محکمہ تعلیم کا افسر 6عہدوں پر براجمان سپریم کورٹ کے احکامات اُڑن چھو

*سیکرٹری ایجوکیشن عبدالعزیز عقیلی اچانک ڈائریکٹرپلاننگ محکمہ اسکول ایجوکیشن پرمہربان ہوگئے ‘ایک نہیں چھ عہدے دے ڈالے
*ڈی جی پلاننگ مظہرصدیقی کیمبرج اسکولز‘انگلش میڈیم اسکولز‘ارلی چائلڈہیڈاسکولزکا پروجیکٹ ڈائریکٹرکے بھی مزے لوٹ رہے ہیں
*19 گریڈکے ایک افسرپرسیکرٹری ایجوکیشن کی مہربانیاں صوبائی وزتعلیم جام مہتاب دہڑکوآسٹریلوی شہریت دلانے کے لئے ہیں


ilyasahmed


حکمرانوں کی بھی عجیب نفسیات ہوتی ہے راضی ہوتے ہیں تو تمام حدود پھلانگ دیتے ہیں اور اگر ناراض ہوتے ہیں رَتی برابر بھی فائدہ نہیں دیتے۔ 2007ء سے لے کر اب تک سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں دو سو سے زائد مقدمات ایسے چلے جو صرف سرکاری افسران کے تھے جن کو آئوٹ آف ٹرن پروموشن دیا گیا۔ ان کو اصل گریڈ سے اوپر تعینات کیا گیا۔ بیک وقت دو تین عہدے دیئے گئے لیکن حکومت سندھ ان کو ہٹانے کے لیے قطعی تیار نہیں تھی صورتحال جب واقعی خراب ہوئی تو لوگوں نے اعلیٰ عدالتوں کی جانب رجوع کیا ۔ پہلے عدالتوں نے حکومت سندھ کو زبانی احکامات دیئے پھر حکومت سندھ کو سخت احکامات جاری کیے لیکن مسئلہ پھر بھی حل نہ ہوا تو عدالتوں نے توہین عدالت کی کارروائی شروع کردی ۔
اعلیٰ افسران کو جب توہین عدالت کے نوٹس ملے اور اعلیٰ عدالتوں میں ان پر سختی ہوئی تو انہوں نے حکومت سندھ پر واضح کردیا کہ اب بہت ہوگئی۔ حکومت سندھ کی مجبوریاں اپنی جگہ پر لیکن اب کوئی افسر جاکر عدالت میں اپنی بے عزتی نہیں کرائے گا۔ اس وقت اعجاز چوہدری چیف سیکرٹری سندھ تھے ۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم پر 400سے زائد افسران کے آئوٹ آف ٹرن پروموشن منسوخ کیے اور جو اپنے گریڈ سے اوپر بیٹھے تھے ان کو بھی واپس اپنے گریڈ میں لایا گیا۔ تب جاکر حکومت سندھ کا اسٹرکچر کچھ نہ کچھ ٹھیک ہوا۔
ادھرنیب نے بھی 1500سے زائد افسران کی فہرست سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں پیش کی ہے جن کے خلاف عدالتی احکامات کے باوجود تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی اب حال ہی میں حکومت سندھ محکمہ اسکول ایجوکیشن کے گریڈ 19کے افسر مظہر صدیقی پر اتنی مہربان ہوگئی ہے کہ ان کو گریڈ 19کا ایک اور گریڈ 20کے پانچ عہدے دے دیئے یوں گریڈ 19کا ایک افسر 6اہم عہدوں پر براجمان ہوگیا ہے اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے کہ اعلیٰ عدالتوں کے احکامات ہوا میں اُڑادیئے گئے ۔
اس وقت اسکول ایجوکیشن کے سیکریٹری عبدالعزیز عقیلی ہیں جن کے پاس آسٹریلیا کی شہریت لیکن اس کے باوجود ان سے بھی کوئی پوچھنے والا نہیں ہے حالانکہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات ہیں کہ ڈبل شہریت رکھنے والے افسران کو انتظامی عہدہ نہ دیا جائے ۔عہدہ رکھنے کی صورت ان کو آپشن دیا جائے کہ اگر وہ صرف پاکستانی شہریت رکھناچاہتے ہیںتواپنے عہد ے پربرقراررہیں گے۔جوافسران غیرملکی شہریت نہ چھوڑیں انھیں عہدے سے فوری ہٹادیاجائے ۔ لیکن یہاں پرعدالتی احکامات پرقطعی عمل درآمد نظرنہیں آتا۔
مظہر صدیقی کو سیکریٹری اسکول ایجوکیشن عبدالعزیز عقیلی نے چھ اہم عہدوں پر صرف اس لیے بھی تعینات کیا ہے کیونکہ وہ وزیرتعلیم جام مہتاب ڈہر کو بھی آسٹریلیا کی شہریت دلوانے کے لیے سرگرم ہیں مظہر صدیقی کا اصل عہدہ ڈائریکٹر پلاننگ محکمہ اسکول ایجوکیشن ہے لیکن ان کو ڈائریکٹر جنرل پلاننگ کا عہدہ بھی دیدیا گیا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر کمپری ہینسیو اسکولز ‘ انگلش میڈیم اسکولز کا پروجیکٹ ڈائریکٹر ‘ ارلی چائلڈ ہیڈ اسکولز کا پروجیکٹ ڈائریکٹر‘کیمبرج اسکولز کابھی پروجیکٹ ڈائریکٹر مقرر کردیا گیا ہے ۔ اس طرح مظہرصدیقی بیک وقت چھ اعلی عہدوں کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔
یہ ساری عنایات کرنے میں سیکریٹری اسکول ایجوکیشن نے اس میں اتنی چالاکی دِکھائی ہے کہ جو نوٹیفکیشن جاری کیا اس میں یہ تک نہیں بتایا کہ مظہر صدیقی کا گریڈ کیا ہے؟ کیونکہ اگر نوٹیفکیشن میں گریڈ 19لکھا جاتا تو پھر کوئی بھی اس کو چیلنج کرسکتا تھا اس لیے چالاکی سے صرف ان پروجیکٹس کا نام لکھ دیا گیا اور ساتھ ساتھ اِسے ڈی پی (سالانہ ترقیاتی پروگرام)کا نمبر تحریر کیا گیا۔ یوں کمال مہارت سے گریڈ 19کے ایک افسر کو گریڈ 20کے پانچ عہدے دے دیئے گئے تاکہ وہ سیکریٹری اسکول ایجوکیشن کے تمام احکامات پر عمل کرسکیں یہ سب کچھ وزیر تعلیم کی مرضی سے کیا گیا ہے کیونکہ اِنھیں اپنے سیکریٹری کے ذریعہ گھر بیٹھے آسٹریلیا کی شہریت مل رہی ہے تب تو سیکریٹری اسکول ایجوکیشن کے ان غلط کاموں پر انہوں نے آنکھیں بند کررکھی ہیں حکومت سندھ کی بھی زبان بند ہے۔

Electrolux