سیاسی، عسکری قیادت ایک ہوئی تو امریکی عفریت سے نجات مل سکتی ہے

*پرویز مشرف کی طرح ہمارے وزیر خارجہ بھی ایک ٹویٹ پر لیٹ گئے
*امریکی پالیسی میں مودی جگہ بناسکتا ہے تو ہم کیوں نہیں، تجزیاتی رپورٹ

ہمارے سادہ لوح وزیر خارجہ محض ایک ٹویٹ پر لمبے لیٹ گئے ہیں اور یہ سمجھنے لگے ہیں کی شاید یہ ان کی امریکا یاترا کی برکتیں ہیں، اس سے قبل پرویز مشرف بھی ایک فون کال پر لمبے ہو گئے تھے کہ ابھی تک لیٹے ہیں کہ کمر کا درد بھی نکل آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دو ماہ قبل امریکا کی نئی پالیسی میں ایسا کیا تھا کہ اپنے پرائے سب ہی حیران تھے۔ایک وجہ تو خود امریکی صدر کی طفلانہ سوچ اور بچکانہ انداز کی پالیسی میکنگ ہے کہ بقول امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ باب کروکر کے ٹرمپ عہدہ صدارت کو رئیلٹی شو کی طرح استعمال کر رہے ہیں اور ان کے اکثر ٹویٹس غلط ہوتے ہیں۔ ابھی اگست میں ہی تو ٹرمپ نے کہا تھا کہ دہشت گرد تنظیمیں پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں رکھتی ہیں اور ان اچانک کینیڈین شہری بوئل کو بیوی بچوں سمیت رہا کرانے پر خوش ہو گئے ہیں اور ایک اور ٹویٹ مار دیا کہ یہی وہ تعاون ہے جو انہیں درکار ہے۔ تو کیا ایک ایسے شخص کے اشارہ ابرو پر پاکستان کی سیاسی اشرافیہ پالیسیاں بنائے گی جسے خود امریکا میں سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ ہمارے وزیر خارجہ جو اتنے عقل کے اندھے ہیں کی ٹرمپ کے پالیسی بیان کے بعد بھاگے بھاگے واشنگٹن پہنچے تو یہ کہہ آئے کہ پاکستان مل کر آپریشن کرنے کو تیار ہے، حالانکہ اس طرح کی کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی اور جس کا صاف مقصد تھا کہ امریکا کو پاکستان کے اندر بھی فوجی کارروائیوں کی اجازت دے دی جائے۔ اور فوج آج تک اس بیان کی تردید اور اپنی پالیسی کی وضاحت کر رہی ہے۔ویسے اگر وہ فیصلہ کر لیں تو شاید انہیں کوئی روک نہ پائے گا جس طرح اسامہ بن لادن کے معاملہ اور قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے معاملہ میں انہوں نے ہمیشہ ہٹ دھرمی کی، لیکن یہ تو خود ہی ملک کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کرنے والی بات تھی۔ اوپر سے وہاں ہمارے سفیر محترم بھی ایک نامعقول قسم کی شخصیت ہیں، جو ہے کو روک نہ سکے کہ بھائی یہ کیا بیہودہ کام کرنے جا رہے ہو۔ سچ کہتے ہیں نوکری بڑی چیزہے۔ اب کیا کیپٹن حسنین اور چار سپاہیوں کی جانوں کا نذرانہ دے کر فوج نے جس طرح اس بدمست ہاتھی کو نکیل ڈالنے کی کوشش کی ہے اسے سنجیدگی سے پکڑنے اور آگے لے جانے کی ضرورت ہے تا کہ بھارتی اور اسرائیلی دباؤ میں امریکا کوئی ایسا کام نہ کرے، جو ہماری عزت و وقار اور خود مختاری کے خلاف ہو۔ سب جانتے ہیں کہ امریکا افغانستان میں پھنس گیا ہے، وہ نکلنا چاہتا ہے مگر نکل نہیں سکتا۔ کھربوں ڈالر کے خرچے کے ساتھ ساتھ چین کا خوف بھی اسے وہاں سے نکلنے نہیں دے رہا، ایسے میں تو زیادہ اچھا موقع ہے کی امریکا کے ساتھ کھڑے ہوں اور انہیں نہ صرف سی پیک میں مداخلت سے روکیں، بلکہ انہیں اپنے عوام کو دینے کے لیے جو لالی پاپ چاہیئں وہ بھی فراہم کرتے جائیں اور اپنا اُلو سیدھا کریں۔ پاکستان کی اس وقت اولین ضرورت ہے کہ پاکستانی طالبان سمیت ان جہادی عناصر کی بیخ کنی کی جائے جنہیں بیرون ملک سے مالی اخلاقی اور ہر طرح کی عسکری امداد مل رہی ہے، جو نہ صرف ملکی سلامتی اور معیشت کے لیے زہر قاتل ہیں، بلکہ سی پیک کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ کام امریکا سے ساتھ مل کر بھی کیا جا سکتا ہے۔ امریکی پالیسی میں اگر مودی جیسا جاہل ڈپلومیسی کے زور پر گھس کر اپنی بات منوا سکتا ہے، حالانکہ وہ افغانستان میں امریکا کی کوئی خدمت نہیں کر سکتا تو ہم کیوں نہیں ایسا کرتے۔ ہم نے تو ابھی ایک کام کیا تو امریکیوں کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا، ابھی تو ہمارے ترکش میں بہت سے تیر ہیں۔ اگر عسکری اور سیاسی قیادت اکھٹی ہو اس عفریت سے جان چھڑائی جا سکتی ہے، گو ایک جاہل مطلق وزیر خارجہ سے آپ کوئی خیر کی توقع نہیں کر سکتے پھر بھی اس مالی و اخلاقی کرپشن کی بوری کو نکیل ڈالی جا سکتی ہے۔ لمبا لیٹنا تو ان کی خاندانی روایت ہے۔
تجزیہ: ظفر محمود شیخ

Electrolux