کراچی میں خواتین پر چھرا گروپ چھلاوا بن گیا

*ضیاء الحق کے دورمیں رات کوگھروں سے باہرسوتے ہوئے افرادکے سرکچل کر ہتھوڑاگروپ نے کراچی میں دہشت پھیلائی تھی
*لوگوں نے گھروں سے باہرسوناچھوڑدیاتھا‘گلی محلو ںمیں آہنی دروازے لگ گئے تھے‘اچانک ہی ہتھوڑاگروپ منظرعام سے غائب ہوگیا
*35سال بعدچھرامارگروپ بھی خواتین کے لیے دہشت کی علامت بنتا جارہاہے ‘لڑکیوں نے شام گئے تنہاگھرسے نکلناچھوڑدیاہے
*ملزم باآسانی واردات کرکے فرارہوجاتا ہے ‘پولیس نے دعووں کے سواکچھ نہیں کرپارہی ‘عوام کاغصہ اورخواتین کاخوف بڑھتا جارہاہے


ilyasahmed

مرحوم ضیاء الحق کے دو رمیں ہتھوڑا گروپ جب نمودار ہوا تو کراچی میں خوف کی ایک علامت بن گئی۔ جہاں لوگ رات کو کھلے آسمان تلے سوئے ہوئے ہوتے تھے وہاں رات کو ہتھوڑا گروپ والے بے گناہ انسانوں کو ہتھوڑے مارکر قتل کردیتے اور صبح کو ان کی نعشیں اُٹھائی جاتیں تھیں پھر اچانک ہی ہتھوڑا گروپ کا غائب بھی ہوگیا ۔لیکن ہتھوڑاگروپ کی دہشت کے باعث لوگوں نے گھروں سے باہر سونا چھوڑدیا۔ اس کے بعد ہی شہر کی گلیوں میں آہنی دروازے اور جنگلے لگنے کی ابتدابھی ہوئی۔ ہتھوڑاگروپ کے خوف سے مغرب ہوتے ہی یہ آہنی دروازے بند کردیئے جاتے تھے۔بعض علاقوں میں موجودچوکیداربھی گیٹ کے اس طرف ہوتاتھا۔
گلیوں اورمحلوں میں لگے آہنی دروازوں کافائدہ بعد میں مسلح گروہوں نے اٹھاناشروع کردیا۔یہ لوگ رات گئے آہنی دروازے بند کرکے علاقوں کواسلحہ زورپریرغمال بنالیتے تھے اورپھرسیاوہ سفید کے مالک بن جاتے تھے۔ شریف لوگوں کارات کے اوقات میں گھروں سے نکلنات مشکل ہوگیاتھا۔ 1992ء میں فوجی آپریشن شروع ہوااور آہنی گیٹ توڑ ے گئے توکئی علاقوں کے عوام نے سکھ کاسانس لیا۔ اس بات سے قطع نظریہ گلی محلوں کواسلحے کے زور پریرغمال بنانے والے کون لوگ تھے ۔ اصل معاملے کی طرف آتے ہیں۔ضیاء دورمیں دہشت پھیلانے والا ہتھوڑاگروپ اچانک ہی غائب ہوگیا۔ اس کے بارے میں کسی کوکچھ پتہ نہ چلاکہ وہ کون تھا۔کہاں سے آیااورکہاں چلاگیا۔اس دورمیں ہتھوڑاگروپ کی قتل وغارت گری کاتصورکرکے لوگ آج بھی کانپ اٹھتے ہیں ۔
اب 35سال بعد کراچی میں ایک مرتبہ پھر ایک پر اسرار گروپ سرگرم ہوگیا ہے ۔ جس کے کارندے راہ چلتی ہوئی خواتین خاص کرنوجوان لڑکیوں کو چھری کے وار کرکے زخمی کردیتے ہیں اور پھر وہ فرار ہوجاتے ہیں ‘تقریبا پندرہ دن سے جاری وارداتوں میں پندرہ کے قریب خواتین زخمی ہوچکی ہیں۔ عینی شاہدین اورزخمی ہونے والی خواتین کے مطابق چھری مارگروپ کے کارندے یا اکیلا مجرم موٹر سائیکل پر سوار ہیلمٹ لگائے اچانک نمودارہوتاہے اورخواتین کوچاقوکے وارسے زخمی کرکے ہوا ہوجاتاہے۔ حیرت کی بات یہ کہ ملزم کی گرفتاری کے بلندوبانگ دعو ے کرنے والی پولیس اتنے دن گزرنے کے باوجود عوام کو محض طفل تسلیاں دینے میں مصروف ہے‘عوام کاغصہ اورخواتین کاخوف وہراس بڑھتاچلا جارہاہے ۔اگریہ کہاجائے توکسی طورغلط نہ ہوگاکہ چھرامارقانون کے لیے چھلاوہ بن چکاہے۔
