وزارت سائنس وٹیکنالوجی نے 3 سال میں بیرونی دوروں پر5 کروڑ روپے اڑادیے!

*4 کروڑ 88 لاکھ 10 ہزار روپے افسران کو بیرون ملک قیام وطعام اور یومیہ الائونس کی مد میںدیے گئے‘فضائی ٹکٹ اس کے علاوہ ہیں
*پاکستان اسٹینڈرڈ ز اور کوالٹی کنٹرول کے افسران نے بھی بہتی گنگامیں ہاتھ دھوئے‘ آٹھ سرکاری دوروں پر6لاکھ روپے خرچ کرڈالے
*سوائے بیرون ملک دوروں کے وزارت سائنس وٹیکنالوجی وایجادات کوئی ایسا کارنامہ انجام نہیں دے سکی جسے قابل فخر قرار دیا جا سکے
*پاکستان کے نوجوان سائنسدان بھی وزارت سائنس وٹیکنالوجی کی مددسے ایسی کوئی ایجادسامنے لانے میں ناکام رہے جوباعث افتخار ہو

سائنسی ایجادات سائنس وٹیکنالوجی کے طلبہ کو نئی ایجادات اور تجربات میں مدددینا اوران کی حوصلہ افزائی کے منصوبوں کی تیاری توکجا دنیا بھر میں ہونے والی سائنسی ایجادات سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور ان ایجادات کے ثمرات عوام تک پہنچانے میں بھی ہماری وزارت سائنس نے کبھی کسی خاص پیش رفت کامظاہرہ نہیں کیا اور پاکستان کے نوجوان سائنسدان آج تک وزارت سائنس کی مدد اور تعاون سے کوئی ایسا کارنامہ انجام دینے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں جسے پاکستان کے لیے قابل فخر قرار دیاجاسکے اور جس کی بنیاد پر دنیا میں سائنس وٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان کوکوئی مقام حاصل ہوسکتا ہولیکن ملک میں سائنس وٹیکنالوجی کے فروغ کے بنیادی مقصد کے تحت قائم کی جانے والی وزارت سائنس وٹیکنالوجی اور اس سے ملحق بعض محکموں کے افسران نے گزشتہ 3سال کے دوران غیر ملکی دوروں پر4کروڑ90 لاکھ روپے خرچ کردیے۔
سینیٹ میں وزارت سائنس وٹیکنالوجی کی کارکردگی کے حوالے سے اٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں وزارت نے اپنے جواب میں بتایاہے کہ گزشتہ 3 سال کے دوران وزارت اور اس کے ملحقہ محکموں کے مجموعی طورپر506 افسران کو غیر ملکی دوروں پر بھیجاگیاجس پر قومی خزانے پر4 کروڑ 90 لاکھ روپے کا بوجھ پڑا۔وزارت کی جانب سے دیے گئے اس جواب پر جب سینیٹر محمد طلحہ نے سوال کیا کہ ان افسران کے نام بتائے جائیں جنھیں غیر ملکی دوروں پر بھیجاگیا، اور یہ بھی بتایاجائے کہ انھیں کن مقاصد کے لیے بیرون ملک بھیجاگیا ، انھوں نے کس کس ملک میںکتنا وقت بیرون ملک گزارا اور ان میں سے ہر ایک پر کتنے اخراجات وزارت کو برداشت کرنا پڑے تو اس کے جواب میں بعض دلچسپ اور حیرت انگیز حقائق کھل کر سامنے آئے،اس سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ 300 غیر ملکی دوروں پر مجموعی طورپر 4 کروڑ 88 لاکھ 10 ہزار روپے خرچ کیے گئے ،ان اخراجات میں ان افسران کو دیے گئے فضائی ٹکٹوں کی رقم شامل نہیں ہے بلکہ یہ رقم ان افسران کو صرف بیرون ملک قیام وطعام اور یومیہ الائونس کی مد میںدی گئی تھی۔اس حوالے سے سب سے زیادہ رقم کامسیٹ کے انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے افسران نے 270 غیر ملکی دوروں پر مجموعی طورپر4 کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ کیے۔وزارت سائنس وٹیکنالوجی کے 11 افسران نے 10 غیرملکی دوروں پر مجموعی طورپر33 لاکھ روپے خرچ کیے۔