بیرونی قرضوں ‘ مالیاتی خساروں میں خطرناک حد تک اضافہ

*آئی ایم ایف پروگرام کے اختتام کے بعد پاکستان کی معیشت کے بیرونی اشاریوں میں تنزلی نوٹ کی گئی جوانتہائی تشویش ناک ہے
*مثبت معاشی پالیسی اختیار نہیں کی گئی تو معاشی حالات غیر مستحکم ہوجائیں گے‘رسدمیں نرمی کئے جانے سے برآمد میں بحالی ہوسکتی ہیں
*چینی سرمایہ کاری سے قومی معیشت ‘سازگار‘ہوئی‘ پاکستان مشکل حالات سے نکل کر بہتری کی جانب گامزن ہے‘صورتحال برقرار رکھنا ہو گی

ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ ناقص میکرو اکنامکس (مالی و اقتصادی) پالیسی کے نتیجے میں مالی سال 2017 کے دوران پاکستان کے بیرونی قرضوں اور مالیاتی خساروں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ورلڈ بینک اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ اجلاس سے قبل جاری کی گئی ‘دی ساؤتھ ایشیا اکنامکس فوکس فال 2017‘ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی کمزور میکرو اکنامکس پالیسیوں کے نتیجے میں اقتصادی بحران پیدا ہوا۔مزید کہا گیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے اختتام کے بعد معیشت کے بیرونی اشاریوں میں تنزلی نوٹ کی گئی۔
رپورٹ میں گزشہ مالی سال کو پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایک سال قبل پاکستان اقتصادی خسارہ برداشت کرنے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی سمیت معاشی نمو کے لیے بہتر پوزیشن میں تھا۔معاشی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی معاشی نمو دباؤ کا شکار رہے گی۔واضح رہے کہ آئی ایم ایف قرض کے اختتام کے بعد پاکستان میں میکرو اکنامکس کا شعبہ جمود کا شکار ہوا، جبکہ حالیہ برسوں میں میکرو اکنامکس استحکام کی بحالی کے سلسلے میں واضح پیش رفت دیکھی گئی ہے۔پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے اور ایم ایس سی آئی انڈیکس مارکیٹ میں شمولیت کے نتیجے میں بھی پاکستانی معیشت نے اپنی استعداد بڑھائی تاہم حالیہ مہینوں میں میکرو اکنامکس متاثرہ ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بیرونی توازن کو بہتر بنانے سے برآمدات میں بحالی، درآمدات میں کمی اور تر سیل زر کے بہاؤ میں استحکام پیدا ہوا، تاہم مذکورہ تینوں اشاریوں میں سے کسی ایک کی بھی غیر موجودگی کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوتے ذخائر پر مزید دباؤ بڑھائے گا۔’’گروتھ آؤٹ آف بلو‘‘ (Growth out of the Blue) کے عنوان کے تحت اس رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ آئندہ برس الیکشن کے دوران بھی مالیاتی پوزیشن مزید متاثر ہوگی جس کے باعث قرضوں کی ادائیگی اور ان میں توازن رکھنا مشکل ہوگا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیئے جانے سے ملک میں سیاسی و اقتصادی پالیسی عدم استحکام کا شکار رہی اور آئندہ برس ہونے والے عام انتخابات میکرواکنامکس پالیسوں پر بھی منفی اثرات مرتب کرسکتے ہیں ، رپورٹ میں پاکستان کے معاشی نظام میں اصلاحات کی سست روی کو معاشی نمو کے لیے تنزلی قرار دیا گیا، جس کے باعث نجی مالیاتی اداروں کی عدم دلچسپی رہی۔ رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی کہ اگر پاکستان میں مثبت میکرواکنامکس پالیساں ، سیاسی ماحول میں استحکام اور حکومت کی جانب سے مختصر المیعاد اصلاحات متعارف کروائی گئیں تو مالی سال 2019 میں زرمبادلہ بڑھے گا تاہم تیل کی قیمتیوں میں معمولی اضافہ ہوگا۔