ماضی کے ہتھوڑاگروپ اورحال کے چھرامارگروپ کی وارادتوں میں کسی حدتک مماثلت ضروری پائی جاتی وہ ہے عوام میں خوف ودہشت پھیلانا ‘شہریوں کی جانب سے چھری ماروارداتوں کے بعد ایک بارپھرگلی محلوں میں آہنی گیٹ لگانے کے مطالبات سامنے آناشروع ہوگئے ہیں۔ لیکن قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکاراس کے حق میں نہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر دوبارہ آہنی دروازوں کی تنصیب کی اجازت دے دی گئی توایک بارپھرکراچی میں 80ء کی دہائی کا دور واپس آجائے گا اور ایک مرتبہ پھر وہی کھیل شروع ہوجائے گاجس کے لیے کراچی میں دومرتبہ آپریشن کیے گئے ۔اطلاعات ہیں کہ پولیس کے اعلی افسران نے دن رات کی کوششوں سے چھرامارشخص کاسراغ لگالیا ہے ۔ اس حوالے کچھ گرفتاریاں بھی کی گئی ہیں۔
80ء کی دہائی اور اب 2017ء میں صرف ایک فرق ہے کہ اُس وقت عوام میں اتنا زیادہ شعور اور ایڈوانس ٹیکنالوجی نہیں تھی اب سوشل میڈیا آگیا ہے۔کلوز سرکٹ کیمرے لگئے ہوئے ہیں اور ہر جگہ لوگ چوکس ہیں۔ حملہ آوروں کی دھندلی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں لیکن تاحال اصل ملزم کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ پولیس نے گلستان جوہر سے 50سے زائد ملزمان کو حراست میں لیا ہے۔ جن کے خلاف ثبوت نہیں ملے ان کو کلیئر قرار دے کر چھوڑ دیا گیا ہے جن کو مشتبہ سمجھا گیا ہے ان کو پولیس نے تفتیش کے لیے روکا ہوا ہے لیکن کہیں نہ کہیں سے یہ آوازیں آنا شروع ہوئی ہیں کہ کراچی میں آہنی گیٹ نصب کرنے کی اجازت دی جائے لیکن ظاہر بات ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت آپریشن ردالفسار جاری ہے اور اس کے تحت اگر کسی علاقے میں آہنی گیٹ لگادیئے گئے تو پھر مسلح گروپوں کا اپنے اپنے علاقوں میں قبضہ ہوجائے گا اور پھر کراچی خونریزی کی دلدل میں پھنس جائے گا ۔جو حکومت سندھ، پولیس رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی صورت میں نہیں ہونے دیں گے لیکن پولیس ایک مرتبہ پھر خبردار ہوگئی ہے کہ ایک عسکری ونگ سے ابھی جان نہیں چھوٹی تو کہیں یہ دوسرے عسکری گروپ تو سرگرم نہیں ہورہے؟کیونکہ اس طرح کے مطالبات کرنے والے عسکری گروپوں کو منظم کرنا چاہتے ہیں۔
کراچی پولیس نے حساس اداروں اور رینجرز کی مدد سے گلستان جوہر میں 400سے زائد اہلکار اور مخبر سادہ کپڑوں میں تعینات کردیئے ہیں اور ان کو اسلحہ سے بھی لیس کردیا ہے تاکہ جب بھی چھرا مار گروپ کا کوئی کارندہ کسی خاتون پر حملہ آور ہوتو اس کو موقع پر ہی جوابی حملہ کرکے زخمی حالت میں پکڑا جاسکے اور اس کے لیے بھرپور طریقے سے تیاری بھی کرلی گئی ہے۔ کراچی پولیس کے سینئر حکام نے جرأت کو بتا اہے کہ کراچی پولیس اور حساس اداروں نے چند مشکوک افراد کو حراست میں لیا ہے جن سے اہم معلومات ملی ہے اور چند روز میں اس حوالے سے اہم پیش رفت کا امکان ہے اور چھرا مار گروپ کا بھی اختتام ہونے والا ہے کیونکہ گرفتار مشتبہ افراد کی نشاندہی پر کئی علاقوں میں چھاپے مارکر ایک درجن سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ سب سے بڑا آپریشن رابعہ سٹی میں کیا گیا ہے ان چھاپوں کے بعد چھرا مار گروپ کی کارروائیوں میں کمی ہوگی یا نہیں؟ اس کا پتہ آئندہ دو تین روز میں چل جائے گا تاہم اب تک یہ گروپ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے چھلاوا بنا ہوا ہے ۔

Electrolux