وجود

... loading ...

وجود

امریکا ڈوبنے والاہے؟

جمعه 02 فروری 2018 امریکا ڈوبنے والاہے؟

رابن بیل کہتی ہیں۔۔ ’’ سمندروں کو باتھ روم کا ٹب سمجھنا بہت بڑی حماقت ہے۔ یہ بے قابو ہو جائیں تو تباہ کاریوں کو روکنا نا ممکن ہو جائے گا۔’برفانی تودہ دراصل ٹھنڈ کا گولہ ہے، انتہائی یخ ہے‘‘۔ وہ لیمونٹ ڈوہرٹی رصد گاہ( Lamont–Doherty Earth Observatory)کی محقق ہیں۔’’ لوگوں کو برفانی تودوں سے دنیا میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں پتہ چلنا چاہیے ‘‘۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا پیپر ہے ،جو ’’برفانی نقصانات‘‘ پر حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔وہ کہتی ہیں۔’’ابھی انسان گلیشیئرز اور برفانی تودوںکے پگھلنے اور ان کے منفی اثرات سے واقف نہیں۔ وہ نہیں جانتا کہ پیٹر مین گلیشیئر کے پگھلنے کی رفتار دنیا میں تیز ترین ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ نیو یارک میں سطح سمندر میں بلندی کا یہی سب سے خوفناک سبب ہے۔ اس سے سمندر کے کناروں میں زبردست کٹائو پیدا ہواہے۔ سطح سمندر میں اضافے کے اثرات سے بچنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے‘‘۔ سائنسی ماہرین کا ماننا ہے کہ دنیا پر جمی ہوئی تمام برف اب پگھلنے کے مرحلے میں ہے،یہ کتنے برسوں میں پگھلے گی ،کچھ کہنا مشکل ہے۔

برفانی تودوں کے پگھلنے کی رفتار میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کچھ دیو قامت تودے اپنے برفانی گلیشئیر سے علیحدہ ہو کر ٹوٹ رہے ہیں اور جس وقت یہ برفانی تودے پگھلیں گے تو ہم اندازہ نہیں کر سکتے کہ کتنا خوفناک طوفان ہمارے سمندروں میں دکھائی دے گا۔ دنیا میں سطح سمندر کتنی بلند ہو گی ؟ کون کون سے شہر ڈوبیں گے، ناسا اسی پر کام کررہا ہے۔ ناسا نے جہاں امریکا کو چاند پر پہنچایا اورمریخ پر پہنچنے کی جستجو میں لگا ہوا ہے،اسے اب یہ روگ لگا ہے کہ برف پگھلنے والی ہے، دنیا کہیں ڈوب نہ جائے۔ اس سے سطح سمندر کتنی ہوگی اور اس برف کو پگھلنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے۔اسی لیے وہ امریکا کو بچانے کی جستجو میں ہے۔چنانچہ ناسا نے نیویارک ،سڈنی سمیت درجنوںایسی بندرگاہوں کا جائزہ لیاجہاں برف تیزی سے پگھل رہی ہے۔ جب ناسا نے طاقتور دوربینوں اور خوردبینوں کے ذریعے ان گلیشیئرز کا جائزہ لیاتو سنسنی خیز راز کھلے۔گرین لینڈ میں برف کے پگھلنے سے نیویارک کو خبردار ہو جانا چاہیے۔ بقول ناساانٹارکٹیکا (Antarctica) کے گلیشئیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور یہی بات اہل سڈنی کے لیے خطرناک ہے۔

