سول اسپتال خیر پور اور کے ایم سی کے اسپتالوں میں مالی بے قاعدگیاں ‘ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی تشویش


ilyasahmed

حکومتی اداروں میں کرپشن کی ایسی تاریخ رقم ہو رہی ہے جو ناقابل بیان ہے، حکومتیں اب کرپشن کو اپنے لیے آکسیجن سمجھتی ہیں کیونکہ حکومت کے وزراء ، مشیر، معاونین خصوصی تب تک رعب و دبدبہ قائم نہیں رکھ سکتے جب تک ان کے پاس کروڑوں ، اربوں روپے نہ ہوں ان کے پاس ہوٹر والی گاڑیاں نہ ہو، سیکیورٹی گارڈز نہ ہوں اور ایسا کرنے کے لیے واحد راستہ کرپشن ہے، نیب نے اب تک جو کردار ادا کیا ہے وہ مایوس کن ہے کیونکہ نیب نے جن افراد کو چھوٹ دی ہے یا ان کی انکوائریز ختم کی ہیں وہ حقیقی معنوں میں کرپٹ تھے۔
پلی بار گین ایک ایسا گھناؤنا عمل تھا جس سے ایک وزیر یا ایک اعلیٰ افسر 100 روپے لوٹ کر20 سے25 روپے نیب کو پلی بارگین میں واپس کرتا ہے اور75 روپے اپنے پاس رکھ کر حاجی اور قاضی بن جاتا ہے اس سے وزراء اور اعلیٰ افسران کا کام بھی بن جاتا ہے‘ نیب بھی خوش ہو جاتا ہے کہ چلو کچھ تو رقم کرپٹ افسران کی جیبوں سے نکلی، حقیقت یہ ہے کہ اب رشوت کا ریٹ بھی بڑھ گیا ہے۔ پہلے افسران کسی کام کے لیے جو رقم طلب کرتے تھے اب اس سے تین گنا زیادہ مانگتے ہیں اور موقف اختیار کرتے ہیں کہ پہلے بات دوسری تھی اب نیب کو پلی بارگین کیلیے جو رقم واپس کرنی ہے وہ بھی تو اپنی پوسٹ سے وصول کرنی ہے اور بیچارے لوگ یہ رقم دینے پر مجبور ہیں حکومت بھی خوش ہے کہ وہ نہ تو کسی وزیر کو کرپشن سے روک رہی ہے اور نہ ہی کسی افسر کوکرپشن پر تنگ کر رہی ہے وہ اپنا کام جاری رکھیں ان کو کیوں روکا جائے وہ اپنا پیٹ بھر رہے ہیں تو حکمرانوں کو بھی کھلا رہے ہیں ۔ اس صورتحال میں صرف ایک ہی موثر آواز اٹھ رہی ہے وہ آواز ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ہے جو ہر قدم پر حکومت کا آئینہ دکھا رہی ہے حکومت کو اگر بدنامی اور پریشانی کا خوف ہے کہ تووہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا خط حکومت کو ملتا ہے تو حکومت کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں کیونکہ جو بات کہی جاتی ہے وہ ٹھوس حقائق پر مبنی ہوتی ہے اس کی تردید کرنا یا جھٹلانا حکومت کے بس میں نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ جب بھی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی نشاندہی ہوتی ہے تو حکومت کے لیے یہ مجبوری ہوتی ہے کہ وہ اپنی غلطی کو درست کرے اور جو اقدام غلط اٹھایا تھا اس کو ٹھیک کرے۔ اب ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے حکومت سندھ کو ایک خط لکھا ہے کہ کے ایم سی اور سول اسپتال خیر پور میں خوراک کے ٹھیکوں میں بے قاعدگی کی گئی ہے اور ان ٹھیکوں میں سندھ پبلک پریکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔حکومت سندھ کو یہ لیٹر ملنا تھا ایک طوفان کھڑا ہو گیا کیونکہ اس وقت محکمہ صحت کے سیکریٹری فضل اللہ پیچوہو ہیں جو سابق صدر آصف علی زرداری کے بہنوئی ہیں فضل اللہ پیچوہو کو بھلا کون کہہ سکتا ہے کہ انہوں نے جو اسپتالوں کو کھانے پینے کی اشیاء کے ٹھیکے دیئے ہیں ان میں بے قاعدگی کی گئی ہے؟ حکومت سندھ کی کیا مجال ہے کہ ان سے وضاحت طلب کرے لیکن ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے جس طرح سوال جواب کیے ہیں ان سے حکومت سندھ کی طرح فضل اللہ پیچوہو بھی پریشان ہو گئے ہیں فضل اللہ پیچوہو کو صرف یہ ڈر ہے کہ کہیں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ عالمی سطح پر شائع نہ ہو جائے اور پھر آصف زرداری ان سے پوچھ نہ لیں کہ کچھ تو خیال کرو؟ اس لیے فوری طور پر محکمہ صحت میں کھانے پینے کی اشیاء کے ٹھیکوں کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں اورٹھیکوں میں جو بے قاعدگیاں ہوئی ہیں ان کو درست کیا جارہا ہے لیکن پھر بھی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا سوال اپنی جگہ پر قائم ہے کہ ان ٹھیکوں میں بے قاعدگیوں کا اصل ذمہ دار کون ہے؟

Electrolux