ٹرمپ کی بلیک میلنگ ناکام‘اقوام متحدہ نے بیت المقدس پرامریکی فیصلہ مستردکردیا

امریکی صدرکی عالمی برادری کو امداد بند کرنے ‘سخت ایکشن لینے کی دھمکیاں بے اثرثابت ہوئیں ۔یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے امریکی فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ میں قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں قرارداد کے حق میں 128 جبکہ مخالفت میں 9 ووٹ ڈالے گئے۔193 ملکی اسمبلی کے 35 رکن ممالک ووٹنگ کے عمل سے غیر حاضر رہے۔قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دینے والے ممالک میں گْواٹیمالا، ہْنڈراس، ٹوگو، مائیکرونیشیا، نورو، پالو، مارشل آئیلینڈز اور دیگر ممالک شامل ہیں۔ووٹنگ سے غیر حاضر رہنے والے ممالک میں ارجنٹینا، آسٹریلیا، کینیڈا، کروشیا، جمہوریہ چیک، ہنگری، لیٹویا، میکسیکو، فلپائن، رومانیہ اور رَوانڈا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔یوکرین، جس نے سلامتی کونسل میں قرارداد کی حمایت کی تھی، جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کے دوران ان 21 ممالک میں شامل رہا جنہوں نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔

معاملے کو پیر کے روز سلامتی کونسل میں امریکا کی جانب سے ویٹو کیے جانے کے بعد جنرل اسمبلی میں بھیجا گیا تھا، جبکہ کونسل کے دیگر 14 رکن ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا۔جنرل اسمبلی میں قرارداد منظور ہونے کے بعد امریکی سفیر نکی ہیلے کا کہنا تھا کہ ’امریکا یہ دن یاد رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ ’امریکا اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرے گا اور اقوام متحدہ میں کوئی ووٹنگ اس فیصلے کو بدل نہیں سکتی، تاہم اس عمل کے بعد ان ممالک سے ہمارے رویے میں ضرور فرق آئے گا جنہوں نے اقوام متحدہ میں رسوا کیا۔اگرچہ جنرل اسمبلی کی قراردادوں پر عمل کرنا ضروری نہیں لیکن ان قراردادوں کی حمایت میں ووٹ آنے سے سیاسی دباؤ ضرور بڑھتا ہے۔فلسطین نے اقوام متحدہ میں امریکی فیصلے کے خلاف قرارداد کی منظوری کو خوش آئندہ قرار دیا ہے ۔اپنے مذموم عزئم کوکامیاب بنانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ میں قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالنے والے ممالک کو امداد میں کٹوتی کی دھمکی دی تھی۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم اقوام متحدہ میں ہمارے فیصلے کے خلاف ووٹ دینے والے ممالک پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ہم انہیں کروڑوں ڈالرز اس لیے نہیں دیتے کہ وہ ہمارے خلاف ہی ووٹ کریں۔اس دھمکی کے بعد مختلف ممالک بالخصوص مسلم ممالک کی جانب سے امریکی صدر پر شدید تنقید کی گئی تھی اور انہوں نے اسے ’بلیک میلنگ‘ کے مترادف قرار دیا تھا۔

اس ساری صورت حال میں امریکی صدرکاخیال تھاکہ شایددھمکیوںکے باعث اقوام متحدہ میں ووٹنگ کے دوران کچھ مخالف ممالک اس کی حمایت میں ووٹ دیں لیکن صورت حال اس کے برعکس نکلی جس کے باعث ٹرمپ انتظامیہ کوشدیدسبکی کاسامنا کرناپڑا۔
اقوام متحدہ میں سعودی سفیر عبداللہ معلمی نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کے خلاف جنرل اسمبلی میں قرارداد منظور ہونے کے بعد کہا ہے کہ امریکا کو ایسا فیصلہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی نے اس قرارداد پر بڑے پیمانے پر ووٹ ڈال کر امریکا پر اپنا واضح نکتہ نظر ظاہر کیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالنے والے ممالک کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کہ وہ ان ممالک کی امداد بند کر دیں گے۔رائے شماری سے پہلے فلسطینی وزیرِ خارجہ نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ دھونس اور دھمکیوں کو خاطر میں نہ لائیں۔دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نے ممکنہ طور پر منظور ہونے والی اس قرارداد کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کو ’جھوٹ کا گڑھ‘ قرار دیا تھا۔گذشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چار مستقل اور دس غیرمستقل ارکان نے بھی ایسی ہی ایک قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا تاہم صرف امریکی مخالفت کی وجہ سے قرارداد منظور نہیں ہوسکی تھی کیونکہ امریکا سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے۔سلامتی کونسل میں کسی بھی قرارداد کی منظوری کے لیے پانچوں مستقل ارکان، امریکا، برطانیا، فرانس، روس اور چین کا حق میں ووٹ دینا ضروری ہے۔جن نو ممالک نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا ہے ان میں امریکا، اسرائیل، گوئٹیمالا، ہونڈیورس، دی مارشل آئسلینڈز، مائیکرونیشیا، نورو، پلاؤ اور ٹوگو شامل ہیں۔اس رائے شماری میں حصہ 35 ممالک نے حصہ نہیں لیا جن میں کینیڈا اور میکسیکو شامل ہیں۔اس قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر چار مستقل ارکان چین، فرانس، روس اور برطانیا کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، ایران، پاکستان اور امریکا کے اہم اتحادی مسلم ممالک شامل ہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 21 ممالک نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔

یادرہے کہ امریکی اعلان کے بعد عرب اور مسلمان ممالک کی درخواست پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 193 رکن ممالک خصوصی ہنگامی اجلاس بلایا گیا تھا۔ جہاں امریکاکی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیل کادارالحکومت تسلیم کیے جانے کے فیصلے پوری شدت سے مسترد کر دیاگیا۔اس بات سے انکارممکن نہیں کہ اقوام متحدہ میں قراردادمنظورہونے کے بعد امریکاکے لیے اس پرعمل کرنا ضروری نہیں ہے وہ اپنے ٖفیصلے کرنے میں آزادہے اس کے باوجوددقراردادکی منظوری اس بات کااشار ہ ہے کہ عالمی برادری ٹرمپ کے اس غیردانشمندانہ فیصلے کوتسلیم کرنے کے لیے ہرگزتیارنہیں ہے۔

Electrolux