سی آئی آئی ٹی پبلک ریسرچ یونیورسٹی اسلام آباد میں قائم ہے جس کے کئی کیمپس ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان سائنس فائونڈیشن کے افسران نے اپنے 11 غیر ملکی دوروں پر مجموعی طورپر22 لاکھ روپے خرچ کیے۔پاکستان اسٹینڈرڈ ز اور کوالٹی کنٹرول کے افسران کے8 سرکاری دوروں پر مجموعی طورپر6لاکھ روپے خرچ کیے گئے ، پاکستان نیشنل ایکرڈنشیل کونسل کے حکام نے بھی 2 سرکاری دوروں پر مجموعی طورپر 2 لاکھ روپے خرچ کیے ،جبکہ ان تمام دوروں کے اخراجات کا بڑا حصہ غیر ملکی ڈونر اداروں نے برداشت کیا،وزارت کی جانب سے سینیٹ میں جمع کرائے جانے والے جواب سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ گزشتہ 3 سال کے دوران پاکستان انجینئرنگ کونسل،کونسل برائے ورکس اور ہائوسنگ ریسرچ،اور اسٹیڈک ٹیکنالوجی کمرشیالائزیشن کارپوریشن پاکستان کے کسی افسر کو بیرون ملک نہیں بھیجا گیا۔
سینیٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں بتایاگیا کہ وزارت اور اس کے ملحقہ اداروں کے حکام کے یہ وہ غیر ملکی دورے ہیں جن کے اخراجات کا کچھ حصہ قومی خزانے کو برداشت کرنا پڑا جبکہ ایسے بھی بہت سے دورے افسران کوکرائے گئے جس کے تمام اخراجات متعلقہ غیر ملکی اداروں،محکموں اور حکومتوں نے برداشت کیے لیکن چونکہ سرکاری خزانے سے ان دوروںکے لیے کوئی رقم جاری نہیں کی گئی اس لیے ان کو جواب میں شامل نہیں کیاگیاہے۔
سینیٹ میں جمع کرائے گئے جواب کے مطابق وزارت سائنس وٹیکنالوجی کے سیکریٹری کامران علی قریشی کو سوئٹزرلینڈ میںاقوام متحدہ کے سائنس وٹیکنالوجی کے ترقیاتی ادارے یواین سی ایس ٹی ٹی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے 2لاکھ 66 ہزار787 روپے دیے گئے،وزارت سائنس وٹیکنالوجی کے پارلیمانی سیکریٹری طلال چوہدری کو جولائی 2016 میںلندن میں ویسٹ منسٹر سمپوزیئم میں شرکت کے لیے ایک لاکھ 93 ہزار931 روپے اور ترکی کے دورے کے لیے 3 لاکھ 11 ہزار756 روپے دیے گئے،پی ایس ایف کے چیئرمین ڈاکٹر اشرف نے گزشتہ 3 سال کے دوران 10 غیر ملکی دورے کیے ان میں سے صرف 3 دورے غیر ملکی اسپانسرڈ تھے جبکہ ڈاکٹر ارشدایس ملک کی قیادت میں غیرملکی دورے پر جانے والے سی آئی ٹی کے ایک وفد کے دورے پر مجموعی طورپر11 لاکھ 40 ہزار روپے خرچ ہوئے یہ وفد 2016 میں لنکاسٹر یونیورسٹی سے تعلیمی تعاون اور اشتراک کے حوالے سے بات چیت کے لیے بیرون ملک بھیجاگیاتھاجبکہ یہ کام خط وکتابت اور ای میلز کے ذریعے بھی ہوسکتاتھا۔اکتوبر2016 میں سی آئی ٹی کے ارشد سلیم بھٹی کے جرمنی کے دورے پر 40 ہزار روپے خرچ کیے گئے۔ایسے معاملات میں جس میں اخراجات متعلقہ غیر ملکی اداروں نے برداشت کیے پی این اے سی کی ڈائریکٹر عصمت گل خٹک نے جدہ اور دبئی کادورہ کیا اور اس کے لیے انھوں نے فضائی کرائے کی مد میں71 ہزار500 روپے اور الائونسوں کی مد میں71 ہزار 20 روپے وصول کیے ۔تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ ان غیرملکی دوروں پر کروڑوں روپے کے ان اخراجات سے ملک میں سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی میں کس حد تک مدد ملی اور اس سے پاکستان کے عوام اور نوجوان طالب علموں کو کس طرح کی اضافی سہولتیں حاصل ہوسکیں۔

Electrolux