علامہ اقبال اور قائد اعظم یونیورسٹی کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر گھپلوں کا انکشاف

تازہ ترین آڈٹ رپورٹ میںعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور قائد اعظم یونیورسٹی کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر گھپلوں کا انکشاف ہواہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے گریڈ20-22 کے ملازمین کو 2014-15 کے دوران اپنی نجی گاڑیوںمیں فیول کے نام پر4.36 ملین یعنی 43 لاکھ60 ہزار روپے دے دیئے گئے،پارلیمنٹ میں آڈیٹر جنرل کی جانب سے حال ہی میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں اس کاانکشاف کرتے ہوئے یہ بھی بتایا گیاہے کہ عملے کو فیول کے نام پر رقم کی فراہمی خلاف ضابطہ اور خلاف قانون ہے کیونکہ یونیورسٹی کے قانون کے مطابق ایسی کسی ادائیگی کی کوئی اجازت نہیں ہے۔آڈٹ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ فنانس ڈیپارٹمنٹ کی اجازت کے بغیر عملے کی نجی گاڑیوں کیلیے فیول کی فراہمی خلاف قانون اور خلاف ضابطہ ہے۔تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یونیورسٹی کے کتنے ملازمین نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے یا نہاتے رہے۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں عمومی مالیاتی اصولوں اور ضوابط کاحوالہ دیتے ہوئے کہاگیاہے کہ مخصوص گریڈ کے ملازمین کو دئے اخراجات کی مد میں کی جانے والی ادائیگیاں اتنی واضح ہیں کہ اس کے بعد کسی طرح کے کسی الائونس کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ جن ملازمین کو فیول کے نام پر ادائیگیاں کی گئی ہیں ان سے ان کو ملنے والے ٹرانسپورٹ الائونس اور فیول کی مد میں کی جانے والی ادائیگیوں میں موجود فرق کے مطابق رقم ان کی تنخواہوں سے وضح کرلی جائے یعنی ان کو اب تنخواہیں ان کے حاصل کردہ فیول کی رقم کاٹ کر ادا کی جائے۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اشرف2014 میں اپنی تقرری کے فوری بعد ہی سے سرکاری رہائش گاہ میں قیام پزیر ہیں لیکن اس کے باوجود وہ ہر مہینے یونیورسٹی سے ہائوس رینٹ کے نام پر 65 ہزار روپے وصول کررہے ہیں۔جو کہ سنگین بدعنوانی اور خورد برد کے علاوہ اپنے عہدے سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے بھی مترادف ہے۔
آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں یہ وضاحت کی ہے کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کواپنے عہدے کی میعاد کے دوران ایک پروفیسر کے مساوی تنخواہ حاصل کرنے کا حق ہے اس کے علاوہ اسے اس کے عہدے کے دوران وائس چانسلر الائونس وصول کرنے کاحق ہے لیکن یہ الائونس اس کی بنیادی تنخواہ کے20فیصد سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔اس کے علاوہ وائس چانسلر کوگریڈ 22 کے افسران کے مساوی ٹرانسپورٹ اور میڈیکل کی سہولتیں حاصل کرنے کا بھی حق ہے۔تاہم قائد اعظم یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر جن کاوائس چانسلر کی حیثیت سے13 اکتوبر2014 کو تقرر کیاگیا تھایونیورسٹی کی رہائشی کالونی میں سرکاری رہائش گاہ میں قیام کے باوجود باقاعدگی سے ہر ماہ 65 ہزار روپے کرایہ مکان کے طورپر حاصل کررہے ہیں،جس سے یونیورسٹی کومجموعی طورپر1.23 ملین یعنی 12 لاکھ 30 ہزار روپے نقصان اٹھانا پڑا ہے جب کہ اس نقصان میں ماہ بماہ اضافہ ہوتاجارہاہے کیونکہ وائس چانسلر تمام اصولوں کوبالائے طاق رکھتے ہوئے ہر ماہ کرایہ مکان کے نام پر 65ہزار روپے وصول کررہے ہیں۔
آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ وائس چانسلر سے یہ رقم واپس لی جانی چاہئے کیونکہ یہ رقم واپس نہ لینا غیر قانونی اور سنگین بے قاعدگی تصور کی جائے گی۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ریکارڈ کے مطابق وائس چانسلر نے یہ رقم نومبر 2014 سے مئی2016 تک وصول کی ہے۔
آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ وائس چانسلر کو کسی قانونی یا تادیبی کارروائی سے قبل ہی رضاکارانہ طورپر یہ رقم یونیورسٹی کوواپس کردینا چاہئے اور اس طرح وصول کی گئی ناجائز رقم یونیورسٹی کے اکائونٹ میں جمع کرادینی چاہئے۔
اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی کی انتظامیہ نے آڈیٹر جنرل کی اس رپورٹ اور سفارشات کو تسلیم کیاہے لیکن یونیورسٹی کی اکائونٹس کمیٹی نے ابھی تک اس رقم کی واپسی کیلیے کوئی کارروائی شروع نہیں کی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ رپورٹ منظر عام پر آجانے کے بعد یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اشرف رضاکارانہ طورپر غیر قانونی طورپر حاصل کردہ یہ رقم یونیورسٹی کو واپس کرتے ہیں یا پھر وہ رقم کی واپسی کیلیے قانونی کارروائی کاانتظار کرتے ہیں ، یا اس رپورٹ کو دباکر معاملے کو رفع دفع کرنے اور رقم ہضم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ اس طرح غیر قانونی طور پر وصول کردہ رقم کی واپسی کیلیے کیا کارروائی کرتے ہیں اور کیا وہ اس طرح کے بے ایمان اور بددیانت شخص کو یونیورسٹی کے وائس چانسلر جیسے معزز پیشے پر برقرار رکھنا چاہیں گے ۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ یہ رپورٹ منظر عام پر آجانے کے بعد وائس چانسلر جاوید اشرف کو اپنی غلطی کااعتراف کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر وصول کردہ تمام رقم یونیورسٹی کو واپس کردینا چاہئے اور اگر وہ فوری طورپر اتنی رقم واپس کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں تو یونیورسٹی انتظامیہ کو قسطوں میں یہ رقم تنخواہ سے وضح کرنے کی درخواست کرسکتے ہیں اس طرح قانون سے عدم واقفیت کی آڑ میں ان کی یہ کرپشن چھپ جائے گی اور اس کرپشن کی وجہ سے ان کے ماتھے پر لگ جانے والا یہ سیاہ داغ کسی حد تک چھپ جائے گا۔جبکہ رقم رضاکارانہ طورپر واپس نہ کرنے اور اس معاملے کو دبانے کی کوشش یا رقم کی واپسی کے لیے قانونی کارروائی کاانتظار کرنے کی صورت میں وہ اپنی ملازمت سے بھی ہاتھ دھو سکتے ہیں اور رقم پھر بھی انھیں واپس کرنا پڑے گی اوررقم واپس نہ کرسکنے کی صورت میں جیل کی ہوا بھی کھانا پڑ سکتی ہے۔
اب دیکھنایہ ہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اشرف اپنے لیے کس راستے کاانتخاب کرتے ہیں ،ذلت کے ساتھ ملازمت سے برطرفی یا عزت کے ساتھ اس عہدے پر کام کرتے رہنے کا موقع۔

Electrolux