محکمہ اینٹی کرپشن نے تحقیقات شروع کردیں


ilyasahmed

قیام پاکستان سے لے کر اب تک ملک میں کسی بھی طرح ریاست کے اداروں کو مضبوط نہیں کیا گیا، ریاست کمزور اور افراد طاقتور ہوتے گئے جس کے نتیجے میں یہاں عوام محکوم ہوئے اورایک خاص طبقہ مزید طاقت پکڑگیا۔اب صورت حال یہ ہے ملک کے بیس کروڑ عوا م پر چندگنے چنے طاقتورافرادکی حکمرانی ہے۔غریبوں کاکوئی پرسان حال نہیں۔بدقسمتی یہ ہے کہ انہی طاقتورخاندانوں کے افرادبارباراقتدارمیں آتے رہے۔جنھوں نے عوام کومزید غریب کی پستی میں دھکیلنے میں کوئی کثرنہ چھوڑی۔کسی بھی دور حکومت میں عوام کے لیے کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھایا گیا جو ان کی تقدیر بدل دے۔اور ان کوبہترمستقبل کی ضمانت فراہم کرے۔
ملک میں ایک طبقہ امیر سے امیر ہوتا گیا‘ارب پتی سے کھرب پتی بن گیا اور محنت کش طبقہ غربت کی گہرائیوں میںگرتاچلا گیا۔ہردورمیں حکمرانوں نے قرض پرقرض لیا۔اب صورتحال یہ ہے کہ ہرپاکستانی تقریباایک لاکھ سے زائدکامقروض ہے۔ستم ظریقی یہ کہ ترقیاتی کاموں کے دعویدارحکمرانوں نے عوام کے بنیادی مسائل کی جانب بھی توجہ دیناضروری نہ سمجھا۔ سرکاری اسپتال اوراسکول برائے نام سرکاری رہ گئے ہیں ۔یہاں کسی نہ کسی طرح لوٹ مار کابازارگرم ہے۔
سرکاری اسپتالوں میں علاج صحیح ہورہا ہے ‘نہ غریب کے بچے سرکاری اسکولو ں میں بہترتعلیم حاصل کرپارہے ہیں ۔ رہی بات حکمران اورطبقہ امراکی توان کے لیے مشکل کیاہے۔ پیسے کے بل بوتے بیرون واندرون ملک جہاں چاہیں علاج کراسکتے ہیں۔پاکستان میں اگر ان کے علاج کے لیے مہنگے ترین اسپتال اوراعلی قابل ڈاکٹرموجود ہیں ۔توبیرون جانے میں بھی ان کوکوئی مشکل پیش نہیں آتی ۔ رہی ان کے بچوں کی تعلیم کی بات توان کے بچے تورہتے ہی بیرون ملک ہیں اوروہیں تعلیم حاصل کرتے ہیں اورپھرجب وہ پڑھ لکھ جاتے ہیں تویہاں حکمرانی کرنے کے لیے آجاتے ہیں ۔اورسادہ لوح عوام انھیں منتخب کرکے اسمبلیوں میں بھیجنے میں ذرابھی تاخیر نہیں کرتے۔
حکمران طبقہ کسی بھی جماعت کا ہو وہ صرف یہاں کے عوام کو غلام سمجھتا ہے ان کو کون سمجھائے کہ آخر یہ عوام بھی تو انسان ہیں مگر ایسا سوال ان سے کون کرے؟ بس یہ ایک کھیل ہے جس کو سمجھنے سے عام آدمی قاصر ہے۔ کراچی کے عوام کو یوں تو ہر طرح سے لوٹا گیا ہے ان سے ہر کسی نے ناانصافی کی ہے کبھی سیاسی میدان میں کبھی مذہبی میدان میں کبھی سماجی میدان میں کبھی ترقی کے میدان میں ان سے ناانصافیاں کی گئیں لیکن ان کے لیے کوئی کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔بھلا حکمراں ان کے لیے کیوں کریں کبھی ایم کیو ایم بندوق کے زور پر انہیں غلام بناتی ہے؟ کبھی پی پی ان کو ترقی کے نام پر دبادیتی ہے۔ کبھی مسلم لیگ (ن) فوجی آپریشن کے نام پر خواب دکھاتی ہے لیکن کوئی ایسا نہیں ہے جو کراچی کے عوام کے لیے حقیقی معنوں میں مسیحا بن آئے اور وہ ان کی ترقی کے لیے کام کرے۔
کراچی میں سب سے بڑی ناانصافی یا بے قاعدگی کوآپریٹو سوسائٹی کے نام پر کی گئی ایک اہم تحقیقاتی ادارے نے 400 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کی جو دل دہلادینے والی تھی کہ جس جگہ پی ای سی ایچ ایس ہے وہاں ایک گروپ نے اقبال سوسائٹی کے نام پر فرضی سوسائٹی بنائی اور 400 سے زائد پلاٹ بھی فروخت کردیئے نہ زمین تھی اور نہ پلاٹ مگر پیسے لے لیے گئے اور لوگ لٹتے رہے۔ عقل کے اندھے عوام پیسے دیتے چلے گئے پرکسی نے زمین دیکھنے کی زحمت کہ نہ پلاٹ دیکھے۔ جب فراڈکھل کرسامنے آیاتوسرپکڑکربیٹھ گئے ۔ ان متاثرین کے سینکڑوں کیس عدالتوں میں چلائے گئے۔لیکن کسی بھی جانب سے اس پربات کی گئی نہ کہیں سے کوئی آوازاٹھی۔ نہ ہی کوئی ان کی دادرسی کے لیے آیا۔
کسی بھی کوآپریٹو سوسائٹی کے حوالے سے تحقیقات کی جائے توعقدہ کھلتا ہے کہ اس کا ایک پلاٹ چار پانچ افراد کے نام الاٹ ہے جب ایسی صورتحال ہوگی تو پھر وہی اس پلاٹ کا قبضہ لے سکے گا جس کے پاس طاقت ہوگی۔تب وہ ڈنڈے اور پیسے کے زور پر اس پلاٹ پرقبضہ کرکے بیٹھ جائے گا اور جو شریف ہوگا وہ بیچارا اپنے پیسے ڈوبنے پر صبر کرکے بیٹھنے کے سواکرہی کیا سکتاہے ۔حال ہی میں محکمہ اینٹی کرپشن خواب خرگوش سے بیدار ہوئی ہے اور 59 کوآپریٹو سوسائٹیوں سے ان کا ریکارڈ طلب کیا ہے اس سے ان غریبوں کے لیے امید کی کرن پیدا ہوئی ہے جو اپنے کروڑوں اربوں روپے لٹواکر خاموشی سے گھر بیٹھ گئے ہیں۔ 59 کوآپریٹو سوسائٹیوں میں سے 39 کوآپریٹو سوسائٹیوں کا تو پورا ریکارڈ بھی نہیں ہے اور وہ بیچارے جنہوں نے الاٹمنٹ کرائی ہے وہ دھکے کھارہے ہیں اب ان کا کوئی ولی وارث نہیں ہے اب اگر محکمہ اینٹی کرپشن نے حقیقی معنوں میں تحقیقات کی تو کچھ نہ کچھ نتیجہ نکلے گا اگر محکمہ اینٹی کرپشن نے بھی رشوت لی اور حسب سابق تحقیقات میں ڈنڈی ماری تو غربت لوگوں کی یہ آخری امید بھی ٹوٹ جائے گی کیونکہ اب ان کا کوئی سہارا نہیں ہے وہ دن رات اﷲ سے ہی فریاد کررہے ہیں۔

Electrolux