بلیو وہیل کا چکر

شاہد اے خان
حکایت زندگی

ویڈیو گیم کھیلنا تو سب بچوں کو پسند ہے اب تو اسمارٹ فون کی وجہ سے کیا بچے کیا بڑے، سب ہی مختلف قسم کے ویڈیو گیم کھیلتے نظر آتے ہیں۔ کچھ لوگ کمپیوٹر پر گیم کھیلتے ہیں۔ سوشل میڈیا ایپی کیشنز جیسے فیس بک وغیرہ بھی گیمز اپنے یوزرز کو مختلف گیم آفر کرتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں نت نئی ایجادات کا استعمال بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے اور کمپیوٹر گیمز بھی ذہنی تربیت میں مدد دیتے ہیں مگر اس کا بغیر سوچے سمجھے استعمال بچوں میں مہلک اور منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں پرنظر رکھیں۔ وہ موبائل فون یا کمپیوٹر پر کون کون سے گیمز کھیل رہے ہیں، والدین کو معلوم ہونا ضروی ہے۔ والدین کا کام ہے کہ بچوں کو منفی اور اشتعال دلانے والے گیمز کھیلنے سے روکیں۔ مغربی مفکرین اور نفسیات دانوں کے بہت سے گیمز بچوں اور نوجوانوں میں جارحیت پیدا کررہے ہیں، بعض ویڈیو گیمز کمپنیاں اپنے گیمز کو حقیقت سے قریب تر دکھانے اور اس میں دلچسپی بڑھانے کے لیے بہت سارے منفی عناصر شامل کررہی ہیں۔ ماردھاڑ تشدد اور خون خرابہ ، جزوی یا مکمل عریانیت ، جنسی تشدد، گیم کے کردار کا مجرمانہ طرزعمل یا دیگر اشتعال انگیز اور قابل اعتراض مواد رکھنے والے ویڈیو گیمز بچوں اور نوجوانوں میں نشہ اور جارحیت جیسے مسائل پیدا کرنے میں اہم کردار اداکررہے ہیں۔ ویڈیو گیمز میں وہ پہلا متنازع گیم جو پرتشدد مناظر کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنا، ایگزڈی ڈویلپر کا 1976 کا گیم ڈیتھ ریس تھا جس میں گیم کھیلنے والے کو کار کا کنٹرول سنبھالنا ہوتا ہے اور اس ریس میں کھلاڑی کار کے سامنے آنے والے کرداروں کو روند بھی سکتے تھے ان کے ہاتھ پاؤں توڑ سکتے تھے۔ یہاں تک کہ ان سڑک پر گرے ہوئے یا سسکتے لوگوں کے اوپر سے گاڑی گزار کران کا حتی الامکان خاتمہ کرسکتے تھے، بعض مناظر میں خون کی چھینٹیں کار کی ونڈ اسکرین پر بھی پھیل جاتی تھیں۔
آج کل ایک گیم بلیو وہیل کا کافی چرچا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس گیم کا کھیلنے والا آخر میں خود کشی کر لیتا ہے۔دنیا بھر میں درجنوں لوگ اس کھیل کو کھیلتے ہوئے اپنی جان لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ہر کسی کے ہاتھ میں موبائل فون موجود ہے جس سے خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ بلیو وہیل عام گیم نہیں ہے نہ اس کو ڈاؤن لوڈ کیا جاتا ہے اور نہ ہی کمپیوٹر یا موبائل فون کی اسکرین پر کھیلا جاتا ہے۔ یہ گیم کھیلنے والے یعنی پلیئر کو ایک میسیج کی صورت میں موصول ہوتا ہے۔ اس گیم میں پلیئر کو 50 دن میں 50 ٹاسک پورے کرنے ہوتے ہیں۔ پلیئر کو ان ٹاسک کے پورے کرنے کا دستاویزی اور تصویری ثبوت بھی فراہم کرنا ہوتا ہے۔ گیم کے شروع کے ٹاسک عام سے ہوتے ہیں جیسے آدھی رات کو ڈراونی فلم دیکھنا۔ اس کے بعد کے ٹاسک مشکل ہوتے جاتے ہیں۔ جن میں پلیئر کو خود کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے، منشیات کی زیادہ مقدار لینی ہوتی ہے یا کسی اونچی بلڈنگ پر چڑھ کر بالکل کنارے پر کھڑا ہونا ہوتا ہے۔ان تمام مراحل میں پلیئر اپنی ذاتی شناختی اور ذاتی معلومات بھی گیم کے ایڈمنز کو فراہم کرتا رہتا ہے۔ ان معلومات کو بعد میں پلیئر کو بلیک میل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ گیم کا ہر ٹاسک مکمل کرنے پر پلیئر کو کہا جاتا ہے کہ اپنے بازو پر چاقو سے نشان بنائے۔ جیسے جیسے ٹاسک مکمل ہوتے ہیں بازو پر بلیو وہیل کی شکل بنتی جاتی ہے۔گیم کے 50ویں دن 50 ویں ٹاسک میں پلیئر کو خود کشی کرنے کا کہا جاتا ہے، جس سے انکار پر اس کی ذاتی معلومات شائع کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے پلیئر کے لیے ایک بار گیم شروع کر کے واپس آنا مشکل ہوتا ہے۔۔
اس لیے اپنے بچوں کو اس شیطانی گیم بلیو وہیل سے بچائیں۔ بچوں کو وقت دیں ان کو زندگی کے بارے میں آگاہ کریں۔ خاص طور پر اس گیم کے بارے میں بات کریں اور اس کے نقصانات کے بارے میں بتائیں۔ بچوں کو اس قسم کے گیمز سے دور رکھنا ہی بچوں اور ان کے والدین دونوں کے لیے بہتر ہے۔

Electrolux