احتساب عدالت میں ہنگامہ آرائی ۔مسلم لیگ نون کا نظامِ حکومت پر خود کش حملہ

٭لیگی حکومت کو ریاست سے زیادہ نوازشریف سے دلچسپی،پی پی کی جانب سے فوج کو مفاہمت کا پیغام
٭آئندہ پانچ ہفتے اہم قراردیے جانے لگے،نیا نظام آسکتاہے، اسلام آباد کے باخبر حلقوں کا دعویٰ

    مسلم لیگ نون کی رہنما اور سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز اپنے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کے ساتھ نیب ریفرنسز میں احتساب عدالت میں پیش تو ہوگئیں مگر یہ پیشی ہنگامہ خیز رہی۔سابق وزیراعظم نوازشریف 13؍ اکتوبر کی پیشی میں موجود تو نہ تھے مگر اُن کی طرف سے ظافر خان پیش ہوئے۔ یہ امر واضح تھا کہ اس پیشی میں ملزمان پر فردِ جرم عائد ہوتی مگر مسلم لیگ نون کے وکلاء اور کارکنان کی ہنگامہ آرائی سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔ کچھ تجزیہ کاروں نے اسے مسلم لیگ نون کی حکمت عملی سے بھی تعبیر کیا ہے۔ جو فردِ جرم عائد ہونے اور مقدمے کی روانی کو متاثر رکھ کر دراصل وقت گزارنے کی حکمت عملی کو اپنے لیے درست سمجھتی ہے تاکہ اس عرصے میں وہ سیاسی اور قومی حالات کو اپنے موافق بنا سکیں اور نظام کے اندر موجود مخالف قوتوں کو کسی نہ کسی طرح عاجز کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔مگر اس واقعے نے عملی طور پر احتساب عدالت کی سیکورٹی کے لیے رینجرز کی تعیناتی کو درست ثابت کردیا ہے۔ جسے گزشتہ دنوں مسلم لیگ نون کی حکومت نے متنازع بنانے کی کوشش کی تھی۔کچھ حلقوں کی جانب سے احتساب عدالت میں ہنگامہ آرائی کا یہ عمل مسلم لیگ نون کی طرف سے نظام حکومت پر ایک خود کش حملے سے تعبیر کیا جارہا ہے۔

دارالحکومت اسلام آباد میں دوسری طرف افواہوں کا زور ہے۔ مختلف حلقوں سے مختلف نوع کی باتیں سننے میں آرہی ہیں۔ طاقت ور حلقوں کے مطابق مسلم لیگ نون کی حکومت مکمل طور پر سابق وزیراعظم نوازشریف کی خدمت گار بن کر کام کررہی ہے۔ اور اُسے کاروبارِ ریاست سے کوئی سروکار نہیںرہا۔ اس ضمن میں قومی معیشت کی دگرگوں صورتِ حال کی حساسیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسی تناظر میں ایک کوشش خود فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے بھی ہوئی۔ اُنہوں نے کراچی میں ایک قومی معیشت پر ہونے والے سیمینار میں شرکت کی۔ اُن کے موقف سے اختلاف واتفاق دونوں ہی ہو سکتا ہے مگر مسلم لیگ نون کے اندرونی حلقوں سے یہ خبر مل رہی ہے کہ فوجی سربراہ کی جانب سے یہ کوشش اُن کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے پسند نہیں کی گئی۔ اسی تسلسل میں جب فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے ایک نجی ٹی وی پر انٹرویو میں قومی معیشت پر بات کی گئی تو مسلم لیگ کے عقاب کہلانے والے وزیر داخلہ احسن اقبال نے اس پر نہ صرف اعلانیہ اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو یہ بھی کہہ دیا کہ اُنہیں معیشت پر بیانات اور تبصروں سے گریز کرنا چاہیے۔یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک خطرناک صورت حال کی طرف تیزرفتاری سے بڑھتے ہوئے قدموں کی چاپ ہے۔ جو اس کا امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسلم لیگ نون کی حکومت فوج سے تصادم کی راہ اختیار کرنے سے نہیں ہچکچا رہی۔ فوج سے تصادم کی حکمت عملی کے فائدے اور نقصانات کے جائزے سے قطع نظر یہ ایک یقینی امر ہے کہ اب یہ تصادم ناگزیر ہے۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے سابق وزیر اعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد اب اتنا وقت گزر چکا ہے کہ مفاہمت کا کوئی بھی امکان باقی ہوتا تو اس کی کوشش ضرور کی جاتی۔

باخبر ذرائع کا اصرار ہے کہ اس حوالے سے کچھ پیغامات بھی ایک دوسروں کورات کی تاریکیوں اور پردے کے پیچھے بھیجے جاتے رہے۔ طاقت ور حلقوں کا خیال تھا کہ مسلم لیگ نون کی حکومت اپنے کاربار ریاست کو جاری رکھے اور نوازشریف اور اُن کے خاندان کا معاملہ عدالت پر چھوڑ دے۔ اس ضمن میں ابتدا میں نوازشریف کے بھائی شہبازشریف کے لیے کچھ گنجائشیں تلا ش بھی کرلی گئی تھیں۔ مگرنونی حلقوں کے مطابق اِسے خاندانی طور پر ناکام بنادیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اب تصادم نوشتہ دیوار ہے۔ اس ضمن میں مسلم لیگ نون کی پالیسی کے دوواضح رخ بتائے جارہے ہیں ۔ ایک طرف وہ تحریک انصاف کو چھوڑ کر باقی سیاسی جماعتوں کی حمایت سے جمہوریت کے نام پر ایک ایسی حکمت عملی اختیار کرنا چاہتی ہے کہ جس میں سب مل جل کر نظام کے نام پر اکٹھے ہوں اور دوسری طرف وہ فوج سے تصادم کو سیاسی طور اس لیے مفید سمجھتے ہیں کہ یہ اس پورے کھیل کو ایک نئی جہت دے سکتا ہے۔ چنانچہ باخبر حلقوں کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے پیپلزپارٹی سے مسلم لیگ نون کے رازونیاز جاری ہیں۔ تو دوسری طرف وزیرداخلہ احسن اقبال اور وزیرخارجہ خواجہ آصف کے ذریعے فوج کی سبکی کاسامان بھی مسلسل کیا جارہا ہے۔

اس پوری فضا میں اسلام آباد کے کچھ باخبر حلقے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ اگلے پانچ ہفتے نہایت اہم ہیںجس میں نئے نظام کے بندوبست کی کچھ شکلیں سامنے آسکتی ہیں۔ کیونکہ نظام کو چلانے والے طاقت ور ریاستی حلقے اب یہ یقین کرنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ نون کی  حکومت کو حکومت اور ریاست سے زیادہ سابق وزیراعظم نوازشریف سے دلچسپی ہے۔ اس ضمن میں ایک باخبر ذریعے کا یہ کہنا ہے کہ اس پوری ڈانواڈول صورتِ حال کا پوری طرح پیپلز پارٹی ادراک کررہی ہے اور وہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ معاملات کو ایک حد سے آگے نہیں بڑھانا چاہتے ۔ چنانچہ پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کے سیاسی بیانات کے اندر فوج کو اپنی طرف سے ایک خاموش مفاہمت کا پیغام دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

 

Electrolux