عام آدمی کی سہولت کے لیے293ساحلی علاقوں کا ڈیٹا انٹرنیٹ پر عام کر دیا گیا ہے۔سائنس دان ادھی کاری نے الگ تھیوری پیش کی ہے۔ان کے بقول جہاں برف پگھلے گی وہاںسطح سمندر بلند ہونے کی بجائے کم ہو گی اور اس کے اثرات دوسرے علاقوں پر مرتب ہوں گے۔کیونکہ گلیشئیرز کے پگھلنے سے کشش ثقل کم ہو گی،اس کے کم ہونے سے سطح نیچے چلی جائے گی۔لہٰذا ان کے بقول اس وجہ سے اوسلو میں سمندرکی سطح میں بلندی کا کوئی اندیشہ نہیںنیو یارک سمیت امریکا کے مشرقی ساحلی علاقے خطرے سے دوچار رہیں گے۔وہاں سطح سمندر بلند ہونے سے نیویارک میں 7لاکھ ، نیو اورلینزمیں3.42لاکھ،میامی میں 2.75 لاکھ، فلوریڈا کے شہر Hialeah میں2.24لاکھ،ورجینیا بیچ میں 1.95لاکھ اور ہالی وڈ میں1.26لاکھ افراد متاثر ہوئے۔دیگر شہروں میںمتاثر ہونے والوں کی تعداد اس سے کچھ کم ہے۔ یاد رکھیں دنیا کے ہر کونے میں سطح سمندر بلند ہوگی۔ ناسا کے محقق ایرک لارول نے اسی بارے میں بتایا کہ ’’ سب سے بڑا مسئلہ برف کا آپ کے مقام کے قریب یا دور ہونے کا ہے ذرا نیو یارک اور گرین لینڈ کی مثال لیجئے۔ یہاں اتنی برف ہے کہ سطح سمندر 20فٹ تک بلند ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کے پگھلنے کی رفتار مختلف ہے۔ گرین لینڈ کے برفانی تودے مختلف رفتار سے پگھل رہے ہیں۔ کرہ ارض پر درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوگا۔

نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ گرین لینڈ کے شمال مشرقی کونے نیو یارک سے ذرا فاصلے پرجمی ہوئی برف زیادہ تیزی سے پگھلے گی۔ ذرا انٹارکٹیکا کے برفانی تودے کا جائزہ لیں۔ صرف اس برفانی تودے کے پگھلنے سے سطح سمندر 13فٹ بلند ہو ئی جبکہ بعض محققین کے نزدیک یہ مغربی برفانی تودہ پگھلنے کے عمل سے دو چار ہے۔ یہ برفانی تودہ آسٹریلوی شہر سڈنی کو بھی لے ڈوبے گا۔ سطح سمندر میں بلندی کی یہی بڑی وجہ ہے۔اسے لے کر ایک بات سائنسدانوں کے لیے تعجب خیز ہے۔ جہاں جہاں برف زیادہ پگھل رہی ہے وہاں سطح سمندر بلند ہونے کی بجائے کم ہو رہی ہے۔ شاید اس لیے کہ وہاں پر کشش ثقل کم ہے۔ لارول نے اس کا تعلق زمین کی کشش ثقل سے بھی جوڑا ہے۔ ان معلومات کا تجزیہ ناسا نے گریس نامی سیارے سے ملنے والی تصاویر کی روشنی میں بھی کیا تھا۔ امریکی تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ خطرہ شہر ہالی فیکس کو ہے۔ اس کے بعد نیویارک پھر میامی کا نمبر آتا ہے۔ نیو اورلینز پانچویں لاس اینجلس چھٹے نمبر پر ہے۔ سی ایٹل ساتویں اور پرنس رپٹ آٹھویں نمبر پر ہے۔ اس طرح لارول نے 9ریاستوںمیں سطح سمندر کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ شمالی امریکا اور شمالی یورپ میں زیادہ فرق نہیں۔یہ بھی خطرے میں ہیں۔


متعلقہ خبریں


ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان وجود - منگل 24 مارچ 2026

جنگ نے خلیج کے ہوائی اڈوں اور پروازوں کو متاثر کیا، ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے سے ایٔرلائن ٹکٹوں میں اضافے کا خدشہ ہے ایران پر اسرائیلی و امریکی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی 20 بڑی ایٔر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق...

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

مضامین
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری وجود منگل 24 مارچ 2026
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری

یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم وجود منگل 24 مارچ 2026
یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم

زوال پزیری۔۔۔ جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے! وجود منگل 24 مارچ 2026
زوال پزیری۔۔۔ جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے!

لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال وجود پیر 23 مارچ 2026
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال

آئی ہے عید ہر سال کی طرح وجود پیر 23 مارچ 2026
آئی ہے عید ہر سال کی طرح

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر