اعلیٰ عدالتوں کے سامنے دکھڑے‘بیورو کریسی نے وزیر اعلیٰ کو پھنسا دیا

*کہاجاتا ہے کہ حکمران اور خوبصورت عورت کو ہمیشہ خوشامد پسند ہوتی ہے اور بیورو کریسی یہ کام اچھے طریقے سے سر انجام دیتی ہے
*بیورو کریسی میں اصول پرستی قصہ پارینہ ہوگیا ‘ حکمران جوکہتے ہیں افسران وہی کرتے ہیں‘دن کورات کہاجائے تورات ہی نظرآتی ہے
*گھاگ وکیل ہونے کے باوجود قائم علی شاہ کو بیورو کریسی نے خوب استعمال کیا‘ سب سے زیادہ غیر قانونی کام ان سے ہی لیے گئے


ilyasahmed

کہتے ہیں کہ آفیسر کی اکاڑی سے گھوڑے کی پچھاڑی سے بچنا چاہئے۔ مطلب یہ کہ آفیسر کے آگے اور گھوڑے کے پیچھے سے نہیں گزرنا چاہئے وجہ صاف ظاہر ہے ایک افسر کسی بھی کام کے دس راستے جانتا ہے اور وہی افسر اچھے حکمراں کے ساتھ اچھا اور کرپٹ کے ساتھ کرپٹ بن کر کام کرتا ہے۔ افسران کی ان ریشہ دوانیوں سے آج تک کسی بھی دورمیں حکمراں محفوظ نہیں رہ سکے ہیں۔
خلیل جبران نے کہا ہے کہ حکمرانوں کا یہ المیہ ہے کہ ان کو ہمیشہ مخلص دوست نہیں ملتے۔ کیونکہ حکمران اور خوبصورت عورت کو ہمیشہ خوشامد پسند ہوتی ہے اور بیورو کریسی یہ کام اچھے طریقے سے سر انجام دیتی ہے۔ بیورو کریسی کے قصے پچھلے 70 برسوں سے سنائی دے رہے ہیں اورکسی بھی جماعت کی حکومت ان کے سامنے بے بس نظرآتی ہے اس لیے تو کہا جاتا ہے کہ افسران کے پاس گیدڑ سنگھی ہوتی ہے جس سے وہ حکومتوں کو اپنے دام میں پھنسالیتے ہیں۔ بیورو کریسی میں اصول پرستی اب قصہ پارینہ ہوگیا ہے۔ اب افسران تو وہی کچھ کرتے ہیں جو ان کو حکمراں کہتے ہیں پھر وہ بھلا حکمرانوں کے کیوں نہ چہیتے بنیں۔
جن افسران نے ماضی میں حکمرانوں کو آئوٹ آف ٹرن پروموشن کے راستے بتائے تھے وہی افسران سپریم کورٹ کے نوٹس لینے پر آئوٹ آف ٹرن پروموشن کے مخالف بن بیٹھے جس طرح ماضی میں ملک معراج خالد بطور وزیر اعلیٰ پنجاب کم گو تھے اس طرح سید قائم علی شاہ بھی دس سالہ اقتدار میں کم گو تو نہ تھے مگر ربڑ اسٹیمپ ضرور تھے۔ سید قائم علی شاہ کو بیورو کریسی نے خوب استعمال کیا۔ قائم علی شاہ وکیل رہے ہیں لیکن ان سے سب سے زیادہ غیر قانونی کام لیے گئے ہیں۔ قائم علی شاہ کے بعد جب مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ بنے وزیر اعلیٰ نے علی الصبح دفاتر میں افسران کی حاضری کو یقینی بنایا تو افسران بھی علی الصبح دفاتر میں آگئے اس طرح مراد علی شاہ کو یہ دکھایاگیا کہ جو ان کا حکم ہوگا اس پر عمل کیا جائے گا ۔ مراد علی شاہ بھی خوش ہوگئے لیکن اچانک پتہ چلا کہ مراد علی شاہ سے بھی ہاتھ کرلیے گئے ہیں۔
اس بات کا انکشاف وزیر اعلیٰ ہائوس سے جاری کئے گئے ایک لیٹر میں کیا گیا ہے جس میں وزیر اعلیٰ ہائوس نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ جب کوئی کیس اعلیٰ عدالت میں چلا جاتا ہے اس کی جب سماعت ہوتی ہے تو اعلیٰ افسران ان مقدمات کا سامنا کرنے کے بجائے یہ کہہ کر جان چھڑالیتے ہیں کہ اس کیس کی سمری اور فائل تو کئی دن سے وزیراعلیٰ ہائوس میں پڑی ہیں۔ ان کی کیا مجال ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ سے کہیں کہ یہ سمری یا فائل نکالیں وہ ایسا معصومانہ انداز اپناتے ہیں کہ اعلیٰ عدالتیں بجا طور پر ناراض ہوجاتی ہیں اور موقف اختیار کرتی ہیں کہ آخر وزیر اعلیٰ ہائوس میں اتنے دن فائل کیا کرتے رہتے ہیں؟ سمری یا فائل نکالنے میں وزیر اعلیٰ ہائوس اتنی دیر کیوں لگاتا ہے؟ حالانکہ وزیر اعلیٰ سندھ فائل یا سمری کو تین دن میں ہی نکال دیتے ہیں مگر بیورو کریسی کی کمال مہارت ہے کہ وہ فوری طور پر پرانی تاریخوں کی سمری یا فائل عدالتوں میں پیش کرکے اپنے اوپر سے ملبا ہٹا کر وزیر اعلیٰ ہائوس پر ڈال دیتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ہائوس کے اس لیز میں تعجب اور حیرانگی کا اظہار کیا گیا ہے اور موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اب تمام محکمے ایک افسر کا تقرر کریں جو گریڈ 17 سے کم نہ ہو وہ روزانہ وزیر اعلیٰ ہائوس سے معلوم کریں کہ جو فائل اور سمری عدالتی معاملات کی آئی ہیں ان پر وزیر اعلیٰ نے احکامات جاری کئے یا نہیں؟ وزیر اعلیٰ سندھ نے فوری طور پر حکم دیا ہے کہ یہ اقدام فوری طور پر اٹھایا جائے ورنہ عدالتوں میں حکومت سندھ کو ہزیمت اٹھانا پڑے گی ۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے اس حکم کے بعد محکموں نے بھی محتاط رویہ اختیار کرنا شروع کردیا ہے اب ان کی کوشش ہے کہ جو بھی فائل اور سمری عدالتی معاملہ کی ہو اس کی فوری منظوری لی جائے۔

Electrolux