انڈوں کی قیمت دگنی کرنے پرایران میں ہنگامے ‘حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل

شعیب عمر
ایران میں مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے حکومت مخالف احتجاج میں تبدیل ہوگئے ۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ایک ہی ہفتے میں انڈوں کی قیمتیں دگنا ہونے اور ایرانی صدر کی جانب سے آئندہ بجٹ میں دیگر ممالک جانے والے اپنے مسافروں پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز کے بعد ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے ۔جنھیں روکنے کے لیے پولیس حرکت میںآئی اس کی طرف سے ہونے والی آنسوگیس کی شیلنگ کے باعث مظاہرین بپھرگئے اورانھوں نے املاک پرحملے شروع کردیے اس دوران چھوٹی چھوٹی جھڑہیں پرتشددمظاہروں میں بدل گئیں۔اس دوران ایرانی فورسزکی جانب سے فائرنگ کاسلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق پانچ روزسے جاری ان مظاہروں کے دوران تقریبابارہ افرادہلاک بھی ہوچکے ہیں ۔ جبکہ درجنوں زخمی ہیں
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے کئی شہروں میں پر امن ریلی نکالی اور آمر کی موت کے نعرے بھی لگائے۔آن لائن افواہوں کی وجہ سے سفری پابندی بھی عائد کی جاچکی ہیں جبکہ مظاہروں کی جگہ پر میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں دی جارہی لہذا انٹرنیٹ پر آنے والی فوٹیجز کی تصدیق بھی نہیں ہوسکی۔
شاہانہ طرز زندگی کے خلاف جمعرات کو مشہد میں مظاہروں کا آغاز ہوا جو جلد ہی حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہوگیا۔مظاہرین نے 1979 کے ایرانی انقلاب کے نتیجے میں گرائی گئی شاہی حکومت کے حق میں بھی نعرے بازی کی جبکہ کچھ مظاہرین نے حکومت کو اندرونی مسائل کے بجائے فلسطینی اور دیگر علاقائی تحاریک کی حمایت کرنے کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مظاہرین دورود کے مقام سے 2 جسد خاکی لے کرجانے والے مظاہرین ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے، تاہم اس ویڈیو فوٹیج کی تصدیق نہیں کی جاسکی۔
ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کے عالم آیت اللہ محسن اکاری نے تہران میں مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا دشمن ایک مرتبہ پھر پھوٹ ڈالنا چاہتا ہے اور سوشل میڈیا اور معاشی مسائل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نیا فتنہ پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ادھر ایران کے طاقتور فوجی دستے پاسدارانِ انقلاب نے حکومت مخالف مظاہروں میں شریک افراد کو خبردار کیا ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام جاری رہنے پر مظاہرین سے سختی سے نمٹا جائے گا۔عرب میڈیا کے مطابق ایران کے علاقے لورستان میں دورود شہر میں احتجاج کے دوران مظاہرین قابو نہ آئے تو پولیس کو فائرنگ کرنا پڑگئی جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں عرب میڈیا کے مطابق شہر الاھواز میں واقع عبدالحمید الخزعلی بازار میں ہونے والے ایک مظاہرے پر بھی پولیس کی فائرنگ سے متعدد شہری زخمی ہوگئے جن میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔مظاہرین کے قتل کے بعد مشتعل افراد نے ایک مقامی حکومتی دفتر کو آگ لگا دی ۔ایذہ سے ایرانی پارلیمان نے رکن ہدایت اللہ خادمی نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ ان ہلاکتوں کا ذمہ دار مظاہرین تھے یا پولیس۔اس سے قبل چار افراد مغربی صوبے لورستان کے شہر دورود میں مارے گئے تھے۔ بقیہ چار ہلاکتوں کے بارے میں کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔صدر حسن روحانی کے خطاب کے بعد بھی اتوار کی شب ایران میں مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔
تہران کے علاوہ کرمان شاہ، خرم آباد، شاہین شہر اور زنجان میں بھی جلوس نکالے گئے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کی شب تہران کے میدانِ انقلاب میں ایک مظاہرے کے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور آبی توپ استعمال کی۔ان مظاہروں کا آغاز جمعرات کو ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد سے ہوا تھا۔ ایران میں عوام کے گرتے ہوئے معیارِ زندگی اور کرپشن کے خلاف ہونے والے یہ احتجاج سنہ 2009 میں اصلاحات کے حق میں ہونے والی ریلی کے بعد ایران میں ہونے والایہ سب سے بڑا عوامی احتجاج ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی حکومت نے ایران نے انسٹاگرام اور پیغام رسانی کی ایپلیکیشن ٹیلی گرام پر پابندی عائد کر دی ہے۔سرکاری تحویل میں کام کرنے والے ٹیلی ویژن نے کہا ہے کہ حکام عارضی طور پر دونوں ایپلیکیشنز کو بلاک کر رہے ہیں، تاکہ زور پکڑتے مظاہرین کو کنٹرول کرکے امن قائم کیا جاسکے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ پابندی لگانے کا مقصد ان عناصر کو روکنا ہے جو متعدد احتجاجی مظاہرین کی تصاویر اور وڈیو ز اِن ایپلیکینز کے ذریعے شیئر کر رہے ہیں۔ایران میں ہونے والی ہنگامہ آرائی پراپنے ردعمل کااظہارکرتے ہوئے امریکی صدرڈونلڈٹرمپ جلتی پرتیل کام کرنے میں مصروف ہوگئے اورانھوں نے ٹوئٹس کر ڈالاکہ ایرانی قوم اب بیدار ہوچکی ہے اور اسے احساس ہوگیا ہے کہ اقتدار پر مسلط ٹولہ کس طرح ان کے اموال اور وسائل کی لوٹ مار کر کے اسے دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔اپنی ایک ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج کے بعد ایرانی قوم اپنے وسائل کی لوٹ مار کسی صورت میں قبول نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ادھرکینیڈا نے ایران میں جاری عوامی انتفاضہ اور مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے تہران پر مظاہرین کے تمام جائز مطالبات پورے کرنے پر زور دیا ہے۔دوسری جانب ایران میں ملائیت پر مبنی حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کا دائرہ مزید پھیل گیا ہے۔کینیڈین وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران میں وسیع پیمانے پر جاری عوامی احتجاج شہریوں کا حق ہے۔ کینیڈا ایرانی مظاہرین کے تمام جائز اور آئینی مطالبات کی حمایت اور تائید کرتا ہے۔
امریکی صدرکے ٹوئٹ پرایرانی حکام کی جانب سے شدیدردعمل سامنے آیاہے اورایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کو ایرانی مظاہرین سے ہمدردی جتلانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے کیونکہ وہ ماضی میں انھیں دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق صدر روحانی نے کابینہ کے اجلاس میں کہاکہ آج ہمارے عوام سے ہمدردی جتلانے کا خواہاں امریکا میں موجود شخص یہ بھول گیا ہے کہ اس نے ماضی میں ایرانی قوم کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔انھوں نے مزید کہا کہ اس شخص کا تمام وجود ہی ایرانی قوم کے خلاف ہے۔اس کو ایران کے عوام کے لیے افسردہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔صدر روحانی نے سرکاری اداروں پر زور دیا ہے کہ انھیں تنقید کے لیے موقع فراہم کرنا چاہیے لیکن ساتھ ہی انھوں نے مظاہرین کو بھی خبردار کیا ہے کہ تشدد کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ تنقید تشدد اور سرکاری املاک کو تباہ کرنے سے ایک مختلف چیز ہے۔انھوں نے گذشتہ جمعرات سے مختلف ایرانی شہروں میں جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں کہا کہ حکومتی اداروں کو (لوگوں کو ) قانونی تنقید اور احتجاج کے لیے موقع فراہم کرنا چاہیے۔
ایران میں ہونے والے پرتشدد مظاہرے اورہلاکتیں اس لحاظ سے باعث تشویش ہے کہ موجودہ صورت میں جب امریکی صدرکی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیل کادارالحکومت تسلیم کیے جانے کے بعد مسلمان ممالک خصوصاً وہاں رہنے والے ممالک کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیاہے انہی ممالک میں پاکستان اورایران بھی شامل ہیں ایسے میں ایران جیسے امریکا مخالف ملک میں بدامنی کا فائدہ ایران مخالف قوتوں کو پہنچ سکتا ہے ۔

Electrolux