں جاؤں گی‘‘ بلاک بسٹرفلم ثابت ہوئی تھی جس نے 50 کروڑسے زائد کا بزنس کرکے شوبزحلقوں سمیت سینما مالکان اور ڈسٹری بیوٹرزکو بھی حیران کردیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ آج کل سوشل میڈیا پران سے متعلق ایک خبربہت زیادہ وائرل ہورہی ہے کہ مہوش حیات پاکستان کی پہلی وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی زندگی پر بننے والی فلم میں مرکزی کردار ادا کریں گی۔مہوش حیات کی جانب سے فی الحال تو ان خبروں کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے، تاہم سوشل میڈیا پر مہوش کے بینظیر بھٹو بننے کی دھوم مچ گئی ہے۔

دوسری جانب کچھ صارفین کا خیال ہے کہ مہوش حیات بے نظیر بھٹو کے کردار کے لیے بالکل موزوں اداکارہ ہیں اور بینظیر کی تصویر ان سے زیادہ بہتر انداز میں کوئی اور پیش نہیں کرسکتا۔ایک صارف نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ مہوش حیات اور بینظیر بھٹو کے درمیان بہت زیادہ مشابہت ہے جبکہ کچھ صارفین کی جانب سے ان خبروں پر غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔

راتوں رات پاکستانی فلم ’’بول ‘‘ فلمی دنیامیں متعارف ہونے والی حمائمہ ملک جوبھارتی فلم میں کام کرکے انٹرنیشنل اداکارہ کی چھاپ لگاچکی ہیں لیکن اس کے باوجوداطلاع یہ ہ ے کہ ان کے پاس کوئی قابل ذکر پاکستانی یا بھارتی فلم موجود نہیں ہے ۔ اس کاسبب کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ حال ہی میں ایک نجی چینل کوانٹرویودیتے ہوئے انھو ںنے کہاہے کہ پاکستان میںفلم سازی کاعمل تیزہوگیاہے جلد نئے سینمابھی بننا شروع ہوجائیں گے ۔انھوں نے فلموں کی کامیابی یاناکامی کے حوالے سے کہاکہ میرا کام تو اپنے کردارکوبڑی محنت سے سجانا اورسنوارنا ہے باقی کامیابی اورناکامی کی گارنٹی کوئی نہیں دے سکتا۔

حمائمہ ملک نے کہا کہ پاکستان میں فلمی سفرکا آغاز ہوتے ہی بالی ووڈ سے مجھے فلموں کی آفرز شروع ہوگئی تھیں اوراسی لیے کچھ ہی عرصہ میں دوفلمیں سائن کیں اوران میں کام کیا۔ لیکن بالی ووڈ میں کام کرنے کے بعد مجھے یوں محسوس ہورہا تھا کہ شاید پاکستان میں اس طرح پروفیشنل انداز سے کام کرنے والے لوگ نہ ہونے کے برابرہونگے۔ مگر جب سے میں نے پاکستان میں فلمی صنعت میں کام شروع کیا ہے تو میں خود حیران ہوں کہ پڑھے لکھے نوجوان فلم میکرز ہی نہیں بلکہ ان کی ٹیم میں شامل تمام لوگ اس قدرپروفیشنل دکھائی دیتے ہیں کہ ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے بہت کچھ سیکھنے کومل رہا ہے۔

حمائمہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے بطوراداکارہ وماڈل بہت سے غیرملکی ڈائریکٹرز، کیمرہ مین اورٹیکنیشنزکے ساتھ کام کیا ہے، اس لیے وہ یہ بات بخوبی سمجھ سکتی ہوں کہ ایک اچھی اورمعیاری فلم بنانے کے لیے صرف جدید ٹیکنالوجی اورسرمایہ ہی درکارنہیں ہوتابلکہ کوئی بھی پروجیکٹ اس وقت بہترنہیں بن پاتا جب تک اس کوبنانے والے لوگ پروفیشنل نہ ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں حمائمہ ملک نے کہا کہ بطوراداکارہ میرا کام اپنے کردارمیں حقیقت کے رنگ بھرنا ہے۔ اب اس فلم اور کردار کو کیا رسپانس ملتا ہے، یہ سب پبلک کی پسند پرمنحصر ہے۔ میرا کام تو اپنے کردار کو بڑی محنت سے سجانا اور سنوارنا ہے ۔ باقی کامیابی اور ناکامی کی گارنٹی کوئی نہیں دے سکتا۔ اس لیے میں توبس اپنا کام ایمانداری کے ساتھ انجام دیتی ہوں۔

اداکارہ جیا علی نے کہا ہے کہ بالی ووڈ انڈسٹری سے مقابلہ کرنے کے لیے ابھی ہمیں کم سے کم مزید پانچ سال کا عرصہ درکار ہو گا ،ہماری فلم اندسٹری نیچے سے دوبارہ اوپر کی طرف آرہی ہے اور نئی فلموں کی ریلیز کے ساتھ اس کا گراف بھی بہتر ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سینما انڈسٹری میں بھارتی فلموں کا سحر توڑنے کے لیے مسلسل پانچ سال تک سالانہ 60سے 70فلمیں ریلیز کرنی ہوں گی جس سے پاکستانی فلم انڈسٹری کو فروغ ملے گا اور انڈسٹری اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ اس کام کے لیے فرد واحد نہیں بلکہ فلم انڈسٹری سے وابستہ تمام ایسوسی ایشنز کو یکجا ہو کر لائحہ عمل مرتب کرنا ہو گا تاکہ پاکستان میں سالانہ فلمیں بنانے کی تعداد بڑھ سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کسی غیبی امداد کی توقع کرنا بے وقوفی ہو گی کیونکہ اگر حکومت فلم انڈسٹری کے ساتھ مخلص ہوتی تو اسکا بحران پانچ سال پہلے ہی ختم ہو چکا ہوتا۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں فلم میں کام کرنے سے پہلے ا سکرپٹ کا مطالع کرتی ہوں اور پھر فلم میں کام کرنے کے بارے فیصلہ کرتی ہوں۔

معروف ماڈل واداکارہ ایمان علی نے ہوم پروڈکشن کے تحت فلم بنانے کااعلان کردیا۔ بتایا گیاہے کہ وہ عنقریب اپنی فلم کے پراجیکٹ پر کام شروع کر دیں گی جس کا اسکرپٹ انہوں نے خودتحریرکیاہے اورفلم میں مرکز ی کرداربھی وہ خودنبھائیں گی تاہم ڈائریکشن کی ذمہ داریاں فی الحال کسی کونہیں سونپی گئیں۔توقع کی جارہی ہے کہ ایمان علی فلم کی ہدایات کے لیے شعیب منصورکی خدمات حاصل کریں گی۔ بتایاگیاہے کہ اداکارہ ان دنوں فلم کی کاسٹ فائنل کر رہی ہیں جس میں ان کی چھوٹی بہن بھی اداکاری کے جوہر دکھائیں گی۔

مومنہ مستحسن کوک سٹوڈیو میں نظر آئیں تو یہ وہ لمحہ تھا جب وہ ہمیشہ کے لیے کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں میں گھر گئیں اور آج بھی مداح ان کی تصاویر کو دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔مومنہ مستحسن ایک ’’سٹار‘‘ ہیں لیکن لوگ شائد یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی سینے میں ایک دل رکھتی ہیں اور اپنی زندگی اپنی مرضی کیساتھ گزارنے کا پورا حق رکھتی ہیں۔ اگرچہ آج تک لوگوں نے ان کی ہر تصویر اور ویڈیو پر ’محبت‘ ہی نچھاور کی ہے مگر اس مرتبہ انہوں نے اپنی ایک ایسی تصویر شیئر کر دی کہ دیکھنے والوں کو اپنی آنکھوں پر یقین کرنا مشکل ہو گیا۔

اس تصویر میں مومنہ مستحسن ہمیشہ کی طرح بہت خوبصورت نظر آ رہی ہیں لیکن سوشل میڈیا صارفین کی کثیر تعداد کو ان کا سوٹ ہی پسند آیا اور چہرے پر کیے گئے میک اپ کو لے کر ایسی ایسی باتیں کہہ دیں جو اب تک مومنہ مستحسن کو سننے کو نہیں ملی تھیں۔

Electrolux