پاکستان میں رسد کے شعبے میں بہتری کی شرح سروسز اور صنعتی شعبوں میں ہوگی جبکہ طلب میں اضافہ پبلک اینڈ پرائیوٹ اداروں سے ہوگا، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری میں معتدل اضافہ ہوگا۔رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی کہ معاشی نمو پر دباؤ کے بادل تجارتی خسارے کے باعث مالی سال 19-2018 تک بلند سطح پر رہیں گے، اگر مثبت معاشی پالیسی اختیار نہیں کی گئی تو معاشی حالات خطرناک حد تک غیر مستحکم ہوجائیں گے۔اس ضمن میں رپورٹ میں کہا گیا کہ ممکنہ طور پر شعبہ رسد میں نرمی کے باعث برآمدات میں بحالی کے نتیجے میں مالی سال 19-2018 میں ریلیف مل سکتا ہے۔
مالی سال 2017 میں درآمدات کی شرح میں 17.7 کا مثبت اضافہ مالی سال 2018 اور 2019 پر اثر انداز ہوگا اور ترقی کی شرح میں اعتدال رہے گا۔رپورٹ میں امید ظاہر کی گئی سی پیک منصوبوں میں سرمایہ کاری کے نتیجے میں ایف ڈی آئی مستحکم ہوگی، تاہم مالی بہاؤ اور سرمائے سے مالی سال 2018 اور 2019 میں موجودہ مالیاتی خسارے کو کسی حد تک سہارا ملے گا جس کے باعث ان 2 برسوں میں زرمبادلہ سے رقم کا حصول ممکن ہوگا۔مزید کہا گیا کہ آئندہ برس الیکشن کے دوران تجارت کے شعبے میں مالی تاخیر ممکن ہے جس کے نتیجے اگلے مالی سال میں تجارتی خسارے کا حجم بڑھ جائے گا، تجارتی خسارے کے اسباب کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ اگلے مالی سال میں وفاقی اور صوبائی سطح پر ٹیکس ادائیگیوں میں کمی واقع ہو گی اور اخراجات میں غیر معمولی اصافہ ہوگا۔
رپورٹ میں مالی سال 2019 کے بارے میں بتایا گیا کہ الیکشن کے بعد مالی خسارہ محدود ہو جائے گام مالی سال 2017 میں مہنگائی کی شرح اعتدال میں رہی لیکن مالی سال 2018 اور 2019 میں مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔رپورٹ میں پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور ملکی سطح پر طلب میں اضافہ قرار دیا گیا ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ چینی سرمایہ کاری سے پاکستانی معیشت ‘سازگار‘ ہوئی لیکن حالیہ واقعات پر خبردار بھی کیا ہے۔آئی ایم ایف نے گزشتہ سال کہا تھا کہ پاکستان مشکل حالات سے نکل کر بہتری کی جانب گامزن ہے۔اپنی تازہ رپورٹ میں آئی ایم ایف نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میکرواکنامک معاملات میں تنزلی شروع ہوئی ہے اور اس سے معاشی معاملات پر اثرات پڑسکتے ہیں ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جی ڈی پی کا تخمینہ 2016-17 میں 5.3 تھا اور وسط میں پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت سرمایہ کاری، توانائی میں بہتری اسٹرکچر کی بحالی سے 6 فی صد سے تجاوز کیا جو معاشی سرگرمیوں کے لیے سازگار ہے‘۔تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ‘میکرواکنامک کی صورت حال میں تنزلی کا آغاز ہوا ہے اور یہ معاشی سرگرمیوں کے لیے رسک ہوسکتا ہے‘۔
پاکستان نے 2016-17 میں معاشی ترقی کا ہدف 5.7 فی صد رکھا جبکہ عالمی بینک نے 2018 میں یہ جی ڈی پی میں اضافہ 5.4 فی صد ہونے کا اندازہ لگایا ہے۔ وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ ‘گذشتہ ادوار میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی معیشت کو غیر مستحکم قرار دیا جاچکا تھا، عالمی بینک پاکستان کے ساتھ کام کرنے سے گریزاں تھا، آج پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور پاکستان 2030 تک دنیا کی 20 بڑی اقتصادی طاقتوں میں شامل ہو جائے گا‘۔

Electrolux